امریکی انتخابات کے بعد‘ کیا جمہوریت کی وہ ساکھ بحال ہو گئی ہے جو تیزی کے ساتھ ختم ہو رہی تھی؟
صدر ٹرمپ جمہوریت کا تحفہ ہیں۔ جمہوریت کی کوکھ سے جس پاپولزم نے جنم لیا ہے‘ وہ اس کا ایک مظہر ہیں۔ ووٹ کی طاقت سے اُن جیسوں کا اقتدار کی مسند تک پہنچنا‘ خود جمہویت کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے۔ ایک رائے اب پختہ ہونا شروع ہو چکی ہے کہ اگر جمہوریت کے ہنر کے شاہکار ٹرمپ اور مودی جیسے لوگ ہیں‘ جو نفرت کا کاروبار کرتے ہیں اور جن کی ذہنی سطح پست ہے‘ تو ایسی جمہوریت سے توبہ۔ بخشو بی بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔
امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے انتخابات نے مگر پانسا پلٹ دیا ہے۔ عوام کی رائے‘ ٹرمپ کے بارے میں تبدیل ہو نے لگی ہے۔ ان انتخابات میں اس کا واضح اظہار ہوا۔ جس جمہوریت نے ٹرمپ کو اعتماد بخشا تھا‘ اس نے اپنا یہ اعتماد واپس لے لیا ہے۔ اب معلوم ہوا کہ یہ اعتماد کسی رومانوی تعلق کا بیان نہیں تھا۔ جمہوریت میں فیصلہ عقل سے ہونا چاہیے۔ اگر کبھی جذبات کا غلبہ ہو جائے تو یہ اُس درجے کا نہ ہو کہ عقل کے لیے پردہ بن جائے۔ انتخابی نتائج بتا رہے ہیں کہ ٹرمپ سے جو جذبات وابستہ ہوئے تھے‘ وہ سرد پڑ چکے ہیں۔ ممکن ہے اگلے صدارتی انتخابات میں اس کی قیمت ریپبلکنز کو ادا کرنا پڑے۔ سوال یہ ہے کہ یہ رائے کیسے تبدیل ہوئی؟ وہ کیا اسباب تھے جنہوں نے اسے ممکن بنایا؟ کیا جمہوریت کی نتیجہ خیزی کے لیے‘ کسی خاص سماجی ماحول کا ہونا ضروری ہے؟
یہ سب کچھ آزاد میڈیا‘ آزاد عدلیہ اور آزاد سماج کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ اُس جمہوری ماحول کی دین ہے جو وہاں موجود ہے۔ یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ‘ اس شکست کی بڑی وجہ تھی۔ عوام نے اسے مسترد کر دیا۔ جب سے اس جنگ کا آغاز ہوا ہے‘ امریکی میڈیا میں اس پر بات ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ شدید تنقید کی زد میں رہے۔ اسی طرح امریکی عدالتوں نے ان کے بہت سے فیصلوں کو قبول نہیں کیا۔ اس آزادی کی وجہ سے لوگوں کو یہ موقع ملا کہ وہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا ناقدانہ جائزہ لے سکیں۔ مہنگائی کی لہر کے بارے میں عوام نے یہ جانا کہ اس کا بڑا سبب ایران کے ساتھ جنگ تھی۔ اس جنگ سے امریکہ کو مادی‘ عسکری اور اخلاقی طور پر شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ اب تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس جنگ کا اگر کسی کو فائدہ پہنچا تو وہ ایران ہے۔ جس اسرائیل کی شہ پر صدر ٹرمپ نے یہ ایڈونچر کیا‘ اُس کو بھی مزید ذلت اٹھانا پڑی۔ نیتن یاہو نے جس طرح فلسطینیوں کا قتلِ عام کیا‘ اس میں ٹرمپ کو شریک سمجھا گیا۔ ریپبلکنز کی اس شکست میں اسرائیل کے ان مظالم نے بھی اپنا کردار ادا کیا جو اُس نے فلسطینیوں پر ڈھائے۔ اسرائیل کی حمایت اگر چہ امریکی پالیسی کا حصہ ہے لیکن اب جو فضا بن رہی ہے‘ اس میں ڈیمو کریٹس کے لیے بھی ہر بات میں اسرائیل کی تائید کرنا مشکل ہو گا۔
اس تجربے سے اس قدیم تصور کی تائیدِ مزید ہوتی ہے کہ جمہوریت کی خرابیوں کا علاج مزید جمہوریت ہے۔ تاہم‘ اس کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے کچھ لوازمات ہیں‘ جن کا اہتمام ضروری ہے۔ جمہوریت ایک جمہوری معاشرے ہی میں پنپ سکتی ہے۔ جمہوری معاشرہ وہی ہوتا ہے جس میں آزادیٔ رائے کا احترام ہو۔ جہاں اختلاف اور حزبِ اختلاف کوگوارا کیا جائے۔ ادارے موجود ہوں جو سماجی اقدار کا تحفظ کر سکیں۔ آزاد میڈیا کے بغیر جمہوریت پنپ نہیں سکتی۔ اگر پاکستان جیسے ممالک میں جمہوریت کو جڑ پکڑنی ہے تو پہلے وہ سازگار فضا پیدا کرنا ہو گی جہاں یہ پودا پروان چڑھ سکے۔ اس کے بعد نظام میں یہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ جمہوریت کی کمزوری کا مداوا کر سکے‘ جیسے امریکہ میں ہوا۔
کیا اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے اپنی اس غلطی کی اصلاح کر لی جو صدر ٹرمپ کی صورت میں سامنے آئی تھی؟ اس سوال کا جواب دینا سرِدست مشکل ہے۔ ان کا دورِ صدارت ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ان کے لیے قانون سازی اگرچہ مشکل ہو گئی ہے کیونکہ وہ دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو چکے ہیں‘ تاہم امریکی صدر کے پاس بہت اختیارات ہوتے ہیں۔ وہ ایوانِ صدارت میں قیام کے دوران میں مزید گُل کھلا سکتے ہیں۔ اس کے باوصف‘ اُن کے لیے کوئی بڑا فیصلہ کرنا شاید اب مشکل ہو جائے۔ سب سے اہم ایران کے ساتھ جنگ کا جاری رکھنا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس جنگ کو پھیلنے سے روکنے میں جمہوریت نے ایک کردار ادا کیا ہے۔ اسرائیل کے انتخابی نتائج بھی اس جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں بھی جمہوریت کی خرابیوں کا حل‘ مزید جمہوریت ہے؟ کیا ہم میں صبر اور برداشت کی کمی ہے؟ یہ سوال اس وقت ہماری دانش کی توجہ کا مستحق ہے۔ کیا جمہوری سوچ کے ساتھ‘ ہمیں کسی نئے نظام کو اپنانا ہو گا جو اس پارلیمانی نظام سے مختلف ہو جیسے متناسب نمائندگی‘ یا پارلیمانی نظام پر اصرار جاری رکھنا ہے؟ ہمارا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ایک غیر جمہوری معاشرے میں زندہ ہیں۔ اگر امریکہ جیسے آزاد معاشرے میں اتنی بڑی غلطی ہو سکتی ہے تو پاکستان میں اس کا زیادہ امکان ہے کہ ہم کسی حادثے سے گزریں۔ یہ تشویش اپنی جگہ‘ مگر کیا ہمیں یہ خطرہ مول لینا ہوگا‘ اگر ہم مستقبل میں جمہوریت کو فروغ دینے میں سنجیدہ ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ جمہوریت کے نتیجے میں ہم پھرکسی غلط فیصلے تک پہنچیں۔ اس کی غلطی مگر صرف جمہوریت سے درست ہو سکتی ہے۔
اس باب میں سب متفق ہیں کہ جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی‘ ان کی مقبولیت بہت کم ہوچکی تھی۔ شیخ رشید صاحب سمیت ان کے حامی یہ تسلیم کر رہے تھے کہ اگلے انتخابات میں ان کی جیت کے امکانات نہیں ہیں۔ ان کی حکومت ختم ہوئی تو یہ عمل نہ صرف رک گیا بلکہ ترقیٔ معکوس کا شکار ہو گیا۔ آج کوئی حکومتی یا عدالتی فیصلہ ان کی مقبولیت پر اثر انداز نہیں ہو رہا۔ کے پی میں خاموشی سے اگرچہ بعض لوگ یہ نتیجہ اخذ کر رہے ہیں کہ ان کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کا صحیح فیصلہ اس وقت ہو گا جب تحریک انصاف آزادی کے ساتھ اپنے سیاسی وجود کا اظہار کرے گی۔ احتجاج کی ناکامی سے یہ سمجھنا شاید درست تجزیہ نہ ہو کہ اس کی انتخابی قوت بھی کم ہوئی ہے۔ صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے‘ یہ خطرہ تو مول لینا پڑے گا کہ سیاست کے بند دروازے کھولے جائیں۔ اس پر سوچا جا سکتا ہے کہ اس کا محفوظ راستہ کون سا ہو سکتا ہے۔
پاکستان کا سیاسی منظرنامہ اس وقت جمود کا شکارہے۔ اس جمود کا خاتمہ اُسی وقت ہو گا جب یہاں سیاسی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہوں گی۔ اگر ہم صبر کا مظاہرہ کریں اور جمہوری عمل کے متوقع نتائج کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں تو اس سے جمہوری عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ اس کے بعد‘ ہمارے مزید پانچ سال ضائع ہو جائیں اور اس کے نتائج تادیر باقی رہیں۔ اگر ہم نے صبر کے ساتھ یہ دور گزار لیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہاں حقیقی جمہوریت جڑ پکڑ لے۔ اس میں یہ صلاحیت پیدا ہو جائے کہ وہ اپنی غلطیوں کا مداوا کر سکے جیسے امریکہ میں جمہوریت نے اپنی اصلاح کر لی ہے۔ ہم نے جو متبادل راستہ چنا ہے‘ اس کی کامیابی ا بھی تک مشتبہ ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments