"RS" (space) message & send to 7575

طالبان کے الزامات اور حقائق

افغان طالبان نے پاک افغان سرحد سے متصل افغان صوبوں کنڑ اور نورستان میں اپنے سرحدی محافظوں پر ہونے والے حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ سرحدی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر کو پاکستان کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس الزام کیلئے افغان طالبان کے پاس اس کے سوا کوئی منطق نہیں کہ نورستان اور کنڑ کا علاقہ پاکستان کے ضلع چترال سے متصل ہے۔ کسی بھی ملک کی سرحدی جغرافیائی قربت کو بغیر کسی شواہد کے مجرمانہ سہولت کاری کا نام دینا بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں اور عقل و منطق کے خلاف ہے۔ افغان طالبان کا پاکستان پر عسکریت پسندوں کی حمایت کا یہ الزام مکمل طور پر مضحکہ خیز اور الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان دہائیوں سے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثر ہے۔ پاکستان کا یہ واضح مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان نہ صرف زبانی طور پر یہ بات کہتا رہا بلکہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی اداروں کے سامنے اس کے شواہد بھی پیش کر چکا ہے اور دنیا پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس بھی اس بات کی شاہد ہیں کہ افغان طالبان کی حکومت کی اجازت اور معاونت سے افغانستان میں مختلف عالمی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں آزادانہ طور پر متحرک ہیں۔ ان رپورٹس میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی‘ داعش خراسان اور القاعدہ جیسے خطرے کا باعث بننے والے گروہ افغان سرزمین پر نہ صرف موجود ہیں بلکہ طالبان فورسز کے ساتھ داعش جیسے شدت پسند گروہوں کی آئے دن خونریز جھڑپیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افغان طالبان کا اپنے ملک کے تمام علاقوں اور سکیورٹی پر مکمل کنٹرول نہیں ہے۔
طالبان حکومت کو درپیش سکیورٹی چیلنجز میں سے ایک ان کے اپنے ہی ملک کی سیاسی اور عسکری اپوزیشن ہے جس کی ایک مثال افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) ہے۔ یہ تنظیم زیادہ تر سابق افغان حکومت کے فوجی اہلکاروں پر مشتمل ہے جس کی قیادت سابق افغان آرمی کے جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل یاسین ضیا کر رہے ہیں۔ جنرل یاسین ضیا نے باقاعدہ طور پر طالبان کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کر رکھا ہے اور ان کی تنظیم افغانستان کے اندر طالبان فورسز کو نشانہ بنا رہی ہے۔ افغان طالبان کے خلاف برسرپیکار اس مسلح گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کنڑ اور نورستان کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں پانچ طالبان جنگجو مارے گئے جبکہ 10 زخمی ہوئے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ اس سے پہلے جولائی اور اگست میں بھی افغانستان کے مختلف صوبوں میں طالبان پر متعدد حملوں کی باضابطہ ذمہ داری قبول کر چکی ہے۔ جب ایک افغان مسلح تنظیم خود ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے تو اس کے باوجود افغان طالبان کا اپنی سرزمین کی اندرونی لڑائی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا سراسر بے بنیاد اور حقائق کو چھپانے کی کوشش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افغان طالبان اپنی اندرونی سکیورٹی ناکامیوں اور افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کو چھپانے کیلئے پاکستان پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ اس بات کا واضح ثبوت یہ ہے کہ مسلح تصادم کے بعد طالبان نے جن حملہ آوروں کو گرفتار کر کے ان سے تفتیش کی ہے‘ ان سب نے اعتراف کیا ہے کہ ان کا تعلق افغانستان کے مختلف اضلاع سے ہے۔ جب گرفتار ہونے والے افراد خود اعتراف کر رہے ہیں کہ وہ افغان شہری ہیں اور ان کی وڈیوز بھی موجود ہیں توپاکستان پر مداخلت کا الزام لگانا ایک ناکام سیاسی ڈرامے کے سوا کچھ نہیں۔
پاکستان نے افغان طالبان کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے اور سرحدی خلاف ورزیوں پر انتہائی سخت اور واضح سفارتی ردِعمل دیا ہے۔ 23 ستمبر کو پاکستان نے افغان فضائی حدو د کی خلاف ورزی اور افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر طالبان حکومت کو احتجاجی مراسلہ بھیجا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان حکام کی جانب سے سابق افغان اہلکاروں کی پاکستان میں بھرتی یا تربیت اور داعش سمیت کسی بھی دہشت گرد گروہ کی سہولت کاری کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق افغان حکومت کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے گئے کسی بھی الزام کا کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ افغان طالبان اپنے ان دعووں کے حق میں نہ تو کوئی شناختی دستاویزات‘ نہ پاسپورٹ‘ نہ کمیونیکیشن ریکارڈز اور نہ ہی کوئی فرانزک شواہد فراہم کر سکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبہم اور غیرتصدیق شدہ وڈیوز کا پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی اس بات کو دہراتی ہیں کہ اصل مسئلہ افغانستان کی سرحد کے اندر موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہیں اور ان کی سرگرمیاں ہیں۔ وفاقی وزارتِ اطلاعات نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ افغان سرزمین پر آزادانہ طور پر سرگرم دہشت گرد گروہ پاکستان سمیت پورے خطے کی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ ہیں۔ یہ بات باعثِ تعجب ہے کہ جو طالبان حکومت خود مختلف دہشت گرد گروہوں کو اپنی سرزمین پر تحفظ اور پناہ فراہم کر رہی ہے‘ وہ اُلٹا پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگا رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ہمسایے کا کردار ادا کیا ہے‘ مگر طالبان حکومت کی طرف سے بغیر ثبوت الزامات کی سیاست دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
ان زمینی حقائق‘ قانونی شواہد اور افغان حکومت کے اپنے بیانات اور وڈیوز کا جائزہ لینے کے بعد ایک عام قاری پر یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان اس تمام معاملے میں مکمل طور پر حق پر ہے۔ نورستان اور کنڑ میں ہونے والے حملے افغان طالبان کے اپنے اندرونی مخالفین نے کیے ہیں جن سے نمٹنے میں طالبان حکومت خود ناکام ہو چکی ہے۔ افغان طالبان کو چاہیے کہ اپنی اندرونی کمزوریوں کا الزام پاکستان کو دینے کے بجائے اپنی سرزمین سے مسلح گروہوں کا بلا تفریق خاتمہ کریں‘ جو بلاشبہ دونوں ممالک کیلئے خطرے کی علامت بن چکے ہیں۔ افغان طالبان کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کا پاکستان کے نقطۂ نظر سے جائزہ لیں۔ آج جن سکیورٹی خدشات اور بحران سے وہ نبرد آزما ہیں‘ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے سرحد پار سے ہونے والی اسی دہشت گردی اور بے یقینی کا مسلسل سامنا کر رہے ہیں۔ افغان طالبان جب تک زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے انکار کی پالیسی پر کاربند رہیں گے‘ ان کا ملک بدامنی اور عدم استحکام کے گرداب سے نہیں نکل سکے گا۔ طالبان حکومت کو یہ ادراک کرنا ہو گا کہ عسکریت پسند اور شدت پسند گروہوں کو پناہ یا تحفظ فراہم کرنے کا براہِ راست نتیجہ خود اپنے ہی ملک کی سلامتی کو داؤ پر لگانا ہے‘ کیونکہ پڑوسی ریاست میں دراندازی اور بدامنی کی سرپرستی کر کے کوئی بھی ملک اپنے گھر میں امن اور ترقی کے اہداف حاصل نہیں کر سکتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...