عمر بن عبد العزیز‘ بھارتی بنگال اور ڈاکٹر بشریٰ بانو

آج جب‘ مبینہ طور پر‘ اپنے بیٹے پر بات آن پڑی تو عمر بن عبد العزیز یاد آ گئے!!
شاہ پرستوں اور روغنِ قاز مَلنے والوں کی اس پارٹی میں آپ کا دم غنیمت ہے۔ اسی لیے تو شکوہ بھی آپ سے ہے۔ ورنہ اکثر تو مرغانِ بادنما ہیں اور مرفوع القلم! جان کی امان ہو تو کچھ پوچھنے کی جسارت کی جائے۔ آپ کی جماعت کے مالکان کا طرزِ زندگی ایسا ہے کہ اسے شہنشاہانہ کہا جائے تو زیادتی ہو گی۔ سلاطینِ دہلی‘ مغل شہنشاہ اور انگریز وائسرائے تو اس متعیشانہ زندگی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ 2016ء میں اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف علاج کیلئے سپیشل وی آئی پی جہاز میں لندن گئے۔ جہاز خالی واپس آیا۔ مہینے ڈیڑھ بعد سپیشل جہاز پھر لندن گیا۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق جو اعدادو شمار پارلیمنٹ کیساتھ شیئر کیے گئے‘ انکی رُو سے کل اخراجات چھ کروڑ روپے کے تھے۔ معروف صحافی رؤف کلاسرا صاحب کا یہ بیان بھی دیکھیے: ''2016ء میں بھی اسحاق ڈار نے 34بلٹ پروف گاڑیاں کروڑوں روپے سے‘ یہ کہہ کر منگوائیں کہ سارک کانفرنس ہونی ہے۔ سب کو علم تھا کہ نہیں ہو گی۔ لیکن اسے موقع جان کر زیادہ گاڑیاں منگوائی گئیں۔ کانفرنس نہ ہوئی تو بیس گاڑیاں وزیراعظم نواز شریف نے اپنی سکیورٹی کے نام پر رکھ لیں۔ کچھ خاندان کے لوگوں کو دے دی گئیں‘ جو بعد میں نیب نے وزیراعظم عمران خان کے دور میں 2019ء میں رائیونڈ سے ریکور کرائی تھیں۔ نواز شریف صاحب سے ان گاڑیوں پر نیب کی ٹیم نے کوٹ لکھپت جیل میں جا کر انکوائری بھی کی تھی‘‘۔ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ پارٹی کے ''قائد‘‘ کا طرزِ زیست کیا ہے۔ حکومت میں تھے تو لندن کے دورے بے شمار! نہ جانے کتنی ہی عیدیں لندن میں منائیں۔ آج بھی انکا سٹائل حیران کن ہے۔ کبھی جنیوا‘ کبھی سوئٹزرلینڈ‘ کبھی لندن‘ کبھی سنگاپور!! سپیشل جہاز ان کیلئے یوں ہیں جیسے ہمارے جیسے لوگ رکشا یا چنگچی استعمال کرتے ہیں! نہایت مؤدبانہ سوال ہے کہ جب آپ کے قائد یہ سب کچھ کر رہے تھے اُس وقت آپ کو حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا طرزِ حکومت یاد نہ آیا؟ عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ اس حال میں بھی صاحبزادی نے لگژری جہاز خرید لیا۔ کیا آپ نے اس حوالے سے کچھ پوچھا؟ کچھ کہا؟ اندھیر نگری کی انتہا یہ ہوئی کہ دو بار شکست کھانے والے شخص کو آزاد کشمیر کا وزیراعظم بنا دیا۔ کیا عمر بن عبدالعزیزؒ بھی یہی کچھ کرتے؟ عمر بن عبدالعزیزؒ آج وزیر ہوتے تو کیا ان کی قریبی عزیزہ کو بھی قبل از وقت ریٹائرمنٹ دلوا کر تین سال کی ٹاپ کلاس ملازمت پیش کی جاتی؟
سوالات اور بھی ہیں۔ مثالیں بھی بہت ہیں! مگر کیا کیا لکھا جائے! یہ ہمارا قومی کردار بن چکا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے اندھی مچتی رہے تو ہم خاموش رہتے ہیں‘ ہم بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہتے ہیں‘ گلے سڑے نظام سے بہرہ ور ہوتے رہتے ہیں‘ صف اول کے Beneficiary رہتے ہیں‘ تب ہمیں نظام کی کراہیت نہیں نظر آتی۔ مگر جب ہمارا کوئی کام نہ کیا جائے‘ جب ہمارے مفاد پر ضرب لگے‘ جب ہمارے بیٹے یا بھتیجے‘ بھانجے کو وی آئی پی درجہ نہ ملے‘ تو ہمیں خلفائے راشدین سے لے کر عمر بن عبدالعزیزؒ تک سب ماڈل یاد آ جاتے ہیں۔ اس سے پہلے سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا رہتا ہے مگر ہم معمولی سا اختلاف بھی نہیں کرتے۔ کیا کیا ناانصافیاں نہیں ہوئیں آپکے اور آپکی پارٹی کے متعدد ادوارِ حکومت میں! صوبے میں بھی! وفاق میں بھی! کس کس طرح قومی خزانے کو غلط بخشیوں پر لٹایا جاتا رہا! پسندیدہ کبابچی کو وی آئی پی‘ سرکاری مہمان بنایا جاتا رہا۔ آپ خاموش رہے۔ بات وہی ہے جو نعیم صدیقی نے برسوں پہلے کہی تھی:
یہ لا الٰہ خوانیاں جائے نماز پر
سولی پہ چڑھ کے نغمہ یہ گاتے تو جانتے
مگر آپ سے شکوہ بے جا ہے۔ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا‘ اور کر رہے ہیں۔ یہی ہمارا قومی تشخص بن چکا ہے۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد ہمارے قومی خزانے کو نقب ہی لگتی رہی۔ ہمارے حکمرانوں میں کوئی اور محمد علی جناح‘ کوئی اور لیاقت علی خان‘ کوئی اور عبدالرب نشتر‘ کوئی اور مولوی تمیز الدین‘ کوئی اور مولوی فرید احمد‘ کوئی اور جوگندر ناتھ منڈل‘ کوئی اور نور الامین پیدا نہ ہوا! افسوس! صد افسوس! حیف! صد حیف! ہیہات! ہمیں تاریخ کی گردش نے اور ہمارے مقدر کی سیاہی نے ان لوگوں کے سپرد کر دیا جو اپنا ایک خوشہ بچانے کیلئے پوری سرکاری چراگاہ کو نذرِ آتش کر ڈالیں! جن کا تکیہ کلام تھا ''اے اپنا بندہ اے‘‘ ان اپنے بندوں کو سفارتیں دی گئیں۔ جو اے ڈی سی لگا اس کی نسلیں سنور گئیں۔ کاش گزشتہ تین چار دہائیوں کے ریکارڈ کی کوئی تحقیق کرے۔ بیرونِ ملک تعیناتیاں شاید ایک فیصد بھی میرٹ پر نہیں ہوئیں۔ جنہوں نے مردِ مومن مردِ حق کی وفات پر اعلانات کیے تھے کہ ''ہم ان کا مشن جاری رکھیں گے‘‘ انہوں نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ میرٹ کا قتل جاری رہا۔
پس نوشت: انڈین پولیس سروس کی مسلم افسر کا تبادلہ بطور سزا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس نے ایک وڈیو انٹرویو میں السلام علیکم‘ ان شاء اللہ اور جزاک اللہ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو ایک انتہائی ذہین اور لائق خاتون ہیں۔ وہ یو پی کے ضلع کنوج کے ایک گاؤں کی ہیں۔ بارہ سال کی عمر میں میٹرک کر لیا۔ لکھنؤ سے ایم بی اے کیا۔ علیگڑھ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں سعودی عرب کے لیے منتخب ہو گئے جہاں وہ یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ پھر ڈاکٹر بشریٰ نے فیصلہ کیا کہ وہ بھارت واپس جا کر مقابلے کا امتحان دیں گی اور سول سروس میں شمولیت اختیار کریں گی۔ جس طرح پاکستان میں ''فیڈرل پبلک سروس کمیشن‘‘ کا ادارہ مقابلے کا امتحان لیتا ہے‘ اسی طرح بھارت میں ایسے ہی ادارے کو فیڈرل کے بجائے ''یونین پبلک سروس کمیشن‘‘ کہتے ہیں۔ پاکستان کے مقابلے میں وہاں مقابلے کا امتحان دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ بھارت کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ گزشتہ سال ساڑھے نو لاکھ امیدواروں نے درخواستیں دیں۔ ان میں سے تقریباً پونے چھ لاکھ نے امتحان دیا۔ ان میں سے چودہ ہزار نے تحریری امتحان پاس کیا اور فائنل رزلٹ میں 2700 امیدوار پاس ہوئے۔ ان میں سے 958 کو سول سروس کی اعلیٰ ملازمتیں ملیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انڈین سول سروس میں مقابلہ کتنا سخت ہے۔ پھر ایک متعصب معاشرے میں جسے آر ایس ایس اور بی جے پی کے علمبرداروں نے مسلمانوں کے لیے جہنم بنا رکھا ہے‘ ایک مسلم لڑکی کا انڈین پولیس سروس میں آ جانا کوئی معمولی بات نہیں۔ تین دن پہلے ڈاکٹر بشریٰ کا بطور سزا تبادلہ کر کے انہیں کھڈے لائن لگا دیا گیا۔ کیونکہ ایک انٹرویو میں انہوں نے جزاک اللہ‘ السلام علیکم اور ان شاء اللہ کے الفاظ استعمال کیے۔ ہندوتوا کے انتہا پسندوں نے مغربی بنگال کے سیکرٹری داخلہ کے پاس جا کر شکایت کی کہ مسلم پولیس افسر نے بندے ماترم اور جے ہند کے الفاظ استعمال نہیں کیے‘ یوں وہ غیر جانبدار نہیں رہیں۔ اس سے ہم پاکستانی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو کس صورت حال کا سامنا ہے۔ کانگرس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بی جے پی حکوت پر تنقید کرتے ہوئے اس متعصبانہ سلوک کی مذمت کی ہے۔ دو ہفتے پہلے مہوا موئترا نے ایک اور معاملہ بھی اٹھایا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مغربی بنگال آتا ہے تو مسلم سول سرونٹس کو تقریبات میں مدعو نہیں کیا جاتا۔ اس کے برعکس یو پی کے پولیس افسر انوج چودھری نے ایک (ہندو) مذہبی تقریب میں وردی پہنے شرکت کی جبکہ ہندو مذہبی ہتھیار‘ گرز بھی اٹھا رکھا تھا‘ اسے جلد ہی ترقی دے دی گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...