ہمارا سب سے بڑا خیر خواہ کون ہے؟
اس سوال کا ایک جواب اللہ کے آخری رسولﷺ نے دیا ہے۔ انسانی تاریخ میں اخلاق کا سب سے بڑا ماخذ پیغمبر ہوئے ہیں۔ شخصی واجتماعی اخلاقیات میں‘ پیغمبروں سے بڑھ کر کوئی مثال پیش نہیں کی جا سکی۔ فلسفہ‘ سائنس‘ سیاست ہر باب میں بڑی بڑی شخصیات نے جنم لیا‘ عالمِ انسانیت جن کے مقام ومرتبہ کا معترف رہا ہے اور لوگوں نے انہیں راہنما مانا ہے۔ ان میں مگر شاید ہی کوئی ہو جس نے جو کہا‘ کر کے دکھایا ہو۔ جس نے اپنی زندگی کو لوگوں کے سامنے بطور مثال پیش کیا ہو۔ اخلاقیات کی تعمیر و تطہیر اور مکارمِ اخلاق کی تکمیل کو جس نے اپنا مقصدِ حیات بتایا ہو۔ ایسے اُجلے کردار صرف پیغمبروں کی صف میں ملتے ہیں جو دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔ یہ بات میں مذہبی آدمی کے طور پر نہیں کہہ رہا۔ تاریخ اور تہذیب کے ایک طالبعلم کی حیثیت میں عرض کر رہا ہوں۔
انبیا کی صف میں زمانی اعتبار سے جو شخصیت سب سے آخر میں کھڑی ہے‘ وہ سیدنا محمدﷺ کی ذاتِ والا صفات ہے۔ یہ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ مسلمان بھائی کی مدد کرو‘ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ اپنی بات کی شرح کرتے ہوئے فرمایا: ظالم کی مدد یہ ہے کہ اس کو ظلم سے روکا جائے۔ (بخاری)۔ یہ کمال کی نصیحت ہے۔ خیر خواہی کا ایسا تصور اسی نظامِ فکر میں ہو سکتا ہے جس میں اخلاق کو پہلی ترجیح حاصل ہو۔ ہمیں دوسروں کا مددگار ہونا چاہیے۔ یہ ان کے ساتھ خیر خواہی کا تقاضا ہے۔ اس مدد کے دائرے ہیں‘ جو کسی کا بوجھ اٹھانے سے لے کر اس کی مالی مدد تک محیط ہیں۔ مذہب نے اس میں ایک نئے دائرے کا اضافہ کیا ہے۔ یہ کسی کو آخرت میں سزا سے بچانے کے لیے اس کی مدد ہے۔ اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ اپنے ساتھ اپنے اہلِ بیت کو بھی جہنم کی آگ سے بچاؤ۔ یہ اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی ہے۔
ایک سیاسی جماعت میں اپنی قیادت اور پارٹی کے سب سے بڑے خیر خواہ وہ ہیں جو اپنی قیادت کو اخلاقی معیارات پر پرکھتے ہیں اور انہیں اس حوالے سے متنبہ کرتے ہیں۔ جو پارٹی کے اجلاسوں میں صحیح بات کہتے ہیں۔ جو یہ چاہتے ہیں کہ ان کی قیادت کے طرزِ عمل میں کوئی ایسی بات نہ ہو جس پر مخالفین انگلی اٹھائیں یا جس کا دفاع مشکل ہو جائے۔ جن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی قیادت دوسروں کے مقابلے میں بہتر اخلاق رکھتی ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ اقتدار کی سیاست میں مثالی کردار نہیں پائے جاتے۔ تاریخ میں بھی جنہوں نے اقتدار کی سیاست کی‘ ان کا اخلاقی معیارات پر دفاع آسان نہیں ہوا۔ لوگوں کو حقیقت پسندی کا پیمانہ تراشنا یا حالات کا عذر پیش کرنا پڑا۔ علمِ کلام کو مدد کے لیے پکارا گیا۔ راویوں کو تنقید کی سولی پر چڑھایا گیا۔ یہ سب اس لیے کیا گیا کہ ان کے طرزِ عمل کو اخلاقی پیمانوں سے ماپنا مشکل ہو گیا۔ اقتدار کی سیاست میں یہی ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں عام طور پر تقابل ہی کا اصول چلتا ہے یا کلٹ کا۔ اگر آپ حقیقت پسند ہیں تو تقابل کا طریقہ اپنائیں گے۔ غبی ہیں تو کلٹ کی پوجا کریں گے۔
اس ماحول میں اچھے لوگ یہ کوشش کرتے ہیں کہ ان باتوں سے گریز کیا جائے جن سے بچنا ممکن ہے۔ مثال کے طور پر ایک سادہ طرزِ زندگی ہے۔ ہمارے ملک کے بعض اہلِ سیاست اپنی دولت کی وجہ سے ایک شہرت رکھتے ہیں۔ انہیں یہ دکھانے کی ضرورت نہیں کہ وہ ثروت مند ہیں۔ اگر وہ اپنی تقریبات کو سادہ رکھیں گے تو اس سے اُن کے مقا م ومرتبے میں کوئی فرق نہیں آئے گا بلکہ اس سے دوسروں کے سامنے ایک مثال آئے گی کہ دولت مند ہونے کے باوجود‘ سادہ زندگی کو اپنایا جا سکتا ہے۔ اصل سادگی وہی ہے جو آدمی کا انتخاب ہو نہ کہ وہ مجبوری میں اختیار کی جائے۔ یہ جائز ناجائز کی بحث نہیں‘ ایک لیڈر کے سماجی کردار کا سوال ہے۔ اگر کسی کے پاس جائز ذرائع سے جمع شدہ دولت موجود ہے تو اسراف سے بچتے ہوئے‘ وہ ایک بہتر طرزِ زندگی اختیار کر سکتا ہے۔ یہ تقویٰ کے خلاف بھی نہیں ہے۔ مگر جب آپ لیڈر بنتے ہیں تو آپ دوسروں کے لیے مثال ہوتے ہیں۔ پھر آپ جائز کاموں کو بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ منصبِ قیادت کا تقاضا ہے۔
احسن اقبال صاحب نے اپنی قیادت اور جماعت کے حقیقی خیر خواہ کے طور پر انہیں درست توجہ دلائی ہے۔ نواز شریف صاحب خود اس کے قائل رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹیوں کی شادی سادگی کے ساتھ کی۔ نمائش سے گریز کیا اور اس کی تحسین کی گئی۔ اس حوالے سے ہماری تاریخ روشن مثالوں سے بھری ہے۔ خلافتِ راشدہ تو خیر ایک ایسا دور ہے جس کی نظیر انسانی تاریخ دوبارہ نہیں پیش کر پائے گی‘ لیکن اس عہد کے علاوہ بھی ہماری تاریخ میں ایسے لوگ حکمران ہو گزرے ہیں جنہوں نے زندگی کو تعیش کے تمام مظاہر سے پاک رکھا۔ ان میں ایک عمر بن عبدالعزیز ؒبھی تھے۔ احسن اقبال صاحب نے جن کی مثال دی۔ انہوں نے ایک امیر گھرانے میں پرورش پائی مگر جب اقتدار ملا تو ان کا طرزِ زندگی بدل گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں لیاقت علی خان بھی تھے۔ سادہ زندگی کا مظہر۔
(ن) لیگ میں احسن اقبال صاحب اور خواجہ سعد رفیق صاحب پارٹی اور شریف خاندان کے حقیقی خیر خواہ کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کی نیک نامی میں اضافہ کیا ہے اور اپنی قیادت کو درست مشورے دیے ہیں۔ سعد رفیق صاحب کی برسوں سے یہی شہرت ہے کہ وہ پارٹی کے اجلاسوں میں‘ وہی بات کہتے آئے ہیں جسے وہ درست سمجھتے ہیں۔ نواز شریف صاحب نے ان کی تنقید کو خندہ پیشانی سے سنا ہے اور میرے نزدیک یہی نواز شریف صاحب کی اصل قوت ہے۔ لیڈر کا دل بڑا ہوتا ہے اور وہ تنقید کو گوارا کرتا ہے کہ وہ اس میں مستور خیر خواہی کو دیکھ لیتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ نواز شریف صاحب اس پر اللہ کا شکر ادا کریں گے کہ ان کی جماعت میں احسن اقبال صاحب اور خواجہ سعد رفیق صاحب جیسے لوگ موجود ہیں۔
اللہ کرے کہ دوسری جماعتوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہوں جو اپنی قیادت کو اپنے ضمیر کے مطابق اور درست مشورہ دیں۔ انہیں تذکیر کرتے رہیں کہ مسلم تہذیبی روایت میں قیادت کا معیار کیا ہے۔ اس باب میں مغرب کی روایت بھی قابلِ رشک ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ اس سے بھی استفادہ نہ کیا جائے۔ ہر اچھی بات ہماری میراث ہے۔ سیاسی قیادت کو اس بات کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ اخلاقی پہلو سے اگر صرفِ نظر کر لیں تو سیاسی اعتبار سے بھی پُرتعیش اندازِ زندگی‘ حکمران جماعت کے لیے تباہ کن ہے۔ اس سے عوام میں اشتعال اور ناپسندیدگی پیدا ہوتی ہے۔ عوام پھر اپنے جذبات کا اظہار انتخابات میں کرتے ہیں۔
آج سیاسی جماعتوں کو بقا کا چیلنج درپیش ہے۔ ان کی عوامی حمایت سمٹتی جا رہی ہے۔ سیاسی قیادت کو سمجھنا ہو گا کہ سیاسی جماعتوں کی اصل قوت عوام ہوتے ہیں اور عوامی تائید کا تعلق قیادت کی اخلاقی قوت کے ساتھ ہے۔ اخلاقی طور پر مضبوط افراد ہی مستحکم سیاسی کلچر کو فروغ دے سکتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو اپنے اخلاقی معیارات کے معاملے میں حساس بننا ہے۔ احسن اقبال صاحب اور سعد رفیق صاحب اس جانب توجہ دلا کر (ن) لیگ اور قوم کے حقیقی خیر خواہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی ایسے لوگ نصیب ہوں تو یہ ملک و قوم کے لیے نیک شگون ہو گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments