"KNC" (space) message & send to 7575

پُل اور ووٹ بینک

ایک پُل ووٹ بینک پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
اسلام آباد میں ایک بائی پاس نو ماہ سے زیرِ تعمیر ہے۔ اسے جس تاریخ کو مکمل ہونا تھا‘ اسے گزرے تین ماہ ہو چکے۔ ہنوز دلّی دور است۔ چند ماہ پہلے تعمیر ہونے والی چھ رویہ شاندار سڑک کو اکھاڑ کر یہ منصوبہ شروع ہوا۔ کروڑوں روپے کا یہ زیاں اس وقت زیرِ بحث نہیں۔ ہم اپنی بات کو بائی پاس تک محدود رکھتے ہیں۔ نئی سڑک یا پُل کی تعمیر سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو قابلِ فہم ہیں۔ شہری جانتے ہیں کہ چند دن یا کچھ ماہ کی اس تکلیف کے بعد آسانی ہی آسانی ہے۔ اسلام آباد کے شہریوں کے لیے مگر یہ چند ماہ اتنے اذیتناک ہو جائیں گے‘ اس کا کسی کو اندازہ نہیں تھا۔
تعمیر شروع ہوئی تو گزر گاہ بند ہو گئی‘ جس پر روزانہ ہزاروں لوگ سفر کرتے ہیں۔ ایک متبادل راستہ دیا گیا جو ایک ہسپتال سے ہو کر گزرتا ہے۔ ہسپتال کے غیر آباد حصے سے ایک کچا راستہ نکالا گیا۔ یہ کم و بیش تین کلو میٹر پر مشتمل ہو گا مگر اس سے گزرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ جو پکی سڑک تھی‘ وہ ٹریفک کے رش کی وجہ سے کچھ ہی دنوں میں گڑھوں سے بھر گئی۔ کچے راستے کا حال تو اور بھی برا ہے۔ بارش ہو جائے تو جگہ جگہ پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ اس پانی کی گہرائی کتنی ہے۔ آتشِ نمرود میں عشق کو بے خطر ہی کودنا پڑتا ہے۔ انسانوں پہ جو بیتی اس کی داستان الگ ہے‘ گاڑیوں کو اگر زبان مل جائے تو چیخ چیخ کر آسمان سر پہ اٹھا لیں۔ وہ یہ تو نہیں کر سکتیں مگر بعض احتجاجاً آگے بڑھنے سے انکار کر دیتی ہیں۔ جو رکتی نہیں وہ شاید ہی اپنی طبعی عمر پوری کر سکیں۔ ان کو یقینا جان لیوا امراض لاحق ہو چکے۔ دوسری طرف سے جو راستہ دیا گیا‘ اس کا عالم بھی یہی ہے۔
انسانوں پر جو گزر رہی ہے وہ رنج و الم کی الگ داستان ہے۔ ہر گاڑی میں اے سی نہیں ہوتا۔ شدید گرمی کے موسم میں شیشے کھولنا پڑتے ہیں۔ مسافر جتنی گرد پھانکتے ہیں‘ اس کا حال ان کے پھیپھڑے ہی جانتے ہوں گے۔ بہت سے لوگ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں۔ بے شمار بچے صبح و شام سکول آتے جاتے ہیں۔ ان کی صحت پر پڑنے والے اثرات کا صرف اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں‘ وقت کا ضیاع الگ مسئلہ ہے۔ ہر مسافر کم از کم ایک گھنٹہ معمول سے زیادہ اس سڑک پہ گزارتا ہے۔ مسافر یہاں سے گزرتے ہوئے اربابِ حل و عقد کو جن الفاظ میں یاد کرتے ہیں‘ ان کا صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ اگر وہ سن لیں تو ان عہدوں کو لات ماریں اور گھر جا بیٹھیں۔
یہاں سے گزرنے والے اس تکلیف کا ذمہ دار کسے سمجھتے ہیں؟ میں اس سوال کو ایک دوسرے زاویے سے آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ عوام اپنا غصہ کس پر اتاریں گے؟ یہی سوال اس کالم کا اصل موضوع ہے۔ تین کرداراس بدانتظامی یا حادثے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ ایک حکومت۔ یہ ایک مجمل لفظ ہے۔ ہر آدمی کے نزدیک اس کی تعریف مختلف ہے۔ ایک مفہوم البتہ مشترک ہے۔ وزیراعظم‘ وزیر اور منتخب نمائندے سب کے خیال میں 'حکومت‘ ہیں۔ دوسرے ذمہ دار کا نام سی ڈی اے ہے۔ ایک تیسرا ذمہ دار بھی ہے لیکن اس کا نام لینا ضروری نہیں۔ دوسرے اور تیسرے فریق کو عوام کی کوئی پروا نہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ناراض ہوں گے تو ان کا کیا کر لیں گے۔ یہ بات عوام کو بھی معلوم ہے۔ عوام کا بس صرف حکومت پر چلتا ہے‘ وہ بھی تب جب وہ منتخب یا سیاسی ہو۔ یہ عوام کا حق بھی ہے کہ اگر وہ ان کے ووٹوں سے بنی ہے تو ان کے سامنے جوابدہ بھی ہے۔
سوال یہ ہے کہ منتخب نمائندے‘ کیا عوام کے اذیت میں کمی کر سکتے تھے؟ میرا کہنا ہے کہ کر سکتے تھے۔ مثال کے طور سی ڈی اے سے انہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ وہ جو متبادل راستہ دے رہی ہے‘ اسے پکا کر دے۔ کم ازکم اتنا کہ وہ ایک سال تک چل جائے۔ اس پر زیادہ خرچ نہیں آنا تھا۔ جتنا بڑا یہ منصوبہ ہے‘ اس نسبت سے یہ اضافی خرچ ناقابلِ ذکر ہوتا۔ اگر کروڑوں روپے کی نئی تعمیر شدہ چھ رویہ سڑک‘ اس بائی پاس کے لیے اکھاڑی جا سکتی تھی تو متبادل راستے کے لیے چند لاکھ زیادہ کیوں خرچ نہیں کیے جا سکتے تھے؟ سی ڈی اے کو خود اس کا اہتمام کرنا چاہیے تھا لیکن اگر اس نے نہیں کیا تو پھر یہ اس علاقے کے منتخب نمائندے کا کام تھا کہ وہ اس سے متبادل پکے راستے کے لیے مطالبہ کرتا۔ چند لاکھ کے اضافی خرچ سے عوام ایک بڑی اذیت‘ مالی نقصان اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے تھے۔ اس سے ووٹ بینک بھی بڑھ جاتا۔ یہ ایک منصوبہ نہیں ہے۔ ملک بھر میں نہ جانے کتنے ایسی بائی پاس اور پُل ہوں گے۔
ایسا کیوں نہیں ہوتا ہے؟ اس کا ایک ہی جواب ہے: ہمارے گورننس ماڈل میں عوام ترجیح نہیں ہیں۔ اسی بائی پاس کے معاملے میں دیکھیں تو ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے وابستہ مفادات ہمیں زیادہ عزیز ہیں۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا ہے کہ اس کے پلاٹوں کی قیمت کیسے زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہی سوچ ہمیں ہر جگہ کارفرما دکھائی دے گی۔ کہیں ہمارا طے کردہ 'قومی مفاد‘ ترجیح ہے جس سے ضروری نہیں کہ عوام کو اتفاق ہو۔ کہیں برسرِ اقتدار طبقے کا خاندانی مفاد۔ کہیں ادارہ جاتی مفاد۔ عوام کا مفاد کس میں ہے؟ ان کی تعلیم کتنی اہم ہے؟ ان کی صحت کتنی ضروری ہے؟ ان سوالات کے جواب کے لیے صرف یہ دیکھ لیں کہ قومی بجٹ میں عوام کے لیے کتنا پیسہ رکھا جاتا ہے۔ ان کی تعلیم‘ ان کی صحت ہماری بجٹ کی ترجیحات میں کہاں ہے؟
اب تو معاملہ یہاں تک آ پہنچا کہ انہیں بھی عوام کا خیال نہیں جن کا اقتدار ان کے ووٹوں کے مرہونِ منت ہے۔ انہیں شاید اندازہ نہیں کہ اس ایک منصوبے نے ان کے ووٹ بینک کوکس طرح متاثر کیا ہے۔ عوام کے تمام تر ناراضی اور غصے کا ہدف وہی ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ ان آٹھ نو ماہ میں‘ صرف ایک بائی پاس کی تعمیر نے ان کی عوامی تائید کو اتنا متاثر کیا ہے کہ اس کی تلافی آسان نہیں ہو گی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ بائی پاس کیوں بنا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کی تعمیر کے دوران میں عوام کی اذیت کو کم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ عوامی نمائندوں کا کام تھا کہ وہ متبادل راستوں کے لیے متحرک ہوتے اور یہ ممکن تھا۔ افسو س کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ دراصل اس سسٹم کے اسیر ہیں جس کے بارے میں ہمارے وزیر داخلہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس میں عوام کے لیے کوئی خیر نہیں۔ اس کو بدلنا ناگزیر ہو چکا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کو بدلنے کے لیے بھی عوام سے پوچھنا ضروری نہیں سمجھا جا رہا۔ قومی سطح پر کوئی مکالمہ نہیں ہوا۔ اس بار بھی خواص ہی فیصلہ کریں گے کہ عوام کے لیے کیا بہتر ہے۔
عوام شاید اتنے باشعور نہ ہوں کہ غلط اور صحیح میں تمیز کر سکیں مگر اتنے بے حس بھی نہیں کہ گرد و غبار کے اثرات کو نہ سمجھ سکیں۔ وہ ان اثرات پر تو اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ وہ سکیورٹی سٹیٹ اور ویلفیئر سٹیٹ کا مطلب تو نہیں سمجھ سکتے مگر ووٹ دیتے وقت یہ تو دیکھ سکتے ہیں کہ کس نے ان کے لیے کیا کیا؟ سی ڈی اے پر ان کا بس نہیں چلتا مگر عوامی نمائندوں پر تو چلتا ہے۔ بھارتی فلم کا مشہور ڈائیلاگ لوگ دہراتے ہیں کہ ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا سکتا ہے۔ اسی طرح ایک پُل بھی سیاستدان کو اقتدار کے ایوانوں سے گھر پہنچا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...