"MMC" (space) message & send to 7575

شیخ عبدالقادر جیلانی نوّراللہ مرقدہٗ …(3)

(10) ارشاد فرمایا: ''تو مکاری اور فریب کو چھوڑ دے اور اپنے ظاہر کو شریعت کے آداب سے مزین کر اور اپنے باطن کو مخلوق کے نقش مٹا کر سنوار لے۔ خلقِ خدا کے در اپنے دل پر بند کر لے اور انہیں اپنے دل سے اس طرح فنا کر ڈال اور یوں سمجھ کہ وہ کبھی پیدا ہی نہیں ہوئے۔ خبردار! بندوں کے ہاتھوں میں نفع یا نقصان دیکھنا چھوڑ دے۔ افسوس! تُو نے اپنے قلب کی زینت کوچھوڑدیا اور مٹی کے اس قالب کو آراستہ کرنے میں زندگی ضائع کر دی۔ دل کی سچی زینت تو صرف توحید میں ہے‘ اخلاصِ کامل میں ہے‘ رب پر توکل کرنے‘ اسی کی یاد میں تڑپنے اور غیر اللہ کے ہر خیال کو یکسر بھلا دینے میں ہے‘‘ (الفتح الربانی)۔
(11) دعائوں کی عدمِ قبولیت کی وجوہات میں سے ایک وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''دعائوں کے قبول نہ ہونے کی دوسری وجہ اللہ کے ساتھ شرکِ خفی ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ انسانوں میں کوئی بھی معصوم نہیں ہے؛ چنانچہ عارف کی ہر دعا اس لیے قبول نہیں کی جاتی‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ محض اپنی نفسانی عادت اور طبعی خواہش کے تحت دستِ سوال دراز کرنے کا عادی بن جائے کیونکہ جب دعا تعمیلِ حکمِ الٰہی کے بجائے محض نفس کی عادت بن جائے تو اس میں بندگی کے بجائے شرک کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ افسوس کہ انسان اس حقیقت سے کس قدر غافل ہے کہ زندگی کے ہر موڑ‘ ہر مقام اور قدم قدم پر اس سے شرکِ باطن کا ارتکاب ہو سکتا ہے‘‘ (فتوح الغیب)۔
(12) فقیر و سالک کے آداب اور مخلوق سے سوال کرنے کی بابت آپ لکھتے ہیں: ''سلوک و تصوف کی راہ پر گامزن سچے فقیر اور سالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے دل سے اَغنیاء‘ دنیا اور حتیٰ کہ آخرت کی تمام خواہشات کو نکال کر دل کے خَلوت خانے کو صرف رب تبارک وتعالیٰ کی تجلیات کیلئے وقف کر دے۔ پس جب دل توحید اور توکل سے لبریز ہو جاتا ہے تو محنت و پریشانی کے بغیر حقیقی غِنا نصیب ہوتا ہے۔ اگر کسی مجبوری کے تحت مخلوق سے کوئی سوال کرنا پڑے تو اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ مخلوق کو رزق کا مالک نہ سمجھے‘ بلکہ اُنہیں محض بے بس کارندے‘ وکیل اور امانت دار سمجھے جن سے مالکِ حقیقی خود کام لے رہا ہے۔ پس خبردار! وہ انہیں اللہ کے سوا اپنا پروردگار اور حاجت روا نہ بنا بیٹھے۔ چنانچہ بندوں سے کچھ مانگنے کی حیثیت فقط اُنہیں خبر دینا یا احوال معلوم کرنا ہو۔ خبر دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ صرف اپنے اور اپنے اہل وعیال کی حالتِ زار بیان کرے‘ نہ کہ اپنے رب کی شکایت اور گلہ شکوہ کرنے لگے اور معلومات حاصل کرنے کا مقصد یہ ہو کہ: اے وکیل! اے خزانچی! اے امانت دار! اے بندہ مملوک! اور اے مجھ جیسے عاجز و فقیر! کیا تیرے پاس ہمارے نصیب کا کچھ بچا ہے‘ کیا ہمارے لیے تجھ پر کچھ لازم کیا گیا ہے اور کیا تجھے مالک کی طرف سے دینے کی اجازت ملی ہے‘ کیونکہ تو اور میں اس مال کے معاملے میں برابر ہیں جو تیرے ہاتھ میں ہے‘ جبکہ اس کا حقیقی مالک ہمارے علاوہ کوئی اور ہے اور ہم سب اسی کے در کے محتاج ہیں۔ پس اگر وہ اس ایمانی معرفت اور شانِ توحید کے ساتھ سوال کرے گا تبھی اس کا مانگنا درست تسلیم کیا جائے گا‘ ورنہ ہرگز نہیں۔ یاد رکھو! ایسے ہر مشرک‘ دجال‘ ریاکار‘ بت پرست‘ راہِ حق سے بھٹکے ہوئے‘ جھوٹے مدعی] کذّاب‘ منافق اور زندیق کیلئے معرفت کی اس بارگاہ میں کوئی عزت واحترام نہیں۔ سچا فقیر وہ ہے جو مخلوق کے عطا کرنے پر شکر کرے اور محروم رہنے پر صبر و رضا کا دامن نہ چھوڑے۔ وہ رد کرنے والے پر ناراض یا معترض نہ ہو کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دینے اور روکنے والا حقیقی مالک صرف اللہ تعالی ہی ہے۔ بندوں کی عدمِ توجہی کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ انسان مخلوق کے دروازے چھوڑ کر اپنے رب کے در سے چمٹ جائے اور دعا و عاجزی کے ذریعے قربِ الٰہی حاصل کرے۔ حقیقی سالک ہمیشہ انسانوں یا اسباب پر اعتماد کرنے کے بجائے ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تمام خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں۔ پس وہ اسی سے آسانیوں کا سوال کرتا ہے۔ وہ اپنی قدرتِ کاملہ سے اپنی مخلوق کے دلوں کو اُس کیلئے مسخر کر دیتا ہے‘ اُس کی مشکلات کو آسان فرماتا ہے‘ رزق کے دروازے کھول دیتا ہے اور اُس کے رزق کا حصہ اُس تک پہنچا دیتا ہے۔ جو شخص مخلوق کے سامنے جھکنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کے حضور عَجز وانکسار کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ اسے بندوں اور آقائوں کی غلامی و ذلت سے آزاد کر دیتا ہے اور اپنے غیب کے خزانے بلاواسطہ اس کیلئے کھول دیتا ہے‘ (الغنیۃ لطالبی طریق الحق‘ ج: 2‘ ص: 294)۔
(13) عصرِ حاضر میں جہاں دیگر بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں وہیں ایک بڑی بے توجہی یہ بھی ہے کہ بہت سے حضرات فرائض میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ جبکہ مستحبات اور نوافل کے پابند نظر آتے ہیں۔ مثلاً محافل میں بھرپور شرکت کرتے ہیں لیکن نماز سے لاپروائی برتتے ہیں۔ دنیوی علوم کی تحصیل کیلئے دن رات ایک کر دیے جاتے ہیں لیکن دین کے بنیادی اور فرض علوم سے ناآشنا رہتے ہیں۔ صدقہ وخیرات کرتے ہیں مگر فرض حج ادا نہیں کرتے۔ ایسے حضرات کو شیخ کے ان ارشادات پر توجہ دینی چاہیے: ''مومن کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہ فرائض کا اہتمام کرے‘ پھر سنتوں کو ادا کرے‘ اس کے بعد نوافل اور مستحبات میں مشغول ہو‘‘۔ فرائض و واجبات سے غفلت برتنے والوں کی بابت فرماتے ہیں: ''اگر فرائض سے پہلے سنن ونوافل میں مصروف ہو تو قبولیت حاصل نہیں ہو گی بلکہ اُسے ذلیل کیا جائے گا‘ اس کی مثال ایسی ہے کہ بادشاہ کسی شخص کو اپنی خدمت کیلئے بلائے تو وہ بادشاہ کے بجائے اس کے وزیر کی خدمت کرنے لگے‘ حالانکہ وزیر خود بادشاہ کا غلام‘ خادم اور ماتحت ہے‘‘ (فتوح الغیب‘ مقالہ 48)۔
دنیا اور دنیا کی نعمتوں سے تعلق یقینا ناگزیر ہے لیکن اس کی حدود وقیود کیا ہونی چاہئیں‘ اس کی بابت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں: ''دنیا کو اپنا مطلوب ومحبوب بنانے کے بجائے مومن کا اس کے ساتھ تعلق ضرورت وحاجت کی حد تک ہونا چاہیے‘‘۔ وہ فرماتے ہیں: ''دولتِ دنیا ہاتھ اور جیب میں رکھنی جائز‘ کسی اچھے مقصد کیلئے اسے جمع کرنا بھی جائز مگر خبردار! اُسے اپنے قلب پر اس طرح مسلّط کرنا کہ اُس کی محبت دل پر حاوی ہو جائے‘ ہرگز جائز نہیں ہے۔ دنیا کو درِ دل پر کھڑا کرنا جائز مگر خانۂ دل میں بسانا اور سجانا ناجائز ہے اور اس میں تیرے لیے کوئی عزت نہیں ہے کیونکہ دل تو فقط اللہ تعالیٰ کے ذکر وفکر سے آباد رہنا چاہیے‘‘۔
دنیا پرستوں اور دنیاوی عشرتوں کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ''بیشک دنیا تمہارے لیے پیدا کی گئی ہے لیکن تم آخرت کیلئے پیدا کیے گئے ہو۔ دنیا میں سے اپنا حصہ اس طرح مت لو کہ وہ بے نیاز بن کر بیٹھی ہے اور تم اس کے سامنے نیاز مند بن کر کھڑے ہو بلکہ اس کو اس طرح برتو کہ وہ ایک بادشاہ کے دروازے پر اپنے سر پر طباق لیے کھڑی ہے اور وہ اس سے بے نیاز ہے‘‘۔
ہمارے ہاں ایک شعار بن گیا ہے کہ غوث الاعظم کا ذکر کرامت سے شروع ہوتا ہے اور کرامت پر ختم ہوتا ہے‘ حالانکہ اصل شعار تو ان کی تعلیمات کو سمجھنا‘ قبول کرنا اور پھر عمل کے سانچے میں ڈھالنا ہونا چاہیے۔ ایک ایسے وقت میں جب اُن کی بیوہ والدۂ ماجدہ کو اُن کی خدمت کی ضرورت تھی‘ انہوں نے انہیں اپنے دل سے جدا کیا اور بغداد روانہ کیا‘ کیونکہ بغداد اس وقت عالَمِ اسلام میں علم کا مرکز تھا۔ سب سے پہلے انہوں نے علم حاصل کیا اور پھر اپنے شیخ کی مسند پر بیٹھ کر طویل عرصے تک درس وتدریس میں مشغول رہے اور اس کے بعد ریاضت ومجاہدہ کی طرف مائل ہوئے‘ چنانچہ فرماتے ہیں: دَرَسْتُ الْعِلْمَ حَتّٰی صِرْتُ قُطْبًا ؍ وَنِلْتُ السَّعْدَ مِنْ مَّوْلَی الْمَوَالِیْ۔ مفہوم: ''میں (ظاہری و باطنی) علوم پڑھتا رہا حتیٰ کہ میں قُطب بن گیا اور میں نے علم ہی کی برکت سے احکم الحاکمین کی بارگاہ سے سعادت کو پایا‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...