"MMC" (space) message & send to 7575

اخلاص ولِلّٰہیّت… (2)

احادیث مبارکہ کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اخلاص پر مبنی اعمال اور ریاکاری پر مبنی اعمال کا اللہ تعالیٰ کے نزدیک صلہ وجزا کیا ہے: ''رسول اللہﷺ سے سوال کیا گیا: (یا رسول اللہﷺ!) ایک شخص دادِ شَجاعت پانے کیلئے لڑتا ہے اور ایک شخص (اپنے قبیلے‘ برادری یا قومی) حمیت کیلئے لڑتا ہے اور ایک شخص ریا (یعنی نمود) کیلئے لڑتا ہے‘ ان میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کس کا لڑنا شمار ہو گا‘ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو اس نیت سے لڑے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ (یعنی دین) سربلند ہو‘ پس اسی کا لڑنا اللہ تعالیٰ کی راہ میں شمار ہو گا‘‘ (مسلم:1904)۔ دوسری روایات میں بعض اور اشخاص کا بھی ذکر ہوا اور آخر میں یہی سوال ہوا کہ ان میں سے اللہ کی راہ میں کس کا لڑنا ہے: ''ایک شخص مالِ غنیمت کیلئے لڑتا ہے‘ ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی شجاعت کے چرچے ہوں اور ایک شخص اس لیے لڑتا ہے تاکہ اس کی شان نظر آئے اور ایک شخص مغلوب الغضب ہوکر لڑتا ہے‘‘۔ اب عمل ایک ہی ہے‘ ظاہری صورت میں کوئی فرق نہیں ہے‘ لیکن اس عمل کے پیچھے جو نیت یا ارادہ کارفرما ہے‘ آخرت کی جزا کا مدار فقط اس پر ہو گا۔
چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیں‘ جن سے یہ امر روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک اعمال پر اجر وثواب کی مقدار کا تعیُّن اُن اعمال کے پیچھے کارفرما نیت اور اخلاص پر ہوتا ہے‘ جس درجے کا اخلاص ہوگا‘ اُسی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اُسے اجر عطا کیا جائے گا۔ صحابۂ کرام چونکہ رسول اللہﷺ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے تھے اور نگاہِ نبوت نے اُن کے دلوں کو مجلّیٰ‘ مُصَفّٰی اور پاکیزہ کر دیا تھا‘ اس لیے اُن میں اخلاص کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اور اسی بنا پر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے پایاں اجر کے حقدار قرار پائے۔ حدیثِ پاک میں ہے: نبیﷺ نے فرمایا: ''میرے صحابہ کو برا مت کہو‘ کیونکہ اگر تم میں سے کوئی شخص (اللہ کی راہ میں) اُحد پہاڑ کے برابر سونا (بھی) خرچ کر دے تو وہ میرے صحابہ کے خرچ کیے ہوئے ایک مُد یا نصف مُد (یعنی ایک کلو کھجور یا جَو کے صدقے کے اجر) کو بھی نہیں پا سکتا‘‘ (بخاری: 3673)۔ اب آپ غور فرمائیں کہ دنیاوی مالیت کے اعتبار سے ایک کلو جَو یا کھجور کی قیمت کا اُحد پہاڑ کے برابر سونے سے تقابل کا سوچا بھی نہیں جا سکتا‘ لیکن اللہ تعالیٰ صحابی رسول کے ایک کلو جَو یا کھجور کے صدقے کا اجر اپنے فضل وکرم سے اُحد پہاڑ کے برابر سونے سے بھی زیادہ گراں قدر بنا دیتا ہے۔ یہ تو اصحابِ رسول کی بات تھی‘ ایک عام شخص بھی اگر اِخلاص کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو جائے تو اُس کا اجر بھی قابلِ رشک بن جاتا ہے۔
رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''(پچھلی امتوں میں) ایک شخص راستے پر پیدل جا رہا تھا‘ اس کو شدید پیاس لگی‘ اس نے ایک کنواں دیکھا‘ وہ اس میں اترا اور پانی پی کر باہر نکل آیا۔ پھر اس نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کی شدت سے ہلکان ہو رہا تھا اور کیچڑ کو چوس رہا تھا۔ اس شخص نے (دل میں) سوچا: اس کتے کو بھی اتنی ہی شدید پیاس لگی ہے جتنی (کچھ دیر پہلے) مجھے لگی ہوئی تھی‘ وہ پھر کنویں میں اترا‘ سو اس نے اپنے موزے میں پانی بھرا‘ پھر اس موزے کو اپنے منہ سے پکڑا (اورکنویں سے باہر آکر) اس کتے کو پانی پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل کی قدر افزائی فرمائی اور اس کو بخش دیا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! کیا ہمارے لیے ان جانوروں میں بھی اجر ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: ہاں! ہر تر جگر والے (یعنی ذی حیات کو راحت پہنچانے) میں اجر ہے‘‘ (بخاری: 6009)۔ عام حالات میں بھی‘ خواہ انسان ہو یا جانور‘ پیاسے کو پانی پلانا ایک نیکی ہے‘ لیکن اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ پیاسے کتے کو پانی پلانے والے ہر شخص کی محض اس نیکی پر مغفرت ہو جائے گی۔ ایک خاص وقت میں ایک خاص کیفیت اُس کے دل میں پیدا ہوئی‘ اُس نے اپنی پیاس کی شدت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اُس کتے کی پیاس کا کرب اپنے دل میں محسوس کیا‘ اس سے اُس کے دل میں اخلاص کا جذبہ پیدا ہوا اور اس نے مشقت کر کے اس پیاسے کتے کو پانی پلایا۔ اب ظاہر ہے کہ اس کا محرِّک نہ دکھاوا تھا‘ نہ ریاکاری تھی‘ بس ایک جاندار کی جان بچانے کیلئے خوفِ خدا کا جذبہ اُس کے دل میں پیدا ہوا‘ اللہ تعالیٰ کے حضور اُس کے اس اخلاص نے قبولیت کے درجے کو پا لیا اور اس کی مغفرت ہوگئی۔
علمِ دین حاصل کرنے سے بڑھ کر نیکی اور کیا ہو سکتی ہے اور تبلیغِ دین سے بڑھ کر اور سعادت کیا ہو سکتی ہے‘ لیکن اگر یہی مقدس کام اپنی دنیا آراستہ کرنے اور دنیاوی مفاد حاصل کرنے کیلئے کیے جائیں تو اکارت چلے جاتے ہیں اور لوگ آخرت کے اجر سے محروم ہو جاتے ہیں۔ چند احادیث ملاحظہ ہوں: (1) نبیﷺ نے فرمایا: جس نے علم اس لیے حاصل کیا کہ علماء پر اپنی برتری ظاہر کرے یا بیوقوف لوگوں سے بے مقصد بحث کرے یا لوگوں کا رُخِ عقیدت اپنی جانب پھیر دے (تو یہ علم) اُسے جہنم میں داخل کر دے گا‘‘ (ترمذی: 2654)۔ (2) ''وہ علم جو صرف اللہ کی رضا کیلئے حاصل کرنا چاہیے‘ کوئی شخص اُسے کسی دنیاوی مقصد کے حصول کیلئے حاصل کرتا ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا‘‘ (ابن ماجہ: 252)۔ (3) حدیث پاک میں ہے: ''قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا‘ وہ شہید ہو گا‘ اُس کو بلایا جائے گا اور اُسے اُس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی‘ جب وہ اُن نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا‘ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں جہاد کیا حتیٰ کہ شہید ہوگیا‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے‘ بلکہ تو نے اس لیے قتال کیا تھا تاکہ تو بہادر کہلائے‘ سو تجھے بہادر کہا گیا‘ پھر اُسے منہ کے بل لاکر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک شخص نے علم حاصل کیا اور لوگوں کو تعلیم دی اور قرآن مجید پڑھا‘ پس اُسے لایا جائے گا اور اس کو اس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی‘ جب وہ اُن نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے اِن نعمتوں سے کیا کیا‘ وہ کہے گا: میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور میں نے تیری خاطر قرآن کی تلاوت کی‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا‘ بلکہ تم نے علم اس لیے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا کہ تو قاری کہلائے‘ سو تجھے (دنیا میں) عالم اور قاری کہا گیا‘ پھر اُسے منہ کے بل لاکر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا کی اور ہر قسم کے مال سے نوازا‘ سو اُسے قیامت کے دن لایا جائے گا اور اُس کی نعمتیں اسے دکھائی جائیں گی اور وہ انہیں پہچان لے گا‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے اِن نعمتوں سے کیا کام لیا‘ وہ کہے گا: اے اللہ! ہر وہ راستہ جو تجھے پسند ہے‘ میں نے اُس میں اس مال میں سے خرچ کیا‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا‘ تو نے تو یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ تجھے سخی کہا جائے‘ سو (دنیا میں) تجھے سخی کہا گیا‘ پھر حکم ہو گا اور اُسے اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے گا‘‘ ( مسلم: 1905)۔ اس حدیث پاک میں جن تین اعمال کا ذکر ہے‘ وہ سب اعلیٰ درجے کی نیکیاں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن کیلئے بے پایاں اجر مقدر ہے‘ لیکن یہ اجر اُن کیلئے ہے جو یہ کام دنیا میں نام ونمود کیلئے نہیں‘ بلکہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کیلئے کریں‘ چونکہ ان تینوں افراد نے یہ کام دنیا میں شہرت پانے کیلئے کیے‘ دنیا میں تو وہ شہرت اُن کو مل گئی‘ لیکن آخرت کے اجر سے اس لیے محروم ہوئے کہ اُن کے دل اخلاص سے خالی تھے۔ اللہ تعالیٰ ایسے انجام سے ہم سب کو محفوظ فرمائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...