امام راغب اصفہانی لکھتے ہیں: اخلاص کے معنی ہیں: ''کسی چیز کو (ہر قسم کی میل اورکھوٹ سے) پاک کر دینا۔ ''خالص‘‘ صافی کے ہم معنی ہے‘ لیکن خالص اُسے کہتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی کھوٹ تھی تو اُسے دور کر دیا گیا ہو اور صافی اُسے کہتے ہیں: جو اصلاً پاک ہو‘‘ (المفردات‘ ص: 292)۔
علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں: ''خلوص اور خلاص کے معنی ہیں: اگر اُس میں کوئی چیز مل گئی ہو تو اُس سے پاک کر دینا اور لِلّٰہیت یا دین میں اخلاص کے معنی ہیں: 'دین کو اللہ تعالیٰ کیلئے خاص کر دینا‘ اور 'اَخْلَصَ الشَّیْئَ‘ کے معنی ہیں: کسی چیز کوچُن لینا اور پسندیدہ قرار دینا‘۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے کے سبب ابلیس کو جنت سے نکال دیا‘ اُسے دھتکار دیا اور روزِ قیامت تک اپنی لعنت کا سزاوار قرار دیا تو شیطان نے کہا: ''اے پروردگار! مجھے روزِ قیامت تک مہلت دیجیے‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''بے شک تو اُس دن تک جس کا وقت (ہمیں) معلوم ہے‘ مہلت پانے والوں میں سے ہے‘ اُس نے کہا: پس تیری عزت کی قسم! میں ضرور اِن سب (بنی آدم) کو گمراہ کروں گا‘ سوائے اُن کے جو اُن میں سے تیرے چنیدہ بندے ہیں‘‘ (ص: 79 تا 83)۔ ثعلب نے کہا: مُخلِصین وہ ہیں جو عبادت کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کر دیں اور مُخلَصین وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ خود خالص فرما دے اور وہ اس کے پسندیدہ وچنیدہ بندے ہوتے ہیں۔ عبادت میں اخلاص کے معنی ہیں: رِیا سے پاک ہونا‘‘ (لسان العرب‘ ج: 7‘ ص: 26)۔
سو اخلاص توحید ہے اور رِیا اس کی ضد‘ جسے رسول اللہﷺ نے شرکِ اصغر سے تعبیر فرمایا ہے۔ فرمایا: 'مجھے تمہارے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے وہ 'شرکِ اصغر‘ ہے‘ صحابۂ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! شرکِ اصغر کیا ہے‘ آپﷺ نے فرمایا: ریا! اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ریاکاروں کی بابت فرماتا ہے: ''جب لوگوں کو اُن کے اعمال کا بدلہ دے دیا جائے گا (تو ریاکاروں سے کہا جائے گا:) تم اپنی جزا لینے کے لیے اُن لوگوں کے پاس جائو جن کیلئے تم (عبادات میں) ریاکاری کرتے تھے‘ ذرا دیکھو تو کیا تم اُن کے پاس کوئی جزا پاتے ہو‘‘ (مسند احمد: 23630)
علامہ کفوی نے کہا: ''اخلاص، قلب‘ قول اور عمل (تینوں )کی پاکیزگی کا نام ہے‘‘۔ چنانچہ جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مرضِ وفات میں شدت آ گئی اور انہیں اپنے جانشین کی فکر لاحق ہوئی تو انہوں نے حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کو بلایا اور پوچھا: عمر بن خطاب کے بارے میں مجھے رائے دو‘ انہوں نے کہا: آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں‘ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کہا: پھر بھی اپنی رائے تو دو‘ انہوں نے کہا: بخدا! آپ کی میرے بارے میں جو رائے ہے‘ عمر اُس سے افضل ہیں (یعنی مجھ سے افضل ہیں)‘ پھر انہوں نے حضرت عثمانؓ کو بلایا اور کہا: عمر کے بارے میں مجھے رائے دو‘ تو انہوں نے کہا: آپ اُن کے بارے میں ہم سے بہتر جانتے ہیں‘ پھر انہوں نے حضرت علیؓ کو بلایا اور اُن سے بھی وہی بات کہی‘ پھر حضرت علیؓ نے فرمایا: بخدا! میرے علم کے مطابق اُن کا باطن اُن کے ظاہر سے اچھا ہے اور جماعتِ صحابہ کے درمیان اُن جیسا کوئی اور نہیں ہے۔ (سیرت حلبیہ‘ ج: 3‘ ص: 514)۔ پس اللہ کے چنیدہ بندے (یعنی عبادِ مُخلَصین) وہ ہیں کہ جن کی فکر‘ گفتار اور کردار یکساں ہو اور ان میں کوئی دو رنگی یا سہ رنگی یا تضاد بالکل نہ ہو۔ علامہ مناوی نے کہا: اخلاص یہ ہے کہ رب کی رضا مقصود ہو‘ بندوں کی خوشی یا ناخوشی پر مدار نہ ہو اور ایک قول کے مطابق اخلاص اس حقیقت کا نام ہے کہ (خرابی تو دور کی بات ہے) عمل خرابی کی تہمت اور الزام سے بھی پاک ہو۔ پس اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ ماسِوی اللہ سے بے نیاز ہو جائے اور دین میں اخلاص یہ ہے کہ یہود میں جو ذاتِ باری تعالیٰ سے تشبیہ اور نصاریٰ میں عقیدۂ تثلیث تھا‘ اُس سے بری ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''کہہ دیجیے: میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے اور یہ کہ ہر نماز کے وقت اپنا رُخِ (بندگی) درست سمت میں رکھو اور دین کو اللہ کیلئے خالص رکھتے ہوئے اُس کی عبادت کرو‘‘ (الاعراف: 29)۔ پس اخلاص کو آلودہ کرنے والی چیز رِیا ہے۔ حضرت فُضیل بن عِیاض نے کہا: ''اگر کوئی گناہ کو لوگوں کے خوف سے ترک کرتا ہے تو یہ بھی ریا ہے اور اگر لوگوں کے دکھاوے کیلئے نیک عمل کرتا ہے تو یہ شرکِ اصغر ہے‘ سو ریا اور شرک سے دین کو پاک کر دینا اخلاص ہے‘‘۔
علامہ سید شریف جرجانی نے کہا: ''صِدق اور اخلاص میں فرق یہ ہے کہ صدق اصل ہے اور اخلاص اُس کی فرع اور تابع‘ دوسرا فرق یہ ہے کہ صدق کا تعلق عمل میں داخل ہونے سے پہلے نیت کے ساتھ ہے اور اخلاص کا تعلق عمل میں داخل ہونے کے ساتھ ہے‘‘ (التعریفات‘ ص: 8)۔ اس کی تائید رسول اللہﷺ کے اس فرمان سے ہوتی ہے: ''مومن کی نیت اُس کے عمل سے بہتر ہے (کیونکہ نیت قلبی کیفیت کا نام ہے اور نیت اچھی ہو یا بری‘ اُس میں ریا کا دخل نہیں ہوتا‘ جبکہ عمل میں ریاکا شائبہ رہتا ہے) اور منافق کا عمل اُس کی نیت سے بہتر ہے اور ہر کوئی اپنی نیت کے مطابق عمل کرتا ہے‘ پس جب مومن عملِ (صالح) کرتا ہے تو اُس کے قلب میں ایک نور ہوتا ہے‘‘ (حلیۃ الاولیاء‘ ج: 3‘ ص: 255)۔ کیونکہ منافق کی نیت کا فاسد ہونا تو یقینی بات ہے جبکہ بعض اوقات دنیاوی منافع یافریب دہی کیلئے وہ پُرکشش انداز میں عملِ خیر کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (1) ''بیشک ہم نے (اس) کتاب کو آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کیا ہے‘ سو دین کواللہ کیلئے خالص رکھتے ہوئے اُس کی عبادت کیجیے‘ سنو! دین تو خالص اللہ کیلئے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا کارساز بنارکھے ہیں (وہ کہتے ہیں:) ہم تو اِن بتوں کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں‘ بیشک وہ جن امور میں اختلاف کرتے ہیں‘ اُن کے بارے میں اللہ فیصلہ فرما دے گا‘‘ (الزمر: 2 تا 3)۔ (2) ''کہہ دیجیے! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کیلئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کروں اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں‘‘ (الزمر: 11 تا 12)۔ اس میں رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا: آپﷺ اپنی امت کو یہ بتا دیں کہ میں عالَمِ انسانیت کے ان رہنمائوں میں سے نہیں ہوں جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں‘ یعنی ان کے قول وفعل میں تضاد ہوتا ہے‘ بلکہ امت سے تو روزانہ پانچ اوقات کی نماز کا مطالبہ ہوا مگر آپﷺ پر ایک روایت کے مطابق‘ تہجد کی نماز بھی فرض تھی اور سورۂ مزمل میں بتایا کہ آپﷺ کی راتیں قیام میں گزرتیں۔ جہاں تک آپﷺ کے ''اوّل المسلمین‘‘ بننے کے حکم کا تعلق ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلانِ نبوت کے بعد عالَم ظاہر میں آپ ''اول المسلمین‘‘ ہیں کیونکہ آپ ''مومن‘‘ بھی ہیں اور ''مُؤْمَنْ بِہٖ‘‘ بھی (یعنی جس پر ایمان لایا جائے) جبکہ صحابۂ کرام بعد میں مرحلہ بہ مرحلہ اسلام میں داخل ہوئے‘ ورنہ ابتدائے آفرینش یعنی عالَم ارواح میں بھی آپﷺ نہ صرف ''اول المومنین والمسلمین‘‘ تھے‘ بلکہ ''اول الانبیاء والمرسلین‘‘ اور ''امام الانبیاء‘‘ علیہم السلام بھی تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ''اور انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ ہر طرف سے یکسو ہو کر دین کو اللہ کیلئے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں‘‘ (البینہ: 5)۔ سو ایمان واعمال اور ظاہر وباطن کا اصل جوہر‘ حُسن اور مرتبۂ کمال اخلاص ہے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں: ''بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری (ظاہری) صورتوں اور اموال کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں (کی کیفیات) اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے‘‘ ( مسلم: 2564)۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اعمال (پر جزا) کا مدار نیّت پر ہے اور ہر شخص کیلئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی‘ سو جس نے اللہ اور اس کے رسول (کی رضا) کیلئے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی مقصد کیلئے شمار ہوگی اور جس کی ہجرت دنیا (کی منفعت) پانے کیلئے یا کسی عورت سے نکاح کیلئے ہے تو اس کی ہجرت (عند اللہ) اسی کیلئے شمار ہو گی‘‘ (بخاری: 1)۔ (جاری)
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments