'انڈیپنڈینٹ پاور پروڈیوسرز‘ سے مراد حکومت کے کنٹرول سے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے ہیں۔ اس سے پہلے بجلی کی پیداوار اور تقسیم کا سارا نظام حتیٰ کہ تربیلا ڈیم‘ منگلا ڈیم اور چشمہ پاور پروجیکٹ جیسے ادارے بھی واپڈا یعنی 'ادارۂ ترقیاتِ برق وآب‘ ہی کے ماتحت تھے۔ البتہ کراچی میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کا نظام کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے پاس تھا‘ وہ کچھ بجلی اپنے ذرائع سے پیدا کرتی تھی اور بقیہ واپڈا سے لے کر اپنے سسٹم میں شامل کرتی تھی۔ بعد کو کے ای ایس سی کی نجکاری کر دی گئی اور اب وہ کے الیکٹرک کے نام سے کام کرتی ہے۔ 'آئی پی پیز‘ کے نام سے اداروں کا آغاز 1990ء کے عشرے سے شروع ہوا تھا‘ اس دور میں پہلے مرحلے میں دو بڑے ادارے قائم کیے گئے: ایک 'حب پاور کمپنی لمیٹڈ‘ اور دوسری 'کوٹ ادو پاور کمپنی لمیٹڈ‘ قائم کی گئی۔ بعد کو کئی اور کمپنیاں قائم ہوئیں‘ جن کی تعداد تقریباً 90 ہے۔ چند مشہور کمپنیاں حسبِ ذیل ہیں: نشان پاور لمیٹڈ ‘نشاط چونیاں پاور‘ لاہور کے قریب ‘اینگرو پاورجن‘ قادر پور‘ تھر ‘اٹلس پاور لمیٹڈ‘ اٹک جنریشن لمیٹڈ راولپنڈی ‘لال پیر پاور اور پاک جن پاور ‘لکی الیکٹرک پاور کمپنی ‘چائنا پاور حب جنریشن کمپنی ‘کوہِ نور انرجی لمیٹڈ رائیونڈ‘ لاہور‘لبرٹی پاور ٹیک‘ فیصل آباد‘اورینٹ پاور کمپنی ‘سیفائر الیکٹرک کمپنی‘ فاؤنڈیشن پاور کمپنی‘ ڈہرکی ‘اُچ پاور پلانٹ۔
2008ء سے 2013ء تک پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور اُس دور میں بجلی کی غیر معمولی کمی تھی اور پنجاب وغیرہ میں دن میں سولہ سے بیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی تھی؛ چنانچہ جب 2013ء میں نواز شریف وزیراعظم بنے تو اُن کی اولین ترجیح بجلی کی لوڈشیڈنگ کو ختم یا کم کرنا تھا۔ سو پاور پروڈیوسر کمپنیوں کے ساتھ یہ ظالمانہ معاہدہ کیا گیا کہ اُن کے قائم کردہ کارخانوں کی پیداواری استعداد (Production Capacity) کے مطابق اُن کو ادائیگی کی جائے گی‘ خواہ وہ پوری بجلی پیدا کر رہے ہوں یا نہ‘ اور یہ کہ وہ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو یا نہ ہو۔ چونکہ فرنس آئل اور ڈیزل وغیرہ بہت مہنگے ہیں‘ اس لیے حکومت مہنگا ایندھن ان کارخانوں کو مطلوبہ ضرورت کے مطابق فراہم کرنے کے قابل نہ تھی‘ لہٰذا ان کمپنیوں کی واجب الادا رقوم بڑھتی چلی گئیں اور حکومت بروقت ادائیگی کے قابل نہ رہی لیکن معاہدے کی رو سے یہ قرضے مع سود حکومت کے ذمے لازم رہے اور انہی کو گردشی قرضے (Circular Debt) کہا جاتا ہے‘ ان کے بوجھ تلے حکومت دبی ہوئی ہے۔ ان کمپنیوں کے مالکان پاکستانی ہیں لیکن انہوں نے بیرونی شراکت دار ملا کر بین الاقوامی قانون کے تحت حکومتِ پاکستان کے ساتھ معاہدے کیے اور اب حکومت اگر اُن معاہدوں سے پیچھے ہٹتی ہے تو پاکستان پر عالمی قوانین کے تحت اصل ادائیگیوں کے ساتھ جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔ آج تک یہ معاہدات پارلیمنٹ میں زیرِ بحث آئے اور نہ پارلیمنٹ نے ان کی منظوری دی۔ یہی وجہ ہے کہ حقائق قوم کی نگاہوں سے اوجھل ہیں اور قومی معیشت ان گردشی قرضوں کے بوجھ تلے سسکیاں لے رہی ہے۔ یہ ایک طرح سے ہمارے حکمرانوں کی کوتاہ اندیشی‘ بے تدبیری اور نااہلی کا نتیجہ ہے کہ قوم ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے۔ پس لازم ہے کہ پارلیمنٹ‘ مقتدرہ اور حکومت مل کر ان سے چھٹکارے کی کوئی صورت تلاش کریں‘ ورنہ یہ مسئلہ ہمیشہ ناقابلِ حل رہے گا اور قومی معیشت ان کے بوجھ تلے سسکتی رہے گی۔ اسی سبب ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ بین الاقوامی مالی اور کاروباری معاہدات کو حتمی شکل دینے سے پہلے عالمی شہرت یافتہ ماہرین قانون کے ذریعے ان کا تفصیلی جائزہ لیا جائے اور ان معاہدات کے مابعد مرتب ہونے والے منفی اور مثبت اثرات ونتائج کو ریکارڈ پر لایا جائے‘ نیز پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے تاکہ تحدید وتوازن کا کوئی قابلِ قبول اور قابلِ عمل نظام قائم ہو۔ رات کے اندھیرے میں کیے ہوئے معاہدوں کا نتیجہ ہے کہ قوم کے چودہ طبق روشن ہو رہے ہیں اور دن کو تارے نظر آ رہے ہیں۔
پس بہتر ہے کہ عالمی ماہرینِ قانون اور پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی بنائی جائے اور وہ اب تک کیے گئے تمام معاہدات کا جائزہ لے اور ان کے منفی اثرات سے نکلنے کیلئے کوئی حکمتِ عملی‘ سفارتی اور قانونی راستہ تلاش کیا جائے‘ کیونکہ حقائق سے آنکھیں چرانے‘ صَرفِ نظر کرنے‘ انہیں قوم سے پوشیدہ رکھنے اور شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبانے سے مصیبت ٹلتی نہیں ہے۔ ساحر لدھیانوی نے کہا تھا: نہ منہ چھپا کے جیے ہم‘ نہ سر جھکا کے جیے ؍ ستم گروں کی نظر سے‘ نظر ملا کے جیے ٭اب ایک رات اگر کم جیے تو کم ہی سہی ؍ یہی بہت ہے کہ ہم مشعلیں جلا کے جیے
سو غیور قومیں قومی حمیت کے ساتھ خطرات کا ادراک بھی رکھتی ہیں اور ان سے قومی وقار کے ساتھ آبرومندانہ طریقے سے عہدہ برا ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ اسی طرح آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ حکومتیں قرضوں کے جو معاہدات کرتی ہیں انہیں بھی پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور پوری چھان بین کے بعد منظور کیا جائے۔ ہمارے ہاں حکومتوں کا شعار ہمیشہ یہی رہا ہے کہ قوم کو اندھیرے میں رکھ کر عالمی معاہدات کیے جاتے رہے ہیں۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں بھی ایف اے ٹی ایف کے مطالبے پر ایک دن میں 33 قوانین منظور کر دیے گئے تھے۔ وہ قوانین پارلیمنٹ کی کسی کمیٹی میں کبھی زیرِ بحث نہیں آئے تھے‘ کسی بحث وتمحیص کے بغیر ایک دن میں پارلیمنٹ سے منظوری لے کر ایکٹ کی صورت میں نافذ کر دیے گئے۔ انہی قوانین میں وقف (Endowment) کا قانون بھی شامل ہے جو سو فیصد شریعت اور وقف کے عالمی قوانین کے خلاف ہے‘ جسے ہماری پارلیمنٹ نے آنکھیں بند کر کے منظور کر لیا اور اب وہ ملک کا نافذ العمل قانون ہے۔ یہی کچھ ایوب خان کے دور میں سندھ طاس معاہدے کے وقت ہوا کہ پاکستان یکطرفہ طور پر تین دریائوں راوی‘ بیاس اور ستلج سے دستبردار ہو گیا اور آج بھارت نے اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے‘ حالانکہ مسلمہ عالمی قانون ہے کہ زیریں علاقوں کا دریائوں پر حق ہوتا ہے‘ مگر ہم از خود اپنے اس حق سے دستبر دار ہو گئے۔ دریائے نیل وسطی افریقہ میں جھیل وکٹوریہ سے نکل کر روانڈا اور برونڈی سے ہوتا ہوا سوڈان سے گزرتا ہے اور پھر مصر میں داخل ہوتا ہے۔ اس پر مصر کی معیشت کا مدار ہے۔ اس لیے یہ ممالک اس دریا کو روک سکتے ہیں اور نہ اس کے آگے بند باندھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں دریائے سندھ ہمالیہ کے دامن سے نکلتا ہے اور گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا خیبر پختونخوا اور پھر پنجاب سے گزرتے ہوئے سندھ میں داخل ہوتا ہے اور ہزارہ سے آنے والا دریائے کنہار اور کشمیر سے آنے والا دریائے نیلم مل کر مظفر آباد کے قریب دریائے جہلم میں شامل ہو جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ دریائے جہلم بھی مقبوضہ کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے نکلتا ہے۔ دریائے چناب سے ہوتا ہوا آگے چل کر سندھ میں مل جاتا ہے۔ عرصۂ دراز سے پاکستان کی خواہش ہے کہ میانوالی میں ڈیم بنایا جائے تاکہ مون سون کے موسم میں جو بارانی اور گلیشیر سے پگھلا ہوا پانی سیلاب کا باعث بنتا ہے اور پھر تباہی مچاتا ہوا سمندر میں جا گرتا ہے‘ اسے ڈیم میں جمع کر کے بجلی بنانے اور آبپاشی کی ضرورت کیلئے استعمال کیا جا سکے‘ مگر خیبر پختونخوا اور سندھ اس کیلئے تیار نہیں ہیں‘ حالانکہ صوبوں کے آبی حقوق اور اس کے نظامِ تقسیم کو آئین میں تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ آج تک حکومت اس منصوبے کو شروع کرنے اور روبہ عمل لانے کی ہمت نہیں کر سکی۔ صوبۂ سندھ کی دلیل یہی ہے کہ دریا پر زیریں علاقوں کا حق ہوتا ہے۔ بلکہ ماضی قریب میں ہمارے مقتدر اداروں نے چولستان کے ریگستان کو سیراب کرنے کیلئے دریائے سندھ میں نئی نہریں نکالنا چاہیں تو صوبۂ سندھ کی مزاحمت کے سبب وہ ایسا نہیں کر سکے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments