"MMC" (space) message & send to 7575

ہوا کسی کی نہیں!

ہمارے ہاں داخلی حالات میں ٹھیرائو نہیں ہے‘ تنائو ہے‘ نفرت ہے اور ایک حد تک انتقام کی فضا ہے۔ جنابِ عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو اپنی جماعت کے لوگوں کی خواہش کے برعکس بالترتیب قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف بنایا۔ ہماری دانست میں ان کیلئے مناسب تھا کہ کوئی درمیانی راستہ نکالتے تاکہ پارٹی اس انجام تک نہ پہنچتی۔ یہ کہنا کہ میں فلاں جگہ نہیں جائوں گا اور فلاں جگہ جائوں گا‘ بے معنی باتیں ہیں۔ جب آپ قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف بن کر مراعات لے رہے ہیں اور آپ نے خواستہ وناخواستہ اس نظام کو عملاً تسلیم کر لیا ہے‘ تو اب اسی کے اندر رہتے ہوئے حکمت وتدبر سے راستہ نکالنا چاہیے تھا۔ یہ کام ضد اور ہٹ دھرمی سے نہیں ہوتا‘ تحمل‘ تدبر اور ٹھنڈے مزاج سے ہوتا ہے۔ حکومت ہو یا حزبِ اختلاف‘ سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ احمد فراز نے کہا تھا: میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو؍ چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں
مفہوم: اے بد خواہ! اگر آج میری شمعِ امید مخالف ہوائوں کی زَد میں ہے تو تجھے اس پر خوشی نہیں منانی چاہیے‘ کیونکہ جب ہوائیں چلیں گی تو باری باری سب کے چراغ گل ہوں گے اور انجامِ کار کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ پس سب کو ذاتی اور جماعتی ترجیحات اور تعصبات سے بالاتر ہو کر موجودہ نازک اور حساس حالات میں ملک کی بقا اور سلامتی کو ترجیح دینی چاہیے‘ اس کیلئے بعض اوقات ذاتی اور گروہی اَنا کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ شاعر نے کہا ہے: چمن کی فکر کرو آشیاں کی بات چھوڑو؍ شجر گر نہ رہے‘ تو آشیانہ کہاں بنے گا
سو سب کی ترجیحِ اول چمن کی حفاظت ہونی چاہیے‘ چمن سلامت رہے گا تو سب کو باری باری اپنے آشیانے بنانے کا موقع مل جائے گا۔ راحت اندوری نے کہا تھا:
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
جو آج صاحبِ مسند ہیں‘ کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں‘ ذاتی مکان تھوڑی ہے
لیکن اگر سب نے ہوش سے کام نہ لیا اور جوش سے مغلوب الغضب ہو گئے‘ نفرت وعداوت میں مبتلا ہوکر انتقام پہ اتر آئے یا یہ حکمتِ عملی بنالی کہ 'نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے‘ تو انجامِ کار کفِ افسوس مَلنے کے سوا ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ محشر بدایونی نے کہا تھا: اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ؍ جس دِیے میں جان ہو گی وہ دِیا رہ جائے گا
گزشتہ دنوں بھارت کے حالات کے تناظر میں جاوید اختر کا کلام کسی نے بھیجا‘ یہ کافی حد تک ہمارے بھی حسبِ حال ہے: کسی کا حکم ہے ساری ہوائیں‘ ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں؍ کہ ان کی سَمت کیا ہے‘ کدھر جا رہی ہیں؍ ہواؤں کو بتانا یہ بھی ہو گا‘ چلیں گی اب‘ تو کیا رفتار ہو گی؍ ہواؤں کو یہ اجازت نہیں ہے کہ آندھی کی اجازت اب نہیں ہے؍ ہماری ریت کی سب یہ فصیلیں‘ یہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں‘ حفاظت ان کی کرنا ہے ضروری؍ اور آندھی ہے پرانی ان کی دشمن‘ یہ سبھی جانتے ہیں؍ کسی کا حکم ہے دریا کی لہریں‘ ذرا یہ سرکشی کم کر لیں‘ اپنی حد میں ٹھہریں؍ اگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا‘ تو ان کو ہو گا اب چپ چاپ بہنا؍ کسی کا حکم ہے‘ اس گلستاں میں بس اک رنگ کے ہی پھول ہوں گے؍ کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے‘ گلستاں میں کہیں بھی پھول یک رنگی نہیں ہوتے؍ کبھی ہو ہی نہیں سکتے‘ کہ ہر اک رنگ میں چھپ کر بہت سے رنگ رہتے ہیں؍ جنہوں نے باغ یک رنگی بنانا چاہے تھے‘ ان کو ذرا دیکھو؍ کہ جب اک رنگ میں سو رنگ ظاہر ہو گئے ہیں‘ توکتنے پریشاں ہیں‘ کتنے تنگ رہتے ہیں؍ کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے‘ ہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں؍ یہ لہریں روکی جاتی ہیں تو دریا کتنا بھی ہو پُرسکوں؍ بیتاب ہوتا ہے اور اس بیتابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے۔
ہمارے ہاں سیاسی نفرتیں اتنی بڑھا دی گئی ہیں کہ مقتدرِ وقت سے نفرت کو ہم وطن سے نفرت میں بدل دیتے ہیں‘ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم سب کی آن‘ شان اور پہچان وطنِ عزیز پاکستان سے ہے۔ آزاد وطن کی قدر جاننا ہو تو مقبوضہ کشمیر‘ بھارت‘ فلسطین اور میانمار کے روہنگیا مسلمانوں سے پوچھو۔ آج ہمارا وطن ہر دور کے صاحبانِ اقتدار کے ہاتھوں داخلی طور پر بھی شدید مشکلات سے دوچار ہے اور چاروں طرف خطرات منڈلا رہے ہیں؛ پس ذاتی اور گروہی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر وطن کی بقا‘ تحفظ اور سلامتی کی فکر کرنی چاہیے‘ آپس میں لڑنے بھِڑنے اور ایک دوسرے کو گرانے کیلئے کافی وقت پڑا ہے۔ یہی سبق علامہ اقبال نے بھی دیا ہے: ڈالی‘ گئی جو فصلِ خزاں میں شجر سے ٹوٹ؍ ممکن نہیں ہری ہو سَحابِ بہار سے ٭ہے لازوال عہدِ خزاں‘ اس کے واسطے؍ کچھ واسطہ نہیں ہے اُسے برگ و بار سے ٭ہے تیرے گلستاں میں بھی فصلِ خزاں کا دور؍ خالی ہے جیبِ گل زرِ کامل عیار سے ٭جو نغمہ زن تھے خَلوتِ اوراق میں طُیور؍ رخصت ہوئے ترے شجرِ سایہ دار سے ٭شاخ ِبُریدہ سے سبق اندوز ہو کہ تو؍ ناآشنا ہے قاعدۂ روزگار سے ٭ملت کے ساتھ رابطۂ استوار رکھ؍ پیوستہ رہ شجر سے‘ امید بہار رکھ۔
علامہ اقبال کی اس نظم کا خلاصہ یہ ہے: قدرت کا عام دستور یہ ہے کہ موسمِ خزاں میں درختوں کے پتے‘ پھول اور پھل جھڑ جاتے ہیں‘ مگر جب موسمِ بہار دوبارہ لوٹ کر آتا ہے تو وہی خشک شاخیں‘ پھول‘ پھل اور پتوں سے دوبارہ لد جاتی ہیں۔ مگر جو شاخ فصلِ خزاں میں درخت سے ٹوٹ کر جدا ہو گئی ہو‘ موسمِ بہار آنے پر بھی اس کا ہرا ہونا ممکن نہیں رہتا‘ پھر اس کیلئے موسمِ خزاں دائمی ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب تک وہ درخت سے جڑی رہتی ہے تو درخت کی رگوں کے ذریعے جڑوں سے اسے نمی ملتی رہتی ہے اور اس میں نمو (Growth) یعنی امکانی حیات کی صلاحیت باقی رہتی ہے اور موسمِ بہار آنے پر وہ دوبارہ ہری بھری ہوجاتی ہے۔ اسی طرح اگر افراد اپنی قوم‘ وطن اور ملّت سے جڑے رہیں تو مشکل دن کٹ جاتے ہیں اور آخرکار اچھا وقت بھی آ جاتا ہے۔
علامہ اقبال کہتے ہیں: اے بندۂ مومن! ترے گلستانِ وطن پر بھی موسمِ خزاں کا دور طاری ہے اور ترا ضمیر ایمانِ کامل کی دولت سے خالی ہے۔ درختوں کے پھلوں‘ پھولوں اور پتوں پر جو پرندے چہچہارہے تھے‘ وہ اس شجرِ سایہ دار سے رخصت ہو چکے‘ کیونکہ موسمِ خزاں نے اُن کیلئے کوئی جائے امان باقی نہیں چھوڑی۔ وہ کہتے ہیں: اے بندۂ مومن! درخت سے کٹی ہوئی شاخ سے سبق حاصل کر کہ جب وہ درخت سے کٹ جائے تو امیدِ حیات ختم ہو جاتی ہے‘ زمانے کا دستور یہی ہے۔ پس ملّت کی مثال درخت کی ہے اور افراد اس کی شاخیں ہیں‘ لازم ہے کہ افراد ملت کے ساتھ اپنا رابطہ قائم ودائم رکھیں اور شجرِ ملّی سے جڑے رہیں‘ خزاں کا موسم گزر ہی جائے گا اور بہار نے آنا ہی ہے‘ سنتِ الٰہیہ یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں یہی سبق دیا ہے : ''پس بے شک ہر دشواری کے ساتھ آسانی ہے‘ یقینا ہردشواری کے ساتھ آسانی ہے‘‘ (الانشراح: 5 تا 6)۔
عربی کا ایک قاعدہ ہے: اگر ایک کلام میں اسمِ معرفہ کا تکرار ہو تو ثانی سے پہلا ہی مراد ہوتا ہے اور اگر اسمِ نکرہ کا تکرار ہو تو دوسرا پہلے کا غیر ہوتا ہے؛ چنانچہ عربی شاعر نے کہا: جب تم پر کوئی مصیبت آ جائے تو سورۂ الم نشرح میں غور کرو‘ (اللہ کا وعدہ ہے) کہ ایک تکلیف کے بعد دو راحتیں ہیں‘ جب تم اس حقیقت کو سمجھ لو تو (تکلیف پر کڑھنے اور شکوہ کُناں ہونے کے بجائے) خوش ہو جائو۔فیض نے کہا تھا:
دل ناامید تو نہیں‘ ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام‘ مگر شام ہی تو ہے
اور ظہیر کشمیری نے کہا: ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں‘ چراغِ آخرِ شب؍ ہمارے بعد اندھیرا نہیں‘ اجالا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...