اسے آپ محض میری ذاتی ترجیحی نمبر شماری کہہ لیں‘ میرے حساب سے کتابوں کی تین بنیادی اقسام ہیں۔ ان میں کتابوں کی پہلی قسم وہ ہے جو پڑھنے کے قابل ہے۔ دوسری قسم وہ ہے جوصرف دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ تیسری قسم وہ ہے جو ردّی میں تولنے کے قابل ہوتی ہے۔ ان تین اقسام پر مشتمل فہرست میں پہلی قسم کے آگے کئی مدارج ہیں۔ اچھی کتاب اگر قابلِ مطالعہ ہونے کے ساتھ ساتھ دیکھنے میں بھی شاندار ہو تو اس کا جمالیاتی پہلو کتاب کو مزید شاندار بنا دیتا ہے۔ ویسے تو اچھی کتاب اپنی جگہ اور اپنا مقام خود پیدا کر لیتی ہے لیکن بعض کتابیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں پڑھنے کے بعد سنبھال کر رکھنے کو جی کرتا ہے۔ اندر سے صدا آتی ہے کہ کسی روز اسے دوبارہ پڑھیں گے۔ سو ایسی کتاب آپ کی لائبریری میں سج جاتی ہے۔ ہمارے بڑے پیارے دوست ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ‘ جو آسٹریلیا کے شہر برسبین میں رہتے ہیں‘ کی کتاب زبانِ یارِ من ترکی اسی قسم کی کتاب ہے۔ یہ کتاب انہوں نے صرف دل سے لکھی ہی نہیں‘ دل سے چھپوائی بھی ہے۔ مواد کے اعتبار سے ایسی شاندار کہ پڑھتے ہوئے کتاب رکھنے کو دل نہ کرے اور دیکھنے میں بھی ایسی شاندار کہ دیکھتے ہوئے نہ نظریں تھکیں اور نہ دل بھرے۔
یہ ترکی کا سفرنامہ ہے اور یہ مسافر لڑکپن سے ہی سفرناموں کا شوقین ہے۔ دل کے نہاں خانوں میں دنیا دیکھنے کی آرزو نے خواہش اور تکمیل کے درمیان حائل مجبوریوں کا یہ حل نکالا کہ سفرناموں سے دل بہلانے کا راستہ نکال لیا۔ تب یہ من کا مسافر ابنِ انشا‘ مستنصر حسین تارڑ‘ عطاالحق قاسمی‘ سید وجاہت علی‘ بیگم اختر ریاض الدین‘ جمیل الدین عالی اور پیسہ اخبار کے بانی و ایڈیٹر منشی محبوب عالم کا سفرنامۂ یورپ پڑھ کر تصور ہی تصور میں دنیا گھوم لیتا تھا۔ پھر مالک نے اپنے مسافر طبیعت بندے کے شوق کی تکمیل کا بندوبست کر دیا۔ اس کے اِذن سے یہ مسافر آدھی دنیا گھوم چکا ہے لیکن سفر نامہ پڑھنے کا شوق ماند نہیں پڑا۔ سفر نامہ اب بھی میرے لیے ایسی جادوئی آواز جیسا ہے جو مجھے اَن دیکھی دنیا کی طرف کھینچتا ہے۔ تصور اسلم بھٹہ سفر نامۂ ترکی پڑھنے کے بعد دل کرتا ہے کہ بندہ ایک بار اس سفرنامے کے لکھاری کی آنکھ سے ترکی کو دیکھنے کی کوشش کرے۔ حالانکہ میں بذاتِ خود دو بار انہی جگہوں سے گزر چکا ہوں جہاں سے تصور بھٹہ نے گزرتے ہوئے یہ سب کچھ قلمبند کیا ہے لیکن ایمانداری کی بات ہے کہ اس مسافر کا دل یہ کتاب پڑھنے کے بعد ترکی کو تیسری بار دیکھنے کیلئے مچل رہا ہے۔انہوں نے حقائق‘ تاریخ‘ واقعات‘ ماضی اور حال کو اس طرح ایک لڑی میں پرویا کہ پڑھتے ہوئے کبھی بندہ سلطنتِ عثمانیہ کے دربار میں کھڑا ہو جاتا ہے‘ کبھی شاخِ زریں کے پار سلطان محمد فاتح کی فتحِ قسطنطنیہ کی مہم میں خود کو ینی چری سپاہیوں کے ساتھ نعرے مارتے ہوئے شہرِ پناہ کی فصیل پر سیڑھی لگا کر چڑھتا ہوا محسوس کرتا ہے‘ کبھی توپ کاپی میوزیم میں رکھے ہوئے خرقہ مبارک کی عقیدت بھری رونمائی میں خود کو سرجھکائے کھڑا دیکھتا ہے اور کبھی ترکی کے آخری فرمانروا سلطان محمد ششم عبدالوحید کو شہر کی گلیوں میں تحقیر سے پھرتا ہوا دیکھ کر دکھی ہوتا ہے۔ غرض مصنف ایک ایسا ماحول تخلیق کرتے ہیں جس میں پڑھنے والا مکمل طور پر ڈوب کر اس کا حصہ بن جاتا ہے اور صدیوں کا سفر طے کر کے اسی ماحول میں پہنچ جاتا ہے۔ بعض اوقات ایسا لگتا ہے کہ یہ کتاب نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی ٹائم مشین ہے جو اپنے قاری کو حال سے اٹھا کر ماضی میں لے جاتی ہے۔
دنیا دیکھنے کی ہڑک ایسی ہے کہ مسافر کو شہر شہر اور ملکوں ملکوں لیے پھرتی ہے۔ ایک سفر کا اختتام ہوتا ہے تو اگلے سفر کیلئے دل مچل اٹھتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک مسافت اپنی طرف کھینچتی ہے۔ عالم یہ ہے کہ جو دیکھا ہے وہ تو خیر سے دیکھ لیا ہے اور جو نہیں دیکھا اسے دیکھنے کی لگن دل میں ایک چراغ روشن رکھتی ہے۔ ترجیحات کی ایک لمبی فہرست ہے جس کے سامنے کہیں وسائل‘ کہیں مجبوری اور کہیں عمر رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ٹرانس سائبیریا ٹرین کے ذریعے ماسکو سے بیجنگ تک کا سفر‘ بیجنگ سے تبت کے شہر لہاسا جانے کا شوق‘ پیرو میں مچو پچو‘ اردن میں پیٹرا‘ مسائی مارا سے سرنگیٹی لاکھوں وائلڈ بیسٹ اور دیگر چوپایوں کی ہجرت‘ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے صدر مقام سیکرامنٹو کے نواح میں سیکرامنٹو نیشنل والڈ لائف ریفیوج میں لاکھوں آبی پرندوں کا نظارہ‘ ییلو سٹون پارک میں سینکڑوں بائسن (ارنا بھینسا) کے ریوڑ اور سپین کے شہر پامپلونا میں گلیوں میں بھاگتے ہوئے بیلوں کے سامنے سفید پینٹ اور سفید شرٹ کے اوپر گلے میں سرخ رومال باندھ کر بھاگنے کی خواہش۔ غرض کس کس خواہش اور حسرت کا ذکر کیا جائے۔ یہ سب وہ خواہشات ہیں جن کے بارے میں یہ مسافر مایوس نہیں‘ بلکہ پُر امید ہے کہ زندگی رہی تو وہ کسی روز ان جگہوں کو بھی اپنی یادوں کا حصہ بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ لیکن جو حسرتیں ناتمام رہ جانے کا خوف ہے ان میں سرِ فہرست بیت المقدس جانا ہے۔ یہ مسافر اپنے پاسپورٹ پر دنیا کے کسی بھی کونے میں جا سکتا ہے لیکن بس بیت المقدس وہ شہر ہے جس کا نام آتے ہی پاسپورٹ پر سرخ بتی جل اٹھتی ہے۔
اور مجھ سے زیادہ تو اسد کو بیت المقدس جانے کا شوق ہے اور شوق بھی ایسا کہ آپ اسے پاگل پن کہہ لیں۔ ہر دو تین ماہ کے بعد پوچھے گا: بابا جان! یروشلم جانے کا کچھ بندوبست ہوا؟ میں اسے ہنس کر کہتا ہوں کہ ساری دنیا پڑی ہے جسے وہ دیکھ سکتا ہے۔ جواباً وہ کہتا ہے کہ جس دنیا میں یروشلم ہی نہ ہو بھلا ایسی دنیا ساری دنیا کیسے ہو سکتی ہے؟ ایک بار میں نے غلطی سے اسے بتا دیا تھا کہ پیر نقوی نے مجھے کہا کہ میں اگر اس کے ساتھ اردن چلوں تو عمان میں ایک ایجنٹ ہے جو ایک ہزار ڈالر لے کر بغیر پاسپورٹ ایک کاغذ پر مشتمل اجازت نامے پر اسرائیل جانے کا بندوبست کر سکتا ہے۔ لیکن میں نے پیر نقوی کو انکار کر دیا اور کہا کہ مسئلہ خطرہ نہیں بلکہ اس پابندی کا احترام ہے جو میری ریاست نے مجھ پر عائد کی ہوئی ہے۔ لیکن اسد نہیں مانتا۔ اس کا خیال ہے کہ میں شاید اب اس عمر میں ایڈونچر کرنے کا رِسک نہیں لے سکتا‘ اور سچی بات یہ ہے کہ اسد کے ساتھ تو میں واقعی یہ رِسک نہیں لے سکتا۔ لیکن دل میں بیت المقدس جانے کی ایک لو سی ہے جو بھلے پوری طرح بھڑکتی نہیں مگر بجھتی بھی نہیں ہے۔
چند ماہ پہلے ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ اپنے فلسفی بیٹے حمزہ سربلند کے ہمراہ بیت المقدس گیا۔ حمزہ ایک غیرمعمولی نوجوان ہے جو آسٹریلیا میں پلا بڑھا ہے مگر میاں محمد بخش کی پنجابی شاعری کی گہرائیوں کو کھوجتا ہے۔ رومی اور اقبال کو سمجھنے اور ان کے پیغام کی روح تک پہنچنے کیلئے فارسی سیکھنے کیلئے ان حالات میں جبکہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ نوشتہ دیوار تھا‘ وہ ایران چلا گیا اور کامل تین ماہ میں اپنی فارسی صیقل کر کے واپس آسٹریلیا آ گیا۔ ڈاکٹر تصور اسلم آج کل اپنے اس سفر کی روداد ''اہلِ وفا کی بستی‘‘ کے نام سے لکھ رہا ہے۔ اللہ جانے یہ کتاب کب مکمل ہو گی مگر اس مسافر کو اس کی پروا نہیں۔ تصور اسلم بھٹہ اس فقیر کو اپنے سفر کا حال بھیجتا رہتا ہے۔ جہاں یہ مسافر اپنے دیرینہ شوق کو اس تحریر سے بہلا رہا ہے وہیں اس جادو اثر تحریر سے مزید بے کل اور بے چین ہو رہا ہے۔ خواہش اور حسرت اپنی جگہ لیکن حقیقت یہی ہے کہ فی الحال مسافر کو اسی سفر نامے سے کام چلانا پڑے گا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments