ایک معروف مذہبی جماعت کے راہنما تشریف لائے۔ انہوں نے اپنی سرگرمیوں کی تفصیل بتائی تو میں ان کی وسعت کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔
دعوت‘ تعلیم‘ تحقیق‘ ابلاغ‘ رفاہِ عامہ‘ کون سا کام ہے جو اُن کی تنظیم نہیں کر رہی۔ دعوت کی ایک عالمگیر تحریک ہے جو نجانے کتنے ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔ سکولوں کا ایک سلسلہ ہے‘ جس کا دائرہ پورے ملک کو محیط ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے یونیورسٹی بھی ہے۔ اپنا ٹی وی چینل ہے جو 24 گھنٹے لوگوں کو دین کی باتیں سکھاتا ہے۔ ان کے پاس ابلاغ کا جدید ترین اور مہنگا ترین نظام ہے۔ اس جماعت سے جو ملازمین وابستہ ہیں‘ ان کی سالانہ تنخواہ چوبیس ارب روپے سے زیادہ ہے۔ فلاح و بہبود کے کئی منصوبے جاری ہیں۔ یتیم بچوں کی کفالت بھی اس کا حصہ ہے۔
یہ صرف ایک ادارہ یاجماعت نہیں جو معاشرے میں دین کا کام کر رہی ہے۔ اَن گنت ہیں‘ مقامی بھی اور قومی بھی۔ اس کے ساتھ بین الااقوامی بھی۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کے بیان کے لیے کتابوں کی ضخامت چاہیے۔ مساجد اور مدارس کو بھی اس فہرست میں شامل کر لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سماج میں ہر طرف دین کے خدام پھیلے ہوئے ہیں۔ دینی حمیت کا یہ عالم ہے کہ لوگ مذہبی مسائل پر گفتگو کرنے سے ڈرتے ہیں۔ ماضی میں ہمارے دینی لٹریچر میں جو بات بلا تکّلف لکھی جاتی تھی‘ اب توہین کے زمرے میں آتی ہے۔ میں جب بھی کوئی پرانی کتاب پڑھتا ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ آج کے دور میں لکھی جاتی تو مصنف صاحب اس وقت عالمِ برزخ میں خدا کے آخری فیصلے کا انتظار کر رہے ہوتے۔
یہ تو سماجی کوششیں ہیں۔ ریاست کو مسلمان بنانے کے لیے ہم نے کیا نہیں کیا۔ پارلیمنٹ نے جب کوشش کی کہ شادی کی عمر طے کر دے تو اسمبلی کا ایوان نعرہ ہائے بغاوت سے گونج اٹھا۔ مشرف جیسا حکمران بھی اس کی جسارت نہ کر سکا کہ خواتین کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قانون بنائے۔ یہ ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کی قوت ہے۔ اسمبلی میں ان کی تعداد ممکن ہے قابلِ ذکر نہ ہو لیکن ان کی سماجی قوت اتنی ہے کہ پارلیمنٹ کی اکثریت اس کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔ گویا کیا سماج اور کیا ریاست‘ جو قوت سب سے زیادہ دکھائی دیتی ہے اور اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے‘ وہ مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کی قوت ہے۔
ان کاوشوں کی وسعت اور ان جماعتوں کو متحرک دیکھ کر خیال یہ ہوتا ہے کہ سماج کی سب سے مؤثر قوت مذہب کے پاس ہے۔ ہمارا مشاہدہ اور تجربہ مگر اس کے برعکس ہے۔ ہماری معاشرتی زندگی میں بہت کم مذہب کے اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ ایک دیانتدار کارکن ڈھونڈ نے سے نہیں ملتا۔ ایک مزدور سے لے کر ٹھیکے دار تک‘ چھوٹے دکاندار سے لے کر بڑے صنعتکار تک‘ دیانت کا شاید ہی کہیں گزر ہوتا ہو۔ ایک کلو خالص دودھ نہیں ملتا۔ کسی منصب پر بیٹھنے والا اپنی ذمہ داریوں کو آئین اور قانون کے مطابق ادا کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس میں پڑھے لکھے اور اَن پڑھ‘ امیر اور غریب‘ دیہاتی اور شہری میں کوئی امتیاز نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر کوئی معاشرے میں پھیلتی کرپشن کا گلہ کرے گا۔ اس میں جو بات نظر انداز ہوئی‘ وہ اس کا اپنا وجود ہے۔ اس کرپشن میں اس کا حصہ کتنا ہے‘ اس کا کہیں ذکر نہیں ہوتا۔
خاندان کا نظام بکھر رہا ہے۔ طلاق کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ روایت باقی نہیں۔ گھر میں لوگ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ جائیداد اور روپے پیسے کو رشتوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ صلہ رحمی نام کی کوئی قدر باقی نہیں ہے‘ الا ماشاء اللہ۔ کچہری میں جائیں تو سگے رشتوں کے درمیان زمینوں کے جھگڑے‘ سب مقدمات پر بھاری ہیں۔ اس سلسلے کو دراز کرتے جائیں‘ معاشرہ دینی قدروں کا نمائندہ نہیں دکھائی دیتا۔ جہاں دین کے فروغ کی اتنی کوششیں ہو رہی ہوں‘ جہاں صبح و شام مذہب کا غلغلہ ہو وہاں تو پورے معاشرے پر دینی رنگ غالب نظر آنا چاہیے۔ یہ محنت رائیگاں کیوں ہے؟
یہ بات بھی شاید پوری طرح درست نہ ہو کہ یہ مسلکی گروہ ہیں اور مسلک کی ترویج میں لگے ہیں۔ یقینا ایسے لوگ بھی بہت ہیں‘ لیکن میں ان گروہوں اور جماعتوں کا ذکر کر رہا ہوں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ان اختلافات سے بلند تر ہیں۔ وہ تو لوگوں کے اخلاق کو موضوع بناتے ہیں۔ وہ بچوں اور معاشرے میں حیا سمیت وہ تمام قدریں پھیلانا چاہتے ہیں جن کا تعلق انسانی رویے کے ساتھ ہے۔ وہ تو محبت‘ ایثار اور برداشت کی بات کرتے ہیں۔ تبلیغی جماعت ہو یا دعوتِ اسلامی‘ ان کا جھکاؤ کسی خاص مسلک کی طرف ہو سکتا ہے مگر مسلک کی تعلیم ان کے پیشِ نظر نہیں۔ وہ تعلق باللہ اور اخلاق و کردار کی بہتری کی بات کرتے ہیں۔ سوال یہی ہے کہ ان کی کوششوں کا کوئی نتیجہ کیوں دکھائی نہیں دیتا؟
اس پر کم و بیش اتفاق ہے کہ مغرب کا معاشرہ‘ سماجی اخلاقیات کے اعتبار سے ہمارے معاشرے سے کہیں بہتر ہے۔ مثال کے طور پر وہاں سماجی تفاوت ختم ہو چکا ہے۔ وہاں کسی کو ''کمی‘‘ قرار دے کر اس کے سماجی معیار کا تعین نہیں کیا جاتا۔ ایک حجام بھی اسی عزت کا مستحق ہے جس کا کوئی نواب۔ وہاں بنیادی انسانی حقوق کے معاملے میں کوئی تفریق نہیں۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جہاں مذہب کا بہت شور ہے وہاں لوگوں کی اخلاقی حالت دوسروں سے ممتاز ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہب نام ہی اخلاق کے تزکیے کا ہے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ متکبرین کی جتنی تعداد ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے شاید ہی کہیں ہو۔ دولت کا تکبر‘ شہرت کا تکبر‘ علم کا تکبر‘ دیانت کا تکبر‘ اقتدار کا تکبر‘ حسب و نسب کا تکبر‘ عبادت کا تکبر۔ تکبر کی شاید ہی کوئی صورت ہے جو یہاں نہ پائی جاتی ہو۔ ہمارے دین میں شرک اور تکبر کی شناخت میں بہت کم فرق ہے۔ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکتا ہے مگر متکبر جنت میں نہیں جا سکتا۔
یہ سب کیا ہے؟ مذہب کے نام پر ہونے والی لا تعداد سر گرمیاں بے نتیجہ کیوں ہیں؟ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں۔ میں آئے دن مذہبی سر گرمیوں میں شریک ہوتا ہوں۔ ہر بار یہی سوال زندہ ہوتا ہے مگر اس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ پہلے میں یہ خیال کرتا تھا کہ مذہبی جماعتیں اخلاق اور انسان دوستی پر توجہ نہیں دیتیں۔ اب میں دیکھتا ہوں کہ ایسا نہیں ہے۔ اخلاقی اصلاح کے لیے ٹی وی چینل وقف ہیں‘ کتابیں شائع ہو رہی ہیں‘ تربیتی نشستیں ہیں۔ ان سب کے ہوتے ہوئے سماج بدل نہیں رہا۔ یہ جواب بھی قابلِ اطمینان نہیں ہے کہ حکمران اچھے ہوں تو سماج اچھا ہوتا ہے۔ یورپ میں تو ایسا نہیں ہوا۔ وہاں تو سماجی اصلاح کی تحریکیں پہلے اٹھیں اور سیاسی قیادت بعد میں تبدیل ہوئی۔ اس سوال کا جواب ایسا ہونا چاہیے جو دل اور دماغ دونوں کو متاثر کرے۔ اس کالم کے پڑھنے والوں میں سے کسی کے پاس اس سوال کا جواب ہو تو مجھے ضرور بتائے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments