ہماری معیشت عالمی سیاست کی زد میں ہے۔ تیل کی قیمتیں ہوش ربا ہیں۔ سیاسی جماعتیں مسلسل احتجاج کے موڈ میں رہتی ہیں۔ دھرنوں کی تاریخیں دی جا چکیں۔ حکومت ان کو روکنے کے لیے متحرک ہے۔ اسلام آباد کنٹینروں سے بھر چکا۔ ساتھ ہی سی ڈی اے کو بھی جلدی ہے کہ شہر کی سڑکیں جلد از جلد وسیع ہوں۔ اسلام آباد میں ایک سڑک تعمیر ہوتی ہے تو دوسری کو کھودنے کا کام شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سب عوام کے لیے ہو رہا ہے لیکن ان سب کے نتائج بھی عوام بھگت رہے ہیں۔ پٹرول مہنگا ہو تو عوام پریشان۔ قیمتیں کم ہونے کے لیے دھرنے ہوں تو عوام کی زندگی اجیرن۔ سڑکیں تعمیر ہوں تو عوام عذاب میں۔ کیا فی الواقع سب کو عوام ہی کی بہتری مطلوب ہے؟
سچ پوچھیں تو میں اس سوال کا جواب تلاش نہیں کر سکا۔ ریاست ہو یا سیاسی جماعتیں‘ کہنے کو تو عوام کی بہتری کے لیے سرگرم ہیں لیکن ان کی کوششوں کا نتیجہ بالکل الٹ نکل رہا ہے۔ حکومت اور ریاست جو قدم اٹھاتے ہیں عوام اس سے مزید زیرِ بار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے جو احتجاج کیا‘ اس کا آج تک عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ فائدہ کیا پہنچنا تھا‘ زندگی مزید مشکل ہو گئی۔ گھر میں بیٹھیں تو کھائیں کہاں سے؟ گھر سے نکلیں تو خیریت کے ساتھ اور بروقت واپسی کی ضمانت کون دے گا؟ لوگوں کے پاس ان سوالات کے کوئی جوابات نہیں۔ اب تو معاملات عالمگیر ہو چکے۔ چند روز پہلے ترکیہ سے آئے ہوئے ایک دوست ملے تو بتایا کہ وہاں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے‘ قیمتوں میں اضافہ ناقابلِ بیان ہے۔ ترکیہ کی معیشت تو یہ بوجھ اٹھا لے گی‘ ہمارا کیا بنے گا؟
عالمی حوالے سے دیکھیں تو یہ سب علامتیں بتاتی ہیں کہ انسانوں کا بنایا ہوا یہ نظام اپنی عمر پوری کر چکا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں‘ جو سیاسی نظم وجود میں آیا اور اس کی کوکھ سے جو سیاسی‘ معاشی ادارے پیدا ہوئے‘ سب ناکام ہو چکے۔ اقوام متحدہ جیسے اداروں سے لے کر جمہوریت جیسے تصورات تک‘ سب نے انسانوں کو مایوس کیا۔ اقوام متحدہ کوئی جنگ رکوا سکی نہ جمہوریت ٹرمپ جیسوں کو حکمران بننے سے روک سکی۔ ایک عالمگیر خلفشار ہے۔ ہمارا حال اور برا ہے کہ پہلے ہی سے مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔ مشتاق یوسفی صاحب نے کہیں لکھا ہے کہ گھر میں نیا خانساماں رکھا گیا۔ اس کے پکائے کھانے سے سب کا پیٹ خراب ہوگیا‘ سوائے میرے۔ وجہ یہ تھی کہ میرا پیٹ پہلے ہی سے خراب تھا۔ ہمارا معاملہ بھی یہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ سے پہلے کون سے سکون میں تھے کہ آج کی بے سکونی کا ذمہ دار اس جنگ کو ٹھہرائیں۔
حل شاید ہوں گے مگر ہم کسی ایک حل کے لوازمات پورے نہیں کرتے۔ کیا نفاذِ اسلام مسئلے کا حل ہے؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پہلا سوال ہوگا: ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کہاں ہیں؟ چلیں کوئی عمر بن عبدالعزیزؒ ہی سہی۔ وہ کہاں ہیں؟ اگر نہیں ہیں تو معاشرے میں وہ صلاحیت کہاں ہے جو ان جیسے کردار پیدا کر سکے؟ کیا آمریت سے ایسے حکمران آئیں گے؟ ہم نے اورنگزیبِ دوراں جنرل ضیا الحق کادور دیکھا۔ کیا اسلام کی برکات ملیں؟ رہی جمہوریت تو اس نے کبھی کسی مذہبی جماعت کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا۔ اسلام کے خیر ہونے میں کسے شبہ ہے لیکن مسئلہ تو سماج کا ہے۔ اس کے پاس وہ نظامِ عمل ہی موجود نہیں جو اس خیر کو شاہراہِ حیات پر بکھیر دے۔
دوسرا حل جمہوریت ہے۔ کیا ہم جمہوریت کے لوازمات فراہم کر سکتے ہیں! جمہوریت کی پہلی ضرورت باشعور عوام ہیں۔ اس کا دوسرا مطالبہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں اختلافِ رائے کا احترام ہوتا ہو اور جس میں سب کو آزاد رائے کا حق میسر ہو۔ جمہوریت کی ایک اور بنیادی ضرورت مکالمے کا کلچر ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت پر آمادہ ہوں۔ کیا ہم ان میں سے کوئی ایک مطالبہ بھی پورا کر سکتے ہیں؟ جمہوریت خلا میں کام نہیں کرتی۔ اسے ایک سازگار ماحول چاہیے۔ اگر ہم وہ ماحول فراہم کرنے پر قادر نہیں ہیں تو پھر جمہوریت کے نام پر تماشا تو لگایا جا سکتا ہے‘ اس کی برکات حاصل نہیں کی جا سکتیں۔
تو کیا ہائبرڈ نظام بہتر ہے؟ اسے قائم ہوئے بھی تین سال ہونے کو ہیں۔ یہ اگرچہ اس ملک میں کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ موجود رہا ہے لیکن تین سال سے تو بچشمِ سر دیکھا جا سکتا ہے۔ سب حجابا ت اُٹھ چکے۔ اس کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ ہائبرڈ نظام میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ناکامیوں کی ذمہ داری کوئی نہیں اٹھاتا‘ سب کامیابیوں کے باپ بننا چاہتے ہیں۔ مشترکہ ذمہ داری اس نظام کا لازمہ ہے جو یہاں موجود نہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ پاکستان کے مخصوص حالات میں یہ نظام‘ اگر مثالی نہ بھی ہو‘ قابلِ عمل ضرور ہو سکتا ہے۔ اب اندازہ ہو رہا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ سانجھے کی ہنڈیا کے اپنے مسائل ہیں اور ہم ان کا انکار نہیں کر سکتے۔
یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے۔ دکھائی یہ دیتا ہے کہ مسئلہ کسی نظام میں نہیں‘ ہم میں ہے۔ ہماری سماجی ترکیب یا بُنت کچھ اس طرح کی ہے کہ ہم کسی نظام کے لیے تیار نہیں۔ ہم بہت جلد اکتا جاتے ہیں۔ ہمارے داخلی تضادات اتنے زیادہ ہیں کہ وہ کسی ایک کو قبول نہیں کر سکتا۔ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ہم اسلام‘ جمہوریت‘ ہائبرڈ نظام‘ ہر معاملے میں نیم خواندہ ہیں۔ ہم نے ہر نظام نظریۂ ضرورت کے تحت اختیار کیا ہے نہ کہ کسی فکری عمل یا سوچ بچارکے نتیجے میں۔ مثال کے طور پر چین نے اشتراکیت اور آزاد منڈی پر مشتمل ایک ہائبرڈ نظام اختیار کیا ہے جو بظاہر کامیابی سے چل رہا ہے۔ یہ چین کی قیادت کا ہنگامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ عالمی تبدیلیوں کے گہرے مطالعے اور مشاہدے کا نتیجہ ہے۔ میرا تاثر یہ ہے کہ جو نظام شعوری طور پر اختیار کیا جاتا ہے‘ اس کے نتائج ضرور نکلتے ہیں جو زیادہ تر خیر پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہم اس فکری یکسوئی سے محروم ہیں اور نظریۂ ضرورت کے تحت کوئی نظام اختیار کرتے ہیں۔ یہ اس کا حاصل ہے کہ سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے پیمانوں کے۔
ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ ہم ایک شہر میں سڑکوں کی توسیع کا کا م حکمت کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ اربوں روپے کی لاگت سے ایک سڑک بناتے ہیں اور دو ماہ بعد کوئی اور محکمہ اسے کھودنے کے لیے آ جاتا ہے۔ آدمی سوچتا ہے کہ شہر کے نقشے پر متعلقہ محکموں کے درمیان اشتراکِ عمل کیوں نہیں؟ کیا بجلی‘ پانی‘ گیس اور تعمیرات کے شعبے مل کر شہر کی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے؟ جب حال یہ ہو کہ ایک شہر کی تعمیر یکسوئی سے نہ کی جا سکے تو ملک کیسے تعمیر ہو سکتا ہے؟ ہمارا بنیادی مسئلہ یہی ہے۔ اس لیے مجھے ہمیشہ یہ گمان ہوتا ہے کہ پاکستان میں جو نظام بھی نافذ کیا جائے گا‘ اس کا مقدر ناکامی ہے۔
مجھے یہ دکھائی دیتا ہے کہ آج جو ہائبرڈ نظام قائم ہے‘ اس کو چلانے والے بھی اس کے بارے میں یکسو نہیں۔ انہوں نے اسے مجبوراً اختیار کر رکھا ہے۔ اس لیے کسی گوشے میں محققین صدارتی نظام کے خدوخال واضح کرنے میں لگے ہیں۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ عوام کے مفادات ان تجربات کا محور نہیں ہیں‘ جن کا وجود ان کی اذیت برداشت کرتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments