"KNC" (space) message & send to 7575

حادثہ اور مذہب

مذہب کا ایک المیہ یہ ہے کہ اسے وکیل اچھے ملے نہ ناقد۔
اکثروکیل وہ ہیں جو موکل کا مقدمہ سمجھ ہی نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا مقدمہ لکھ کر بیان کر دیا۔ وکیلوں نے مگر اپنی تاویلات سے اس کو پاژند بنا دیا۔ ناقدین کا معاملہ یہ رہا کہ انہوں نے مذہب کو سمجھنے کے لیے‘ موکل کے بجائے وکلا سے رجوع کیا۔ مذہب زبانِ حال سے‘ اعلانِ برأت کر تا رہا۔ پرانے ادوار میں جب ایسی صورت پیش آتی تو نیا پیغمبر آ کر مذہب کا مقدمہ واضح کر دیتا۔ جیسے بنی اسرائیل میں مذہب کے وکیلوں نے خود ساختہ افکار کو اللہ کا مذہب بنا کر پیش کیا تو سید نا مسیح علیہ السلام نے آ کر سب گرد وغبار کو جھاڑ دیا اور مذہب کا اصل چہرہ سامنے لے آئے۔ ختمِ نبوت کے بعد‘ اب اس کا امکان باقی نہیں رہا۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا کا کلام محفوظ ہے اوراس کے آخری پیغمبرﷺ کی سنت بھی۔ ناقدین مگر وکیلوں کی بات ہی کو مذہب سمجھتے اور اس کو آئے دن کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ یہ سب کیسے ہوتا ہے‘ ہم اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پمز کا حادثہ اس بحث کا پس منظر ہے۔ ارشاد ہوا: ناروے میں تو یہ نہیں ہوتا‘ پاکستان ہی میں ہوتا ہے۔ کیا وہاں کا خدا کوئی اور ہے اور یہاں کا کوئی اور؟ اگر خدا ایک ہے تو پاکستان میں ہونے والے حادثات کو خدا کی سکیم کے تناظر میں سمجھنے کے بجائے‘ ناروے کی طرح‘ انسانی سکیم کے تحت سمجھا جائے۔ خدا کی سکیم‘ انسانوں کا تراشا ہوا افسانہ ہے۔ در اصل یہ سب انسانی تدبیر کی کارفرمائی ہے اور ان واقعات کو اسی حوالے سے سمجھا جائے۔ جب ہم اسے خدا کی سکیم قرار دے کر‘ جزا و سزا کو آخرت پر موقوف کر دیتے ہیں تو سوال کا دروازہ بند کر دیتے ہیں۔ ''اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اس ظلم کا جواب آخرت میں ہے تو ہم نے سوال بند کر دیا۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ اس ظلم کی وجہ پرانی وائرنگ اور ناقص انتظام ہے تو ہم نے سوال کھول دیا۔ یہ دونوں جواب ایک ہی وقت میں نہیں دیے جا سکتے کیونکہ ایک ذمہ داری کو آسمان کی طرف بھیجتا ہے اور دوسرا زمین پر واپس لاتا ہے۔ ہم نے دونوں کو ملا کر ایک تیسری چیز بنا لی ہے‘ ایک ایسا معجون جس میں مذہب کی ساری تسلی ہے اور دنیاوی نظام کی کوئی سختی نہیں‘‘۔
گزارش ہے کہ یہ 'معجون‘ کب آسمان سے اترا؟ یہ مذہب کی کس کتاب میں لکھا ہے؟ مذہب نے کب کہا کہ اس دنیا میں ہونے والے جرائم کے لیے‘ یہاں جزا وسزا کا کوئی نظام نہیں ہوگا؟ جب اللہ کے رسولﷺ بنفسِ نفیس اس زمین پر موجود تھے اور ایک ریاست کے حکمران تھے‘ کیا اُس وقت جزا وسزا کا کوئی نظام نہیں تھا؟ کیا اُس وقت مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی تھی؟ کیا اُس وقت معاملات کو آخرت کے لیے مؤخر کر دیا جاتا تھا؟ کیا اُس دور میں دنیاوی نظام کی کوئی سختی نہیں تھی؟ کیا سیدنا عمرؓ کا درہ محض ایک افسانہ ہے؟
قرآن مجید نے نہ صرف لوگوں کو پابند کیا ہے کہ وہ انصاف پر قائم رہیں بلکہ بعض جرائم کی متعین سزائیں بھی تجویز کر دی ہیں کہ جب اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو زمین پر اقتدار ملے تو وہ انہیں نافذ کریں۔ یہی نہیں‘ اس نے انسانی جان‘ مال اور عزت کی حرمت کو مذہب کے بنیادی مقدمے کے طور پر پیش کیا ہے۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اللہ کے آخری رسولﷺ نے اس کو موکد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جان کی حرمت بیت اللہ کی حرمت سے زیادہ ہے۔ کالم کی تنگ دامنی مانع نہ ہوتی تو میں قرآن مجید کی آیات کو یہاں نقل کرتا جو اس دنیا میں جزا وسزا کے باب میں مذہب کی تعلیم کو واضح کرتی ہیں۔ اگر پاکستان میں انسانی جان کی قدر نہیں تو اس کا ذمہ دار مذہب نہیں ہے۔ خدا کا یہ قانون ناروے کے لیے بھی اور پاکستان کے لیے بھی ہے۔ جو لوگ پمز ہسپتال میں پیش آنے والے حادثے کے ذمہ دار ہیں‘ انہیں سزا دینا دین کا تقاضا ہے۔ اگر حکمران ایسا نہیں کریں گے تو وہ خدا کے مجرم ٹھیریں گے۔
اب آئیے اُن واقعات کی طرف‘ جہاں ہم ایک حادثے کی ذمہ داری کسی انسان پر نہیں ڈال سکے۔ اس باب میں کہا گیا: ''اگر حادثات محض 'یاددہانی‘ ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک زلزلے میں دبے ہوئے بچے کو پیغام رسانی کا ذریعہ بنایا گیا۔ یہ مؤقف خدا کو بچانے کے لیے اس کے انصاف کو قربان کر دیتا ہے‘‘۔ یہاں بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے مذہب کے مقدمے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ مذہب کا مقدمہ یہ ہے کہ یہ دنیا اللہ تعالیٰ نے جزا وسزا کے لیے نہیں‘ آزمائش کے لیے بنائی ہے۔ وہ انسانوں کو خوف‘ بھوک‘ املاک کے نقصان‘ اولاد کے دکھ سے آزمائے گا۔ وہ یہاں ظالموں کو ڈھیل بھی دے گا۔ اس دنیا میں ظالم اور مظلوم دونوں آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ جب آزمائش کا یہ دور ختم ہو جائے گا تو ایک نئی دنیا آباد کی جائے گی۔ اس دنیا میں انسانوں کو اُن اعمال کی بنیاد پر‘ جو انہوں نے یہاں سرانجام دیے‘ سزا یا جزا سے نوازا جائے گا۔ اس دنیا کے بارے میں اللہ کی ایک سنت ہے۔ اس نے یہاں انصاف کا وعدہ نہیں کیا‘ ایک یومِ حساب کا وعدہ ضرور کیا ہے۔ آخرت کا یہ تصور نہ تو زمان و مکان سے ماورا ہے اور نہ ہی ناقابلِ فہم۔ جس خدا نے یہ کائنات بنائی ہے‘ وہ اس کو نئی صورت دے دے گا۔ قرآن مجید کے مطابق وہ اس زمین آسمان کو‘ نئے زمین و آسمان سے بدل دے گا۔ یہ زمان و مکان سے متصادم کوئی تصور ہے نہ عقل سے۔
اب ہم اصل اعتراض کی طرف لوٹتے ہیں۔ اس زمین پر پیش آنے والے واقعات‘ اگر تمام تر انسانی سکیم سے متعلق مانے جائیں تو بھی یہ امکان باقی رہتا ہے کہ مجرموں کو سزا نہ ملے۔ اس لیے عقل کا تقاضا ہے کہ ایک ایسی دنیا وجود میں آئے جہاں انصاف کی فراہمی میں کوئی شک وشبہ نہ ہو۔ جہاں یقین کا وہ درجہ میسر ہو کہ ہاتھ ا ور پاؤں بول اٹھیں۔ دنیا میں اگر کسی کو اچھے عمل کا اجر نہیں ملتا یا کسی مظلوم کو سزا نہیں ملتی تو اسے مطمئن رہنا چاہیے کہ ایسا دن ضرور آئے گا جب انصاف ہوگا۔ اس دن کی یاددہانی کے لیے اللہ تعالیٰ اہتمام کرتا ہے۔ یہ واقعات خدا کی قدرت کا ظہور ہیں۔ یہ زبانِ حال سے بتاتے ہیں کہ جو نیپال میں ہوا‘ اسی طرح پوری زمین پر ہو گا۔ یہ اگر قیامتِ صغریٰ ہے تو ایسی ہی ایک قیامتِ کبریٰ بھی آئے گی۔
یہ دنیا کے نظامِ حیات میں موجود خلا کا واحد جواب ہے جو صرف اورصرف مذہب دیتا ہے۔ میرے علم میں اس سوال کا کوئی انسانی جواب نہیں دیا گیا کہ زلزلے کیوں آتے ہیں‘ وائرس کیوں پھیلتا ہے‘ مرنے کے بعد کیا ہو گا؟ اگر یہ میری کم علمی ہے تو میں اُن کا شکرگزار ہوں گا جو اس کا مداوا کریں گے۔ میری گزارش یہ ہے کہ کوئی اختلاف کرے یا اتفاق‘ ان کا جواب صرف مذہب کے پاس ہے۔ جن سوالات کے جواب عقلِ عام سے مل سکیں‘ ان کے لیے منطق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فلسفہ اور کلام کا ایک نقص یہ بھی ہے کہ بعض اوقات عقلِ عام کے لیے حجاب بن جاتے ہیں۔ اس لیے مذہب کا بنیادی مقدمہ عقلی ہے‘ فلسفیانہ یا کلامی نہیں۔
مذہب کے ناقدین سے بس اتنی درخواست ہے کہ وہ ہما شما سے مذہب کو جاننے کے بجائے‘ اسے براہ راست اللہ کی کتاب سے جانیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...