"RS" (space) message & send to 7575

کوہاٹ میں لہو رنگ صفیں

خیبر پختونخوا ایک بار پھر دہشت گردی کی سفاکانہ لہر کا نشانہ بنا ہے۔ کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز کی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران دہشت گردوں نے انتہائی وحشیانہ اور خونریز حملہ کیا۔ اس لرزہ خیز واقعے میں 21بے گناہ شہریوں اور نماز کیلئے موجود پولیس اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ 100سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین اور ابتدائی شواہد کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی عمارت کے مرکزی گیٹ سے ٹکرا دی جس سے ہونے والے شدید دھماکے کے ساتھ ہی دیگر مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ حملہ آوروں میں سے کچھ شدت پسند سپیشل برانچ کی عمارت کی طرف بڑھنا چاہتے تھے لیکن فرض شناس پولیس اہلکاروں کی بروقت‘ دلیرانہ اور جوابی کارروائی کے نتیجے میں سات دہشت گرد وہیں جہنم واصل کر دیے گئے‘ جبکہ چند دہشت گردوں نے سپیشل برانچ کی عمارت کی جانب پیش قدمی کی۔ اگر سکیورٹی فورسز کی طرف سے فوری جوابی کارروائی نہ کی جاتی تو جانی نقصان اس سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتا تھا‘ تاہم ہمارے بہادر جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے ایک بہت بڑی تباہی کا راستہ روک لیا۔
خالقِ حقیقی کے سامنے سر بسجود نمازیوں کو مسجد جیسی مقدس جگہ پر نشانہ بنانا نہ صرف انتہائی سفاکانہ اور انسانیت سوز فعل ہے بلکہ یہ اسلامی تعلیمات‘ انسانی اقدار اور اخلاقی حدود کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عبادت گاہوں‘ درس گاہوں‘ عوامی مقامات اور نہتے شہریوں کو خاک و خون میں نہلا دینا نری درندگی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس طرح کے اندوہناک واقعات میں ملوث عناصر کا نہ تو کوئی واضح انسانی نظریہ ہے اور نہ ہی وہ کسی بھی دین یا مذہب کے سچے پیروکار ہو سکتے ہیں۔ جنگ کے عالمگیر اصول بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ بلا تفریق عام شہریوں‘ بچوں اور خدا کے حضور جبیں ٹیکے عبادت میں مشغول افراد کو نشانہ بنایا جائے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ مسجد کی صفوں میں خدائے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں کھڑے تھے‘ انہیں آخر کیونکر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ایسے لوگ کس نظریے کے حامل ہیں؟ کوہاٹ کی اولڈ پولیس لائنز مسجد پر ہونے والے اس خودکش حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر کی قیادت میں متحرک گروہ ''اتحاد المجاہدین پاکستان‘‘ نے قبول کی ہے۔ یہ گروہ اور اس سے منسلک کالعدم تنظیمیں بظاہر مذہبی شناخت رکھتی ہیں اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے بلند بانگ دعوے کرتی ہیں لیکن جب یہ عناصر مساجد کی حرمت پامال کرتی ہیں اور معصوم مسلمانوں کا بے دردی سے خون بہاتی ہیں تو ان کے تمام باطل دعوؤں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ تمام حلقوں کی جانب سے اس بزدلانہ کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے اور یہ جملے زبان زدِ عام ہیں کہ اسلام سلامتی‘ امن اور احترامِ انسانیت کا دین ہے‘ جس میں ایک معصوم کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے مذہب کے نام پر یا مذہبی لبادہ اوڑھ کر تشدد کی راہ اپنانے والے گمراہ گروہ نہ تو اسلام کے نمائندے ہیں اور نہ ہی ان کا آئینِ پاکستان اور دینِ اسلام سے کوئی تعلق ہے۔ یہ عناصر دراصل اپنے مذموم مقصد اور غیر ملکی سرپرستی کے ایجنڈے کو پورا کرنے کیلئے دینِ مبین کے مقدس نام کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ جب یہ مساجد کو مقتولین کے خون سے رنگین کرتے ہیں تو ان کے نام نہاد نظریہ کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اسلام نے تو جنگ کے دوران بھی غیر جنگجوؤں‘ عورتوں‘ بچوں‘ اور عبادت گاہوں میں موجود افراد کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے‘ ایسے میں مساجد میں خودکش دھماکے کرنے والے کسی بھی رعایت یا لچک کے مستحق نہیں ہو سکتے۔
شدت پسند اور تفرقہ انگیز عناصر اکثر آسان اور سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں اور پاکستان جیسے جغرافیائی لحاظ سے وسیع اور کثیر آبادی والے ملک میں سکیورٹی کی تمام تر تدابیر کے باوجود کہیں نہ کہیں ایسی رخنہ اندازی کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ سکیورٹی فورسز اور افواجِ پاکستان اگرچہ ملک کے طول و عرض میں مسلسل آپریشنز‘ انٹیلی جنس بیسڈ اقدامات اور دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں‘ تاہم خیبرپختونخوا پولیس پر پے در پے ہونے والے حملوں کی روک تھام کیلئے مزید ٹھوس اور پائیدار اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ یہ حقیقت بارہا سامنے آ چکی ہے کہ جن جدید ترین ہتھیاروں‘ ٹیکنالوجی‘ نائٹ ویژن آلات اور مخصوص گوریلا ٹریننگ کا سامنا ہمارے جوانوں کو ہے‘ اس کے مقابلے کیلئے خیبرپختونخوا پولیس کو بھی جدید ترین خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ پولیس فورس کی تربیت اور ان کا روایتی اسلحہ شہری آبادی میں امن و امان قائم رکھنے کی بنیادی ضروریات کے تحت مہیا کیا جاتا رہا ہے‘ لیکن موجودہ غیر روایتی جنگ نے پولیس فورس کی جدید ترین ساخت اور تیاری پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے پیش آنے والے ان سنسنی خیز واقعات اور ان میں فرنٹ لائن پر لڑنے والے پولیس کے اہلکاروں کی مسلسل شہادتوں کے پیش نظر یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر زبانی دعوؤں کے بجائے عملی اور ٹھوس اقدامات سامنے آئیں۔ خیبرپختونخوا پولیس کی صلاحیتوں‘ بلٹ پروف گاڑیوں‘ تھرمل امیجنگ اور جدید ساز و سامان کی فراہمی کے بارے میں جو وعدے اور اعلانات کیے جاتے رہے ہیں‘ ان پر فوری اور بلا تاخیر عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔ جب تک ہماری پولیس فورس کو جدید خطوط پر انسدادِ دہشت گردی کی تربیت اور وسائل سے مکمل طور پر لیس نہیں کیا جائے گا‘ تب تک ہمارے بہادر جوانوں کو ایسے بزدلانہ حملوں کے سامنے ڈھال بننے کی قیمت چکانی پڑے گی۔ ریاست کیلئے اپنے محافظوں کی حفاظت اور ان کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ سب سے پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔
ہمیں یہ حقیقت مدِ نظر رکھنی ہو گی کہ پاکستان کو درپیش پیچیدہ اور اندرونی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے صرف مسلح فورسز یا پولیس پر انحصار کافی نہیں‘ بلکہ اس جنگ میں ہر شہری کی بیداری اور سکیورٹی شعور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ملک بھر میں ہزاروں مساجد‘ امام بارگاہیں اور حساس عوامی مقامات موجود ہیں‘ جہاں ہر وقت پولیس کی مستقل نفری تعینات کرنا مالی اور انتظامی طور پر ممکن نہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ محلہ اور علاقائی سطح پر شہری خود بھی چوکس رہیں‘ اپنے اردگرد کے ماحول پر کڑی نظر رکھیں۔ جب سکیورٹی کو صرف کسی ایک ادارے کی ذمہ داری کے بجائے مشترکہ قومی فریضہ تسلیم کیا جائے گا تو شدت پسندوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قومی بیانیے کو مزید تقویت دی جائے‘ شدت پسندانہ سوچ کی فکری بیخ کنی کی جائے اور سکیورٹی اداروں کو مطلوبہ وسائل فراہم کر کے دہشت گردوں کے باقی ماندہ نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ دہشت گردی ایک قومی نوعیت کا مسئلہ ہے‘ تاہم جب وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی تلخیاں بڑھتی ہیں تو ملک دشمن عناصر اس خلا کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر دہشت گردی کی جنگ کے خلاف پوری قوم اور تمام سیاسی قیادت کو یکجہتی اور اتفاقِ رائے کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...