"RS" (space) message & send to 7575

ایران کو جھکانے کے امریکی حربے

امریکی بحریہ کے سب سے اہم طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا مشرقِ وسطیٰ میں 286دن گزارنے کے بعد تھائی لینڈ پہنچنا عالمی سیاست اور عسکری تجزیہ کاروں میں زیر بحث ہے۔ کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو سے روانہ ہونے والا یہ بحری جہاز نو ماہ تک مسلسل سمندر میں رہا۔ امریکی بحریہ کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس جہاز نے اپنا مشن کامیابی کے ساتھ پورا کر لیا ہے‘ مگر سوال یہ ہے کہ اگر اس بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ بھیجنے کا مقصد ایران پر عسکری دباؤ ڈالنا تھا تو یہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا ۔ پھر یہ مشن کس بنیاد پر مکمل قرار دیا جا رہا ہے؟ ابراہم لنکن کی روانگی سے قبل ایسا خوف اور رعب کا ماحول پیدا کیا گیا تھا جس میں یہ باور کرایا گیا کہ ایران اس بحری جہاز کے قریب پھٹکنے کی جرأت بھی نہیں کر ے گا لیکن اس کے برعکس 286 ایام کی اس مسلسل کشمکش کے بعد بعض عسکری ذرائع اور تجزیاتی حلقوں کی جانب سے یہ حقائق سامنے آ رہے ہیں کہ طویل ترین بحری موجودگی کے باعث جہاز پر موجود اہلکار شدید ذہنی تناؤ کا شکار ہو چکے تھے۔ اس کے مقابلے میں ایران نہ صرف اسی استقامت کے ساتھ اپنی کھڑا رہا جیسے وہ پہلے دن تھا بلکہ اس شدید ترین معاشی و عسکری گھیراؤ کے نتیجے میں ایرانی عوام اور عسکری قیادت کا نظریاتی مؤقف مزید مضبوط ہوا ہے۔ یہ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ واشنگٹن اپنی تمام تر بحری قوت کے باوجود ایرانی قوم اور اس کے انتظامی نظام کو جھکانے میں ناکام رہا ہے۔
جب امریکی قیادت کو یہ اندازہ ہوا کہ صرف بحری بیڑے کی موجودگی اور عسکری نمائش سے ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا تو صدر ٹرمپ کی جانب سے تناؤ کو ایک نئے رخ پر منتقل کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔ امریکی صدر اب ہر وہ حربہ استعمال کر رہے ہیں جس سے ایران کو امریکی برتری تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں واشنگٹن بالآخر کچھ مغربی اتحادیوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی نے ایران کے ایٹمی معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کیلئے سفارتی محاذ آرائی تیز کر دی ہے۔ یہ چاروں مغربی ملک بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے بورڈ میں ایران کے خلاف قرارداد لانے کی تیاری کر رہے ہیں جس میں یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ تہران جوہری عدم تعاون کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مغربی ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی اس مجوزہ قرارداد میں ایران سے یہ مطالبہ کیے جانے کا امکان ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں اور معاہدوں کی پاسداری کرے اور آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو تمام ایٹمی تنصیبات تک بلا تعطل رسائی فراہم کرے۔ اس وقت آئی اے ای اے اور مغربی طاقتوں کا سب سے بڑا اعتراض ایران کی جانب سے 60فیصد تک یورینیم کی افزودگی ہے‘ جسے وہ ایٹمی صلاحیت کے حصول کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیتے ہیں۔ اگر آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز میں ایران کے خلاف عدم تعاون کی قرارداد منظور ہو جاتی ہے تو تقریباً 20سال بعد ایران کا جوہری کیس ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس چلا جائے گا جس کے نتیجے میں تہران پر بین الاقوامی پابندیوں کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اگرچہ امریکہ نے چار ممالک کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے لیکن چین اور روس کی اقوام متحدہ میں مستقل رکن کے طور پر موجودگی امریکی عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔ اسی طرح جنوبی کوریا کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی اتحاد کی حمایت کیلئے بحری یا زمینی فوجی دستے بھیجنے کے ممکنہ منصوبے پر چین شدید تحفظات رکھتا ہے اور اس اقدام سے علاقائی مسائل اور کشیدگی کے امکانات بڑھ جائیں گے کیونکہ یہ معاملہ اب بحیرہ احمر اور بحر ہند سے ساوتھ چائنہ سی تک پہنچ رہا ہے۔ امریکہ تنازع کو چین تک بڑھا رہا ہے جسے چین آبی جنگ سمجھے گا۔ اس صورت میں جنگ کا دائرہ ہماری سوچ سے بھی زیادہ وسعت اختیار کر جائے گا۔
سفارتی اور معاشی گھیراؤ کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کی جانب سے ایران کی حساس عسکری و دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ ان دھمکیوں میں خاص طور پر ایران کے اہم عسکری مرکز کوہِ کلنگ گزلا کا نام لیا گیا ہے۔ کوہِ کلنگ گزلا ایران کی ایک نہایت حساس اور حکمتِ عملی کے لحاظ سے اہم ترین زیرِ زمین عسکری و دفاعی تنصیب ہے جو کہ پہاڑی سلسلوں کی قدرتی گہرائی میں واقع ہونے کے باعث اعلیٰ ترین سطح کا دفاعی تحفظ رکھتی ہے۔ یہ مقام جغرافیائی طور پر اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اس کے اندر دو ملحقہ اور انتہائی محفوظ ترین سرنگوں پر مشتمل جدید اور وسیع تر کمپلیکس قائم ہے‘ جسے روایتی فضائی حملوں‘ بنکر بسٹر بموں اور دیگر طاقتور بارودی دھماکوں سے محفوظ رکھنے کیلئے قدرتی چٹانوں کی گہری تہوں میں تراشا گیا ہے۔ اس کمپلیکس کو ایران کے دفاعی نظام میں کلیدی حیثیت حاصل ہے‘ جہاں جدید تکنیکی و عسکری اثاثہ جات اور حساس نوعیت کے انفراسٹرکچر کی حفاظت ممکن بنائی جاتی ہے۔ اپنی غیرمعمولی قلعہ نما اور حکمت عملی کی صلاحیت کی وجہ سے کوہِ کلنگ گزلا کا شمار خطے میں ایران کے ناقابلِ تسخیر عسکری مراکز میں ہوتا ہے۔ تاہم اگر امریکی انتظامیہ ان دھمکیوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کرتی ہے تو ایران کے پاس صرف داخلی قومی اتحاد ہی واحد ڈھال نہیں ہے بلکہ اس کے پاس خطے میں موجود تمام امریکی عسکری اہداف اور اس کے اتحادی ممالک کی حساس تنصیبات پر حملہ کرنے کے مکمل عسکری آپشنز بھی موجود ہیں۔ اگر یہ کشیدگی واقعی ایک کھلی جنگ میں بدلتی ہے تو ایرانی ردِعمل کی شدت امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہو گی۔ اس طرح کی باقاعدہ جنگ کا نقصان صرف تہران یا واشنگٹن تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کھلی جنگ کے شعلے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے‘ جس سے عالمی توانائی کے راستے اور خطے کا امن مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ جائے گا۔
مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی بگڑتی صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عسکری میدان میں غلط کیلکولیشن متحارب گروہوں کیلئے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ پورا خطہ تباہی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ بین الاقوامی سیاست اب بھی مذاکرات اور مکالمے کے بجائے طاقت کے استعمال سے مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ تسلط کی کوششیں کبھی بھی نظریاتی جذبے کو مات دینے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ امریکی قیادت کو یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی کہ تہران کو سلامتی کونسل کے ذریعے معاشی اور سفارتی حصار میں قید کرنے کی کوششیں ہوں یا طاقت کے بے جا استعمال کی دھمکیاں‘ ان سے قومی نظریات کو مستقل طور پر دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر عالمی طاقتوں نے یکطرفہ تسلط کی پالیسی کو ترک نہ کیا اور سفارت کاری کے راستوں کی جگہ جنگ کے شعلوں کو ہوا دی تو اس آتش فشاں کے پھٹنے سے جو تباہی جنم لے گی‘ اس کا نقصان صرف ایک ریاست کا مقدر نہیں بنے گا بلکہ اس کی زد میں آنے والی دنیا کی تاریخ خود اپنے ہاتھوں سے اپنی بربادی کا سیاہ باب رقم کرے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت کے بجائے مساوات‘ باہمی احترام اور امن کے اصولوں کو ترجیح دی جائے ورنہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ آتش فشاں پورے کرۂ ارض کو اپنے لپیٹ میں لے کر امن کے تمام خوابوں کو خاکستر کر دے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...