"RS" (space) message & send to 7575

مشرق وسطیٰ، چھ ماہ کی جنگ کی قیمت

کسے معلوم تھا کہ سات اکتوبر 2023ء کو حماس کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ''طوفان الاقصیٰ‘‘ کے نام سے شروع کی جانے والی کارروائی آگے چل کر ایک ایسی ہولناک جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو گی جس کے شعلے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے بلکہ عالمی معیشت اور جغرافیائی سیاست کی بنیادیں بھی ہلا کر رکھ دیں گے۔ جب حماس کے فدائین نے اسرائیل کی سخت ترین سکیورٹی کی رکاوٹیں توڑ کر اپنے قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار کی اور اسرائیل کے متعدد افراد کو یرغمال بنایا تو ابتدائی طور پر اسے ایک مقامی عسکری واقعے کی نظر سے دیکھا گیا مگر بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ اس واقعے نے ایک ایسی چنگاری کا کام کیا جس نے درجن بھر ممالک کو براہِ راست جنگ میں دھکیل دیا۔ تل ابیب کے توسیع پسندانہ عزائم اور جارحانہ پالیسیاں دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں تھیں تاہم حماس کی جانب سے اٹھائے جانے والے قدم کے بعد اسرائیل نے اسے اپنی دفاعی جارحیت کا جواز بنایا اور غزہ پر چڑھائی کر دی۔ غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا۔ بین الاقوامی انسانی قوانین اور مسلمہ عالمی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہسپتالوں‘ پناہ گزین کیمپوں اور تعلیمی اداروں کو بے دریغ نشانہ بنایا گیا‘ جس نے اکیسویں صدی کے المناک انسانی المیے کو جنم دیا۔ غزہ کا ایشو ہی دراصل مشرقِ وسطیٰ بحران کی بنیاد ہے۔ جون 2025ء میں ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے شدید عسکری تصادم کی اصل وجہ بھی قضیۂ فلسطین ہی تھا۔ اسرائیل ایران کی دفاعی اور جوہری صلاحیتوں کو اپنے تزویراتی وجود کیلئے خطرہ تصور کرتا آیا ہے اور اس عداوت کی بنیادی وجہ تہران کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی غیر متزلزل اخلاقی و عسکری حمایت ہے۔ جب 2025ء میں جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حساس جوہری مذاکرات بغیر کسی تصفیے کے ناکام ہوئے تو اسرائیل نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران پر حملہ کر دیا۔ اس تناظر سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اس خطے میں بدامنی کا اصل محور مسئلہ فلسطین ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے بھی اپنے بیانات میں اس فکری نکتے پر زور دیا کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور پائیدار حل تلاش نہیں کیا جاتا‘ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کے اعداد و شمار کا احاطہ کرنا مشکل ہے‘ تاہم الجزیرہ کی جانب سے پیش کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں جنگ کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران ہونے والے تباہ کن اثرات کا ڈیٹا فراہم کیا گیا ہے۔ 28فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ اور وسیع پیمانے پر حملوں کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور اہم عسکری قیادت شہید ہو گئی‘ جبکہ ایران بھر میں جوہری اور عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچایا گیا۔ ان حملوں کے ردِعمل میں ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغے جبکہ لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کو اپنے راکٹوں کا ہدف بنایا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی فورسز نے لبنان میں کارروائیاں کرتے ہوئے ایک موقع پر لبنان کے بڑے حصے پر تسلط قائم کر لیا۔ تاہم چھ ماہ کی معرکہ آرائی کے باوجود کوئی بھی فریق فیصلہ کن برتری حاصل نہ کر سکا اور تمام تر سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں۔ مختلف ممالک کی وزارتِ صحت اور سرکاری اداروں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے دوران مجموعی ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 7900 تک جا پہنچی ہے۔ ایرانی جوابی کارروائیوں میں 60اسرائیلی اور 18امریکی سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ 757 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 4350 افراد جاں بحق اور 12ہزار 510 زخمی ہوئے۔ خلیجی خطے میں 28 ہلاکتیں درج کی گئیں جبکہ ایران میں جاں بحق افراد کی تعداد 3527 تک پہنچ چکی ہے۔ جنگی حالات کی مانیٹرنگ کرنے والے بین الاقوامی ادارے آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا کے مطابق اس عرصے میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر 3580 حملے کیے جبکہ جواباً ایران اور اس کے حلیفوں نے امریکی و اسرائیلی اہداف کو 2053 بار نشانہ بنایا۔
اس جغرافیائی تزویراتی جنگ کا سب سے بڑا معاشی دھچکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کی سب سے اہم شریان شمار ہوتی ہے‘ جہاں سے جنگ سے قبل روزانہ 50آئل ٹینکرز اور 50کے قریب تجارتی جہاز گزرتے تھے‘ جن کے ذریعے کروڑوں بیرل خام تیل‘ ایل پی جی اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی ترسیل ممکن ہوتی تھی۔ امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے اگلے ہی روز‘ دو مارچ 2026ء کو ایران نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب نے اس گزرگاہ پر جہاز رانی روک دی اور سمندرمیں سرنگیں بچھا دیں‘ جس کے باعث روزانہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد 100سے گھٹ کر اوسطاً محض پانچ رہ گئی۔ یہ پانچ جہاز بھی صرف ایرانی حلیف ممالک کے ہوتے تھے جنہیں پاسداران انقلاب کی خاص اجازت حاصل ہوتی تھی۔ اپریل کی عارضی جنگ بندی اور جون کے عبوری معاہدوں کے بعد یہ اوسط بڑھ کر 20جہاز تک پہنچی مگر 14 جولائی کو امریکہ کی جانب سے دوبارہ ناکہ بندی پر یہ تعداد پھر پانچ تک گر گئی۔ مجموعی طور پر چھ ماہ میں روزانہ اوسطاً صرف سات جہاز اس راستے سے گزر سکے۔ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق 26 اگست تک اس گزرگاہ میں 70 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 19 ملاح ہلاک ہوئے۔
جنگ کی طوالت نے امریکی مالیات اور عالمی معیشت پر ناقابلِ تلافی اثر ڈالا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی سماعت کے دوران تصدیق کی کہ ایران جنگ پر امریکہ کے براہِ راست اخراجات 37.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم پینٹاگون کے اندرونی تخمینوں کے مطابق مجموعی اخراجات 80 سے 100 ارب ڈالر کے درمیان ہیں‘ جس میں تباہ شدہ طیاروں کی تبدیلی‘ اڈوں کی مرمت اور ہتھیاروں کے ذخائر کی بحالی شامل ہے۔ اس دوران عالمی تیل کی مارکیٹ بھی شدید ترین عدم استحکام کا شکار ہوئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت جو جنگ سے قبل 72.48 ڈالر فی بیرل تھی‘ 30 اپریل کو بڑھ کر 120.88 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی یعنی قیمتوں میں 67 فیصد کا ڈرامائی اضافہ ہوا‘ جس نے مغربی ممالک سمیت پوری دنیا کیلئے افراطِ زر اور مہنگائی کا نیا طوفان برپا کر دیا۔ اسی دباؤ کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بحری ناکہ بندی میں نرمی اور معاہدوں پر مجبور ہوئے‘ جس کے بعد تیل کی قیمتیں 88.58 ڈالر کی سطح پر آئیں۔ توانائی کے اس بحران سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے 32 رکن ممالک نے 11 مارچ کو اپنے ہنگامی ذخائر سے 400 ملین بیرل تیل جاری کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود امریکہ کا اپنا سٹرٹیجک پٹرولیم ریزرو گھٹ کر 290ملین بیرل پر آ گیا جو اس کی کل گنجائش کا صرف 41 فیصد ہے اور نومبر 1982ء کے بعد امریکی تاریخ کی کم ترین سطح شمار ہوتی ہے۔
سیاسی میدان میں اس جنگ کا خمیازہ امریکی انتظامیہ کو اٹھانا پڑا ہے۔ ایک امریکی سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر 33فیصد پر آ گئی ہے‘ جبکہ 65فیصد عوام نے ان کی جنگی پالیسی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ 80فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ کی اس طویل اور لاحاصل دلدل میں بری طرح پھنس چکا ہے۔ صرف 16فیصد لوگ اس کی جلد خاتمے کی توقع رکھتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اور بڑھتا ہوا انسانی المیہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ جب تک مسئلہ فلسطین کا پائیدار‘ عادلانہ اور خودمختار حل تلاش نہیں کیا جاتا تب تک نہ تو مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی عالمی معیشت کو اس دیرپا تباہی سے بچایا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...