"RS" (space) message & send to 7575

افغان رویہ: انحراف اور الزامات

افغانستان گزشتہ نصف صدی سے سیاسی انارکی‘ مسلح تصادم اور اندرونی خلفشار کا شکار ہے۔ اس مسلسل بے چینی اور کشیدگی کا سب سے بڑا محرک وہ طاقتور عسکری اور سیاسی دھڑے ہیں جو افغان سرزمین کو اپنے کنٹرول اور خودمختاری کیلئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ افغانستان کا مسئلہ صرف ایک حکومت یا نظریے کا نہیں بلکہ طاقت کے ان متعدد مراکز کا ہے جو ریاست کے اندر متوازی ریاستیں قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ مسلح گروہ نظریاتی بنیادوں پر اس قدر منظم ہیں کہ مرکزی حکومت کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر جب چاہیں پورے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر دیتے ہیں۔ افغانستان کے موجودہ عسکری اور سیاسی منظرنامے کو سمجھنے کیلئے ان مسلح دھڑوں کی ساخت اور ان کی حکمتِ عملی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ طالبان نے اگرچہ اگست 2021ء میں کابل پر قابض ہو کر اپنی حکومت کا اعلان کیا لیکن ان کا غلبہ کبھی بھی مکمل یا ہمہ گیر ثابت نہیں ہو سکا۔ طالبان کے اندر بھی یکسانیت کا فقدان ہے‘ ایک طرف قندھار کا روایتی اور سخت گیر مذہبی دھڑا ہے جو ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں پالیسیاں طے کرتا ہے‘ جبکہ دوسری طرف حقانی نیٹ ورک ہے جس کی قیادت سراج الدین حقانی کے پاس ہے۔ حقانی نیٹ ورک نہ صرف عسکری لحاظ سے انتہائی سٹرٹیجک صلاحیتوں کا حامل ہے بلکہ وہ طالبان حکومت کے اندر رہتے ہوئے بھی ایک نیم خود مختار اور انتہائی بااثر قوت کے طور پر کام کرتا ہے۔ ان دونوں داخلی گروہوں کے درمیان ویژن اور سفارتی ترجیحات کا فرق اکثر پالیسیوں کے تضاد کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
طالبان کے اقتدار کو سب سے بڑا سیاسی اور عسکری چیلنج شمالی اتحاد نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف )سے ہے۔ یہ گروپ پنج شیر‘ اندراب اور بدخشاں کے پہاڑی علاقوں میں اپنا عسکری وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔ احمد مسعود سابق افغان مزاحمتی رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے ہیں۔ وہ این آر ایف کی قیادت کر رہے ہیں۔ این آر ایف طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کرنے والی سب سے نمایاں تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ علی میثم نظری این آر ایف کے اہم سیاسی اور سفارتی چہرہ ہیں۔ وہ بیرون ملک این آر ایف کی نمائندگی کرتے اور طالبان کے مقابلے میں ایک سیاسی متبادل کیلئے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح جنرل یاسین ضیا سابق افغان فوج کے چیف آف جنرل سٹاف اور سابق نائب وزیر دفاع رہ چکے ہیں۔ وہ افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کی قیادت کرتے ہیں۔ اے ایف ایف طالبان کے خلاف مسلح کارروائیوں میں سرگرم گروہوں میں شامل ہے۔ ازبک آبادی کے بااثر عسکری قائدین عبدالملک رشید دوستم اور ان کے حامی شمال میں اپنی کھوئی ہوئی طاقت کی بحالی کیلئے مسلسل کوشاں ہیں۔ ازبک عسکریت پسند دہائیوں سے افغانستان کے شمالی اضلاع میں ایک مضبوط قوت رہے ہیں اور وہ طالبان کی پشتون غالب پالیسیوں کو اپنے وجود کیلئے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ دوسری جانب عطا محمد نور اور دیگر اہم رہنماؤں کی زیرِ قیادت قائم جمعیت اسلامی کے متوازی دھڑے بھی سیاسی اور عسکری سطح پر فعال ہیں‘ جو افغان اقتدار میں غیرپشتون اقوام کی مساوی شرکت کے داعی ہیں۔ ان روایتی عسکری تنظیموں کے علاوہ داعش خراسان کی شکل میں بڑا خطرہ موجود ہے۔ داعش خراسان نہ صرف طالبان کے مذہبی و سیاسی بیانیے کو کھلم کھلا چیلنج کرتی ہے بلکہ اس نے کابل اور اہم صوبوں میں سفارت خانوں‘ اقلیتوں اور طالبان حکام پر حملے کرکے اپنے اثر و رسوخ کا ثبوت دیا ہے۔ یہ تنظیم طالبان سے ناراض جنگجوؤں اور بیرونی شدت پسندوں کو اپنے ساتھ ملا کر خطے کیلئے ایک انتہائی شدید سکیورٹی رِسک بن چکی ہے۔ اس کیساتھ ساتھ ٹی ٹی پی اور دیگر علاقائی شدت پسند گروہوں کی افغانستان میں موجودگی نے مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے۔ یہ تمام دھڑے نہ صرف ایک دوسرے کا وجود تسلیم کرنے سے انکاری ہیں بلکہ ان میں سے ہر ایک خود کو افغانستان کی حکمرانی کا حقیقی حقدار گردانتا ہے۔ ان دھڑوں کے پاس اربوں ڈالر کے ہتھیاروں تک رسائی ہے جس کی بنا پر وہ جب چاہیں مرکزی نظام کیلئے معاشی‘ سفارتی اور سکیورٹی بحران پیدا کر سکتے ہیں۔
طالبان کے دوسرے دورِ اقتدار کی شروعات پر یہ امید کی جا رہی تھی کہ وہ 1990ء کے پہلے دور کی غلطیوں اور خامیوں سے سبق سیکھیں گے۔ یہ گمان تھا کہ اس بار توجہ عوامی فلاح‘ انسانی حقوق‘ تعلیم اور اقتصادی بحالی جیسے بنیادی مسائل پر مرکوز کی جائے گی‘ جیسا کہ ان کے حامی اکثر مثالیں دیا کرتے تھے مگر گزشتہ چند برسوں کے واقعات نے ان امیدوں اور اندازوں کو یکسر غلط ثابت کر دیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ عوام کو بنیادی سہولتیں اور شہری آزادیاں میسر نہیں آئیں‘ بلکہ اپوزیشن کو مکمل طور پر دیوار سے لگانے کی پالیسی نے اندرونی تصادم اور خانہ جنگی کے خطرات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ افغانستان کے لوگوں کے بارے عمومی خیال ہے کہ نہ تو وہاں کے لوگ کسی بیرونی طاقت کے تسلط کو قبول کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے اندرونی دھڑے آپس میں کسی ایک نقطے پر متفق ہو پاتے ہیں۔ یہی المیہ ہے جس نے اس ملک کو دہائیوں سے بحرانوں کی دلدل میں دھکیل رکھا ہے۔
خطے کی سلامتی‘ بالخصوص پاک افغان تعلقات کے حوالے سے پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ افغان سرزمین مسلسل پاکستان کیخلاف سرحدی پار دہشتگردی اور تخریبی کارروائیوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان نے اس اہم معاملے کو حل کرنے کیلئے مسلسل سفارتی اور سیاسی کوششیں کیں۔ متعدد اعلیٰ سطحی وفود نے کابل کے دورے کیے اور طالبان قیادت کو ٹھوس شواہد فراہم کرتے ہوئے ان کیساتھ بار بار مذاکرات کیے تاہم افغان طالبان کا رویہ اس اہم ترین مسئلے پر مسلسل عدم توجہی اور عدم سنجیدگی پر مبنی رہا ہے۔ تحفظات اور خدشات تو پاکستان کے بجا تھے‘ لیکن صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب افغان حکام نے پاکستان کے جائز مطالبات کا حل نکالنے کے بجائے الٹا پاکستان پر ہی افغانستان میں اسلحہ سمگل کرنے کا الزام عائد کر دیا۔ افغان طالبان کی انٹیلی جنس فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ملک کے مشرقی علاقے میں 74 عدد ہتھیار تحویل میں لیے ہیں اور یہ الزام لگایا کہ یہ پاکستان سے افغان سرزمین پر تخریب کاری پھیلانے کی غرض سے سمگل کیے گئے تھے۔ افغان رویہ انحراف سے بڑھ کر الزام تراشی تک جا پہنچا ہے‘ لیکن پاکستان نے افغان حکومت کے اس دعوے کو بے بنیاد اور حقائق کے بالکل منافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
اگست 2021 ء میں جب امریکی اور اتحادی افواج نے افغانستان سے انخلا کیا تو وہ تقریباً سات ارب ڈالر سے زائد مالیت کا جدید ترین عسکری سامان وہیں چھوڑ گئیں۔ اسکے علاوہ افغانستان میں سوویت یونین کیخلاف جنگ کے دور کے بکھرے ہوئے ہتھیاروں کے بھی بے شمار ذخائر اب بھی ہر عام و خاص کے ہاتھ میں ہیں۔ امریکی اور سوویت دور کے اتنے بڑے عسکری ذخائر کی موجودگی میں محض چند ہتھیاروں کو پاکستان سے منسوب کرنے کی کوششیں نہ صرف مضحکہ خیز ہیں بلکہ یہ افغان حکومت کی اس ناکامی کا اعتراف ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر اسلحے کی خرید و فروخت اور بلیک مارکیٹ پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان کا ہمیشہ سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ افغان طالبان رجیم ان وعدوں کی پاسداری کرے جو انہوں نے دوحہ معاہدے میں عالمی برادری سے کیے تھے۔ ان کا بنیادی فرض یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان یا کسی بھی دوسرے پڑوسی ملک کے خلاف عسکریت پسندی کیلئے استعمال نہ ہونے دیں۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی حدود میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کی آپریشنل صلاحیتوں کو ختم کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرے۔ اگر افغان طالبان نے اپنی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ نہ لیا اور ان مسلح دھڑوں کو لگام نہ دی تو اس کے اثرات صرف پڑوسی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خود افغانستان کا قومی وجود اور اس کی داخلی سلامتی کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...