"RBC" (space) message & send to 7575

لانگ مارچ اور اس کے بعد

ہمارے اختیاری شہر اسلام آباد کی طرف اب تک 15 لانگ مارچ‘ جن میں ہر بڑی سیاسی جماعت‘ مذہبی گروہ اور وکلا کی تحریک شامل ہے‘ کیے جا چکے ہیں۔ آج جب ان مارچوں کے بارے میں کچھ سوچ اور لکھ رہا ہوں تو دل کرتا ہے کہ انہیں ''یلغاریں‘‘ کہا جائے۔ یلغار کے کئی دلچسپ معنی ہیں سر دست ہجوم‘ گروہ اور تیز دوڑتے گھوڑے پر گزارہ کریں۔ 20 ستمبر کا جماعت اسلامی کا 'لانگ مارچ‘ اس کی اپنی تاریخ کا دوسرا بڑا اور ہمارے شہر کی تاریخ کا پندرہواں لانگ مارچ ہے۔ اگر کوئی مخبر مائوزے تنگ کو قبر میں‘ اگر انہیں دفنایا گیا تھا‘ یہ خبر دے کہ پاکستانی سیاسی جماعتیں ستمبر کے آخری ہفتوں میں یا اکتوبر کے قریب قریب معمول کی کارروائی کی طرح لانگ مارچ کرتی ہیں تو ان کے خلاف وہ اسی طرح کی کارروائی کا فوری حکم صادر فرمائیں گے جیسا حکم انہوں نے ثقافتی انقلاب کے دوران اپنے مخالفوں کے لیے دیا تھا۔ یہ یلغاریں لانگ مارچ کی تضحیک اور عوام کے ساتھ کسی مذاق سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ پہلے تو مائوزے تنگ کے لانگ مارچ کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ وہ کس ہمت‘ مقابلے اور قربانی کے جذبے سے برپا کیا گیا تھا اور اس کے نتائج‘ انگریزی کے ''لانگ رن‘‘ میں آخرکار کیا نکلے تھے۔
تقریباً ایک صدی قبل‘ جب چین میں خانہ جنگی کی صورتحال تھی اور کمیونسٹ پارٹی نے مسلح جدوجہد کی ٹھان لی تھی‘ چین تب بھی ایک عظیم عسکری اور قومی طاقت تھا اور صدر چیانگ کائی شیک امریکہ کا اتحادی تھا۔ 1934-35ء میں کمیونسٹ پارٹی نے تقریباً ایک لاکھ گوریلوں کی فوج تیار کی مگر وہ روایتی جنگ نہیں لڑ سکتے تھے۔ سرکاری افواج ان پر گولہ باری کرتیں‘ گھیرائو کرتیں‘ ہوائی جہازوں سے بمباری ہوتی مگر وہ گوریلے محاصرہ توڑتے توڑتے ایک سال سے زیادہ عرصے بعد شانزی صوبے سے چل کر یوآن میں اپنا اڈہ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔ اس مارچ کی تکالیف‘ صعوبتوں اور جنگی حکمتِ عملی کے بارے میں ہزاروں مقالے اور سینکڑوں کتابیں موجود ہیں۔ ہم بھی اپنے زمانے کے اشتراکی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر ایسے ہی لانگ مارچ کا خیالی پلائو پکایا کرتے تھے۔ مائو کے لانگ مارچ میں ایک لاکھ میں سے صرف آٹھ‘ نو ہزار فوجی بچے تھے۔ اس کے بعد 15 سال مزید جدوجہد میں لگے تو انقلاب آیا۔ ہمارے انقلاب پان گلوری سے شروع ہو کر دودھ پتی کی پیالی پر ختم ہو جاتے ہیں۔
چونکہ اس وقت جماعتِ اسلامی کے ' لانگ مارچ‘ کی بات ہو رہی ہے‘ پہلے اسی کا ذکر کر لیتے ہیں۔ 29 اکتوبر 1996ء کو' قائدِ تحریک‘ قاضی حسین احمد صاحب صاحب کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی کرپشن کے خلاف جماعت نے پہلا لانگ مارچ کیا تھا۔ نعرہ ابھی تک یاد ہے: ''ظالمو! قاضی آ رہا ہے‘‘۔ قاضی صاحب ایک شفیق‘ نفیس‘ سلجھے ہوئے اور بہترین قائدین میں سے تھے۔ جس انداز میں انہوں نے جماعت کے اراکین اور عوام کو متحرک اور منظم کیا‘ شاید کوئی اور پارٹی نہ کر سکی۔ باقی سب شوباز رہے اور معمول کی کارروائی ڈال کر گھروں کو چلے گئے۔ اس مارچ میں جماعت کے بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور غالباً قاضی صاحب کو بھی چوٹیں آئیں۔ پیپلز پارٹی حکومت کو قاضی صاحب کی ایسی بددعا لگی کہ پانچ دن بعد پیپلز پارٹی کے اپنے صدر نے اپنی ہی جماعت کی حکومت کو رخصت کر دیا۔ قاضی صاحب نے تو اپنا فرض پورا کر دیا مگر کرپشن اس دور کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ گئی۔ اب ان کے جانشینوں میں سے ایک‘ حافظ نعیم الرحمن صاحب پٹرول پر حکومتی ٹیکس کے خلاف احتجاج کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ تک مختلف شہروں میں دھرنے دینے کے بعد ملکی تاریخ کے پندرہویں لانگ مارچ کا اعلان کر چکے ہیں۔ یہ تو رفتہ رفتہ معلوم ہوگا کہ کیا ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اور ان کے کارکنان رکاوٹیں عبور کرکے کنٹینروں سے جا ٹکرائیں یا پھر آنسو گیس کے دھوئیں میں واپس چلے جائیں مگر شاید وہ انقلاب نہ آ سکے جو مائوزے تنگ چین میں لائے تھے۔ جماعتِ اسلامی ملک کی منظم اور صحیح معنوں میں ایک سیاسی جماعت ہے۔ اگرچہ اس کی مقبولیت کا معاملہ بحث طلب ہے مگر جو روایتی سیاست اور موروثی خاندانوں کی پتھر کی دیواریں حائل ہیں‘ انہیں عبور کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ اس مارچ کو انہوں نے ''سپر لانگ مارچ‘‘ کا نام دیا ہے۔ یہ تو بعد میں پتا چلے گا کہ اس میں ''سپر‘‘ والی کون سی بات تھی۔ ایسی اشتہار بازی تو بسکٹوں‘ آئس کریم اور مشروبات کے ڈبوں پر دیکھنے کو ملتی ہے۔ اچھی بات ہے کہ اب لانگ مارچ بھی ''سپر‘‘ ہوا کریں گے۔
تین اور لانگ مارچ ہیں‘ جن کا تذکرہ نہ کریں تو شاید تاریخ کے اندھیروں میں ہی رہیں اور یہ اگلی نسلوں کی یادوں کے احاطے میں نہ آ سکیں۔ جب تحریک انصاف کی حکومت تھی تو مہنگائی کے خلاف ایک یادگار لانگ مارچ مریم نواز اورحمزہ شہباز شریف‘ جنہیں لوگ سیاست کی دوسری نسل کہتے ہیں‘ نے اسلام آباد کی طرف 2022ء میں کیا تھا۔ اگر اُس وقت کی مہنگائی کا آج کے دور سے موازنہ کریں تو اس جواز کے مطابق کراچی سے لے کر ملک کی آخری شمالی سرحد تک پاکستان کے عوام کو دن رات‘ ہر ہفتے اور ہر مہینے سڑکوں پر لیفٹ رائٹ کرتے رہنا چاہیے۔ اس مہنگائی کے زمانے میں 11 ارب کا سرکاری جہاز اور اس سرکاری جہاز پر سیر وتفریح‘ ٹھنڈے ملکوں کی طرف اڑانیں دیکھ کر قلم کی نوک سے بھی ''لانگ مارچ لانگ مارچ‘‘ کی آوازیں نکلتی ہیں۔ اسی طرح ہمارے محترم مولانا فضل الرحمن نے بھی تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ''آزادی مارچ‘‘ نکالاتھا۔ سنا ہے کہ وہ اب تحریک انصاف کو آزادی دلانے کے لیے حزبِ اختلاف کے اتحاد کا حصہ بن چکے ہیں‘ یا بننے کے متمنی ہیں۔ خواہش کی بات نہیں کرتے‘ وہ کیا کسی نے کہا تھا: بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے! آسمان رنگ بدلے نہ بدلے‘ مولانا صاحب اپنی ذہانت‘ کمال درجے کی سیاست گری‘ گہری بصیرت اور تدبیر سے بدلنے میں کوئی دیر نہیں لگاتے۔ شرط یہ ہے کہ سب کچھ قوم و ملت کے مفاد میں ہو۔ آزادی مارچ کے مقابلے میں تحریک انصاف جب اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھی تو اس نے ''حقیقی آزادی مارچ‘‘ کی کوشش کی۔ جو کچھ ہوا‘ اس کے بارے میں موجودہ حالات و واقعات کے تناظر میں خاموشی اختیار کرنا ہی اپنی پگڑی بچانے کے لیے بہتر ہے۔ علامہ طاہر القادری صاحب نے بھی دو لانگ مارچ انقلاب لانے کی غرض سے کیے۔ ہزاروں خواتین و حضرات‘ جو اُن کے مرید‘ پیروکار اور کارکنان میں سے تھے‘ سردی میں ٹھٹھرتے رہے اور ''انقلاب انقلاب‘‘ کے نعرے لگانے کے بعد‘ پہلے سے تیار بسوں میں بیٹھ کر گھروں کو واپس چلے گئے۔ ہمارے کلاس فیلو‘ قبلہ ڈاکٹر صاحب کا اب بھی شدت سے انتظار ہے کہ کب دیارِ غیر سے واپس آ کر انقلاب لائیں گے اور ''سیاست نہیں، ریاست کو بچائیں‘‘ گے۔
پیپلز پارٹی بلکہ محترم بلاول بھٹو کے 27 فروری 2022ء کے عوامی لانگ مارچ کی بات نہ کریں تو یہ صوبہ سندھ اور ہمارے زمانے کی سب سے بڑی پارٹی کے ساتھ ناانصافی ہو گی۔ اس عوامی لانگ مارچ کو مجھے موٹروے پر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ گاڑی چلاتے ہوئے چند کالے رنگ کی گاڑیوں کو فراٹے بھرتے‘ جنوب سے شمال کی طرف آتے دیکھا تھا۔ یہ بھی کسی سے معلوم کرنے سے پتا چلا کہ لوگ عمران خان کی حکومت کے خلاف یہاں مارچ کر رہے ہیں۔ عوامی مارچ کا جلسہ اسلام آباد میں کہیں ہوا۔ یہ سب معمول کی کارروائی معلوم ہوتی تھی مگر اس کے 30 دن بعد تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گئی اور پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ اب دیکھیں کہ حافظ نعیم صاحب کے ''سپر مارچ‘‘ کے بعد زمانہ کیا رنگ بدلتا ہے۔ ستمبر کا مہینہ ہے‘ اس کا موسم انتہائی خوشگوار ہے۔ ماضی میں حکمرانوں پر بھاری پڑتا رہا ہے۔ کیا پتا ایسا ہو‘ یا نہ ہو! آپ موسم سے لطف اندوز ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...