گھبرانے کی بات نہیں! میں کسی ایسے انقلاب کی پیش بینی نہیں کر رہا جس کے نتیجے میں کسی ملک کے حکمرانوں کے تاج اچھالے جائیں‘ ان کے بارے میں فیصلہ ہم تاریخ پر چھوڑتے ہیں۔ جس انقلاب کی بات میں کر رہا ہوں‘ وہ ابھی آنا نہیں بلکہ آ چکا ہے۔ اس کے اثرات مزید گہرے اور وسیع ہوں گے۔ یہ خالصتاً کاشتکاروں کی فکر انگیزی اور چینیوں کی اختراع کاری اور ان کی صنعتی ترقی کا نتیجہ ہے۔ ہماری حکومتیں بھی اس میں اگر بہت زیادہ حصہ نہیں ڈال سکیں تو کم از کم سہولت کاری کی ہے اور راستے ابھی تک انہوں نے بند نہیں کیے۔ ایسے انقلابوں میں کوئی ترکیب اور منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔ نہ اس کی کوئی مرکزی طاقت ہوتی ہے جو اسے اپنے ہاتھ میں رکھ کر اُسے کوئی سمت دے یا اس کی رفتار کے پیڈل پر پائوں رکھے۔ چونکہ خود بھی کاشتکار ہوں‘ اور ملک کے ہر حصے میں جہاں بھی جانا ہو‘ کاشتکاروں سے ملاقاتیں رہتی ہیں‘ لہٰذا کوئی اور موضوع ہمارے لیے اتنا دلچسپ کبھی نہیں ہوتا جتنا درختوں‘ پھلوں‘ سبزیوں اور مختلف فصلوں کی کاشت سے متعلق بات کرنا ہوتا ہے۔ کہیں کوئی کاشت کار ملے تو پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا بوتے ہیں‘ کتنے پھلدار درخت لگائے ہیں‘ باغ ہے یا فصلوں پر گزارہ ہے۔ بڑے زمینداروں اور درمیانے درجے کے کاشت کاروں میں ویسے تو سماجی لحاظ سے زمین آسمان کا فرق ہے‘ مگر سب ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں‘ دوسرو ں کے تجربے‘ غلطیوں اور کامیابیوں سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ کاشت کاری ہمیشہ سے ایک کھلی درسگاہ کی طرح رہی ہے‘ جہاں کچھ پڑھانے اور سمجھنے کیلئے کسی سند کی ضرورت نہیں۔ صرف تجربہ‘ مہارت‘ لگن‘ زمین سے محبت اور زمین کا رشتہ بڑا استاد بنا دیتے ہیں۔ کتابوں کی زراعت اور باغبانی کے بارے میں اپنی اہمیت‘ اور محدود ذخیرے میں ان کی کمی نہیں‘ مگر عام کاشتکاروں کو دیکھ کر‘ اُن کی باتیں سن کر کہیں زیادہ سیکھا ہے۔
صنعتی دور کے مفکرین اور جدید شہروں کی مشینی زندگی کے سحر میں گرفتار دانشوروں نے کسان اور کاشت کار کو دہقان کے ہی معنی دیے۔ اس سے تاثر ملتا ہے کہ وہ زمانہ قدیم کے اندھیروں میں رہ رہا ہے۔ دیہاتی زندگی دنیا کے کسی بھی کونے میں کیوں نہ ہو‘ شہروں کی رونق‘ چکاچوند اور گہما گہمی سے مختلف ہوتی ہے۔ اُس کی رفتار دھیمی معلوم ہوتی ہے مگر سوچ‘ فکر اور زاویۂ نگاہ میں سمندروں کی سی گہرائی ہے۔ اس کا اظہار اس طرح نہیں ہوا‘ یا شاید ہماری زبان اور ابلاغ کی کمزوری ہے کہ سحر کے وقت مشرق سے نور کے چشمے سرسوں کے کھیت پر برسنے اور اس کے اند رکی دنیا کا ایسا بیان نہیں ملتا‘ جیسا شاعر اپنے محبوب کی تعریف میں کرتے آئے ہیں۔ فطرت کے نظاروں کو جس طرح کوئی محسوس کرتا ہے اور اپنی روح کی دنیا میں بسا لیتا ہے‘ وہ کھیتوں کی پگڈنڈیوں پر چلتے مسافروں کو کسی اظہار کی قید سے بھی آزاد کر دیتا ہے۔ کھیت‘ باغ اور زمین کے سینے کو پھاڑ کر اُسے سرسبز کرنے کا کھیل مضبوط ہاتھ‘ بڑے دماغ اور کھلے دل کا متقاضی رہا ہے۔ اکثر آپ کو یاد دلانے کی کوشش کرتا ہوں کہ جب رزق آپ کی میز پر ہو‘ کبھی اُن کے بارے میں بھی سوچ لیا کریں جو جاڑے کی سردیوں اور گرمیوں کی دھوپ میں محنت کر کے پچیس کروڑ آبادی کیلئے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ کاشت کاروں کی آپ مجبوری سمجھیں گے کہ کئی بار حکومت کی اچانک بدلتی پالیسیوں اور آڑھتیوں کی لوٹ مار کے باوجود گندم‘ دھان اورکپاس کاشت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ان کا پیشہ ہے‘ اور جو بھی حالات ہیں‘ وہ اپنے نفع نقصان کا خیال کرتے ہوئے کچھ نہ کچھ بوتے ہی رہیں گے۔ فکر نہ کریں‘ خسارے میں رہ کر بھی قوم کو پالتے رہیں گے کہ نسل در نسل ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔
ملک میں سبز انقلاب آیا ہے‘ اور اس کے اندر کئی انقلاب در انقلاب آ رہے ہیں۔ جی تو چاہتا ہے کہ ایک ایک کرکے سب کے بارے میں لکھوں‘ مگر ہمارے ہاں تو بیانیے بہت مایوس کن ہیں‘ اور عام لوگ اب امید افزا خبروں پر یقین کرنا بھی چھوڑ چکے ہیں۔ اگر ایسے انقلاب کسی اور ملک میں ہوتے تو بڑے بڑے اخباروں کی شہ سرخیوں اور کتابوں کے عنوان ہوتے۔ زیتون‘ کھجور‘ آموں اور (شاید کم کم لوگوں نے نام سنا ہو) آواکاڈو کی کاشت میں بڑی کامیابیوں کی بات پھر کسی وقت پر چھوڑتا ہوں‘ ابھی زراعت میں شمسی توانائی کے انقلاب کے بارے میں کچھ عرض کرنا مقصود ہے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ یہ خبر اب پرانی ہو چکی ہے تو بھی غلط نہ ہوگا۔ جس تیزی اور کسی شور وغل کے بغیر یہ تبدیلی آئی ہے‘ اس نے دیہات کی طرف سفر کرنے والوں کو حیران کر دیا ہے۔ اب ڈیزل انجن‘ جسے عام طور پر پیٹر انجن کہا جاتا ہے‘ گزرے وقتوں کی بات بن چکا ہے۔ اس کا استعمال اب بہ امرمجبوری ہی سمجھیں‘ جب اشد ضرورت ہو یا سورج بادلوں کی اوٹ میں چھپ جائے۔ اعداد وشمار کے چکر میں پڑیں تو کوئی بھی تازہ نہیں‘ اور نہ ہی قابلِ اعتبار۔ مگر حقیقت زمین پر آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ لاکھوں ٹیوب ویل شمسی توانائی سے چل رہے ہیں‘ اور اس تعداد میں لاکھوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی حکومتوں نے بھی اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے‘ مگر یہ پیش کاری اور سرمایہ کاری کاشت کاروں نے خود کی ہے۔ کسان بھی اسی طرح ذہین اور عقل مند ہے جس طرح کسی اور شعبے کا انسان ہو سکتا ہے۔ ریشنل کا انگریزی لفظ کسی خاص نسل‘ جنس یا پیشے کیلئے مختص نہیں۔ میں نے خود زیادہ تر دوسرے کاشتکاروں سے سیکھا ہے۔ اپنے دیہاتی سفروں کے دوران کئی سال پہلے‘ کسی کھیت کے درمیان لگے شمسی پینلوں کو دیکھا تو وہ ایک ایسے شخص کے تھے جس نے کبھی کسی سکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا تھا۔ اس کا سکول وہ کھیت ہی تھا۔ پہل کاری اس نے کی‘ یا شاید وہ اکیلا نہیں تھا۔ چھوٹے قصبوں تک اب شمسی توانائی کا کاروبار ایسا پھیلا ہے‘ اور پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب لوگ بجلی کے میٹر اکھاڑ کر واپس محکموں کی گود میں ڈال دیں گے۔
شمسی توانائی زراعت میں زمین سے پانی نکالنے تک محدود نہیں۔ دنیا میں تو اب بڑے بڑے ٹرک اور ٹریکٹر بھی الیکٹرک ہو چکے ہیں‘ تو ہمیں کس بات کا انتظار ہے؟ ہماری حکومتیں ابھی تک متوسط اور اعلیٰ طبقات کی سہولتوں میں اضافے کیلئے برقی گاڑیوں کی پالیسیاں بنائے جا رہی ہیں۔ حضور! توجہ کو موجودہ موٹر سائیکلوں کے کارخانوں کو شمسی توانائی سے چلنے والی سکوٹیوں کی طرف جانے پر مائل کرنا ہے۔ زرعی مشینوں کو بھی شمسی توانائی سے چلایا جا سکتا ہے۔ کاشت کار ہمیشہ دیکھا دیکھی‘ یعنی کسی کے تجربے کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے۔ اگر الیکٹرک ٹریکٹر بازار میں مہیا ہوں‘ دوسرے انہیں استعمال کر رہے ہوں تو کاشتکار اپنی جمع پونجی اس پر لگا دے گا۔ بات تو ترجیحات کی ہے۔ جدید صنعتوں کی اہمیت اپنی جگہ‘ جو وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہیں گی‘ مگر زراعت تو ہر دور میں زندگی کا سلسلہ برقرار رکھنے کیلئے مرکزی کردار ادا کرتی آئی ہے‘ اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ حکومتوں کا کام راستہ دکھانا‘ سہولت کاری کرنا اور نئی ٹیکنالوجی کی فراہمی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ عام کاشت کار نے پہلے شمسی توانائی میں سرمایہ کاری زراعت میں کی ہے‘ پھر بچت کرکے اپنے گھر میں بھی یہ سہولت حاصل کر رہا ہے۔ اب خدشہ یہ ہے کہ کہیں حکومت سورج کی روشنی پر بھی ٹیکس نہ لاگو کر دے‘ کہ جو معاہدے نجی بجلی گھروں کے ساتھ حکمرانوں نے کیے ہیں‘ انہیں بجلی نہ پیدا کرنے کے عوض بھی ہر سال تقریباً پندرہ سے بیس کھرب روپے دینا پڑتے ہیں۔ یہ انقلاب اسی کے ردِعمل میں ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments