برسوں سے دل کی گہرائیوں میں پالے افسانوی خیالوں اور زمینی حقیقتوں میں مطابقت تو دور کی بات‘ کوئی توازن بھی نہ رہے تو میرے جیسا بندہ اپنے آبائی علاقے میں بھی اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرتا ہے۔ جہاں پیدا ہوئے‘ بچپن گزارا اور پھر وہاں سے اُڑ کر تعلیم‘ روزگار اور نئی دنیاؤں کی تلاش میں دور نکل گئے تو گاؤں اور دیہات کا وہی پرانا نقشہ ذہن میں بسا رہا۔ جہاں بھی گئے اسے اپنی باقی قیمتی چیزوں‘ اگر کوئی تھی تو اس کے ساتھ چمٹائے رکھا۔ ہم خود تبدیل ہوتے رہے‘ دنیا بھی گھوم پھر کر دیکھی اور بڑے شہروں میں بسیرا رہا‘ مگر جب بھی واپس آبائی علاقے کی طرف جانا ہوا‘ ایسے پرانے خیالوں کی گٹھڑی سر پر رکھ کر جاتے اور اسے اپنے سامنے کھول کر چند دن گزارنے کے بعد واپس آ جاتے۔ اب یہ فیصلہ کرنا میرے لیے مشکل ہے کہ وہاں تبدیلیاں تیزی سے آئیں یا میں وقت کے ساتھ ان کا ادراک نہ کر سکا۔ یا پھر میں ہی 70‘ 80 سال پرانی خیالی دنیا سے نہ نکل سکا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے دیہات دنیا کے دیگر دیہات کی طرح صاف ستھرے‘ ہرے بھرے اور نرم مزاج تو تھے ہی‘ قدرتی جنگلوں اور کھیتوں میں گھرے ہوئے بھی تھے۔ میری بچپن کی دنیا میں گھر اور جنگل کا قریبی رشتہ تھا۔ راستے بھی جنگلوں میں سے گزرتے تھے۔ جہاں جنگل ختم ہوتا‘ وہاں کھیت شروع ہو جاتے۔ گاؤں اور بستیاں چند گھروں سے لے کر 15‘ 20گھروں تک محدود تھیں۔ اکثر لوگ پیدل چل کر قریبی چھوٹے چھوٹے قصبہ نما گاؤں میں خرید و فروخت کیلئے جاتے۔ سائیکل بھی بہت کم تھے۔ بڑے زمیندار گھوڑوں پر سوار ہوکر شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں شرکت کے علاوہ دور دراز کا سفر بھی کرتے۔ ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں تیسری جماعت میں داخلہ اور وہاں مستقل رہائش کا بندوبست ہوا۔ کبھی گھروں کے باہر پانی نکلتے دیکھا اور نہ کاغذ کا کوئی پرزہ ہوا میں اُڑتے دیکھا۔
اب چند ماہ کے بعد جانا ہوتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اپنے اسی گھر میں بہت عرصے بعد مہمان کی صورت‘ کسی اور دنیا میں آ گیا ہوں۔ باہر نکلتے ہی ہر طرف موٹر سائیکلوں کی بے ہنگم دوڑ‘ شور‘ دھواں اور تنگ گلیوں میں غلاظت کے درمیان چھوٹے معصوم بچوں کو کھیلتے دیکھتا ہوں۔ شکر ہے‘ اب وہاں سیوریج اور صاف پانی کی سپلائی کے بعد گندے پانی کی بدبو تو بند ہوئی مگر ان تنگ گلیوں میں گھروں سے تقریباً پانچ سات بچوں کے نکل کر باہر کھیلنے کا کیا کریں‘ کہ اس تنگ گلی کے علاوہ کوئی جگہ ان کیلئے بچی ہی نہیں! پوری زندگی بار بار لکھ کر‘ اور جہاں جہاں کوئی موقع ملا‘ بات کر کے حکمرانوں اور عام آدمیوں کو یاد دلاتے رہے کہ آبادی کا پھیلاؤ سب کچھ نگل جائے گا‘ کچھ بھی نہیں بچے گا۔ انہی دیہات میں‘ جہاں جنگلوں سے گزر کر جایا کرتے تھے‘ اب کوئی درخت دکھائی نہیں دیتے۔ ہر طرف چند گھروں پر مشتمل بستیاں پھیلتی جا رہی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ چھوٹا سا گاؤں دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے قصبے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جب ہم نے گھر بنایا تھا‘ اس وقت وہاں زمین خریدنے کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ ایک تو جن لوگوں کی جو حویلیاں تھیں‘ وہ ان کیلئے کافی تھیں۔ دوسرے‘ اس زمانے میں آبادی کا پھیلاؤ اس قدر نہ تھا۔ زمین خالی پڑی تھی۔ اکثر لوگ کسی سے اجازت نہیں لیتے تھے‘ مگر ہم نے زمین کے مالکان سے اجازت لے کر ایک چھوٹا سا مکان تعمیر کیا تھا۔ انہوں نے کوئی معاوضہ نہیں لیا۔ یہ ایک نہیں‘ کم از کم پنجاب کی حد تک‘ ہزاروں دیہات کی کہانی ہے۔ بازاروں‘ دکانوں اور نت نئے کاروباروں کو دیکھ کر یہ احساس گہرا ہوتا ہے کہ یہ وہ آبائی علاقہ نہیں رہا۔ نئی نسل کے دل میں ایسا کوئی خیال آ ہی نہیں سکتا کہ یہاں پہلے کیا تھا اور کیا نہیں تھا۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ میری عمر کے بہت کم لوگ رہ گئے ہیں۔ ان زمانوں کے دوستوں اور لوگوں سے وابستہ مختلف کہانیوں کی بات کروں تو کس سے کروں؟ اکثر خاموش رہتا ہوں۔ ساتھ بیٹھے لوگوں سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ پوچھتا ہوں تو اکثر جواب ملتا ہے کہ وہ اللہ کو پیارا ہو گیا ہے۔
اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ایک ہی زندگی میں کئی زندگیاں گزارنے کا موقع نصیب ہوا ہے‘ مگر جس انداز میں ہمارے آبائی دیہات تبدیل ہوئے ہیں‘ اس پر دل رنجیدہ ہے کہ اب وہ ہمارے بچپن کی فطری حقیقت کھو چکے ہیں۔ ان کی وہ شکل‘ ماحول اور شگفتگی اب افسانوی خیال بن کر رہ گئے ہیں۔ موٹر سائیکلوں‘ پھٹا رکشوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں سے بچتے بچاتے‘ دھوئیں اور گرد و غبار کے درمیان نکلتے وقت میرے ماضی سے وابستہ افسانوی خیال آج کی حقیقت سے یوں ٹکراتے ہیں جیسے پہاڑوں میں بہت بڑا زلزلہ آ گیا ہو۔ دیہات اب غلیظ کچی بستیوں کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ بنیادی مسئلہ آبادی ہے‘ اور ابھی تک جنوبی پنجاب میں‘ یا کم از کم اُن علاقوں میں جہاں سے اب دو ہفتوں سے زیادہ عرصے کے دوران گزرا ہوں‘ یہی معلوم ہوتا ہے کہ ''دو بچے خوشحال گھرانہ‘‘ کا پیغام لوگوں نے ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کبھی سنا ہی نہ ہو۔ اب لوگوں سے پوچھنا معیوب سا محسوس ہوتا ہے کہ ماشاء اللہ‘ آپ کے کتنے بچے ہیں؟ جواب دیتے ہوئے تمام بچوں کو گنتے ہی نہیں‘ صرف لڑکوں کی تعداد ہی بچوں میں شمار کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ پڑھے لکھے لوگوں سے بھی ابھی تک چھ سے کم کا جواب موصول نہیں ہوا۔ اب فیصلہ کر لیا ہے کہ آئندہ یہ سوال نہیں پوچھوں گا۔ آبادی کا جن بوتل سے نکل کر ہر طرف پھیل چکا ہے۔
دیہات کی عام دکانوں میں صاف پانی کا بندوبست ہو یا نہ ہو‘ آپ کو پلاسٹک کی بوتلوں میں رنگ برنگے مشروبات ضرور مل جائیں گے۔ صبح سویرے ایک کلو میٹر دور نکل کر کھیتوں کے درمیان پرانی دنیا تلاش کرتے ہوئے جو چیز روزانہ میری آنکھوں کو کھٹکتی ہے وہ کولڈ ڈرنک کی بوتلیں اور خوش نما پیکٹوں میں بچوں کو فروخت کی گئی مضر صحت بیکری کی اشیا ہوتی ہیں ۔ کسی بھی گاؤں میں چلے جائیں‘ آپ کو ان کے انبار ملیں گے۔ ایک روز بازار سے گرم دودھ خرید کر لانے کی درخواست کی۔ دنیا کے چار کونوں میں گھومنے‘ کھانے پینے کا موقع ملا ہے مگر ایسے دودھ کا ذائقہ پہلی بار چکھا۔ پانی تو ملاہی ہو گا‘ اس کے ساتھ اور کیا ملاوٹ ہو سکتی ہے‘ اس کا مجھے کوئی اندازہ نہیں۔ اخلاقیات‘ ایمان داری اور حلال کمائی بھی ہمارے پرانے دیہات کے ساتھ زمین کے اندر دفن ہو چکی۔ پاکستان کے ہر گاؤں میں آپ کو اڈا بازار ضرور ملے گا۔ اگر وہ آپ کے گاؤں میں نہیں تو شاید وہاں اڈا نہیں‘ اور اڈے کا نہ ہونا اب ممکن ہی نہیں کہ وہاں سے لوگوں کا شہروں کی طرف آنا جانا ہوتا ہے۔ ہر دکان کے سامنے ریہڑھیاں‘ ان کے آگے موٹر سائیکلوں کی قطاریں اور ایک فرلانگ سے بھی کم راستے پر ہر قسم کی گاڑیوں کا ایسا رش کہ سب نے ایک دوسرے کا راستہ بند کیا ہوتا ہے۔ آپ نے یہ منظر نہیں دیکھا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کبھی دیہات میں گئے ہی نہیں۔ چلیں کوئی بات نہیں‘ ملتان‘ لاہور‘ راولپنڈی اور اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں میں چلے جائیں‘ آپ کے شہروں کے بارے میں بھی افسانوی خیالات کی حدیں ختم ہو جائیں گی۔ دنیا بھی بدلی ہے‘ مگر اس نے خود کو ہر لحاظ سے بہتر بنایا ہے۔ ہم بدلے ہیں تو ہر طرف تباہی جلوہ گر ہے۔ اصل مسئلہ تو آبادی ہے‘ ہم صرف اس کے اثرات سے نمٹنے کی کوشش میں ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments