"RBC" (space) message & send to 7575

یہاںسب چلتا ہے!

جمہوری روایات اور دنیا کا دستور کچھ بھی ہو‘ ہمارے سیاستدانوں کا طرزِ عمل اپنی نوعیت کا ہے‘ اور سب سے جدا ہے۔ اسے آپ جو بھی نام دیں‘ کچھ بھی کہہ لیں‘ جمہوری انداز سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتا۔ سرکاری خزانے اور ہمارے ٹیکسوں‘ خاص طور پر غریب طبقے کی کھال اتار کر اخراجات کیے جاتے رہے ہیں اور اب بھی کیے جا رہے ہیں۔ اس بارے میں لکھنے اور بولنے والوں کے الفاظ اور احتجاجی آوازوں کا زور بے اثر ہو چکا ہے۔ سرکاری وسائل سیاسی سرگرمیوں اور بڑے بڑے حکومتی عہدے داروں کی ذاتی تشہیر پر خرچ کیے جاتے ہیں‘ جس میں مسکراتی ہوئی تصویریں مرکزی حیثیت سے شائع ہوتی ہیں۔ اصولی طور پر ایسی کارروائیاں مفادات کے ٹکراؤ کے زمرے میں آتی ہیں۔ شاید بات اربوں تک پہنچتی ہو‘ مگر ہم کروڑوں پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ کیا آپ نے کبھی کسی جمہوری ملک کے حکومتی سربراہوں‘ شہروں کے میئروں اور ریاستوں کے گورنروں کو جو وہاں براہِ راست منتخب ہو کر آتے ہیں اور حکومت کے چیف ایگزیکٹو ہوتے ہیں‘ سرکاری فنڈز سے اپنی ذاتی تشہیر کرتے دیکھا ہے؟ اس مقصد کے لیے قومی انتخابات یا پرائمری انتخابات کے دوران ان کی جماعتیں اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ پبلک ایکشن کمیٹیاں عام لوگوں سے چندہ اکٹھا کرکے سیاسی مہم چلاتی ہیں۔ جس سرکاری عہدے کے لیے کوئی امیدوار انتخابی میدان میں اترتا ہے‘ وہ اپنے حامیوں اور عوام سے اپیل کرکے چندہ جمع کرتا ہے۔ امیر لوگوں کی کہیں بھی کمی نہیں۔ وہ اپنا سرمایہ خرچ کر تے ہیں مگر سرکاری عہدے پر فائز ہوتے ہوئے سرکاری وسائل کا استعمال کہیں بھی جائز نہیں۔ ہمارے حکمرانوں سے اس بارے میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ جب سبھی ایسا کرتے ہیں اور ان کی اگلی پچھلی نسلیں بھی ایسا ہی کرتی آئی ہیں تو عوام کی نظر میں بھی یہ تاثر جڑ پکڑ چکا ہے کہ اگر ان کے پاس حکومت ہے تو وہ جو مرضی کریں‘ اور جب ان کی جگہ دوسرے لوگ آئیں گے تو وہ بھی ایسا ہی کریں گے۔
تعلیمی اداروں میں آپ طلبہ کو کالے بیگ پیک اٹھائے دیکھ سکتے ہیں‘ جن پر پیلے رنگ میں صوبے کے اعلیٰ ترین عہدے دار کا نام نمایاں ہوتا ہے۔ یہ وہی لیپ ٹاپ ہیں جو لاکھوں کی تعداد میں بیرونِ ملک سے خرید کر تقسیم کیے گئے۔ سائنس کی ترقی کے لیے یہ طریقۂ کار کسی ملک میں استعمال نہیں ہوتا‘ لیکن ہماری بات اور ہے۔ دیہات کے سکولوں سے لے کر کالجوں اور جامعات تک سرکاری وسائل سے کمپیوٹر مفت استعمال کے لیے موجود ہیں۔ اقتدار میں آتے ہی یہ دھندہ بار بار دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ ہونہار طلبہ اور غریب بچوں کو وظائف دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اگر ان کا معیاری نجی جامعات میں داخلہ ہو جائے تو ان کی فیس اور دیگر اخراجات کا بندوبست ہونا چاہیے۔ پنجاب حکومت ماضی میں ایسا کر بھی چکی ہے۔ یہ لیپ ٹاپ اور پھر اُن کے بیگوں کے ذریعے چلتی پھرتی عوامی مشہوری! اگر مقصد کمپیوٹر کی تعلیم عام کرنا ہے تو یہ جگ ہنسائی ہے۔ اربوں روپے کے اخراجات سے نہ کوئی مفید نتیجہ حاصل ہو سکا ہے اور نہ آئندہ ہو گا۔ کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ اگر احتساب اور جواب دہی مفقود یا کمزور ہوں تو پھر جمہوریت کی بات نہ کی جائے۔ یہ محض ایک سیاسی لبادہ رہ جاتا ہے جسے حکمران مشرق سے لے کر مغرب تک کئی بار پہن چکے ہیں۔
مجھے امریکی ریاست الانائے سے ایوانِ نمائندگان کی رکنیت کے ایک امیدوار کا قصہ یاد آتا ہے۔ نام بھول چکا ہوں کہ بات پرانی ہے۔ انتخابات کے لیے عوامی ذرائع سے جو چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے‘ امیدوار اسے صرف انتخابی مہم پر خرچ کر سکتے ہیں۔ اس رقم کا کوئی دوسرا مصرف قابلِ گرفت ہو سکتا ہے۔ اس کانگریس کے رکن نے کامیابی کے بعد انتخابی چندے سے گھریلو فرنیچر خریدا اور اسے اپنے گھر کے تہہ خانے میں رکھ دیا۔ اس پر اپنے لیے مختص انتخابی فنڈز کے ناجائز استعمال کا مقدمہ چلا‘ اسے جیل جانا پڑا اور کانگریس کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ جمہوریت میرے نزدیک اعلیٰ ترین نظریہ اور طرزِ حکومت ہے جس کی بنیاد اخلاقیات پر ہے۔ اگر وہ بنیاد ہی نکل جائے تو باقی سب کچھ دھاندلی زدہ رہ جاتا ہے۔
آج کل ایک ڈرامہ خیبر پختونخوا میں چل رہا ہے۔ صوبے کے وزیراعلیٰ انتظامِ حکومت کو چھوڑ کر لانگ مارچ کے لیے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے‘ وہ اکیلے تو نہیں ہیں‘ ان کے ساتھ کچھ دیگر وزرا بھی ہیں۔ سکیورٹی کے لیے سرکاری گاڑیوں میں سوار پولیس کے دستے بھی ہیں۔ یہ سب سرکاری وسائل ہیں‘ جنہیں وہ اپنی سیاست چمکانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ عجیب تضاد ہے کہ تحریک انصاف صوبے کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت ہے مگر لانگ مارچ کے معاملے میں دوسری بار ایسا ہو رہا ہے کہ اس کی سربراہی‘ تیاری اور پہلا قدم صوبے کا وزیراعلیٰ اٹھاتا ہے۔ دوسرے رہنماؤں کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ لانگ مارچ کو منظم کیوں نہیں کرتے اور صوبے کا انتظام چلانے کے لیے وزیراعلیٰ کو اس جدوجہد سے مستثنیٰ کیوں نہیں کرتے؟ ایسی مفاد پرستی کی سیاست اور عہدے کے جمہوری تقاضوں میں بہت بڑا تضاد ہے۔ صوبے وفاقی اکائیاں ہیں۔ اگر صوبائی وزرائے اعلیٰ اسلام آباد پر چڑھائی کریں اور مقصد اپنی جماعت کی سیاست اور اس کے رہنماؤں کے قانونی طور پر جائز یا ناجائز مفادات کا تحفظ ہو تو ہمارے نزدیک یہ روش جمہوریت اور آئین کی روح کی پامالی ہے۔ دوسروں کا یا آپ کا نظریہ جو بھی ہو‘ اصول تو یہ ہے کہ تمام اداروں کو اپنے اپنے آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ مگر کسی بھی وزیراعلیٰ کا ایسا رویہ کیا اپنے ہی قانونی دائرے میں رہنے کے تقاضوں کے مطابق ہے؟ صوبے کی انتظامی مشینری کو کسی نہ کسی صورت اپنی جماعت کے سیاسی مقاصد کے تحفظ اور حصول کے لیے استعمال کرنا صرف ہمارے ملک ہی میں ممکن ہے۔ باہر کے لوگ جب ایسے تماشے دیکھتے ہیں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کی نظر میں ہمارے جمہوری نظام‘ طرزِ حکومت اور اسے چلانے والوں کا کتنا احترام باقی رہ جاتا ہو گا۔ سرکاری وسائل اور خزانے کے بے دریغ استعمال اور ضیاع کے ساتھ ساتھ اپنے عہدوں کو‘ جو عوامی اعتماد کا مظہر اور آئین کی طرف سے تفویض کردہ اختیارات کے لحاظ سے ایک امانت ہیں‘ ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا اب اس قدر عام ہو چکا ہے کہ کسی کو کوئی پروا ہی نہیں۔ لگتا ہے کہ ہر سطح پر اخلاقیات‘ قانون اور جمہوریت کی روح اس ملک سے سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی کمپنیوں کی طرح‘ کوچ کر چکی ہے۔ جہاں ڈرامے بازیاں ہوں‘ سستی شہرت اور ذاتی سہولت کے لیے اربوں روپے ہوا میں اڑا دیے جائیں اور ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہوں‘ وہاں کون سرمایہ کاری کرے گا؟ چلو کوئی بھٹکے سے‘ بھولے سے یہاں آ بھی جائے یا پھر خفیہ ترغیبات اور سودے بازی کے نتیجے میں کارخانے لگ بھی جائیں تو ہماری اَن پڑھ آبادی کون سا کام کر لے گی؟ سنا ہے کہ اب نظام ری سیٹ ہو گا۔ سیٹ تو عوام کو انہیں کرنا چاہیے جو نسل در نسل ہمارے حکمران بنے بیٹھے ہیں‘ مگر جمہوری انداز میں اور قانون اور آئین کے دائرے میں۔ لانگ مارچوں اور تشدد سے گریز کرنا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...