ہمارے ہاں تو گدھے کو آپ گاڑی کھینچتے اور بار برداری کی مشقت کرتے اور ڈنڈے کھاتے دیکھتے ہیں‘ اور اسے جفا کش لیکن کم عقل خیال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف ہاتھی کو صرف کسی بچے کھچے سرکس یا چڑیا گھروں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جو گھر چڑیوں کے لیے بنائے گئے تھے‘ وہاں دنیا کے دیگر ملکوں سے خرید کر لائے گئے ہاتھیوں کے لیے بھی گنجائش نکل آتی ہے۔ مگر امریکہ میں یہ دونوں جانور دو بڑی سیاسی جماعتوں کے شناختی نشان سمجھے جاتے ہیں۔ انہی جانوروں کو سامنے رکھ کر امریکی رائے دہندگان اگلی سیاسی مدت کے لیے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو سیاسی جماعتیں انتخابات کے دوران اپنے لیے کچھ مخصوص نشانات الاٹ کراتی ہیں‘ جو اکثر کے من پسند ہوتے ہیں۔ لیکن وہ جماعتیں جو راندۂ درگاہ ہوتی ہیں‘ انہیں صاحبانِ اقتدار اپنی مرضی سے نشانات تجویز کرتے ہیں۔ اگر ناراضی خطرے کے نشانات سے بھی آگے بڑھ جائے تو پھر بے نشان ہی انتخابی اکھاڑے میں اترنا پڑتا ہے۔ امریکی سیاسی جماعتیں تاریخ میں دو ہی غالب رہی ہیں اور اب بھی ایسا ہی ہے۔ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن پارٹی۔ کئی نئی سیاسی جماعتیں بنیں‘ میدان میں اتریں‘ کئی بار کوشش کی گئی کہ تیسری کی گنجائش بھی نکلے مگر کچھ وہاں کا نظام اور ضوابط ہی ایسے ہیں کہ سب زور آزمائی کرنے کے بعد باقی جماعتیں وقت کے بہتے سمندر میں کھو گئیں۔ انتخابی نظام کے ساتھ بر وقت‘ شفاف اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد جہاں کہیں بھی ہم نے تواتر سے دیکھا‘ وہاں آہستہ آہستہ دو انتخابی اتحاد یا پھر دو سیاسی جماعتیں عوام کی نظروں میں ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر ابھرتی رہیں۔ جمہوریت ہو یا سیاست یا اجتماعی زندگی کا کوئی اور شعبہ‘ تاریخ کی اہمیت زندہ قوموں اور معاشروں کی پہچان رہی ہے۔ اور اسی طرح کسی فرد یا گروہ کی سیاسی شناخت جو فطری طور پر بنے‘ اس کی بھی جاذبیت‘ کشش‘ اعتبار اور اہمیت اپنی جگہ ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال بھارت میں ابھرتی کاکروچ جنتا پارٹی کی ہے۔ کاکروچ کا نام تو مخالفین نے دیا مگر نوجوانوں نے اسے اپنے سینے پر لیبل کی طرح سجا کر باقاعدہ اسے اپنی شناختی علامت بنا لیا۔ سنا ہے کہ کاکروچوں کو آپ بھلے مہلک سے مہلک سپرے کرکے تلف کرتے رہیں‘ وہ موسم بدلتے ہی پھر کہیں نہ کہیں سے نکل آتے ہیں۔ اب ہمارے خطے میں یہ سیاسی تحریک کی طاقت کا استعارہ بن چکا ہے۔
گدھے کا لیبل بھی مخالفین نے 1828ء کے انتخابات میں عوامی جمہوریت کے علمبردار صدارتی امیدوار اینڈریو جیکسن کو دیا تھا۔ جیکسن نہ صرف عوام کی طاقت کی بات کرتا تھا بلکہ انہیں اس وقت کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کی کرپشن اور بے قاعدگیوں کے خلاف متحرک بھی کرتا تھا۔ ایک دفعہ بدعنوانی کا شکار ہونے کے اور الیکشن‘ جس کا فیصلہ آخر میں کانگریس نے کیا تھا‘ ہارنے کے بعد دو مرتبہ وہ صدر بنے اور تاریخ میں سیاست کو حقیقی جمہوری رخ دینے والوں میں اپنا نام ہمیشہ کے لیے لکھوا گئے۔ جیکسن کے مخالف نے تو انہیں گدھے کی گالی دی تھی مگر انہوں نے جواب میں گالی دینے کے بجائے اپنے انتخابی پوسٹروں پر گدھے کی تصویریں چھپوائیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ان کا انتخابی نشان بن گیا اور پھر گدھے نے ایسی دولتیاں ماریں کہ مخالفین کو خاک چاٹنا پڑی۔ کوئی بھی صدارتی امیدوار بذاتِ خود تو پارٹی نہیں ہوتا‘ جس طرح ہمارے ہاں مورثی سیاست کے کرشمے آپ دیکھتے رہتے ہیں۔ ڈیموکریٹ پارٹی نے بھی اپنے طور پر ایسی کوئی کاوش نہ کی کہ وہ گدھے کو اپنا نشان بناتے۔ یہ کارنامہ ایک کارٹونسٹ اور صحافی تھامس ناسٹ کا ہے۔ آپ اسے انیسویں صدی کے عظیم خاکہ نگاروں میں شمار کر سکتے ہیں۔ اس کی زندگی اور کام پر درجنوں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اس نے ڈیموکریٹک پارٹی کو اس کی سیاسی حماقتوں کی وجہ سے گدھے کی صورت اپنے کارٹونوں میں پیش کرنا شروع کیا تو صدر اینڈریو جیکسن کی تقلید کرتے ہوئے پارٹی نے اسے اپنی سیاسی شناخت بنا لیا۔ آج کے سیاسی دور میں یہ گدھے والی پارٹی ترقی پسند‘ آزاد خیال اور کسی حد تک سماجی انصاف کی سیاست اور فلسفوں کی علمبردار ہے۔ اگر منگل کے دن مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت حاصل کرتی ہے تو اخباروں اور رسائل میں آپ گدھے کو ہوا میں دولتیاں مارتے دیکھیں گے‘ بصورت دیگر آنسو بہاتے اور خستہ حالت میں دیکھیں گے۔ سیاسی شناخت انفرادی ہو یا اجتماعی‘ معروضی حالات اور اپنی ترجیحات کی روشنی میں بنتی ہے‘ پسند اپنی اپنی مگر کوئی عصری یا تاریخی حوالے کا ہونا ضروری ہے۔ کاکروچوں کی طرف سے ذرا توجہ ہٹا کر اقتدار میں آنے والی ریپبلکن پارٹی کے ہاتھی کی بات بھی کر لیتے ہیں۔ یہ کارنامہ بھی تھامس ناسٹ کا ہے۔ امریکی خانہ جنگی کے شروع میں 1864ء میں مرکزی سرکار کی فوجوں کی جنوبی ریاستوں کی علیحدگی کے خلاف کامیابیوں کی تشہیر کے لیے اس نے چنگھاڑتے روندتے ہاتھی کی شکل میں دکھایا تھا۔ اس کا ایک سیاق و سباق بھی تھا کہ اس زمانے میں جنگ اور لڑائیوں کے بارے میں عام لوگوں کی گفتگو میں کہا جاتا تھا کہ میں ہاتھیوں کو میدان میں آتے دیکھ رہا ہوں۔ جب ریپبلکن پارٹی کو علیحدگی پسندوں کے خلاف اس خوفناک خانہ جنگی میں فتح ہوئی تو اس نے ہاتھی کو اپنی سیاسی شناخت بنا لیا۔ منگل کے روز ہونے والے انتخابات کا ہمیں بدھ کی شام تک پتا چل سکے گا کہ اہلِ فیل میدان مارتے ہیں یا اہلِ حمار۔
اپنے قومی تناظر کی بات تو نہیں کرتا مگر علاقائی اور زیادہ تر یورپی ممالک میں نوجوانوں کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ سیاسی نظاموں‘ اہلِ اقتدار اور روایتی سیاسی جماعتوں پر ان کا اعتبار اور اعتماد ختم ہو چکا ہے۔ میرے نزدیک سب کاکروچوں کی مانند ہیں‘ ادھر مار پڑتی ہے‘ ادھر سر پر پٹیاں باندھ کر کہیں اور کونے کھدرے سے نکل آتے ہیں۔ بنگلہ دیش‘ نیپال اور حال ہی میں سربیا میں وہ انتخابات کروا کر حکمرانوں کا تختہ الٹنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ فرانس کی سیاسی آگ کے شعلے اب اٹلی‘ پرتگال‘ پولینڈ اور جرمنی میں بھی بڑھتی ہوئی سردی میں سیاسی درجہ حرارت بڑھا رہے ہیں۔ سیاست اور اہلِ سیاست پر جب اعتبار ان کی غلط سلط پالیسیوں‘ لوٹ مار اور ہر نوع کی مبینہ بدعنوانیوں کی وجہ سے اٹھ جائے تو بیشک وہ کچھ آوازیں دبا کر اور کچھ کے منہ میں کچھ ڈال کر اپنے فرشتے ہونے کے ثبوت بنواتے اور حمایتی بیانیے ارزاں کرواتے رہیں‘ لیکن عوامی مقبولیت اور عمومی جائزیت کے پرندے کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتے۔ پھر ایک ہی ہتھیار رہ جاتا ہے کہ وہ کس طرح ریاستی اقتدار کے چھاتے کے اندر پناہ لے کر اپنی جگہ پر قائم رہیں۔ جہاں یہ پناہ نہیں مل سکتی‘ وہاں پھر انتخابات کرانا پڑتے ہیں‘ اور ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ اہلِ اقتدار کی سیاست ایسی غائب ہوتی ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ بھارت کے نوجوانوں نے جس طرح کاکروچ کو اپنی تحریک کی علامت بنایا ہے‘ اس کے اثرات مختلف صورتوں میں‘ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی آپ دیکھیں گے۔ دو جنگوں کی اثرات کے علاوہ انرجی کے بحران اور مہنگائی نے ایسا سیاسی ماحول پیدا کر دیا ہے جو ایسے نم دار بارشی موسم کی طرح ہے جب کاکروچ اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیر کر اپنی آمد اور طاقت کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments