"RS" (space) message & send to 7575

اسلام آباد سے نئے صوبوں کا آغاز؟

معاشی و انتظامی طور پر مفلوج ہونے کے باعث پاکستان کا 79 سالہ گورننس ماڈل اپنی افادیت کھو چکا ہے اور نئے صوبوں کا قیام سیاسی نعرے بازی کے بجائے ریاست کی ترجیح بن چکا ہے۔ ماضی میں یہ معاملہ عموماً الیکشن کے قریب وقتی بیانیے تک محدود رہتا تھا اور بعد میں غیر فعال ہو جاتا تھا لیکن موجودہ حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس بار اقتدار کے شراکت دار اور ریاست کے فیصلہ ساز ادارے اس آئینی و انتظامی بحالی کے لیے غیر معمولی طور پر سنجیدہ ہیں۔ ماضی میں نئے صوبوں کی حمایت کرنے والی آوازیں اقلیت میں تھیں اور مرکزی اقتدار کے حامل حلقوں کی شدید مخالفت کا شکار ہو جاتی تھیں تاہم آج صورتحال بالکل مختلف ہے‘ اب نہ صرف عوامی و سیاسی سطح پر اکثریت انتظامی تقسیم کے حق میں کھڑی ہے بلکہ کھلے عام ہونے والے مکالموں نے اس تاثر کو مضبوط قومی بیانیے کی شکل دے دی ہے۔
اس قومی تبدیلی کی ایک بڑی وجہ پاکستان کا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن جانا اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کا ڈیلیور نہ کرنا ہے۔ موجودہ صورتحال میں مرکزیت پسند گورننس کا ماڈل عوام کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی میں مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ مؤقف نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ موجودہ نظام کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے مکمل طور پر ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس تلخ حقیقت کا اعتراف کیا کہ تعلیم‘ صحت اور انصاف جیسے بنیادی حقوق ہر شہری کو ملنے چاہئیں‘ مگر ہمارے زوال پذیر نظامِ تعلیم کا عالم یہ ہے کہ پانچویں جماعت کا بچہ عام جملہ پڑھنے سے قاصر ہے۔ جب کروڑوں کی آبادی والے اضلاع اور ڈویژنز صوبائی دارالحکومت سے سینکڑوں کلو میٹر دور ہوں تو عوام کو انصاف اور سہولتوں کی فراہمی ایک خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ اسی پس منظر میں انتظامی بہتری کے لیے صرف اضلاع اور تحصیلیں بنانا ہی کافی نہیں بلکہ بڑے صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنا اور دارالحکومتوں کو بااختیار بنانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی اور اہم کڑی کے طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو نئے انتظامی ماڈل میں ڈھالنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں اعلیٰ سطح خصوصی کمیٹی نے جامع اور مفصل ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کر دیا ہے‘ جو وفاقی دارالحکومت کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری دینے کی واضح سفارش کرتا ہے۔ اس مجوزہ فریم ورک کے تحت 27رکنی کیپٹل ٹیریٹری اسمبلی تشکیل دی جائے گی جس میں 21ارکان براہِ راست عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے جبکہ خواتین کے لیے پانچ اور اقلیتوں کے لیے ایک مخصوص نشست رکھی جائے گی۔ اس اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن کے تحت ہوں گے۔ اس منصوبے میں سب سے نمایاں پہلو منتخب چیف ایگزیکٹو کا عہدہ ہے جو میئر یا وزیراعلیٰ کہلائے گا اور براہِ راست منتخب اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہو گا۔ چیف سیکرٹری‘ چار سیکرٹریز اور 27انتظامی محکموں پر مشتمل یہ ڈھانچہ نہ صرف اسلام آباد کو بجٹ اور انتظامی امور میں خودمختاری دے گا بلکہ ملک بھر میں نئے صوبوں اور بااختیار انتظامی اکائیوں کے قیام کے لیے مثالی نمونہ بھی ثابت ہو گا۔ ممکنہ طور پر نئے صوبوں کا آغاز اسلام آباد میں نئے نظام سے ہو گا۔
نیشنل پالیسی ڈائیلاگ اور مکالموں کے ذریعے اس مسئلے کو عوامی سطح پر لانے کی حکمت عملی دراصل ایک گہرے سیاسی شعور کی عکاس ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر میں جماعتیں عمومی طور پر عوامی نبض کو دیکھ کر اپنے بیانیے ترتیب دیتی ہیں۔ جب تک عوامی سطح پر اتفاقِ رائے یا سازگار ماحول نہ بنے سیاسی جماعتیں آئینی ترمیمی بل پاس کرانے کا رسک نہیں لیتیں۔ اس وقت سیاسی منظرنامے پر نظر دوڑائی جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ تقریباً تمام اہم سیاسی جماعتیں اور مقتدر حلقے نئے صوبوں کی تشکیل کی ضرورت کو تسلیم کر چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف جو بظاہر موجودہ سیٹ اَپ پر سخت تحفظات رکھتی ہے‘ وہ بھی نئے صوبوں کی حمایت پر آمادہ دکھائی دیتی ہے۔اس تمام تر مثبت پیش رفت کے سامنے سب سے بڑی آئینی اور سیاسی رکاوٹ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے متوقع ہے۔ پیپلز پارٹی روایتی طور پر 1973ء کے آئین کی جغرافیائی ساخت اور بالخصوص سندھ کی تقسیم کے خوف کے تحت صوبوں کی جغرافیائی تبدیلی کی مخالف رہی ہے۔ سندھ میں قوم پرست سیاست کا دباؤ اور اندرون سندھ میں اپنے ووٹ بینک کی حفاظت پیپلز پارٹی کو کسی بھی نئے صوبے کی حمایت سے روکتی ہے ۔ اسے خدشہ ہے کہ اگر پنجاب یا خیبر پختونخوا میں نئے صوبے بنے تو کراچی یا دیگر خطوں میں بھی تقسیم کے مطالبات زور پکڑیں گے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کب تک اس مزاحمت کا اشارہ دیتی رہے گی؟ اور کیا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان آئندہ کی گورننس‘ اتحاد اور آئینی ترمیم سے متعلق لندن میں ہونے والی ملاقاتوں میں اس گرہ کو کھولا جا سکے گا یا نہیں؟
پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام محض سیاسی یا لسانی تقسیم کا معاملہ نہیں بلکہ یہ معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔ جنوبی پنجاب‘ ہزارہ‘ سندھ اور بلوچستان کی وسیع جغرافیائی حدود کو مدنظر رکھا جائے تو موجودہ صوبائی ڈھانچہ انتظامی اور معاشی طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ تمام تر وسائل کا صرف ایک ہی صوبائی دارالحکومت میں مرکوز ہو جانا دور دراز کے اضلاع میں شدید احساسِ محرومی پیدا کرتا ہے۔ اگر ملک کو محض انتظامی بنیادوں پر تقسیم کر کے آٹھ یا 10 نئے صوبے تشکیل دیے جائیں تو نہ صرف گورننس کا معیار بہتر ہو گا بلکہ ہر خطہ اپنے مقامی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کر کے ترقی کر سکے گا۔ بھارت‘ امریکہ اور نائیجیریا جیسے کثیر آبادی والے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں‘ جنہوں نے وقت کے ساتھ نئی انتظامی اکائیاں بنا کر اپنے وفاق کو مضبوط کیا اور جمہوریت کے ثمرات کو براہِ راست عوام کی دہلیز تک پہنچایا۔
انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کا قیام جہاں طرزِ حکمرانی کی بہتری کے لیے ناگزیر ہے وہیں اس ضمن میں چیلنجز بھی حائل ہیں۔ سب سے پہلا امتحان نئے سیکرٹریٹ‘ اسمبلیاں اور بیوروکریسی کے ڈھانچے کی تشکیل کے لیے درکار مالی اخراجات اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی نئے سرے سے منصفانہ تقسیم ہے۔ دوسرا بڑا چیلنج لسانی تعصبات کا ابھرنا ہے جس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ نئے یونٹس کی بنیاد قومیت کے بجائے صرف انتظامی سہولت‘ جغرافیائی اور آبادی کے تناسب پر رکھی جائے۔ اسلام آباد کا مجوزہ نیا ماڈل‘ نیشنل پالیسی ڈائیلاگ کا ارتقا اور سیاسی جماعتوں میں بنتا ہوا اتفاقِ رائے اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب معاشی و انتظامی حقیقتیں روایتی سیاسی حکمت عملیوں پر غالب آ چکی ہیں۔ اگر مسلم لیگ (ن)‘ پی ٹی آئی اور مقتدر حلقے مل کر پیپلز پارٹی کو ایک جامع قومی میثاقِ گورننس پر راضی کر لیتے ہیں تو لندن اور اسلام آباد میں ہونے والی یہ سیاسی مشاورتیں ملک کے مستقبل کا نقشہ بدل سکتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...