واہ! تارکینِ وطن! واہ!

اُن دنوں میں وفاقی وزارتِ ثقافت میں تعینات تھا۔ ثقافتی طائفہ لے کر ہم لوگ امریکہ گئے۔ نیویارک ریاست کا دارالحکومت البنی (Albany) ہے۔ ایک خوبصورت‘ صاف ستھرا شہر! نیویارک شہر سے اڑھائی تین گھنٹے کی ڈرائیو پر! وہاں کے ایک معزز‘ صاحبِ حیثیت پاکستانی تارکِ وطن نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا۔ شہر کی سیر بھی کرائی۔ دعوت سے فارغ ہوئے تو وہ مجھے ایک طرف لے گئے اور کہنے لگے: آپ وزارتِ ثقافت میں ہیں‘ کچھ ایسا کیجیے کہ مجھے تمغۂ حسنِ کارکردگی یا کوئی اور اعزاز مل جائے۔ چند لمحے تو مجھے حیرت پر قابو پانے میں لگے۔ پھر انہیں بتایا کہ میں سرکاری مشینری کا ایک عام سا پرزہ ہوں‘ اس کیلئے آپ کوئی بڑی شخصیت پکڑیے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اعزازات مختلف فنون‘ پیشوں اور خدمات کے حوالے سے دیے جاتے ہیں‘ آپ کس حوالے سے اعزاز لینا چاہتے ہیں؟ یاد نہیں انہوں نے کیا جواب دیا۔
یہ واقعہ مجھے ایک حالیہ خبر پڑھ کر یاد آیا۔ کون سی خبر؟ یہ آگے چل کر بتاتا ہوں۔ اس سے پہلے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ سب نہیں لیکن تارکینِ وطن کی اچھی خاصی تعداد وہ ہے جو پاکستان کو کچھ دینے کے بجائے پاکستان سے کچھ لینا چاہتے ہیں۔ کوئی یہاں آکر گورنر لگنا چاہتا ہے‘ کوئی وزیر بننا چاہتا ہے‘ کوئی کسی ادارے کا سربراہ یا کارپوریشن کا ایم ڈی تعینات ہونا چاہتا ہے۔ پاکستان کا کوئی حکمران باہر جائے تو اس سے سچی بات کرنے کے بجائے ان کا زور اس کی خدمت اور خوشامد پر ہوتا ہے۔ عمران خان اقتدار میں آئے تو بیرونِ ملک سے بہت سے افراد آکر ان کے ساتھ وابستہ ہو گئے۔ کوئی وزیر لگ گیا‘ کوئی کسی اور طاقتور پوسٹ پر براجمان ہو گیا۔ خان پر کڑا وقت آیا تو یہ چُوری خور مجنوں سارے بیرونِ ملک بھاگ گئے اور اپنی اپنی استراحت گاہوں میں نیم دراز ہو گئے۔ (حکمران مردم شناس نہ ہو تو یہی ہوتا ہے)۔ پوری پوری زندگی باہر گزارنے کے بعد ان تارکین وطن کی سوچ کا معیار یہی ہوتا ہے کہ واپس جا کر گورنر یا وزیر لگ جائیں یا کوئی اعزاز مل جائے۔ ڈاکٹر اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بہت سے ڈاکٹر پاکستان کے ہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں کی دیکھ بھال کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔
ایک عجیب بات نوٹ کرنے والی یہ ہے کہ ہمارے تارکین وطن کئی دہائیوں سے ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں قیام پذیر ہیں۔ اپنے اپنے نئے وطن کی جمہوری قدروں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ رات دن دیکھتے ہیں کہ امریکہ‘ یورپ اور آسٹریلیا میں حکمرانوں کیلئے کوئی ہٹو بچو نہیں ہوتا‘ روٹ نہیں لگتے‘ ٹریفک نہیں بند کی جاتی‘ حکمرانوں کی اولاد اور رشتہ داروں کیلئے کوئی پروٹوکول نہیں ہوتا۔ لیکن جب دورے پر آئے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کو یہ تارکین وطن ملتے ہیں تو ہاتھ باندھے‘ ماتحتوں کی طرح‘ جی سر‘ جی سر کے سوا کچھ نہیں کہتے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ ''وزیراعظم شہباز شریف سے امریکہ میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کے وفد نے ملاقات کی... وزیراعظم نے نوجوانوں کو مختلف شعبہ جات میں بہتری کیلئے تجاویز دینے اور پاکستان کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی دعوت دی‘‘۔ اب یہ معلوم نہیں کہ امریکہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں اور نیویارک میں مقیم ہزاروں پاکستانیوں میں سے اُن پاکستانیوں کو کون منتخب کرتا ہے جو وزیراعظم پاکستان سے ملاقات کرتے ہیں! پاکستانی حکمرانوں کی روایت تو یہی ہے کہ ملاقات میں یا پریس کانفرنس میں سب ''اپنے بندے‘‘ ہوں۔ تصویر دیکھ کر لگتا ہے کہ سب مؤدب بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پاکستانی‘ نوجوان ہیں یا کاروباری حضرات‘ کیا نہیں جانتے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ وزیراعظم سے کیوں نہیں پوچھتے کہ اگر بنگلہ دیش کا وزیراعظم اور کئی اور زیادہ امیر ممالک کے سربراہان‘ عام کمرشل فلائٹ سے سفر کرتے ہیں تو آپ کیوں نہیں کرتے؟ اگر پرانا جہاز اب بھی استعمال ہو رہا ہے تو چیف منسٹر صاحبہ نے بارہ ارب کا نیا جہاز کیوں خریدا ہے؟ اور کیا جمہوری ملکوں میں سرکاری کارندے اور وزیر اس طرح بات کرتے ہیں کہ ہاں خریدا ہے! اور آئندہ بھی سفر کریں گے! اگر امریکہ میں مقیم یہ پاکستانی‘ پاکستانی عوام کے حق میں بات نہیں کر سکتے تو کیا یہ وزیراعظم کو اپنی شکلیں دکھانے اور وعظ سننے کیلئے جاتے ہیں؟ حکومت پاکستان ان کا کیا بگاڑ سکتی ہے؟ یا پھر یہ تارکین وطن صرف اپنی شو شا‘ پھوں پھاں اور ٹھوں ٹھاہ کیلئے پاکستانی حکمرانوں سے ملنے جاتے ہیں کہ تصویر کھنچوائیں گے اور واہ واہ ہو گی۔ کیوں نہیں پوچھتے کہ اربوں روپے ہر ماہ آئی پی پیز کو کیوں دیے جا رہے ہیں جبکہ وہ بجلی صفر پیدا کر رہے ہیں؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ پٹرول پر لیوی کس خوشی میں لی جا رہی ہے؟ کیوں نہیں پوچھتے کہ ریٹائرڈ منصفوں کو لاکھوں روپے اور مفت بجلی‘ گیس اور پٹرول کیوں دیے جا رہے ہیں؟ اگر امریکہ میں رہ کر پاکستان کا غم ستا رہا ہے تو کھل کر بات کرو۔ گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں!
اور وزیراعظم امریکہ میں مقیم ان پاکستانیوں سے ''بھرپور کردار‘‘ ادا کرنے کا کہنے کے بجائے یہ کیوں نہیں کہتے کہ آکر اصل پاکستان کی حالت دیکھو! آؤ اور ہمارے قصبے اور ہمارے گاؤں دیکھو۔ آ کر لاہور‘ کراچی اور اسلام آباد کے بجائے مانسہرہ‘ مردان‘ فتح جنگ‘ ڈی جی خان‘ بہاولنگر‘ شکارپور اور لاڑکانہ جیسے شہر اور قصبے دیکھو۔ پاکستان آکر گداگروں کی تعداد دیکھو! آکر پوچھو کہ ہر ماہ کتنی گاڑیاں چوری ہوتی ہیں اورکتنے ڈاکے پڑتے ہیں اور پولیس پر ہر ماہ کتنے ارب روپے خرچ ہو رہے ہیں؟
نیو یارک میں پاکستانی وفد نے‘ وزیراعظم کی قیادت میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم جناب طارق رحمان اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔ مجھے یقین ہے کہ قیمتی سوٹوں اور دیدہ زیب نکٹائیوں میں ملبوس پاکستانی وفد کے ارکان نے دل ہی دل میں وزیر اعظم طارق رحمان کا ٹھٹھا اڑایا ہو گا کہ اس احمق کو دیکھو‘ یہ عام کمرشل پرواز میں آیا ہے۔ اگر ہمارے وفد کا بس چلتا تو ضرور یہ نصیحت کرتا کہ میاں برخوردار!! یہ سادگی یہ کفایت شعاری چھوڑو۔ اقتدار میں ہو تو کچھ عیاشی کر لو۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست!
امریکہ کے اس دورے میں ہمارے وزیراعظم نے آئی ایم ایف کی سربراہ سے بھی ملاقات کی! اس ملاقات کا ذکر پڑھ کر ہمیں پنجابی زبان کے نامور ادیب جناب نجم حسین سید کی لکھی ہوئی ایک کہانی یاد آ رہی ہے۔ ایک غریب عورت تھانے میں زمین پر بیٹھی ہوئی تھی۔ تھانے والوں نے مار مار کر اس کا برا حال کر رکھا تھا۔ لباس تار تار ہو چکا تھا۔ چہر ے سے خون بہہ رہا تھا۔ بدن زخموں سے چور تھا۔ تھانے کے ساتھ گلی تھی۔ وہاں سے مولوی صاحب گزر رہے تھے۔ ان کی نظر غریب عورت پر پڑی تو فوراً جلال میں آ گئے ''بدبخت! سر کیوں ننگا ہے؟ دوپٹے سے سر ڈھانکو! جانتی نہیں ننگے سر رہنا کتنا بڑا گناہ ہے!‘‘۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایم ایف کی سربراہ اس بات پر خوش ہوئی ہو گی کہ پٹرول کے ہر لیٹر میں لیوی کا بوجھ شامل ہے۔ اس نے یہ ہدایت بھی دی ہوگی کہ بجلی‘ پانی اور گیس کے بلوں کو اور بھی بھاری کرو تاکہ عوام کی کمر دہری ہو جائے۔ نرخ بالا کُن کہ ارزانی ہنوز! اس نے یہ ہدایت بھی دی ہو گی کہ تنخواہوں اور پنشنوں میں سالانہ اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ یہ کبھی نہیں پوچھے گی کہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات کتنی ہیں؟ چارٹرڈ جہازوں پر سالانہ کتنے ارب روپے اٹھ جاتے ہیں؟ ایوانِ صدر اور وزیراعظم کے دفتر کا بجٹ اتنا زیادہ کیوں ہے؟ اور کئی اور سوالات!! ناصر کاظمی یاد آ گئے:
کتنی مردم شناس ہے دنیا
منحرف بے حیا ہمِیں سے ہوئی

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...