حاجی صاحب کا انتقال ہوا۔ تدفین ہوئی‘ قُل ہوا‘ پھر ساتواں ہوا‘ پھر چالیسواں! دیگیں پکیں‘ دعائیں کی گئیں۔ کھانے والے آئے‘ ڈٹ کر کھایا۔ مونچھیں مروڑیں‘ کھانے کی کوالٹی پر تبصرے کیے۔ کچھ مثبت‘ کچھ منفی! اور اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ چند روز کے بعد باہر سے آنے والے رشتہ داروں نے بھی رختِ سفر باندھا اور تسلیاں دے کر رخصت ہو گئے۔ سب کہہ گئے کہ جب بھی ضرورت پڑے‘ بتائیں! ہم آ جائیں گے۔ یہ اور بات کہ بتاتا کوئی نہیں۔ نہ کوئی آ سکتا ہے۔ یہ دنیا ہے! اور یہاں ہر فرد‘ ہر کنبہ‘ ہر خاندان‘ امیر ہے یا غریب‘ اپنے اپنے گورکھ دھندے میں پھنسا ہے۔ حاجی صاحب کی بیٹیاں جتنے دن رہیں‘ روز قبر پر جاتیں‘ روتیں‘ تلاوت کرتیں۔ پھر وہ بھی اپنے اپنے شوہروں کے ہمراہ اپنے اپنے گھروں کو چلی گئیں۔ سب کے بچے پڑھتے تھے۔
سب چلے گئے تو پیچھے رہ گئے دو بیٹے‘ ان کی بیگمات‘ ان کے بچے اور حاجی صاحب مرحوم کی بیگم۔ مگر اب وہ بیگم نہیں‘ بیوہ تھیں۔ بیگم اور بیوہ میں بہت فرق ہے۔ اس فرق کو مرد نہیں سمجھ سکتے۔ وہی سمجھتی ہے جو راتوں رات بیگم سے بیوہ ہو جائے۔ بیگم اور بیوہ میں ''ب‘‘ اور ''ی‘‘ مشترک ہیں۔ اس کے بعد بیگم کا ''گُم‘‘ رہ جاتا ہے اور بیوہ کا ''وہ‘‘۔ یعنی بیگم گُم ہو جاتی ہے اور ''وہ‘‘ رہ جاتی ہے۔ کچھ عرصہ تو پہلے والا روٹین چلتا ہے مگر پھر تغیرات شروع ہو جاتے ہیں۔ دیواروں میں دراڑیں آنے لگتی ہیں۔ چھت کی کڑیاں ہلنے لگتی ہیں۔ پہلے کاروبار حاجی صاحب کے ہاتھ میں تھا‘ بیٹے ان کے معاون تھے۔ حاجی صاب شام کو آ کر ہر روز رقم اپنی بیگم کے ہاتھ میں دیتے تھے۔ بیگم مالک و مختار تھی۔ سودا سلف‘ کچن‘ مہمان نوازی‘ بچوں کی فیسیں‘ جملہ ضروریات و اخراجات‘ سب کی نگران بیگم تھی۔ مگر اب کاروبار بیٹوں کے ہاتھ میں تھا۔ دونوں نے کاروبار تقسیم کر لیا۔ شروع شروع میں تو دونوں بیٹوں نے فرمانبرداری کا ثبوت دیتے ہوئے رقم ماں کے ہاتھ میں دی مگر جلد ہی دونوں بیویاں مضطرب ہونے لگیں۔ کھسر پھسر ہونے لگی۔ شوہروں کے سامنے ساس کی شکایات شروع ہو گئیں۔ حاجی صاحب کی زندگی میں چُوں بھی کوئی نہیں کرتا تھا کیونکہ کاروبار بھی ان کا تھا اور وسیع و عریض مکان بھی ان کا تھا۔ بیٹوں نے ماں کے پاس جا کر لمبی تمہید باندھی اور لمبی کہانی سنائی جس کا لب لباب یہ تھا کہ چونکہ ماں کو بچوں کی تمام ضروریات کا علم نہیں اس لیے دشواریاں پیدا ہوتی ہیں‘ چنانچہ اب دونوں بھائی رقم اپنی اپنی بیویوں کے ہاتھ میں دیں گے۔ ماں کو انہوں نے یقین دلایا کہ اس کی ضروریات کا پورا خیال رکھا جائے گا۔ آہستہ آہستہ یہ خیال بھی دھندلا ہونے لگا۔ بیٹے صبح ناشتہ کر کے چلے جاتے۔ شام ڈھلے آتے اور ماں کو دروازے ہی سے سلام کر کے اپنے اپنے کمروں کا رُخ کرتے۔ ماں کو کبھی دواؤں کے لیے کہنا پڑتا‘ کبھی کسی اور ضروری چیز کے لیے۔ کھانا کمرے ہی میں بھیجا جانے لگا۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ماں کی حالت خراب ہونے لگی۔ لباس پرانا‘ کھانا کم اور بس یونہی سا۔ دینے والے ہاتھ مانگنے والے ہاتھ بن گئے۔ ایک دن ماں نے ہمت کی‘ دونوں بیٹوں کو بٹھایا اور کہا کہ وہ کوئی غریب یا بھکارن نہیں ہے! مکان اس کا ہے کیونکہ اس کے شوہر کے نام ہے۔ کاروبار بھی اس کے میاں کا ہے۔ اس نے کہا ''میں تمہاری بیویوں کی بدسلوکی سے تنگ آ چکی ہوں‘ تم لوگ میرے مکان سے نکلو اور میرے میاں کا کاروبار میرے حوالے کرو‘ میں اپنا مینجر رکھ کر سنبھال لوں گی‘‘۔ مگر یہ بیوہ کی لاعلمی تھی اور خوش فہمی۔ بیٹوں نے کسی لحاظ‘ کسی ادب آداب‘ کسی شرم وحیا کے بغیر بتایا کہ بیوہ شوہر کے مال واسباب کی‘ جاگیر اور مکان کی تنہا وارث نہیں ہوتی۔ اسے تو قانون کے مطابق معیّن حصہ ملتا ہے‘ باقی دیگر ورثا میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس کے بعد بہت کچھ ہوا‘ جس کا ذکر غیر ضروری ہے۔ صرف یہ سن لیجیے کہ اب کیا صورتحال ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ حاجی صاحب کی بیوہ ایک ''ضعیف خانہ‘‘ میں ہے‘ جسے فرنگی زبان میں ''اولڈ ہوم‘‘ کہتے ہیں۔ عید‘ بقر عید پر بیٹے باپ کی قبر پر جاتے ہیں پھر ماں کو بھی آ کر مل لیتے ہیں۔ رہے پوتے پوتیاں اور بہوئیں تو بڑھیا ان کی شکلیں بھول چکی ہے۔
یہ کوئی افسانہ ہے نہ تخیلاتی نثر پارہ! یہ ایک سچی کہانی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم پاکستانی (اور شاید بھارتی اور بنگالی بھی) مغربی ملکوں کا مذاق اڑاتے تھے اور حقارت سے کہا کرتے تھے کہ یہ کم بخت نافرمان اپنے بزرگوں کو اولڈ ہومز میں چھوڑ آتے ہیں۔ اہلِ مغرب کی ایک مجبوری تھی۔ گھر کے سب افراد‘ بیٹا‘ بہو‘ پوتے پوتیاں کام پر جاتے ہیں یا سکولوں کالجوں میں۔ واپسی ان کی شام ڈھلے ہوتی ہے۔ ان کے پاس اس کے سوا کوئی اور متبادل نہ تھا۔ دن بھر بوڑھا یا بڑھیا اکیلی کس طرح رہے۔ میں نے آسٹریلیا میں اولڈ ہوم دیکھے ہیں۔ صاف ستھرے! فائیو سٹار نہیں تو فور سٹار ہوٹلوں سے کم نہیں۔ وقت پر دوائیں اور کھانا ملتا ہے۔ پھر یہ کہ وہاں رضاکار بہت ہیں۔ ایک اولڈ ہوم میں ترک رضاکار دیکھے‘ جو بوڑھوں کی خدمت کر رہے تھے۔ جو بوڑھے اپنے گھروں میں اکیلے رہتے ہیں‘ رضاکار ان کی بھی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ سودا سلف لا دیتے ہیں‘ گھر کی صفائی کر جاتے ہیں۔ سرکاری لائبریاں کتابیں ان بوڑھوں کے گھروں میں پہنچاتی ہیں۔ مگر ہمارے ملک میں ایسا نہیں۔ شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں دن کے وقت بوڑھے باپ یا ماں کے پاس کوئی نہ ہو۔ اسے بھی چھوڑیے‘ یہاں کا مسئلہ یہ ہے کہ صاحبِ خانہ اپنی بیوی کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑتا۔ کچھ بے وقوف تو اپنی زندگی میں مکان بچوں کے نام کر دیتے ہیں۔ ابھی بیگم بیوہ بھی نہیں ہوتی کہ بیٹے اور بہوئیں ماں باپ‘ دونوں کو گھر سے نکال دیتے ہیں۔ ایسے بہت واقعات ہوئے ہیں جن میں کچھ نامی گرامی افراد کے نام بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اس وقت ''اولڈ ہوم‘‘ موجود ہیں اور کافی تعداد میں ہیں۔ مصدقہ تعداد معلوم نہیں۔ بہرحال ان اولڈ ہومز میں زیادہ تعداد ان بزرگ خواتین کی ہے جو بے گھر ہیں۔ یا وہ میاں بیوی جنہیں اولاد نے گھر سے نکال دیا۔
مرد کماتا ہے‘ بچوں کو تعلیم دلواتا ہے‘ ان کی شادیاں کرتا ہے‘ اچھا مکان بنوا کر دیتا ہے۔ بھول اس سے یہ ہو جاتی ہے کہ وہ کوئی ایسا مکان‘ کوئی ایسا ذریعہ آمدنی نہیں چھوڑتا جو صرف بیوہ کی ملکیت میں ہو۔ چھت اپنی ہو تو غریب سے غریب بیوہ بھی بے گھر نہیں ہو سکتی۔ جب تک اس کے اعضا کام کرتے ہیں‘ وہ اپنا کھانا پکا لے گی۔ کپڑے بھی دھو لے گی۔ بستر کے ساتھ لگ گئی تو کوئی بیٹی‘ بہو یا پڑوسن آ کر مدد کر دے گی۔ مگر گھر اپنا نہیں تو امارت بھی اس کے کام نہیں آئے گی۔ ایسا بھی نہیں کہ سعادت مند بچوں کا وجود عنقا ہو چکا۔ ابھی ہماری قدریں تمام کی تمام مرحوم نہیں۔ ابھی اگر ایک آنکھ پتھر کی ہے تو کم از کم دوسری آنکھ میں حیا کی رمق موجود ہے۔ بہت گھروں میں اولاد بوڑھوں کا خیال رکھتی ہے۔ ان کی خدمت کرتی ہے۔ یہ آخرت کی بہت بڑی کمائی ہے۔ مگر آپ کے بچے سعادت مند ہیں یا نہیں‘ آپ ہر حال میں اپنی موت سے پہلے اپنی اہلیہ کے لیے سر چھپانے کا بندو بست کر جائیں تا کہ آپ کے بعد وہ بیٹوں اور بیٹیوں کی محتاج نہ ہو۔ اگر مستقل آمدنی کا انتظام بھی کر جائیں تو کیا ہی کہنا! سرکاری ملازم اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ ان کے بعد ان کی بیوہ کو فیملی پنشن ملتی رہتی ہے۔ جس بیوہ کے پاس دام و درم ہے‘ اس کا بوجھ بھی کم محسوس ہوتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments