مخمل میں ٹاٹ کا پیوند

مکان ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ انہی مکانوں میں ایک خاتون اپنے کنبے کے ساتھ رہتی تھی۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ! سی ایس ایس کرنے کے بعد اچھے باعزت منصب پر فائز۔ کبھی کبھی رات کو اس کے گھر سے چیخوں کی آواز آتی تھی۔ جیسے کوئی کسی مصیبت میں گرفتار ہو۔ ساتھ اونچی آواز میں گالیوں کی آواز آتی۔ یہ چیخیں اس خاتون کی تھیں اور گالیاں اس کا شوہر نکالتا۔ اسے اعتراض تھا کہ فون کیوں آتے ہیں؟ کل دفتر دیر تک کیوں بیٹھی رہیں؟ فائلیں گھر کیوں لاتی ہو؟ پی اے گھر کیوں آتا ہے؟ ڈرائیور سے کیا بات کر رہی تھیں؟ آپ کا کیا خیال ہے ایسا کیوں ہو رہا تھا؟ اس لیے کہ شوہر نیم تعلیم یافتہ تھا۔ معمولی سا کاروبار کرتا تھا۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا جن لوگوں کے ساتھ تھا ان میں کوئی دکاندار تھا۔ کوئی کار ڈیلر تھا۔ کوئی ٹیکسی ڈرائیور تھا۔ دکاندار‘ یا کار ڈیلر‘ یا ٹیکسی ڈرائیور ہونا کوئی جرم نہیں مگر اسے یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کو زدو کوب کرے۔ تاہم دلچسپ اور افسوسناک حقیقت یہ تھی کہ یہ حق اس مرد کو‘ غیر اعلانیہ طور پر‘ خاتون کے ماں باپ نے دیا تھا کیونکہ وہ اپنی ذات سے باہر بیٹی کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے اور ذات کے اندر یہی مرد میسر تھا۔
مدتوں پہلے کا یہ واقعہ دو ہفتے پہلے یاد آیا جب یہ خبر پڑھی کہ ایک بڑے شہر کی‘ ایڈمنسٹریٹر‘ خاتون افسر پر اس کے میاں نے شدید تشدد کیا‘ موبائل فون چھین لیا‘ اسے غیر قانونی حراست میں رکھا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ بالآخر خاتون کو قانون کی مدد لینا پڑی۔ ذہن میں پہلا سوال یہ اٹھا کہ اس کا میاں کرتا کیا ہے؟ تعجب ہے کہ میڈیا میں سے اکثریت نے یہ معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ صرف ایک جگہ یہ نظر آیا کہ شوہر پراپرٹی ڈیلر ہے۔ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ شادی والدین نے زبردستی ذات برادری کی بنیاد پر کی یا کسی اور بنیاد پر کی گئی۔ ذات برادری کے اندر شادی کرنے والوں کو جب یہ سمجھایا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم یا پیشہ بھی دیکھو تو جواب ملتا ہے کہ شادی اپنے ''کفو‘‘ کے اندر کرنے کا کہا گیا ہے اور کفو سے مراد ذات برادری ہے۔ نرم ترین لفظوں میں بھی اس جواب کو بدترین لاعلمی ہی کہا جا سکتا ہے۔ کہیں بھی نہیں لکھا گیا یا کہا گیا کہ کفو کا مطلب ذات برادری ہے۔ فقہا نے کفو میں عام طور پر چھ چیزیں شامل کی ہیں۔ اسلام‘ حریت (یعنی غلام نہ ہو)‘ نسب‘ مال و دولت‘ دینداری اور پیشہ!! شادی کے ضمن میں پیشے کی بہت اہمیت ہے۔ چچا یا ماموں کا بیٹا پراپرٹی ڈیلر ہے یا پوسٹ مین ہے تو اس کی شادی اس خاتون سے کرا دینا جو اسسٹنٹ کمشنر ہے یا جج ہے یا پروفیسر ہے‘ ظلم کے علاوہ کچھ نہیں! کفو کا لفظی معنی برابر یا ہمسر ہے۔ یعنی مرد کی عورت کے ساتھ مناسبت‘ ہم آہنگی‘ مطابقت‘ موزونیت اور سازگاری (Compatibility) ہو۔ اَن پڑھ لڑکے کی شادی ڈاکٹر لڑکی کے ساتھ یہ کہہ کر کر دی جاتی ہے کہ ''گھر کی لڑکی ہے‘ گھر ہی میں رہے گی‘‘۔ یہ جہالت ہے اور ظلم! میں ایک ایسی خاتون کو جانتا ہوں جو پی ایچ ڈی ہے اور میاں چِٹا اَن پڑھ! خاتون کا ناول شائع ہو کر آیا تو شوہر نے سارے نسخے نذرِ آتش کر دیے۔ اَن پڑھ یا نیم تعلیم یافتہ یا رتبے میں کمتر شوہر شدید احساسِ کمتری کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شک کرتا ہے۔ حسد کا شکار ہو جاتا ہے۔ تب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ مرد ہے اور عورت سے برتر! اپنے آپ کو برتر ثابت کرنے کے لیے وہ بیوی کو مارتا پیٹتا ہے۔ اس سے فون چھینتا ہے۔ کبھی اسے میکے نہیں جانے دیتا۔ کبھی گھر میں نظر بند کر دیتا ہے۔ کبھی خاتون کے ماتحتوں کے سامنے خاتون کی بے عزتی کرتا ہے۔ افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسی بے جوڑ اور احمقانہ شادیوں کی کمی نہیں! میں کچھ سال ایک ایلیٹ کلب کی کمیٹی کا رکن رہا۔ اس کمیٹی کا کام یہ تھا کہ ان امیدواروں کا انٹرویو کرے جو کلب کی ممبرشپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرویو میں میاں بیوی دونوں کو پیش ہونا ہوتا تھا۔ یہ ایک عجیب و غریب تجربہ تھا۔ ایسے ایسے جوڑے دیکھے جن میں ایک اور دس کا نہیں‘ ایک اور پچاس کا فرق تھا۔ عورت ماہر امراضِ چشم ہے تو میاں پراپرٹی ڈیلر۔ بیوی فُل پروفیسر ہے تو میاں میٹرک پاس۔ بیوی پی ایچ ڈی ہے تو شوہر کی جوتوں کی معمولی سی دکان! ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون کے میاں نے بیٹھتے ہی کہا کہ یہ جس زمین پر آپ کا کلب ہے یہ ساری زمین ہماری تھی۔ موصوف کی قمیص کے بٹن آگے سے کھلے تھے اور ہاتھ میں مہنگے سگریٹوں کی ڈبی تھی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ انہوں نے بیٹھتے ہی سگریٹ سلگانے کے لیے ماچس نہ مانگی! یہ کیسے والدین ہیں جو اپنی بیٹیوں کو پہلے اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں اور پھر انہیں اُن مردوں کے ساتھ باندھ دیتے ہیں جن کے ساتھ ان کا پیشہ مناسبت رکھتا ہے نہ مزاج نہ ماحول!!
عام طور پر سروس سیکٹر اور بزنس سیکٹر کے درمیان بھی شادیاں بے جوڑ ثابت ہوتی ہیں۔ تنخواہ دار طبقے اور کاروباری طبقے کی نفسیات‘ رہن سہن اور ماحول میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ سو فیصد شادیاں ان دو طبقوں کے درمیان ناکام رہتی ہیں۔ کچھ کامیاب بھی رہتی ہیں۔ مگر زیادہ تر بے جوڑ رہتی ہیں۔ میں ایک بار اپنے ایک دوست کے پاس بیٹھا تھا جو انکم ٹیکس کمشنر تھا۔ شہر کا ایک انتہائی متمول بزنس مین اس کے سامنے پیش ہوا۔ میں اسے جانتا تھا۔ اس نے میلا‘ کم حیثیت لباس پہنا ہوا تھا۔ شاید جان بوجھ کر کہ اسے غریب سمجھا جائے۔ سرکاری ملازم یا کارپوریٹ سیکٹر میں کام کرنے والا شخص ایسا کبھی نہیں کرے گا۔ وہ ایسے موقع پر‘ یا کسی بھی موقع پر‘ باعزت اور متاثر کن لباس پہنے گا۔ پاکستان میں فرقہ بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ بین المسالک شادی ممنوع نہیں‘ ہو جاتی ہے اور بالکل ہو جاتی ہے۔ مگر روزانہ کے مسائل تلخی پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ایک صاحب کی‘ جنہیں میں جانتا ہوں‘ بیٹی کی شادی بریلوی خاندان میں ہوئی‘ جبکہ لڑکی کا فرقہ مختلف تھا۔ لڑکے والوں کے پیر صاحب تشریف لائے۔ لڑکی نے ان کے سامنے جانے سے انکار کر دیا۔ اور بھی کئی مسائل پیش آئے جن کا اندازہ آپ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ لڑکی واپس میکے آ گئی اور دوبارہ جانے سے انکار کر دیا۔ یاد رکھیے‘ کوئی کسی کے لیے اپنا عقیدہ بدلتا ہے نہ سیاسی رجحان! بچے الگ خوار ہوتے ہیں۔ شادی کرتے وقت یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دس پندرہ سال بعد صورتِ حال کیا ہو گی۔ اہلِ کتاب کے ساتھ شادی جائز ہے۔ ایسی لا تعداد مثالیں موجود ہیں کہ مغربی ملک میں شادی تو پاکستانی یا کسی دوسرے ملک کے مسلمان نے سفید فام عورت سے کر لی۔ بچے بڑے ہوتے ہیں تو تب تک محبت کی چربی آنکھوں کے آگے سے ہٹ جاتی ہے۔ بچہ چرچ اور مسجد کے درمیان گھسیٹا جاتا ہے۔ باپ بچوں کو لے کر چپکے سے وطن واپس بھاگ آتا ہے۔ پیچھے پیچھے ماں بھی آ جاتی ہے۔ عدالتوں میں مقدمہ بازی ہوتی ہے۔ متعلقہ سفارت خانہ بھی درمیان میں کود پڑتا ہے۔ زیادہ تر فتح ماں کی ہوتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...