"JDC" (space) message & send to 7575

پاکستان،مکہ معاہدہ اور حوثی

جزیرہ نما عرب کے جنوب میں ملک یمن واقع ہے جو تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ حجازِ مقدس سے تجارتی قافلے گرمیوں میں شمال کی جانب یعنی شام جاتے تھے اور سردیوں میں جنوب یعنی یمن کی طرف۔ قرآن کریم میں بھی ان قافلوں کا ذکر ہے۔ عام روایت ہے کہ زمانۂ قدیم میں یمن میں پانی کا بہت بڑا ڈیم ٹوٹا تو سیلابی کیفیت پیدا ہو گئی۔ بہت سے لوگ ہجرت کرکے شمال کی جانب چلے گئے۔ آج بھی خلیجی ممالک میں بہت سے لوگ آپ کو ایسے ملیں گے جن کے آباؤ اجداد صدیوں پہلے ہجرت کرکے یمن سے آئے تھے۔ دنیا کی اولین کثیر المنزلہ عمارتیں یمن میں تعمیر ہوئیں‘ ان عمارتوں میں نہ سیمنٹ استعمال ہوا نہ سریا‘ اور نہ ہی اُس وقت کوئی ہیوی مشینری تھی۔یمن کا رقبہ تقریباً پانچ لاکھ مربع کلو میٹر اور آبادی تقریباً چار کروڑ ہے۔ اگرچہ یہاں 1990ء کی دہائی میں تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہوگئے تھے لیکن یمن آج بھی دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ بڑی وجہ ملک میں طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی ہے۔ یمن کی 65فیصد آبادی سُنی ہے‘ جو شافعی مسلک کا اتباع کرتی ہے۔ 35فیصد زیدی شیعہ ہیں‘ ان کی وجہ تسمیہ حضرت زید ابن علی ہیں جو اُن کے پانچویں امام ہیں۔ یمن کے زیدی شیعہ‘ جنہیں جمع کے صیغے میں زیود بھی کہا جاتا ہے‘ شافعی مسلک کے خاصے قریب ہیں۔ میں 1988ء میں تین ہفتوں کیلئے یمن گیا تھا۔ اچھی بات یہ دیکھی کہ وہاں شیعہ سنُی اکٹھے نماز پڑھتے تھے۔یمن میں طویل عرصہ تک زیدی امام حکمران رہے۔ امامت کا دور 1962ء تک چلا‘ جب امام محمد البدر کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی۔ مصر نے باغیوں کی حمایت میں اپنے پچاس ہزار فوجی یمن بھیج دیے۔ 1967ء میں عرب اسرائیل جنگ شروع ہوئی تو مصر نے اپنی فوج یمن سے واپس بلا لی۔ مصر اپنا ہدف‘ یعنی فوجی حکومت کو مستحکم کرنا‘ حاصل نہ کر سکا۔ اسی لیے یمن کو مصر کا ویتنام بھی کہا جاتا ہے۔یمنی زیدیوں کے ہاں امامت کا تصور اثنا عشری مسلک سے ذرا مختلف ہے۔ زیود کی پریکٹس میں کوئی بھی سادات سے متعلق شخص امام یعنی حکمران بن سکتا ہے؛ البتہ دو شرائط ضروری ہیں۔ اوّل یہ کہ اس کے کردار اور تقویٰ کے بارے میں کسی کو شک نہ ہو‘ دوم یہ کہ اس شخص میں ظلم کی مزاحمت کرنے کا جذبہ موجود ہو۔ یمنی زیود کا خیال ہے کہ ان کے موجودہ لیڈر عبدالمالک حوثی ان شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ 1960ء کی دہائی میں سعودی عرب نے امامت کا ساتھ دیا تھا۔ امام محمد البدر کو سعودی حمایت حاصل رہی جبکہ مصر مخالف کیمپ میں تھا۔ یمن کو کچھ لوگ عرب دنیا کا افغانستان بھی کہتے ہیں۔ دونوں ملکوں میں غربت ضرور ہے لیکن یمنی بھی جنگجو قسم کے لوگ ہیں‘ ہر یمنی کے پاس بندوق یا پستول ضرور ہوتا ہے۔ غریب سے غریب یمنی کے پاس بھی خنجر تو لازمی ہوتا ہے۔
1988ء میں جب میں نے تین ہفتے عدن میں گزارے تو ملک دو حصوں میں تقسیم تھا۔ عدن جنوبی یمن کا دارالحکومت تھا۔ 1986ء کی سول وار کے نشانات نظر آتے تھے۔ جنوبی یمن مکمل طور پر سوشلسٹ تھا۔ وہاں چند سو اشخاص پر مشتمل پاکستانی کمیونٹی بھی تھی جن کی دکانیں اور کاروبار سوشلسٹ حکومت نے اپنی تحویل میں لے لیے تھے اور یہ اس امید پر بیٹھے تھے کہ کبھی تو نجکاری ہو گی اور انہیں ان کی جائیداد واپس ملے گی۔ مجھے جنوبی یمن کے لوگ مذہب سے خاصے دور لگے۔ مساجد میں حاضری خاصی کم ہوتی تھی‘ شراب عام دستیاب تھی‘ بڑے ریستورانوں کے مینو میں لحمِ خنزیر کی ڈشز بھی مذکور تھیں۔
اور اب آتے ہیں موجودہ زمانے کی جانب۔ جب عرب سپرنگ کے شعلے یمن پہنچے تو صدر علی عبداللہ صالح نے سعودی عرب میں پناہ لی۔ 2015ء میں حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ چند عرب ممالک نے یمن میں فوجیں اتار دیں۔ پاکستان سے بھی اپنی فوج یمن بھیجنے کا کہا گیا لیکن ہماری حکومت نے پارلیمنٹ کی سفارش پر فوج بھیجنے سے معذرت کر لی اور میرے خیال میں یہ بہت اچھا فیصلہ تھا۔ اوّل تو یہ ہماری پرانی پالیسی کا عکاس تھا کہ پاکستان مسلم ممالک کی باہمی جنگوں میں فریق نہیں بنے گا۔ دوم یہ کہ فیصلہ ہماری پارلیمان کا تھا جس کا کہنا تھا کہ ہمیں یمن کی جنگ میں کودنے کے بجائے وہاں صلح کرانی چاہیے۔ جن عرب ممالک نے 2015ء میں یمن میں اپنی فوجیں بھیجیں وہ بھی اپنے اہداف حاصل نہ کر سکے بلکہ حوثی باغیوں کی طاقت میں اضافہ ہوتا رہا۔
اب آتے ہیں مکہ دفاعی معاہدے کی طرف‘ جس کی ہر کوئی اپنی اپنی سمجھ کے مطابق تاویل کر رہا ہے۔ مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون گئے تو حوثی ملیشیا نے بیان دیا کہ ہمارا اس میں کوئی ہاتھ نہیں۔ کچھ لوگوں نے بیان دیا کہ سعودی عرب پر حملہ ہوا تو ترکیہ اور پاکستان جنگ میں نہیں کودے۔ دراصل یہ لوگ نہ مکہ معاہدے کی نوعیت کو سمجھے ہیں اور نہ ہی اس کی اہمیت کو۔ یہ تین اہم مسلم ممالک کے مابین ایک مدافعتی معاہدہ ہے جو طویل مدت کا ہے۔ تینوں ممالک حربی‘ اقتصادی اور سیاسی تعاون کے ذریعے اس لیول پر پہنچنا چاہتے ہیں کہ کسی کو ان کے خلاف جارحیت کی ہمت نہ ہو۔مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون بھیجے گئے تو پاکستان اور ترکیہ دونوں نے سخت مذمت کی اور سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ مکہ معاہدہ پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ دفاعی معاہدے پر تنقید بے جا ہے۔ یمن کا تنازع بہت پرانا ہے اور ساتھ ہی کہا کہ نیٹو نے گزشتہ پچاس سال میں آرٹیکل پانچ صرف ایک مرتبہ استعمال کیا ہے۔ یاد رہے کہ نیٹو کا آرٹیکل پانچ یہ کہتا ہے کہ ایک ممبر ملک پر حملہ تمام ممبران پر حملہ تصور ہو گا۔ بڑے دفاعی معاہدے جنگیں روکنے کیلئے ہوتے ہیں جنگوں کو فروغ دینے کیلئے نہیں۔
ایک عرصے تک یہ خیال تھا کہ حوثی ملیشیا کا اثر و رسوخ دارالحکومت صنعا اور ارد گرد کے پہاڑی علاقے تک محدود ہے لیکن اب مزید علاقے ان کے کنٹرول میں آ گئے ہیں اور پچھلے چند ہفتوں میں جنوبی یمن کے چند اہم اور حساس علاقے حوثی ملیشیا کے زیر تسلط آ گئے ہیں۔ یہ ملیشیا اپنے لیے انصار اللہ کا نام استعمال کر تی ہے کیونکہ حوثی ایک قبیلے کا نام ہے اور اس ملیشیا کے اہداف اب وسیع تر ہو چکے ہیں۔ یہ گروہ صرف ایک قبیلے یا مسلک تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ یمن کے دوسرے قبائل اور مسالک کے لوگوں کو بھی اپنی طرف مائل کر رہا ہے۔دوسری جانب یمن کی وہ حکومت ہے جس کے لیڈر رشاد العلیمی ہیں۔ رشاد کا زیادہ وقت سعودی عرب میں گزرتا ہے۔ اس حکومت کو دنیا تسلیم کرتی ہے مگر اس کے زیادہ ممبر یمن سے باہر ہیں جبکہ انصار اللہ یمن کے اندر ہے اور عوام سے رابطے میں رہتے ہیں۔ رشاد العلیمی کی حکومت آج کل جنوبی یمن میں ایئرفورس سے حملے کر رہی ہے لیکن زمینی کنٹرول انصار اللہ کے پاس ہے۔ تسلیم شدہ حکومت کی کمزوری اور عوام میں عدم وجود سے باغی ملیشیا کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ باب المندب پر کنٹرول کے بعد یہ نان سٹیٹ ایکٹر مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ امریکہ جیسی انٹرنیشنل پاور نے ان سے سلطنتِ عمان کے ذریعہ مذاکرات کیے ہیں۔ پاکستان کا 2015ء میں یمن میں فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ صائب تھا اور آج بھی میرا مشورہ یہی ہو گا کہ حرمین کا دل و جان سے دفاع کریں لیکن یمن کے اندر کسی مہم جوئی کا حصہ نہ بنیں۔ یاد رہے کہ یمن کو مصر کا ویتنام کہا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...