آبنائے ہرمز کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کی جائے تو متعدد متضاد آرا ملتی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ نام ایک رومن بادشاہ سے منسوب ہے جس کے زمانے میں سلطنت روم اور ایران کے درمیان تجارت عروج پر تھی اور ایران خود بہت بڑی سلطنت تھی۔ دوسرا نظریہ ہے کہ ہرمز ایک زر تشت دیوتا کا نام تھا‘ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ ہرمز کھجوروں کے بڑے جھنڈ کو کہتے ہیں‘ جو کثرت سے اس خطے میں موجود ہیں اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ ہرمز نامی سلطنت ایران میں صدیوں تک رہی اور صفوی خاندان کی آمد کے ساتھ ختم ہوئی۔ پس ثابت ہوا کہ لفظ ہرمز ایران کی تاریخ اور جغرافیہ سے منسلک ہے۔ آبنائے ہرمز کی دوسری جانب عمان کا قصبہ خصب ہے‘ میں وہاں کئی مرتبہ گیا ہوں۔ 2007ء میں جب میں ایک پاکستانی دوست کے ساتھ وہاں سیر کر رہا تھا تو وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ پُرسکون علاقہ ایک روز جنگ میں شہ سرخیوں کا حقدار ٹھہرے گا۔ اور اب آتے ہیں موضوع کی جانب۔ خبر یہ ہے کہ ایران ہرمز کیلئے نئے قوانین اور ضوابط وضع کر رہا ہے اور اس مقصد کیلئے ایک اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اس تھارٹی کے فرائض میں گزرنے والے جہازوں کو ضروری سہولتیں فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے بدلے میں ہر جہاز سے ٹول ٹیکس لیا جا سکے گا جو دو ملین ڈالر فی جہاز تک ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اس سمندری گزرگاہ کا عرض 35 کلومیٹر کے قریب ہے لیکن گہرائی کے اعتبار سے بڑے جہاز صرف چھ کلومیٹر چوڑے پانی سے گزر سکتے ہیں اس سے باہر سمندر کی تہہ کم ہے اور جہاز وہاں سے گزرنے کا خطرہ مول نہیں لیتے لیکن یہ محدود سمندری گزر گاہ اپنی نوع کی اکلوتی جگہ نہیں‘ اس کے علاوہ آبنائے ملاکا‘ باب المندب‘ جبرالٹر اور باسفورس بھی ہیں۔ ملا کا انڈونیشیا‘ ملائشیا اور سنگاپور کے درمیان واقع ہے۔ باب المندب یمن اور جبوتی کے مابین ہے۔ جبرالٹر بحیرہ روم اور بحر اوقیانوس کو ملانے والا تنگ راستہ ہے جس کے گرد سپین اور مراکش واقع ہیں۔ ان تمام آبی گزر گاہوں میں کوئی ٹول ٹیکس یا فیس نہیں ہے‘ تمام تجارتی اور عسکری جہاز آزادانہ گزرتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق فیس معاف ہے؛ البتہ باسفورس کا معاملہ ذرا مختلف ہے جس کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔
مجوزہ ایران قوانین کے مطابق ہرمزسے گزرنے والے ہر جہاز کو اپنی رجسٹریشن انشورنس کے کاغذات‘ عملے اور کارگو کی تفصیل بتانا ہوں گی۔ عسکری جہازوں کا گزرنا ممنوع ہو گا۔ اسی طرح اسرائیلی جہازوں کو گزرنے کی مکمل ممانعت ہو گی۔ امریکی جہاز مکمل جانچ پڑتال کے بعد اجازت حاصل کرکے گزریں گے۔ کیا مجوزہ ایرانی قانون بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے؟ اس کا جواب بعد میں تلاش کریں گے‘ فی الحال دیکھتے ہیں کہ آبنائے باسفورس میں کیا پوزیشن ہے۔ باسفورس شاید اکلوتی انٹرنیشنل آبی گزرگاہ ہے جہاں جہازوں کو گزرنے کیلئے فیس دینا پڑتی ہے۔ باسفورس استنبول کے درمیان سے گزرتی ہے۔ عرض خاصا تنگ ہے باسفورس میں جہازوں کو گائیڈ کرنے کیلئے لائٹ ہائوس موجود ہیں‘ کچھ جہازوں کو گائیڈ کرنے کیلئے پائلٹ کشتیاں دی جاتی ہیں۔ اگر کوئی جہاز پھنس جائے تو اسے نکالنے کیلئے ترک حکومت مدد فراہم کرتی ہے۔ ان سہولتوں کے عوض ترک حکومت فیس وصول کرتی ہے لیکن یہ فیس خلافِ قانون نہیں اور اسے 1936ء کے انٹرنیشنل کنونشن کی حمایت حاصل ہے جس کے مطابق ترکیہ یہ فیس لینے کا مجاز ہے اور اس وقت تمام علاقائی ممالک نے اس کنونشن کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ مجوزہ ایرانی قانون نے ابھی منظوری کی ایک دو اور منزلیں طے کرنی ہیں۔ یہ قانون صدر کی فائنل منظوری کے بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔ اس قانون کے مطابق وہ ممالک جنہوں نے ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں انہیں آبنائے ہرمز سے جہاز گزارنے کیلئے پیشگی منظوری لینا ہو گی۔
اکثر مغربی ممالک کا خیال ہے کہ اس نئے قانون کے ذریعے ایران جہازوں کی ٹریفک پر مکمل کنٹرول کا خواہاں ہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پانیوں پر مقتدر ہے۔ یاد رہے کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ساحل سمندر سے لے کر 22 کلومیٹر کا علاقہ اسی ملک کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ کنونشن 1982ء میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی تشکیل پایا‘ لیکن جب 22 کلومیٹر کا سمندری علاقہ سب ممالک کو دیا گیا تو ساتھ یہ بھی لکھا گیا کہ اس علاقے سے سمندری جہازوں کو گزرنے کا حق حاصل ہوگا‘ اسےInnocent passage کا حق بھی کہا جاتا ہے؛ یعنی ان پانیوں میں سے گزرنے کا ہر جہاز کو حق ہے بشرطیکہ وہ جہاز اس ملک کے خلاف عزائم نہ رکھتا ہو۔ کنونشن کے آرٹیکل نمبر 38 اور 39 آزاد سمندری راہداری سے متعلق ہیں۔ ایران کے اس اقدام کی دنیا کے کسی ملک نے حمایت نہیں کی حتیٰ کہ چین بھی مجوزہ ایرانی قانون سازی کے خلاف ہے۔ خلیجی ممالک نے International Maritime Organization کو لکھا ہے کہ ایران کے اقدام کسی سطح پر پذیرائی نہیں ملنی چاہیے۔ IMO کا کہنا ہے کہ ایرانی مجوزہ اقدام غیر قانونی ہے اور یہ دنیا بھر میں خطرناک نظیر ثابت ہوگا‘ یعنی پھر آبنائے ملاکا‘ باب المندب اور جبرالٹر والے ممالک بھی ایسا ہی ٹول ٹیکس لگانے کا سوچیں گے اور دنیا کی بحری تجارت سخت بحران کا شکار ہو جائے گی۔
معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب امریکہ کو علم ہوا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز کے آئندہ مشترکہ انتظام کے بارے میں مشاورت کر رہے ہیں تو فوراً عمان پر بمباری کی دھمکی دی گئی۔ حالانکہ سلطنت عمان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات شاندار رہے ہیں۔ عمان اور امریکہ کا عسکری تعاون بھی ایک عرصے سے قائم ہے۔ اس دھمکی کے بعد عمان نے قدرے خاموشی اختیار کر لی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت بڑھائی جائے گی۔ سلطنت عمان نے ہمیشہ کی طرح بڑا مہذب ردعمل دیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے والا نظام واپس نہیں آئے گا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اب ہمارے ہاتھ میں ہمیشہ کیلئے ہرمز کی تلوار آ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز صدیوں سے تجارت کیلئے استعمال ہو رہی ہے‘ یہ تلوار ایران کے پاس ایک عرصے سے تھی لیکن اس تلوار کی اہمیت اب اجاگر ہوئی ہے۔ ایران کو صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔
دنیا کے اہم ممالک ایران کے مجوزہ قانون کے مخالف ہیں۔ برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی نے اس اقدام کے خلاف بیان دیا ہے۔ کئی ممالک نے اسے ایران کی بلیک میلنگ قرار دیا ہے۔ ایران کے سب سے اہم دوست چین نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ہرمز ایک تُرپ کا پتا ہے جو ایران کے ہاتھ لگ گیا ہے اور وہ اسے مذاکرات میں اپنا وزن بڑھانے کیلئے خوب استعمال کرے گا اور جب مطلوبہ نتائج حاصل ہو جائیں گے تو وہ اسے چھوڑ دے گا‘یعنی نئے نظام اور اپنے کنٹرول کا مطالبہ ترک کر دے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران ایسا کرے گا یا نہیں۔ مجھے خود اس خواہش کے پورا ہونے کے امکانات کم نظر آتے ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز ایک قدرتی اور عالمی آبی گزر گاہ ہے یہاں ایک طرفہ سکیورٹی فراہم کرنے کے نام پر ٹیکس لگانا سمندروں کے قانون 1982ء کی خلاف ورزی ہوگی اور اگر ہرمز میں ایران کو ٹیکس لگانے کی اجازت دی گئی تو پھر انڈونیشیا‘ ملائیشیا اور سنگاپور آبنائے ملا کا میں ٹیکس لگانے میں حق بجانب ہوں گے اور باب المندب سے جو جہاز گزرے گا وہ یمن اور جبوتی کو ٹول ٹیکس دے گا۔ جبرالٹر سے گزرنے والے سفینوں سے سپین اور مراکش بھاری رقوم وصول کریں گے۔ ذرا غور کریں کہ تیل کا ہر جہاز اگر ہرمز کراس کرتے ہوئے ایران اور عمان کو بھاری رقم ادا کرے گا تو تیل کی قیمتیں کہاں پہنچ جائیں گی۔ امریکہ اور اسرائیل کی اس غیر ضروری جنگ کی قیمت ایک عام صارف ادا کرے گا‘ لہٰذا اس مسئلے کا حل بین الاقوامی قانون کے مطابق ہو تو بہتر ہوگا۔