معاہدہ ہو گیا۔ الحمدللہ۔ چند سوالات مگر آج بھی جواب طلب ہیں:
1۔ کیا یہ امتِ مسلمہ کے اُس رومانوی تصور کی طرف مراجعت ہے‘ جسے اقبال کے اس مصرع میں بیان کیا گیا ہے کہ 'ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے‘؟ 2۔ یہ معاہدہ کس کے خلاف ہے؟ 3۔ کیا اس میں ایران بھی شامل ہو سکتا ہے؟ 4۔ کیا اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ‘ بالخصوص سعودی عرب میں امریکی اڈوں کا کوئی جواز باقی ہے؟ 5۔ کیا یہ معاہدہ اس تاریخی کشمکش کو ختم کر دے گا جو خطے میں بالادستی کے لیے صدیوں پر محیط ہے؟
امتِ مسلمہ کا رومانوی تصور کیا ہے؟ یہ نظامِ خلافت ہے۔ دنیا کے مسلم ممالک کا ایک سیاسی نظم ہو۔ اُن کا ایک خلیفہ ہو جسے امیر المومنین کہا جائے۔ سب مسلم ریاستوں میں اس کا سکہ چلتا اور اس کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا ہو۔ ایک فوج ہو۔ موجودہ ممالک کی حیثیت صوبوں جیسی ہو۔ سب کے وسائل جمع ہوں اور باہم آمدو رفت میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ یہ گویا اُس مسلم سیاسی نظم کا احیا ہے جو سلطنتوں کے عہد میں قائم تھا۔ اس کی مثالی صورت تو خلافتِ راشدہ ہے مگر اموی یا عباسی سلطنتیں بھی اپنی کمزوریوں کے باوصف‘ اسی نظام کا تسلسل تھیں۔ آج عمرؓ ابن خطاب نہ سہی‘ کوئی عمرؒ بن عبدالعزیز ہی میسر آ جائے جس کے ہاتھوں خلافت کے اُس تصور کا احیا ہو جو ایک رومان کی صورت میں ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔
یہ معاہدہ نہ تو ایسے کسی تصور کا احیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی امکان ہے۔ آج کی مسلم مملکتیں قومی ریاست کے تصور پر کھڑی ہیں۔ ایسی ریاست جس میں اجتماعیت کی اساس رنگ ونسل یا جغرافیہ ہے۔ اس میں پاکستان اور اسرائیل‘ دو مستثنیات ہیں۔ برصغیر میں مسلم قومیت کو بھی نسلی قومیت کی طرح اجتماعیت کی اساس مانا گیا اور اسرائیل میں بھی یہودی مذہب کو یہی حیثیت دی گئی۔ بانیانِ پاکستان نے تصورِ پاکستان کو جدید قومی ریاست سے ہم آہنگ بنایا۔ اسرائیل میں بھی کوشش کی گئی۔ ایسی کاوشوں کے باوجود‘ امرِ واقعہ یہی ہے کہ دونوں ریاستیں مذہبی قومیت کی بنیاد پر قائم ہوئیں۔
جدید ترکیہ اسی بنیاد پر قائم ہوا اور سعودی عرب بھی۔ عربوں نے ترکوں کے اقتدار سے نکلنے کے لیے انگریزوں سے اتحاد کیا اور 'ترکِ ناداں‘ نے بھی خلافت کی قبا چاک کر کے‘ ترک قومیت کا لبادہ اوڑھ لیا۔ خلافتِ عثمانیہ کے بعد‘ عرب قدیم قبائلی نظم کی طرف لوٹ گئے اور ترکیہ نے ریاست کے جدید تصور کو قبول کر لیا۔ یہی معاملہ ایران کا بھی ہے۔ انقلاب کے بعد بھی ایرانی قومیت کا تصور ماند نہیں پڑا۔ مزید یہ ہوا کہ اس نے مسلکی چولا بھی پہن لیا۔ آج تک سب اپنی اپنی شناختوں پر قائم ہیں۔ اس کے آثار نہیں کہ مستقبل قریب میں ان ممالک کی سوچ بدل جائے گی۔ سعودی عرب اپنے وسائل میں کسی کو شریک نہیں کرے گا اور ترکیہ میں بھی قومیت کا احساس کسی طور ایران سے کم نہیں۔ ترک کبھی عربوں کی قیادت کو قبول کریں گے اور نہ عرب ترکوں کی۔ لہٰذا اس معاہدے کو امتِ مسلمہ کے کسی رومانوی تصور سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ معاہدہ‘ اس تصور کی طرف مراجعت قرار دیا جا سکتا ہے جو علامہ اقبال نے پیش کیا تھا۔ اقبال نے بغیر کسی ابہام کے یہ بتایا تھا کہ نیا عالمی نظم قائم ہونے کے بعد‘ مسلمانوں میں اجتماعیت کی واحد ممکنہ صورت یہ ہے کہ مسلم ریاستیں‘ اپنے انفرادی تشخص کو باقی رکھتے ہوئے‘ پہلے مرحلے میں خود کو مضبوط بنائیں۔ دوسرے مرحلے میں ان کے مابین 'لیگ آف نیشنز‘ کی طرز پر ایک اتحاد قائم ہو جائے۔ یہ وہی اقوامِ متحدہ کا تصور ہے جس میں ہر ریاست کا انفرادی تشخص قائم ہے لیکن وسیع تر مفادات کے لیے‘ سب ایک معاہدے کا حصہ ہیں جسے اقوامِ متحدہ کا چارٹر کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت رکن ممالک کے تعلقات قائم ہوتے اور جنگوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ مسلم ریاستوں کے حوالے سے 'مکہ معاہدہ‘ اس کی ابتدائی صورت قرار دی جا سکتی ہے‘ اگرچہ اقبال کے تصور کو متشکل کرنے کے لیے طویل سفر درپیش ہو گا۔ یہ معاہدہ ابھی صرف تین ممالک کے درمیان ہے۔ دوسرا‘ یہ صرف دفاعی معاہدہ ہے۔ اس کا معیشت یا دیگر معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔ آج ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ یہ درست سمت میں پہلا قدم ہے اور اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ تاہم اس کے ساتھ زیادہ امیدیں وابستہ کرنا‘ کم از کم آج‘ خوش خیالی ہو گی۔
اب آئیے دوسرے سوال کی طرف۔ اس کا کوئی متعین جواب نہیں۔ معاہدے کے مطابق اگر ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس سے کیا مراد ہے؟ اس کو مثال سے سمجھتے ہیں۔ اگر‘ خدا نخواستہ بھارت پاکستان پر حملہ آور ہوتا ہے تو سعودی عرب اور ترکیہ کی عسکری قوت پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ گویا یہ ممالک جنگ کا حصہ بن جائیں گے۔ اگر ایسا ہو گا تو بھارت خود کو حق بجانب سمجھے گا کہ سعودی عرب اور ترکیہ کو بھی اپنا دشمن تصور کرے۔ اب ان ممالک کے باہمی سفارتی تعلقات ہیں اور ان کے درمیان معاہدے موجود ہیں۔ اس صورت میں ان کا کیا بنے گا؟ ایک سوال اور بھی ہے۔ موجود دور میں کوئی ملک دوسرے پر حملہ نہیں کرتا۔ اگر کرتا ہے تو پہل کا الزام دوسرے پر لگاتا ہے۔ اس کا تعین کون کرے گا کہ پہل کس نے کی؟ یمن اور سعوی عرب کے تنازع کو دیکھ لیں یا سعودی عرب اور ایران کے اختلاف کو۔ سعودی عرب کے نزدیک ایران نے سعودی عرب پر حملہ کیا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے سعودی عرب پر نہیں‘ وہاں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کیا‘ جہاں سے ایران پر حملے ہو رہے تھے۔ کیا اس معاملے میں پاکستان یا ترکیہ کے لیے سعودی عرب کا دعویٰ کفایت کرے گا کہ وہ اس کی مدد کے لیے اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں؟ معاہدے کی تفصیلات ہمارے سامنے نہیں۔ جب تک ہم ان سے بے خبر ہیں‘ اس معاہدے کی علمی صورت کا تعین مشکل ہے۔
جہاں تک ایران کا معاملہ ہے تو وہ اس معاہدے میں شاید شامل نہ ہو سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایران اس وقت سعودی عرب کے ساتھ براہ راست تصادم میں ہے اور اس کی وجہ یمن ہے۔ ایران اسی صورت میں اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے جب وہ یمن سمیت‘ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی تمام پراکیسز کو ختم کر دے۔ اس کا کوئی امکان نہیں۔ اس کے برخلاف‘ زیادہ امکان یہ ہے کہ ایران اور سعودی عرب متصادم ہو جائیں۔ یہ پاکستان اور ترکیہ کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہو گا۔ لہٰذا مجھے اس کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا کہ ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ بن سکے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے کے لیے ہوا ہے۔ رہا چوتھا سوال تو اس معاہدے کے بعد‘ کم ازکم سعودی عرب میں تو امریکی اڈوں کا جواز باقی نہیں۔ تاہم یہ معاہدہ کسی رکن ملک کو اس کا پابند نہیں بناتا کہ وہ اس کی موجودگی میں کسی چوتھے ملک سے کوئی دفاعی معاہدہ نہیں کر سکتا۔ اس لیے امکان یہی ہے کہ امریکی اڈے تو سرِ دست وہاں موجود رہیں گے۔
اب آئیے آخری سوال کی طرف۔ میں اس کے آثار نہیں دیکھتا۔ کیا مسلم قیادت اور عوام کی اس طرح قلبِ ماہیت ہو گئی ہے کہ وہ بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر‘ ایک ملت بن کر‘ صرف اسلام کی شناخت کے ساتھ زندہ رہنے پر آمادہ ہو گئے ہیں؟ کیا وہ تورانی‘ ایرانی‘ ترکی‘ عربی اور افغانی عصبیتوں کو چھوڑ چکے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ ان سوالات کے جوابات نفی میں ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کا حالیہ تنازع ہی یہ بات سمجھانے کے لیے کفایت کرتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments