استغفار کا مطلب اللہ تبارک وتعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنا‘ بخشش طلب کرنا اور مغفرت کی دعا کرنا ہے۔ استغفار کا مادہ ''غ ف ر‘‘ ہے جس کے معنی ہیں: گناہوں پر پردہ ڈالنا اور ان کے شر سے اپنے آپ کو بچانا۔ جب بندہ استغفار کرتا ہے تو وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے التجا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس کے گناہوں کو چھپا لے‘ ان کے نتائج سے بچا لے اور آخرت میں اسے ذلت اور ناکامی سے محفوظ کر لے۔ استغفار میں صرف زبان سے الفاظ ادا کرنا کافی نہیں بلکہ دل کی گہرائیوں سے اپنے گناہ کا اعتراف‘ اس گناہ پر ندامت اور آئندہ کے لیے اس گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ کرنا بھی شامل ہے۔ بہت سے لوگ زبان سے تو استغفراللہ کہہ دیتے ہیں لیکن نہ تو دل سے ان گناہوں پر نادم ہوتے ہیں اور نہ ہی گناہوں سے بچنے کیلئے پختہ عزم کرتے ہیں۔ ایسا استغفار مطلوبہ نتائج کو حاصل نہیں کر سکتا۔ جب انسان زبان کے ساتھ ساتھ دل اور عمل سے بھی معافی کا طلبگار ہو تب اس کو بہت سے مثبت نتائج حاصل ہوتے ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1: گناہوں کی مغفرت: جب انسان زبان کے ساتھ ساتھ سچے دل سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 110 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے‘ پھر اللہ سے بخشش مانگے تو وہ اللہ کو بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والا پائے گا‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ گناہ کرنے کے بعد انسان کو مایوس ہونے کے بجائے استغفار کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ بخشنے اور رحم کرنے والے ہیں اور اپنے بندے کے گناہوں کو مغفرت طلب کرنے پر معاف کر دیتے ہیں۔
2: رحمت کا حصول: جب انسان خلوصِ دل سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس پر رحمتوں کا نزول فرماتے ہیں۔ سورۃ النمل کی آیت: 46 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کی اس بات کو بیان فرمایا کہ ''تم اللہ سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘۔
3: بارانِ رحمت اور نعمتوں کا حصول: جب انسان صحیح نیت سے اللہ تبارک وتعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس پر بارانِ رحمت اور بہت سی نعمتوں کا نزول فرماتے ہیں۔ سورۂ نوح کی آیات: 10 تا 12 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کی اس بات کو نقل کیا جو انہوں نے اپنی قوم کو مخاطب ہو کر کہی تھی: ''پس میں نے کہا: اپنے رب سے بخشش مانگو‘ بیشک وہ بہت بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارش برسائے گا‘ اور تمہیں مال اور بیٹوں سے مدد دے گا‘ اور تمہارے لیے باغات بنائے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کر دے گا‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ میں استغفار کے نتیجے میں بارش‘ مال‘ بیٹوں‘ باغات اور نہروں کا ذکر آیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے گناہ بہت سی نعمتوں کے حصول کے راستے میں حائل ہو جاتے ہیں اور جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آکر استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی نعمتوں سے نوازتے ہیں۔
4: قوت میں اضافہ: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ سے سچے دل سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قوت میں اضافہ فرما دیتے ہیں۔ سورۂ ہود کی آیت: 52 میں اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت ہود علیہ السلام کے اس قول کو بیان فرماتے ہیں: ''اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش مانگو‘ پھر اس کی طرف توبہ کرو‘ وہ تم پر خوب بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں مزید اضافہ کرے گا‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں استغفار کے ساتھ توبہ کا بھی ذکر ہے اور یہ آیت واضح کرتی ہے کہ گناہوں سے معافی قوت میں اضافے کا سبب ہے۔
5: اچھی زندگی: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں آ کر استغفار کرتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو اچھی زندگی عطا فرما دیتے ہیں۔ سورۂ ہود کی آیت: 3 میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: ''اور یہ کہ اپنے رب سے بخشش مانگو‘ پھر اس کی طرف توبہ کرو‘ وہ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اچھا سامانِ زندگی عطا کرے گا‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں بھی استغفار اور توبہ دونوں کو ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ استغفار اور توبہ کا اکٹھے ذکر کرکے اس بات کو واضح کر دیا گیا ہے کہ جب انسان گناہوں کو ترک کرکے مغفرت کا طلبگار بن جاتا ہے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو اچھی زندگی عطا فرما دیتے ہیں۔
6: عذاب سے بچائو: جب انسان اللہ تبارک وتعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو عذاب سے بچا لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الانفال کی آیت: 33 میں ارشاد فرماتے ہیں ''اور اللہ انہیں عذاب دینے والا نہیں جبکہ وہ استغفار کر رہے ہوں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کو ان کے ایمان اور ندامت کی وجہ سے عذاب سے محفوظ کر لیا تھا۔ آج بھی اگر ہم اللہ کی پکڑ سے بچتے ہوئے اپنے معاملات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں استغفار کرتے رہنا چاہیے۔
جہاں قرآن مجید میں استغفار کے بہت سے فوائد بیان کیے گئے وہیں احادیث مبارکہ میں بھی استغفار کی فضیلت کو اجاگر کیا گیا ہے‘ بالخصوص سید الاستغفار کا بہت زیادہ فائدہ بیان کیا گیا ہے۔ جو شخص صبح اور شام کو سید الاستغفار پڑھتا ہے‘ اللہ تبارک وتعالیٰ موت کے بعد اس کو جنت میں داخل فرما دیتے ہیں۔ صحیح بخاری میں حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ سید الاستغفار (مغفرت مانگنے کے سب کلمات کا سردار) یہ ہے کہ یوں کہو: ''اے اللہ! تُو میرا رب ہے‘ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تُو نے ہی مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں۔ میں اپنی طاقت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں۔ ان بری حرکتوں کے عذاب سے جو میں نے کی ہیں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ مجھ پر نعمتیں تیری ہیں اس کا اقرار کرتا ہوں۔ میری مغفرت فرما دے کہ تیرے سوا اور کوئی بھی گناہ نہیں معاف کرتا‘‘۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ''جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے دل سے ان کو کہہ لیا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے‘‘۔
استغفار نبی کریمﷺ کی سنت ہے۔ احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریمﷺ ہر روز اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ایک دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں‘‘۔ صحیح مسلم کی روایت میں ایک دن میں 100 مرتبہ استغفار کرنے کا بھی ذکر ہے۔
مذکورہ بالا آیاتِ قرآنی اور احادیث طیبہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دنیا و آخرت میں سربلندی حاصل کرنے کے لیے انسان کو کثرت کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنا چاہیے۔ استغفار کرنا انبیاء کرام علیہم السلام اور نبی کریمﷺکی سنت مطہرہ بھی ہے۔ جو شخص استغفار کو پکڑ لیتا ہے‘ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کو مادی نعمتوں سے بھی نواز دیتے ہیں اور آخرت میں بھی اس کے لیے جنت کے داخلے کو آسان بنا دیتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو گناہوں سے بچتے ہوئے استغفار کرنے کی توفیق دے‘ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments