"AIZ" (space) message & send to 7575

ڈپریشن کا خاتمہ

موجودہ دور مادہ پرستی کے عروج کا دور ہے۔ مادی عروج حاصل کرنے کیلئے لوگ کئی مرتبہ دوسروں کے حقوق کو یکسر فراموش کر دیتے اور فقط اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح آج کے دور میں انسانی تعلقات‘ دوستیاں‘ رشتے وغیرہ بھی خلوص سے زیادہ مفادات کی بنیاد پر استوار ہو چکے ہیں۔ انسان اپنے معاملات اور معمولات کو انجام دینے کے لیے بالعموم تنہا کوششیں کرتا نظر آتا ہے اور بے چینی‘ بے قراری‘ تکالیف اور مشکلات کے وقت قریبی دوست احباب اور اعزہ واقارب بھی دل سے اس کا ساتھ دینے پر تیار نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے معاشرے میں بہت سے لوگ نفسیاتی عوارض کا شکار ہو جاتے ہیں جن میں ڈپریشن یا غم سرفہرست ہے۔ ان مسائل سے نکلنے کیلئے لوگ کئی مرتبہ نفسیاتی و طبی ماہرین سے رجوع کرتے ہیں۔ کتاب و سنت نے اس حوالے سے اہل اسلام کی نہایت خوبصورت انداز میں رہنمائی کی ہے۔ طبی علاج و معالجے کیساتھ اگر ان تدابیر کو بھی اختیار کر لیا جائے تو انسان اپنے غموں پر قابو پانے کے قابل ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے بعض اہم تدابیر درج ذیل ہیں:
1۔ ایمان: اللہ تبارک وتعالیٰ پر پختہ ایمان انسان میں امید‘ حوصلہ اور زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے کی قوت پیدا کرتا ہے۔ ایمان انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ مشکلات میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اور اپنے حالات کی بہتری کیلئے کوشش جاری رکھے۔ اللہ تعالیٰ سورۂ یونس کی آیات: 62 تا 63 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''سن لو! بیشک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے‘‘۔ اسی طرح سورۃ البقرہ کی آیت: 257 میں ارشاد ہوا: ''اللہ ایمان والوں کا دوست اور محافظ ہے۔ وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے‘‘۔ بعض اوقات ڈپریشن میں مبتلا شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ ہر طرف اندھیرے چھا گئے ہیں اور ان مسائل سے نکلنے کیلئے اس کی استطاعت اور صلاحیتیں کفایت نہیں کر سکتیں۔ ڈپریشن کے دوران اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پر مضبوط ایمان انسان کے لیے بہت بڑا سہارا بن جاتا ہے۔ 2۔ تقویٰ: تقویٰ اسلامی زندگی کی بنیادی اقدار میں سے ایک ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اللہ تبارک وتعالیٰ کی کبریائی اور خوف کی وجہ سے گناہوں سے بچے۔ جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو کامیاب کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 189 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ‘‘۔اسی طرح سورۃ الطلاق کی آیت: 2 میں ارشاد ہوا: ''اور جو شخص اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے گا‘‘۔ چنانچہ انسان کو ڈپریشن کے دوران تقویٰ کو اختیار کرنا چاہیے۔ 3۔ توکل: توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان جائز اسباب اختیار کرنے اور اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرنے کے بعد‘ اپنے معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے۔ توکل انسان کو غیر ضروری خوف‘ بے جا فکر اور مستقبل کے بارے میں حد سے بڑھی ہوئی تشویش کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الطلاق کی آیت: 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور جو شخص اللہ پر بھروسا کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے‘‘۔ چنانچہ جو شخص ڈپریشن کا شکار ہے اس کو اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرنا چاہیے۔ اللہ اس بھروسے کی وجہ سے انسان کو ڈپریشن سے باہر نکال دیتا ہے۔ 4۔ قرآن مجید سے تعلق: قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور انسانیت کیلئے رشد وہدایت کا عظیم سرچشمہ ہے۔ اس کی تلاوت باعثِ اجر و ثواب ہے جبکہ اس کے معانی پر غور و فکر اور اس کی تعلیمات پر عمل‘ انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت: 82 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے‘‘۔ اسی طرح سورۂ یونس کی آیت: 57 میں ارشاد ہوا: ''اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ چکی ہے‘ اور دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا‘ اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور رحمت‘‘۔ ان آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان قرآنِ مجید سے تمسک اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بیماریوں کو دور کر دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی بعض سورتوں اور آیات کی تلاوت کی احادیث شریف میں خصوصی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ان میں سورۃ الفاتحہ‘ سورۃ البقرۃ‘ سورۃ الاخلاص‘ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کے علاوہ آیت الکرسی اور سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات شامل ہیں۔ ڈپریشن کے شکار شخص کو خصوصیت سے ان سورتوں اور آیتوں کی تلاوت کرنی چاہیے۔5۔ ذکر الٰہی: اللہ تعالیٰ کا ذکر مسلمان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ ذکر کے ذریعے انسان اپنے رب کو یاد کرتا اور اس کی نصرت کا طلبگار بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیات: 41 تا 43 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اے ایمان والو! اللہ کو کثرت سے یاد کرو‘ اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرو۔ وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی‘ تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے‘ اور وہ اہلِ ایمان پر بہت مہربان ہے‘‘۔ اسی طرح سورۃ الرعد کی آیت: 28 میں ارشاد ہوا: ''جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے‘‘۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ غموں کی دوری اور دلوں کے اطمینان کیلئے ذکر الٰہی ایک بہترین تدبیر ہے۔
6۔ درود شریف کی کثرت: سیدنا محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ آپﷺ پر درود و سلام بھیجنا مسلمانوں کیلئے ایک عظیم سعات اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیت: 56 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو‘‘۔ احادیث مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جو شخص نبی کریمﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے اور اس کی دس خطاؤں کو معاف کرتے اور اس کے دس درجات کو بلند کرتے ہیں۔ جو انسان کثرت سے نبی کریمﷺ کی ذاتِ اقدس پر درود بھیجتا ہے‘ اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتے اور اس کے غموں کو دور فرما دیتے ہیں۔ 7۔ دعا: دعا بندے اور اس کے رب کے درمیان تعلق کا اہم ذریعہ ہے۔ انسان خوشی اور غم‘ آسانی اور مشکل‘ غرض ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر سکتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 186 میں ارشاد ہوا: ''اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو بیشک میں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے۔ پس انہیں چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں‘‘۔ سورۃ النمل کی آیت: 62 میں ارشاد ہوا: ''بھلا کون ہے جو بے قرار شخص کی دعا قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے‘‘۔ دعا کرنے سے بھی انسان کے غم دور ہو جاتے ہیں۔ 8۔ توبہ واستغفار: کتاب وسنت کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسانوں کی پریشانیوں کی ایک بڑی وجہ ان کے گناہ ہوتے ہیں۔ سورۃ الشوریٰ کی آیت: 30 میں ارشاد ہوا ''اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے‘‘۔ سورۃ الروم کی آیت: 41 میں ارشاد ہوا: ''خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہو گیا ہے‘ لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے‘‘۔ انسان جب تکالیف اور مشکلات کے دوران اللہ تبارک وتعالیٰ سے توبہ واستغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی تکالیف اور غموں کو دور فرما دیتے ہیں۔ 9۔ انفاق فی سبیل اللہ: سورۃ البقرہ کی آیت: 274 میں ارشاد ہوا: ''جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں رات اور دن‘ پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں انکا اجر انکے رب کے پاس ہے۔ نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے‘‘۔
مسلمانوں کو چاہیے کہ طبی ذرائع کو استعمال کرنے کیساتھ مذکورہ بالا روحانی تدابیر بھی اختیار کریں تاکہ اپنے غموں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...