"AIZ" (space) message & send to 7575

رزقِ حلال کی اہمیت

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو اپنے ماننے والوں کی زندگی کے تمام شعبوں میں کامل رہنمائی کرتا ہے۔ جہاں انسان کو عبادات اور عقائد کو کتاب وسنت کے مطابق انجام دینا چاہیے وہیں اپنے معاملات کو بھی کتاب وسنت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر شخص زندگی میں معاشی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے کاروبار‘ ملازمت یا دیگر امور انجام دیتا ہے لیکن بہت سے لوگ اس حوالے سے اپنی دینی ذمہ داریوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے کتاب وسنت میں بڑی وضاحت کے ساتھ رہنمائی کی گئی ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت: 168 میں ارشاد فرماتے ہیں: '' اے لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھائو‘ پیو اور شیطانی راہ پر نہ چلو‘ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے‘‘۔ اس آیتِ مبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے انسانوں کو پاکیزہ رزق کھانے کا حکم دیا اور شیطان کے نقشِ قدم کی پیروی سے منع کیا ہے‘ اس لیے کہ وہ انسانوں کا کھلا دشمن ہے۔ گویا کہ انسان جب رزقِ حلال نہیں کماتا تو وہ شیطان کے نقشِ قدم پر چل رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح سورۃ البقرہ کی آیت: 172 میں ارشاد ہوا: ''اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں دے رکھی ہیں انہیں کھائو‘ پیو اور اللہ کا شکر ادا کرو‘ اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو‘‘۔ سورۃ المومنون کی آیت: 51 میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسولوں کو بھی طیب کھانا کھانے اور نیک عمل کو بجا لانے کا حکم دیا: ''اے پیغمبرو! حلال چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو‘ تم جو کچھ کر رہے ہو اس سے میں بخوبی واقف ہوں‘‘۔
بہت سے لوگ ناجائز طریقے سے ایک دوسرے کے مال کو ہڑپ لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے رضا مندی کے ساتھ تجارت کو جائز قرار دیا جبکہ باطل طریقے سے مال ہڑپ کرنے کی مذمت کی ہے۔ سورۃ النساء کی آیت: 29 میں ارشاد ہوا: ''اے ایمان والو! اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھائو‘ مگر یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے خرید وفروخت ہو‘‘۔ اس آیت مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ باہمی رضامندی سے کی جانے والی تجارت درست ہے جبکہ دھوکے سے ایک دوسرے کا مال کھانے کی کوئی گنجائش نہیں۔
اس وقت معاشرے میں سود کا لین دین عام ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے سودی لین دین کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ البقرہ کی آیت: 275 میں ارشاد فرمایا: ''سود خور لوگ نہ کھڑے ہوں گے مگر اسی طرح جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان چھو کر خبطی بنا دے‘ یہ اس لیے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی کی طرح ہے حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا اور سود کو حرام‘ جو شخص اپنے پاس آئی ہوئی اللہ کی نصیحت سن کر رک گیا اس کے لیے وہ ہے جو گزرا اور اس کا معاملہ اللہ کی طرف ہے‘ اور جو پھر دوبارہ حرام کی طرف لوٹا وہ جہنمی ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے‘‘۔
بہت سے لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ المطففین کی آیت: 1 تا 3 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''ہلاکت ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے۔ کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔ اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں‘‘۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں قوم مدین کا ذکر کیا جو ناپ تول میں کمی کیا کرتے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام ان کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ پورا تولنے اور ناپنے کی تلقین کرتے رہے مگر جب انہوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کی نصیحت کو قبول نہ کیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان پر ایک چنگھاڑ کو مسلط کرکے ہلاکت کے گھڑے میں گرا دیا۔ بہت سے لوگ یتیموں اور بے کسوں کے مال کو ناجائز طریقے سے ہڑپ لیتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ایسے لوگوں کی مذمت کرتے ہوئے سورۃ النساء کی آیت: 10 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''جو لوگ ناحق ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں‘ وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھر رہے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ میں جائیں گے‘‘۔
مذکورہ بالا آیاتِ مبارکہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ رزقِ حلال کھانے کی ترغیب دیتے اور مالِ حرام کھانے کی شدید مذمت کرتے ہیں‘ اور ایسے لوگوں کے لیے تباہی اور عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی حلال مال کمانے کی بہت رغبت دلائی گئی ہے۔ اس حوالے سے چند اہم احادیث درج ذیل ہیں:
1۔ صحیح بخاری میں حضرت مقدامؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''کسی انسان نے اس شخص سے بہتر روزی نہیں کھائی جو خود اپنے ہاتھوں سے کما کر کھاتا ہے۔ اللہ کے نبی دائود علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کھایا کرتے تھے‘‘۔ اس حدیثِ پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اپنے ہاتھ سے کمانے میں کوئی عار نہیں ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے نبی دائود علیہ السلام بھی‘ جو اپنی قوم کے بادشاہ تھے‘ اپنے ہاتھ سے کام کر کے روزی کمایا کرتے تھے۔
2۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''وہ شخص جو لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے اُس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے‘ چاہے وہ اسے کچھ دے یا نہ دے‘‘۔ اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ رزق کمانے کی کوشش کرنا کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے‘ اس لیے کہ اس سے انسان کی عزت‘ آبرو اور وقار برقرار رہتا ہے۔
3۔ صحیح بخاری میں حضرت حکیم بن حزامؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''خرید و فروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں (کہ بیع فسخ کر دیں یا رکھیں) یا اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خرید و فروخت میں برکت ہو گی۔ اور اگر انہوں نے کچھ چھپائے رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خرید و فروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی‘‘۔ اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان ناجائز طریقے سے مال کمانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے رزق میں برکت ختم ہوتی ہے جبکہ اس کے مدمقابل جو بندہ حلال کماتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے رزق میں برکت عطا فرما دیتے ہیں۔
4۔ ہم اپنے گرد ونواح پہ نظر ڈالیں تو اس بات کا مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ بہت سے لوگ فقط مال کمانے سے دلچسپی رکھتے ہیں‘ انہیں اس چیز سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ جو کما رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: (لوگوں پر) ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پروا نہیں کرے گا کہ مال اس نے کہاں سے لیا‘ حلال طریقہ سے یا حرام طریقہ سے۔
5۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے‘ بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے‘ (حرم کعبہ میں آ کر وہ دعا کیلئے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے (اور کہتا ہے): اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے‘ اس کا پینا حرام کا ہے‘ اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی۔ اس حدیثِ پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ رزقِ حرام کمانے والوں کی عبادات کو قبول نہیں کرتے‘ چنانچہ انسان کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی عبادت کی قبولیت کے حوالے سے بھی اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ اس کا مال حلال ہو۔
مذکورہ بالا آیات اور احادیث سے رزقِ حلال کی اہمیت اور رزقِ حرام کی قباحت واضح ہوتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو حلال کمانے کی توفیق دے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...