ہر دور میں ایسے لوگ رہے ہیں جو اپنے معمولی مفادات کیلئے امت کو تقسیم کرنے کے درپے رہتے ہیں لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے آج بھی ایسے رہنما موجود ہیں جو امت کو مشترکات پر جمع کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ 10 اکتوبر کو جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام کورنگی‘ کراچی میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں خیبر پختونخوا کے نمایاں رہنما مفتی کفایت اللہ کے علاوہ مجھے بھی خطاب کی دعوت دی گئی۔ اس موقع پر بہت سے علماء کرام نے خطاب کیا۔ قرآن وسنہ موومنٹ سندھ کے چیئرمین مولانا اختر محمدی نے عوام کے سامنے اتحادِ امت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور ان کو متحد ہو کر دین کی نشر واشاعت کی ترغیب دی۔ مفتی کفایت اللہ نے پُرمغز خطاب کیا اور کہا کہ فکری اختلافات کے باوجود امت کے تمام طبقات کو اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کی سربلندی کیلئے کوشاں رہنا چاہیے۔ میں نے اس موقع پر جو گزارشات سامعین کے سامنے رکھیں ان کو کچھ کمی بیشی کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھنا چاہتاہوں:
اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو فرقہ بندی چھوڑ کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی دعوت دی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورہ آلِ عمران کی آیت: 103 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اتحاد واتفاق کے ساتھ دین پرمجتمع ہونا چاہیے۔ دینی اعتبار سے امت کو مجتمع کرنے کیلئے مسلمانوں کے پاس جو مشترکات موجود ہیں‘ ان میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ توحید: توحید کا عقیدہ امت کے اتحاد کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ شرق وغرب میں بسنے والے مسلمان‘ اللہ تبارک وتعالیٰ کی الوہیت اور ربوبیت پر متحد ہیں اور ہر باشعور مسلمان اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ کائنات میں اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے؛ چنانچہ توحید اور اس کی دعوت امت کا مشترکہ اثاثہ ہے اور اس بنیاد پر امت کو مجتمع کرنا انتہائی ضروری اور مفید ہے۔ 2۔ قرآن مجید: دنیا بھر کے مسلمان قرآن مجید کو اللہ کی آخری کتاب اور ہدایت کا سرچشمہ سمجھتے ہیں۔ اس کتاب کی حقانیت اور بالادستی پر مسلمانوں کا اتفاق ہے۔ 3۔ ارکانِ اسلام: اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کیساتھ ساتھ امتِ مسلمہ ارکانِ اسلام پر بھی متحد ہے۔ نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی کے حوالے سے پوری امت کا اتفاق ہے کہ ان کی بجا آوری میں کوتاہی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ نبی کریمﷺ کے بعثت سے لے کر آج تک ارکانِ اسلام کی ادائیگی کا سلسلہ بغیر کسی تعطل اور توقف کے جاری و ساری ہے‘ جو امت کے اتحاد کی بہت بڑی بنیاد ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک حضرت محمدﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا‘‘۔ 4۔ بیت اللہ شریف: بیت اللہ شریف کے قبلہ ہونے پر بھی پوری امت کا اتفاق ہے اور کوئی مسلمان بھی بیت اللہ شریف کے علاوہ کسی اور سمت میں نماز کو ادا کرنے کیلئے تیار نہیں۔
5۔ نبی کریمﷺ کی ختمِ نبوت: امت کا نبی کریمﷺ کی ختمِ نبوت پر اتفاق ہے اور امت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ نبی کریمﷺ کے بعد کائنات میں کسی بھی نبی کے جلوہ گر ہونے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ جب نبی کریمﷺ کو مبعوث کیا گیا تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی آیت: 158 میں آپﷺ کی رسالت ونبوت کی جامعیت کا اظہار فرما دیا: ''آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا (رسول) ہوں‘‘۔ چونکہ نبی کریمﷺ جمیع انسانیت کے مقتدا و پیشوا ہیں اس لیے آپﷺ پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے رسالت ونبوت کے سلسلے کو ہر اعتبار سے تمام فرما دیا اور سورۃ الاحزاب کی آیت: 40 میں اس امر کا اعلان فرما دیا: ''محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب انبیا کے آخر میں (سلسلۂ نبوت کو ختم کرنے والے) ہیں‘‘۔ قرآن مجید کی کُلی آیات کے ساتھ ساتھ بہت سی احادیث میں بھی عقیدۂ ختم نبوت کے حوالے سے وضاحت کی گئی ہے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم‘ مسند احمد اور سنن الکبریٰ للبیہقی میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا: میری اور سابق انبیاء کرام کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص نے ایک خوبصورت گھر بنایا مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی۔ لوگ اس گھرکو دیکھ کر اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں‘ مگر کہتے ہیں کہ کیا خوب ہو اگر (وہ آخری) اینٹ بھی اپنی جگہ پر لگا دی جائے‘ پس میں وہ اینٹ ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ''قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تیس بڑے کذاب نہیں آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت سعدؓ سے روایت ہے کہ ''رسول اللہﷺ جب جنگ تبوک کیلئے نکلے تو حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا نائب مقررکیا۔ حضرت علیؓ نے عرض کی کہ (میں تو میدانِ جنگ کا سوار ہوں) کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے پاس چھوڑکر جانا چاہتے ہیں؟ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے علی! کیا آپ اس بات پر خوش نہیں کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو موسیٰ کو ہارون (علیہما السلام) سے تھی‘ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ ''بنی اسرائیل پر انبیاء کرام حکومت کرتے اور ان کی رہنمائی بھی کرتے رہے۔ جب ایک نبی کا وصال ہو جاتا تو دوسرا نبی ان کی جگہ لے لیتا۔ میرے بعدکوئی نبی تو نہیں ہو گا؛ تاہم خلفا ہوں گے اور تعداد میں بہت ہوں گے‘‘۔
6۔ حرمتِ رسول اللہﷺ: نبی کریمﷺ کی حرمت کے دفاع پر بھی امت کا اتفاق ہے اور گستاخی کی کوئی بھی صورت امت کیلئے ناقابلِ قبول ہے۔ پاکستان اس اعتبار سے دنیا کی ایک ممتاز ریاست ہے کہ جہاں حرمتِ رسول پر پہرے داری کو یقینی بنانے کیلئے 295C کا قانون موجود ہے‘ جس کے مطابق شاتم کی سزا موت ہے۔ بعض عناصر کئی مرتبہ اس قانون کو معطل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن علما اور دینی طبقات کے اتفاق واتحاد کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔
7۔ ناموسِ صحابہ و اہل بیت: نبی کریمﷺ کے صحابہ کرام اور اہل بیتِ عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم بھی امت کا مشترکہ اثاثہ ہے اور امت کے تمام طبقات صحابہ کرام اور اہل بیت عظام کی تعظیم کو اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ 8۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی نشر واشاعت اور قیام: اللہ کے دین کی نشر واشاعت اور قیام کیلئے کوشاں رہنے پر بھی امتِ مسلمہ کے جملہ طبقات کا اتفاق ہے اور امت کے دانشمند علما اس بات پر مکمل اتفاق رکھتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے دین کے نفاذ ہی سے انسانیت کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان سمیت دنیا کے بہت سے مسلم ممالک میں آئینی اور دستوری جدوجہد کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔
امت کے طبقات کے درمیان موجود اختلافات جہاں امت کے مخلص طبقات کیلئے تشویش کا سبب بنتے ہیں وہیں مشترکات پر اتفاق کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے امکانات بھی روشن رہتے ہیں۔ اتحادِ امت کیلئے کی جانے والی کاوشیں ہر اعتبار سے قابلِ قدر ہیں اور ان کاوشوں کے نتیجے میں امت کو مجتمع ہو کر اللہ کے دین کی نشرو اشاعت اور پاسبانی کے فرائض کو بطریق احسن انجام دینا چاہیے۔ کانفرنس کے شرکا نے علما کرام کے خطابات کو بڑی دلچسپی اور دلجمعی سے سنا اور مقررین سے مکمل ہم آہنگی کا اظہار کیا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments