"SSC" (space) message & send to 7575

راولپنڈی کا ریلوے سٹیشن: ایک قدیم رومانس …(2)

اب راولپنڈی ریلوے سٹیشن کی عمارت میرے سامنے تھی۔ پھاٹک پر رک کر ہم نے کار کا ٹوکن لیا اور سٹیشن کے سامنے کھلے احاطے میں آ گئے۔ مجھے خیال آیا کہ جن دنوں میں گورڈن کالج میں پڑھتا تھا اور ہم دوست ریلوے سٹیشن چائے کے سٹالز پر چائے پینے آیا کرتے تھے تب یہ پھاٹک نہیں ہوتا تھا اور ہم بغیر روک ٹوک یہاں آیا جایا کرتے تھے۔ پھر میری نظر ایک ریلوے انجن پر پڑی‘ جسے نمائش کیلئے ریلوے سٹیشن کے احاطے میں رکھا گیا تھا۔ اس کے اردگرد ایک خوبصورت زنجیر تھی۔ سٹیشن پر آنے جانے والے لوگ اشتیاق سے اس انجن کو دیکھتے‘ اس کے پاس کھڑے ہو کر تصویریں بناتے اور اس کے قریب آویزاں بورڈ پر انجن کی کہانی پڑھتے۔ میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ بورڈ پر انجن کی کہانی پڑھنے لگا۔ کہانی کے مطابق اس انجن کا نمبر 203 تھا اور اسے 1932ء میں جرمنی میں تیار کیا گیا تھا۔ تب اس کی تیاری پر تقریباً 42 ہزار روپے خرچ ہوئے تھے جو اُس زمانے میں ایک خطیر رقم تھی۔ جرمنی سے یہ انجن برصغیر پہنچا اور کئی برس تک کوہاٹ ٹل‘ ماڑی انڈس اور بنو ں کی ریلوے لائنوں پر چلتا رہا۔ وقت کے ساتھ اس کے کل پرزے سست پڑتے گئے اور پھر ایک دن اس کی سانسیں بھی ٹوٹ گئیں اور یہ بے حس و حرکت ہو گیا۔ ایک طویل اور شاندار سفر اپنے اختتام کو پہنچا۔ لیکن یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی کیونکہ دوسرے ناکارہ انجنوں کی طرح یہ کباڑ خانے کے اندھیروں میں گُم نہیں ہوا۔ اس کے برعکس 2000ء میں اسے پوری شان و شوکت اور عزت و احترام کے ساتھ راولپنڈی سٹیشن کے باہر اس احاطے میں نمائش کے لیے رکھ دیا گیا جہاں اب یہ خاص و عام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
میں انجن کی دلفریب کہانی میں گم تھا کہ اچانک بادل گرجنے کی آواز آئی۔ میں نے نظر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں یکلخت گھپ اندھیرا چھا گیا تھا۔ میں نے سوچا کہ راولپنڈی کا موسم ایسا ہی ہے۔ تین دن گرمی پڑے تو چوتھے دن بارش کے آثار بن جاتے ہیں۔ ٹھنڈی ہوائیں چلنا شروع ہو گئی تھیں۔ یہ بارش کی آمد کا سندیسہ تھا۔ میں انجن نمبر 203 سے رخصت لے کر ریلوے سٹیشن کے وسیع برآمدے میں داخل ہوتا ہوں۔ چوڑ ے پتھروں سے بنی اس عمارت کا اپنا حسن ہے۔ ایک جمال کی کیفیت ہے‘ اس کے برعکس لاہور کے ریلوے سٹیشن کا بیرونی منظر ایک قلعے کا سا ہے۔
برآمدے میں جائیں تو سٹیشن کے اندر داخل ہونے کیلئے تین کشاد ہ راستے ہیں۔ ہر راستے پر سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ برآمدے میں ٹکٹ خریدنے اور معلومات کیلئے کھڑکیاں ہیں۔ ایک راستہ عام مسافروں کا ہے‘ دوسرا ایڈمنسٹریشن کیلئے اور تیسرا راستہ سامان لے جانے کیلئے ہے۔ میں نے سٹیشن پر داخل ہونے کیلئے پلیٹ فارم ٹکٹ خریدا اور پلیٹ فارم پر پہنچنے کیلئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ جونہی میں آخری سیڑھی پر پہنچا تو یوں لگا کہ اسی کھوئی ہوئی مانوس دنیا میں آگیا ہوں۔ وہی آوازیں‘ وہی مسافروں کی چہل پہل‘ وہی ریل کی پٹری‘ وہی اونچے لمبے ستون‘ وہی چائے کے ڈھابے اور وہی لکڑی کے بینچ۔ میں ایک ستون کے قریب لکڑی کے بینچ پر بیٹھ گیا۔ ایک قلی نے پوچھنے پر بتایا کہ اگلی ٹرین پانچ منٹ میں پہنچ رہی ہے۔ بینچ پر بیٹھے بیٹھے مجھے وہ دن یاد آگیا جب میں اسی ریلوے سٹیشن سے بذریعہ ٹرین منڈی بہاء الدین جا رہا تھا‘ جہاں گورنمنٹ ڈگری کالج میں میری انگلش کے لیکچرر کے طور پر تقرری ہوئی تھی۔ مجھے یاد ہے اس دن مجھے رخصت کرنے کیلئے میرے بھائی آئے تھے۔ یہ لالہ موسیٰ جانے والی ٹرین تھی جو منڈی بہاء الدین سٹیشن پر کچھ دیر کیلئے رکتی تھی۔ اُن دنوں ہر ہفتے میں راولپنڈی اپنے گھر آتا اور اتوار کی شام کو ٹرین پر واپس منڈی بہاء الدین چلاجاتا۔ اس کالج میں میرا قیام چند ماہ کا تھا۔ اس دوران میں نے متعدد بار ٹرین میں سفر کیا۔ سوچتا ہوں کہ وقت کیسے دبے پائوں گزر جاتا ہے۔ اس بات کو کئی دہائیاں گزر گئی ہیں‘ اس دوران بہت کچھ بدل گیا ہے۔
میں ماضی کے تصور میں نجانے کب تک کھویا رہتا کہ شور مچاتی ٹرین مجھے حقیقت کی دنیا میں لے آئی۔ قلی اپنے سروں پر سرخ کپڑے کی تہہ جماتے ہوئے ٹرین کی طرف لپکے۔ ٹرین کے اندر بیٹھے مسافروں کی نظریں ہجوم میں اپنے پیاروں کو تلاش کر رہی تھیں جو ان کے استقبال کیلئے آئے ہوئے تھے۔ کچھ ہی دیر میں مسافر اترنے لگے۔ قلی مسافروں کا سامان اٹھانے کیلئے ڈبوں کی طرف بھاگ رہے تھے۔ ٹرین سے اترنے والے اپنے پیاروں سے مل رہے تھے۔ میں انہماک سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ دیکھتے دیکھتے گاڑی کے ڈبے خالی ہو گئے اور پلیٹ فارم پھر سے خالی خالی نظر آنے لگا۔ میں بینچ سے اٹھ کھڑا ہوا‘ تب میری نگاہ اپنے بائیں طرف گئی جہاں 'ویٹنگ روم‘ لکھا تھا۔ اس سے ذرا آگے وی آئی پی لائونج تھا۔ یہ ایک نیا اضافہ تھا۔ میں نے لائونج کے اندر داخل ہو کر دیکھا‘ یہ ایک مکمل ایئرکنڈیشنڈ لائونج تھا جہاں خوبصورت صوفے اور میزیں تھیں۔ سامنے دیوار پر ایک بڑے سائز کی ایل سی ڈی لگی تھی۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی دائیں ہاتھ پہ ریسیپشن ٹیبل تھا‘ جہاں یونیفارم میں ملبوس ایک لڑکی کھڑی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا کیا میں کچھ دیر کیلئے لائونج میں بیٹھ سکتا ہوں۔ اس نے میکانکی انداز میں پوچھا: آپ کس گاڑی سے جا رہے ہیں؟ میں نے ہنستے ہوئے کہا: مجھے کہیں نہیں جانا‘ صرف کچھ دیر یہاں گزارنا چاہتا ہوں۔ اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا: لائو نج استعمال کرنے کی فیس تین سو روپے ہے۔ میں نے رضامندی میں سر ہلایا اور دیوار کے قریب ایک صوفے پر بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر میں فضائی میزبان کی طرح یونیفارم میں ملبوس ایک لڑکی ٹرے میں چائے لے آئی۔ چائے کے ساتھ بسکٹ اور سینڈوچ تھے۔ تین سو روپے میں یہ سب کچھ‘ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔ میں نے چائے کا ایک گھونٹ لیا ہی تھا کہ لائونج کا دروازہ کھلا اور ایک مسافر اندر داخل ہوا۔ اس کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ اس نے ریسیپشن ڈیسک پر بیٹھی لڑکی کو بتایا کہ باہر زوروں کی بارش ہو رہی ہے۔
میں نے چائے کا ایک گرم گھونٹ لیا اور مجھے گلزار کی فلم ''اجازت‘‘ یاد آ گئی۔ وہی گلزار جو جہلم کے قریب دینہ کے قصبے میں پیدا ہوا‘ تقسیم کے بعد ممبئی پہنچا اور بالی وُڈ میں اپنی گیتوں اور منفرد فلموں سے جلد ہی دھوم مچا دی۔ کیسی کیسی فلمیں تھیں: موسم‘ آندھی‘ نمکین‘ ماچس۔ ایک سے بڑھ کر ایک فلم! لیکن آج اجازت فلم یاد آنے کی خاص وجہ فلم کا آغاز تھا۔ فلم ایک ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم سے شروع ہوتی ہے‘ جہاں باہر موسلا دھار بارش ہو رہی ہے۔ یہ نصیر الدین شاہ اور ریکھا کی ایک یادگار فلم تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ یہ فلم ریلوے سٹیشن کے ویٹنگ روم سے شروع ہوتی ہے اور وہیں اختتام کو پہنچتی ہے۔
پھر مجھے کمال امروہی کی فلم پاکیزہ یاد آ گئی‘ جس کا آغاز ٹرین کے سفر سے ہوتا ہے۔ یوں تو اس فلم کے سارے گیت مشہور ہوئے لیکن آج ایک گیت ''چلتے چلتے‘‘ مجھے خاص طور پر یا د آ رہا ہے‘ جس میں ریل کی سیٹی کی آواز کو شامل کیا گیا تھا۔ یہ سیٹی کیا ہے‘ یوں لگتا ہے جیسے اپنے ڈار سے بچھڑی کسی کُونج کی چیخ ہے۔ گیت میں ریل کی سیٹی کی یہ آواز سائونڈ ریکارڈر منگیش ڈیسائی نے شامل کی تھی‘ جبکہ موسیقار نوشاد اس کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ریل کی سیٹی شامل کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ ریل کی سیٹی کی اس آواز نے گیت کو زیادہ بامعنی اور اس کے تاثر کو دو آتشہ کر دیا۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...