"SSC" (space) message & send to 7575

راولپنڈی کا ٹینچ بھاٹا: ایک قدیم یاد کا سفر … (3)

وہ اتوار کی صبح تھی اور میں ٹینچ بھاٹا کی سڑک پر سفر کرتے ہوئے گزرے وقت کے نشان دیکھ رہا تھا۔ مجھے اپنے دائیں ہاتھ اُس گلی کی تلاش تھی جہاں کبھی ہمارا گھر ہوا کرتا تھا‘ جس کے کچے صحن میں شہتوت کا ایک درخت تھا اور جس گھر سے میری بہت سی یادیں وابستہ تھیں لیکن اب وہ گلی دوسری گلیوں کے ساتھ گڈ مڈ ہو گئی تھی۔ کوشش کے باوجود بھی مجھے وہ گلی نہ مل سکی۔ مین روڈ پر ذر ا آگے دائیں ہاتھ ڈسپنسری گراؤنڈ تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہر آبادی میں ایک سرکاری ڈسپنسری ہوا کرتی تھی جسے عوامی فلاح کیلئے حکومت وسائل مہیا کرتی تھی۔ ان ڈسپنسریوں میں بنیادی علاج کی سہولتیں مفت میسر ہوتی تھیں اور عام لوگوں کیلئے علاج کرانا مشکل نہ تھا۔ اب ان ڈسپنسریوں کا کہیں وجود باقی نہیں۔ اب تو مفت علاج کی بات ایک خواب لگتی ہے۔ ہر ڈسپنسری کے ساتھ ایک وسیع احاطہ ہوا کرتا تھا۔ یہاں کی ڈسپنسری کی بھی ایک گراؤنڈ تھی۔ کبھی کبھار اس گراؤنڈ میں مذہبی اور سیاسی اجتماعات بھی ہوا کرتے تھے۔ بعد میں یہاں پر ایک لنڈا بازار بھی لگتا تھا۔ یہاں پر لوگوں کا رش لگا رہتا تھا۔ اب نہ وہ ڈسپنسری رہی نہ وہ میدان۔ اس جگہ اب دکانیں بن چکی تھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ خالی جگہیں اور میدان ختم ہو گئے ہیں۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے شہروں کو سانس لینے کیلئے بھی جگہ میسر نہیں رہی۔ ڈسپنسری گراؤنڈکے قریب ہی ہمارا وہ گھر ہوا کرتا تھا جہاں ہم پہلے پہل مریڑ حسن سے ٹینچ بھاٹا آئے تھے۔ یہ کافی کشادہ گھر تھا لیکن معلوم نہیں کیوں ہم زیادہ دیر یہاں نہیں رہے۔ شاید مالک مکان کرایہ زیادہ مانگ رہا تھا۔ اس گھر کے ساتھ والے گھر میں ہمارے سکول کا ایک لڑکا مصدق رہتا تھا لیکن یہ کئی دہائیاں پہلے کی بات ہے۔ خواہش کے باوجود مجھے اُس گھر کا سراغ نہ مل سکا۔ زمانے کی گرد نے یادوں کے کینوس کو دھندلا دیا تھا۔ مجھے شدت سے کوئی قیمتی شے کھونے کا احساس ہوا۔ سڑک پر ذرا آگے جائیں تو بائیں ہاتھ ڈاکٹر شان کا کلینک ہوا کرتا تھا۔ وہ ہومیو پیتھی کے ڈاکٹر تھے اور ان کے کلینک پر مریضوں کا رش لگا رہتا تھا۔ شاید اس کی ایک وجہ ان کی کم فیس بھی تھی۔
سڑک پر سفر کرتے ہوئے اچانک مجھے دائیں ہاتھ ایک بلند و بالا مینار والی مسجد نظر آئی۔ مینار والی مسجد سے مجھے بہت کچھ یاد آ گیا۔ میں نے علی سے کہا کہ گاڑی کو کنارے پر روک دو۔ وہ حیران تھا کہ اچانک میں نے گاڑی روکنے کا کیوں کہا۔ اسے کیا معلوم مسجد کے اس مینار کی میرے لیے کیا اہمیت تھی۔ میں گاڑی سے اُتر آیا۔ مسجد کے مینار اور مرکزی دروازے کو دیکھ کر مجھے وہ دن یاد آگئے جب ماں مجھے اور انعام بھائی کو مسجد سیپارہ پڑھنے کیلئے بھیجتی تھیں۔ انعام بھائی مجھ سے پانچ سال بڑے تھے۔ یہ مسجد ہمارے گھر سے زیادہ دور نہیں تھی۔ ہم شام کو باقاعدگی سے مسجد جاتے جہاں مسجد کی چھت پر چٹائیاں بچھی ہوتیں۔ ہمارے سامنے رحل میں سیپارے رکھے ہوتے۔ زمین پر بچھی انہی چٹائیوں پر بیٹھ کر ہم سیپارہ پڑھتے۔ حاجی انور صاحب‘ جو اُس مسجد میں نماز پڑھاتے تھے‘ ہمارے قرآن کے استاد تھے۔ حاجی صاحب ایک نیک اور باعمل مسلمان تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ حاجی انور صاحب پرائمری سکول لال کُرتی میں بھی میرے استاد تھے۔ دراز قد‘ گورا رنگ اور سفید داڑھی معلوم نہیں ان کے بچے تھے یا نہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ گھر نہیں بیٹھے۔ رزقِ حلال کیلئے تگ و دو کرتے رہے۔ سکول کی نوکری کے بعد میں نے انہیں ایک چائے کی کمپنی کے سیلز مین کے طور پر بھی دیکھا۔ وہ سائیکل پر ہوتے اور سائیکل کے آگے ایک بڑے باکس میں چائے کے ڈبے ہوتے اور وہ مختلف دکانوں پر کمپنی کے نمائندے کے طور پر چائے کے ڈبے سپلائی کرتے۔ اب نہ وہ حاجی صاحب رہے نہ انعام بھائی نہ ہی ماں جو ہر روز ہمارے بال بناکر اور ہماری آنکھوں میں سرمہ لگا کر ہمیں اہتمام سے قرآن پڑھنے مسجد بھیجتی تھیں۔ اداسی کی ایک لہر آئی اور گزر گئی۔ میں واپس گاڑی میں آ بیٹھا اور علی نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ بائیں ہاتھ مجھے وہ جگہ دکھائی دی جہاں ڈاکٹر بشیر کا کلینک ہوا کرتا تھا۔ ڈاکٹر بشیر کہلاتا تو ڈاکٹر تھا لیکن حقیقت میں وہ ایک کمپاؤنڈر تھا جو ہر مریض کو انجکشن لگاتا اور بیماری کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتا۔ یاد رہے کہ ان دنوں بہت سے ایسے لوگ تھے جن کا دوائیوں کا علم واجبی سا تھا لیکن وہ خود کو ڈاکٹر کہلواتے اور مریضوں پر الٹے سیدھے تجربے کرتے۔
علی گاڑی آہستہ آہستہ چلا رہا تھا تاکہ میں سڑک کے دونوں طرف کے منظر اچھی طرح سے دیکھ سکوں۔ تب دائیں ہاتھ مجھے وہ جگہ دکھائی دی جہاں میجر عزیز بھٹی کا گھر ہوا کرتا تھا‘ وہی میجر عزیز بھٹی جنہوں نے 1965ء کی جنگ میں بہادری اور شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی تھی اور جن کی لازوال قربانی پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز‘ نشانِ حیدر دیا گیا تھا۔ اس سے ذرا آگے دائیں ہاتھ جنرل صفدر کا گھر تھا‘ وہی جنرل صفدر جو بعد میں پنجاب کے گورنر اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی رہے۔ یہیں کہیں بائیں ہاتھ ڈاکٹر شان کا کلینک بھی ہوا کرتا تھا‘ وہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے اور لوگوں میں بہت مقبول تھے۔ اقبال ہوٹل کا ذکر پہلے آ چکا ہے‘ جو ہمارے گھر کے قریب تھا۔ اس کے علاوہ اُس زمانے میں ٹینچ بھاٹا میں دو اور ہوٹل ایسے تھے جہاں گاہکوں کا رش لگا رہتا تھا۔ ایک کا نام گلزار ہوٹل اور دوسرے کا نام مغل ہوٹل تھا۔ انعام بھائی کے دوست توقیر اور افضال‘ گلزار ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے۔ انعام بھائی کے ہمراہ میں بھی ایک دو بار وہاں گیا تھا۔ لکڑی کی کرسیوں پر بیٹھ کر چائے پینے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اب نہ اقبال ہوٹل رہا‘ نہ گلزار ہوٹل اور نہ ہی مغل ہوٹل‘ ان جگہوں پر نئے کاروباری مراکز کھل گئے ہیں۔ ٹینچ بھاٹا کا ایک اور مرکزی نشان قصائی چوک تھا۔ یہاں گوشت کی دکانیں ہوا کرتی تھیں۔ اسی نسبت سے اس کا نام قصائی چوک پڑ گیا تھا۔ ٹینچ بھاٹا کے طویل بازار کا اختتام آخری بس سٹاپ پر ہوتا تھا۔ اس کے بعد مغل آباد کا علاقہ شروع ہو جاتا تھا۔ دائیں ہاتھ ایک سڑک جاتی تھی جس کا نام اب عابد مجید روڈ ہے۔ اس سڑک پر مٹی کی تیل کا ایک ڈپو ہوا کرتا تھا۔ علی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہم عابد مجید روڈ پر جائیں؟ میں نے کہا نہیں‘ ہم واپس چلتے ہیں۔
علی نے آخری بس سٹاپ سے گاڑی موڑی اور ہم واپس 22نمبر چونگی کی طرف جانے لگے۔ اب سڑک پر دکانیں کھل رہی تھیں اور لوگوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی تھی۔ واپسی کے سفر پر میں نے کھڑکی سے باہر نہیں دیکھا۔ میں اپنے اندر وہی منظر روشن رکھنا چاہتا تھا جن کی انگلی پکڑکر میں نے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا تھا‘ لیکن کہتے ہیں منظرایک جیسے نہیں رہتے۔ ہر دم تو بدلتے رہتے ہیں۔ وقت ایک دریا ہے جو مسلسل سفر میں ہے۔ یہ جن جن راستوں سے گزرتا ہے سب کچھ بدلتاجاتا ہے‘ لیکن جانے پھر بھی کیوں پرانے راستوں پر جانے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی۔ کوئی شے ہے جو ہمیں ہر دم اپنے پاس بلاتی رہتی ہے ۔ (ختم)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...