کچھ دن پہلے موجودہ سیاسی حالات پر پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان صاحبہ سے بات ہو رہی تھی‘ انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ کہنے لگیں: جس طرح کے حالات ہم سب نے پیدا کر دیے ہیں اس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔ نہ ماضی میں نکلا ہے نہ اب نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہم بڑی محنت سے حالات کو ایسے مقام تک لے جاتے ہیں اور جب سب کچھ لپیٹ دیا جاتا ہے تو ہمیں جمہوریت یاد آنا شروع ہو جاتی ہے اور وہی پارٹیاں جو ایک دوسرے کی گردن مارنے پر تلی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے جمہوریت لپیٹی جاتی ہے‘ ایک دوسرے سے مل کر جمہوریت بحالی کیلئے الائنس بنا کر جدوجہد شروع کر دیتی ہیں۔ جب برسوں کی تکالیف کے بعد جمہوریت بحال ہو جائے تو پھر وہی دنگل شروع ہو جاتا ہے اور کل کے اتحادی دوبارہ ایک دوسرے کو مرنے مارنے پر اتر آئیں گے اور پھر وہی کھیل کہ تخت الٹے گا اور پھر سب دیرینہ دشمن مل کر جمہوریت بحالی پروجیکٹ پر لگ جائیں گے۔ یہ دائرے کا وہ سفر ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
دیکھا جائے تو پلوشہ صاحبہ نے موجودہ اور ماضی کی پوری سیاست اور سیاستدانوں کا پوسٹ مارٹم کر دیا ہے۔ اگرچہ ہم کہتے ہیں کہ موجودہ سیاست اور سیاستدانوں نے ملک کا یہ حشر کر دیا ہے لیکن دیکھا جائے تو بھٹو دور سے یہی کچھ چل رہا ہے۔ خود بھٹو صاحب کا اپنا دور دیکھیں تو اُس وقت بھی اپوزیشن حکومت کو نہیں چلنے دے رہی تھی۔ بلوچستان اور سرحد میں حکومتیں توڑ کر وہاں بھٹو صاحب نے گورنر راج لگا دیا تھا اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ عطا اللہ مینگل مری جیل میں ڈال دیے گئے تھے۔ پھر وہی اپوزیشن والے اُس وقت فوج کو بھٹو حکومت کیخلاف خط لکھ رہے تھے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے پورا ملک ہڑتالوں اور احتجاج سے جام کر دیا تھا۔نو ستاروں کا الائنس بنا‘ گولیاں چلیں‘ لوگ مارے گئے اور پھر مارشل لاء لگ گیا۔ بھٹو صاحب کا تختہ الٹ گیا‘ وہ گرفتار ہو گئے اور پھر پھانسی چڑھ گئے۔ کچھ عرصے کے بعد وہی سیاستدان جو بھٹو کیخلاف تحریک چلا رہے تھے اور انہیں پھانسی گھاٹ تک لے گئے‘ وہ بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کے ساتھ مل کر اُسی جنرل ضیا سے جمہوریت کی بحالی مانگ رہے تھے‘ جسے کبھی انہوں نے خط لکھ کر مداخلت کی دعوت دی تھا۔ بینظیر بھٹو تو بعد میں اصغر خان کے ساتھ بھی جمہوری الائنس میں رہیں جن پر الزام تھا کہ بھٹو کے خلاف انہوں نے فوج کو خط لکھا تھا۔
ویسے دیکھا جائے تو سیاسی مخالفین کیلئے گنجائش بھٹو نے بھی نہیں چھوڑی تھی اور اپوزیشن کے ساتھ جو بدترین سلوک کیا گیا وہ اپنی جگہ بہت افسوسناک تھا۔ بھٹو صاحب پڑھے لکھے انسان تھے۔ انہیں علم ہونا چاہیے تھا کہ جمہوریت اپوزیشن کے بغیر کمزور رہے گی اور وہ اس کھائی میں خود بھی گریں گے۔ اگر اپوزیشن کو ہی ختم کر دیا تو حکومت کو بھی ختم کرنا آسان ہو گا۔ آپ جمہوریت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے سیاسی مفاد شامل کرتے ہیں تاکہ سب کو جمہوریت میں اپنے فوائد نظر آئیں اور وہ خود آگے بڑھ کر اس سسٹم کی حفاظت کریں۔ میاں عامر محمود صاحب صوبوں کے حوالے سے ایک دن یہی بات کر رہے تھے کہ ہمارے سیاستدانوں نے تمام تر طاقت اپنے اور اپنے خاندانوں کے ہاتھوں میں رکھ کر جمہوری سسٹم کو کمزور کیا۔ سوچیں اگر ملک میں طاقتور ضلعی حکومتیں کام کر رہی ہوتیں تو لاکھوں لوگ اس سسٹم سے وابستہ ہوتے اور وہ سب اس کے تحفظ کیلئے کھڑے ہو جاتے‘ جیسے دس سال پہلے ترکی میں ہوا ‘ جہاں فوجی بغاوت کو ناکام بنانے کیلئے لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں میئر اور لوکل حکومتوں نے ڈِلیور کیا اور لوگوں کو وہ سسٹم اپنا لگتا تھا۔ ہمارے ہاں آپ نے چار صوبائی حکومتیں برطرف کرنی ہیں‘ چار وزرائے اعلیٰ کو گھر بھیجنا ہے‘ وزیراعظم کو پی ایم ہائوس میں چند دن قید رکھنا ہے‘ اور ہو گیا ٹیک اوور۔ اگر لوکل گورنمنٹ سسٹم میں لاکھوں لوگ شریک ہوں تو پھر سیاسی طور پر کسی معاشرے کو ہائی جیک کرنا آسان نہیں ہوتا۔
بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے مابین 1988ء سے 1999ء تک سیاسی دشمنی چلی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو گرانے اور جیلوں میں ڈالنے کا سلسلہ شروع کیا اور جب مارشل لاء لگا تو بینظیر بھٹو پرویز مشرف کو پیغام بھیج رہی تھیں کہ وہ ان سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ تاریخ خود کو دہرا رہی تھی۔ جیسے بھٹو صاحب نے اپنے سیاسی مخالفین کا جینا حرام کر دیا تھا اور وہ جنرل ضیا کی چھتری تلے پناہ لینے پر راضی ہو گئے‘ اسی طرح نواز شریف نے بینظیر بھٹو پر اتنے مقدمات بنائے کہ وہ پاکستان چھوڑنے اور مشرف کے مارشل لاء کے بعد اُن سے بات چیت اور تعاون کیلئے آمادہ ہو گئیں۔ جیسے ذوالفقار علی بھٹو کے مخالفین کو بعد میں احساس ہوا اور اس احساس نے انہیں جنرل ضیا سے دور کیااور انہوں نے ایم آر ڈی بنا کر پیپلز پارٹی سے الائنس کر لیا‘ اس طرح بینظیر بھٹو کو بھی دو سال کے بعد احساس ہوا کہ ان کی نواز شریف سے لڑائی کا فائدہ مشرف اور ان کے حواریوں کو ہوا ہے۔ اس کے بعد وہ دونوں سیاستدان جمہوریت کی بحالی کیلئے اکٹھے ہو گئے‘ جو کبھی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ دونوں نے 2006ء میں لندن میں میثاقِ جمہوریت پر دستخط کیے اور ماضی سے سبق سیکھنے کا اعلان کیا۔
بینظیر بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی نے نواز شریف کیساتھ مل کر حکومت بنائی اور مشرف سے چھٹکارا پایا۔ مگر جونہی مشرف منظر سے ہٹے‘ نواز شریف اور آصف زرداری کا وہی پرانا کھیل دوبارہ شروع ہو گیا۔ شہباز شریف اور چودھری نثار علی خان کی جنرل کیانی اور جنرل پاشا سے خفیہ ملاقاتیں شروع ہو گئیں۔ ساتھ ہی میمو گیٹ اور پھر میثاقِ جمہوریت سائن کرنے والے نواز شریف اور شہباز شریف کالا کوٹ پہن کر چیف جسٹس افتخار چودھری کے عدالت میں پیپلز پارٹی حکومت کو غدار ڈکلیئر کرانے کیلئے دلائل دے رہے تھے۔ اس دوران میں عمران خان ابھرے‘ یا انہیں ابھارا گیا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ دوبارہ پرانے کام پر لگ گئی ہیں لہٰذا اب تیسری قوت درکار ہے۔ میں 2007ء کی لندن کی اُس پریس کانفرنس میں موجود تھا جو عمران خان نے نواز شریف کیساتھ ان کے دفتر میں کی تھی۔ وہ نواز شریف سے ملنے لندن گئے تھے کہ میاں صاحب وطن واپس آئیں اور ہم مل کر مشرف کیخلاف تحریک چلاتے ہیں۔ عمران خان جو نواز شریف کی برطرفی اور جیل جانے پر مشرف کا کھل کر ساتھ دے رہے تھے‘ آج وہ اسی نواز شریف کو پاکستان بلانے آئے تھے کہ مل کر جمہوریت بحال کراتے ہیں۔ نواز شریف نے بھی‘ بھٹو کی طرح اپنے دور میں سیاسی مخالفین کا جینا حرام کیا ہوا تھا۔ بینظیر اور پیپلز پارٹی کے علاوہ عمران خان کی ساس پر بھی ٹائلوں کی سمگلنگ کا الزام لگا کر ایف آئی آر کٹوا دی تھی۔ جمہوریت بحال ہوئی تو (ن) لیگ کی حکومت میں 2014ء میں عمران خان اسلام آباد دھرنے کیلئے پہنچ گئے۔ یہ سب دیکھ کر نواز شریف اور زرداری پھر سے اکٹھے ہو گئے اور الائنس بنا لیا۔ وہی پرانا سکرپٹ اور وہی پرانے کھلاڑی‘ بس اب کی دفعہ نئی انٹری عمران خان کی تھی۔ عمران خان جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے بھی بھٹو اور نواز شریف والا روٹ لیا اور پوری اپوزیشن کو جیل میں ڈال دیا۔ اُس وقت مولانا فضل الرحمن عمران خان کی حکومت گرانے میں پیش پیش تھے۔ کوئٹہ سے لانگ مارچ لے کر چلے‘ تحریک عدم اعتماد سے خان کی حکومت گرائی اور پی ڈی ایم حکومت میں اپنی پارٹی کے لوگ وزیر بنوائے۔ آصف زرداری اور شہباز شریف‘ جو کل عمران خان حکومت میں قید میں تھے‘ آج انکی حکومت میں عمران خان جیل میں ہیں اور وہی مولانا فضل الرحمن جنہوں نے خان کی حکومت گرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا‘ وہ تحریک انصاف کیساتھ الائنس کر کے عمران خان کو رہا کرانے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ یہ ہے 1971ء سے 2026ء تک کی ہماری سیاست اور ہمارے سیاستدان‘ جنہوں نے اس قوم کے اندر اپنے اپنے حصے کے بیوقوف (سوری فالوورز) ڈھونڈ رکھے ہیں‘ جو دن رات ان سب کیلئے روتے رہتے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments