مولانا فضل الرحمن‘ خواجہ آصف اور اب محسن نقوی کی یکے بعد دیگرے تقریروں نے اچانک پارلیمنٹ کا سارا ماحول بدل دیا ہے۔ جو پارلیمنٹ بورنگ اور سست دکھائی دیتی تھی اور جہاں کورم تک پورا نہیں ہوتا تھا‘ وہ اچانک زندہ ہو گئی ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ تین تقریریں بنی ہیں۔
میں تقریباً ہر پارلیمانی اجلاس میں جاتا ہوں‘ لیکن بڑے عرصے بعد دھواں دھار سیاسی تقریریں سننے کو ملی ہیں۔ ماضی میں اس ایوان میں بڑے بڑے مقرر ہوا کرتے تھے‘ جن کی تقریریں سننے کیلئے ہم صبح سویرے پارلیمنٹ پہنچ جاتے تھے۔ دیر ہو جاتی تو اول پارکنگ میں ہی جگہ نہ ملتی اور پھر پریس گیلری میں کرسی تو کیا‘ کھڑے ہونے کی جگہ بھی نہیں ملتی تھی۔ خصوصاً پرویز مشرف کے دور کی پارلیمنٹ میں بڑے بڑے مقررین تھے‘ جن کی تقریروں سے میرے جیسے رپورٹرز نے بہت کچھ سیکھا‘ جو نئے نئے پارلیمانی رپورٹنگ میں آئے تھے۔ اگلی پارلیمنٹ میں ان میں سے کئی بڑے مقرر دوبارہ نہ پہنچ سکے اور جو پہنچے وہ حکومت میں وزیر بن گئے۔ مشرف اور شوکت عزیز کی حکومتوں پر جن برائیوں کی وجہ سے وہ تنقید کرتے اور تبرے پڑھتے تھے‘ بعد میں انہی نالائقیوں اور سکینڈلز کا وہ دفاع کرنے لگ گئے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ ہر دور میں اصل حکمرانی بیوروکریسی ہی کی ہوتی ہے۔ بیوروکریٹس کسی وزیر کو جو لکھ کر دے دیتے ہیں‘ وہ من و عن ایوان میں پڑھ دیتا ہے۔ پہلے شوکت عزیز کے وزیر وہ بریف پڑھتے تھے‘ پھر یوسف رضا گیلانی کی حکومت کے وزرا نے وہی کچھ پڑھ کر سنایا اور بعد میں نواز شریف کے وزرا بھی اسی فیڈرل سیکرٹری کے لکھے ہوئے بریف پر چلتے رہے‘ جو پرویز مشرف‘ شوکت عزیز اور یوسف رضا گیلانی کو لکھ کر دیتا تھا۔ صرف وزیر اور وزیراعظم بدلے‘ سیکرٹری بھی وہی تھا‘ ایشوز اور سکینڈلز بھی وہی تھے اور ان کے جوابات بھی وہی۔ یوں دھیرے دھیرے مجھے اندازہ ہوا کہ اس ملک کی اصل حکمران بیوروکریسی ہے۔ وہ کسی ایشو کو جس نظر سے دیکھتی ہے‘ وہی بات حتمی بن جاتی ہے۔ باقی سب تقریریں ہیں‘ جو ہمارے سیاستدان اور ارکانِ اسمبلی ایوان میں کھل کر کر لیتے ہیں اور کام چلاتے ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ پارلیمنٹ میں ارکان کی دلچسپی ختم ہوتی چلی گئی کیونکہ وزیراعظم خود ایوان میں نہیں آتے تھے۔ آپ کو اچھا لگے یا برا‘ یہ کریڈٹ پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو دینا پڑے گا کہ وہ واحد وزیراعظم رہے جو اسمبلی کے ہر اجلاس میں موجود ہوتے تھے۔ وہ وقفۂ سوالات میں بھی بیٹھتے اور بعض اوقات وزیر کسی سوال کا مناسب جواب نہ دے پاتا تو گیلانی صاحب خود کھڑے ہو کر اس کی وزارت سے متعلق سوال کا جواب دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ ایوان میں ارکان اور وزرا کی کمی نہ ہوتی اور شاید ہی کبھی کورم کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ وزیراعظم ایوان میں موجود ہو تو سب کو موجود رہنا پڑتا ہے۔ وہی ایوان کامیاب اور جمہوری دکھائی دیتا ہے جہاں وزیراعظم بلاناغہ بیٹھے کیونکہ اس سے ایوان کی اتھارٹی اور رعب و دبدبہ قائم ہوتا ہے۔ شاید یوسف رضا گیلانی کی ایوان میں موجودگی کی وجہ ان کا بطور سپیکر سابقہ تجربہ تھا‘ جس کے باعث وہ اپنے کام کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔ مگر جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو انہوں نے ایوان میں باقاعدگی سے آنے کی روایت توڑ دی۔ انہیں شاید لگا کہ روزانہ آنے جانے سے قدر کم ہو جاتی ہے‘ لہٰذا وہ ایوان کا رخ ہی نہیں کرتے تھے۔ وہ لگ بھگ آٹھ ماہ تک پارلیمنٹ میں نہیں آئے۔ چھ چھ ماہ کابینہ کے اجلاس تک نہیں ہوتے تھے جبکہ وہ بیرونِ ملک دوروں میں مصروف رہتے تھے۔اس کا نقصان یہ ہوا کہ پارلیمنٹ میں وزرا اور ارکان کی دلچسپی ختم ہوتی چلی گئی۔ جب وزیراعظم ہی ایوان میں نہیں آتا تو ارکان کیوں آتے؟ بعض ارکان مبینہ طور پر ایک دوسرے کی جعلی حاضریاں تک لگاتے تھے تاکہ الاؤنس ملتا رہے۔
عمران خان بھی وزیراعظم بن کر نواز شریف کی روش پر چلے اور چھ چھ ماہ ایوان میں نہیں آئے‘ یوں ان کے دور میں بھی پارلیمنٹ بے اثر ہوتی چلی گئی۔ اب شہباز شریف بھی یہی کرتے ہیں۔ گزشتہ پورا سال بھی وہ کم کم ہی پارلیمنٹ میں آئے اور بیرونِ ملک دوروں میں مصروف رہے۔ نتیجتاً پارلیمنٹ کو بھی کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ روز کورم کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے‘ ایوان میں ارکان کی تعداد پوری نہیں ہوتی اور اجلاس گھنٹوں کی تاخیر سے شروع ہوتے ہیں۔ لیکن اچانک اسی بورنگ اور خشک پارلیمنٹ میں اس وقت جان پڑ گئی جب مولانا فضل الرحمن نے پرسوں اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو آڑے ہاتھوں لیا۔ خواجہ آصف کو میں ان چند ارکانِ اسمبلی میں شمار کرتا ہوں جن سے کوئی رکن یا لیڈر الجھنے سے پہلے بہت سوچ بچار کرتا ہے۔ وہ ہزار بار سوچتا ہے اور پھر خواجہ صاحب پر تنقید کرتا ہے کیونکہ ان کا جواب انتہائی سخت ہوتا ہے اور وہ مخالف کو گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں۔ تاہم عمر ڈھلنے کے ساتھ خواجہ صاحب نے بھی درگزر سے کام لینا شروع کر دیا ہے۔ ان کے ساتھی وزیر حنیف عباسی نے ان پر شدید لفظی حملہ کیا تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔ اسی طرح بلاول بھٹو نے کشمیر انتخابات سے پہلے خواجہ صاحب پر بڑے لفظی حملے کیے لیکن وہ خاموش رہے اور جواب دینے سے گریز کیا۔ یہ خواجہ صاحب کی طبیعت کے برعکس تھا کہ کوئی ان پر لفظی حملہ کرے اور وہ سادھو سنت فقیر کی طرح بے پروا ہو کر سنتے رہیں۔ لیکن اس بار لگتا ہے خواجہ صاحب کا صبر جواب دے گیا؛ چنانچہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی تقریر کو نظرانداز کرنے کے بجائے براہِ راست جوابی حملے کا فیصلہ کیا۔
جمعرات کے روز اپنی تقریر میں خواجہ صاحب نے وہ تکلف اور احترام بھی ملحوظِ خاطر نہیں رکھا جو ماضی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن کے خلاف تقریر کرتے ہوئے روا رکھتے تھے۔ اس بار انہوں نے احترام کو ایک طرف رکھ کر جواب دیا‘ جس سے لگتا ہے کہ اب حکومت کی لڑائی عمران خان کے بجائے براہِ راست مولانا کے ساتھ ہوگی۔ عمران خان درمیان سے ہٹ گئے ہیں یا ہٹا دیے گئے ہیں اور اب رعایتوں کا موسم ختم ہو چکا ہے۔ خواجہ صاحب کی صبح کی جوشیلی تقریر کی گونج ابھی پارلیمنٹ کی گیلریوں میں موجود تھی کہ دوپہر کو وزیر داخلہ محسن نقوی سینیٹ میں پہنچ گئے اور مولانا پر جاری لفظی حملوں کو مزید تیز کردیا۔ محسن نقوی گزشتہ ڈھائی سال میں بہت کم ایوان میں گئے ہیں‘ اس لیے ان کے پاس وہ بے خوفی نہیں تھی جو ایوان میں مخالفین کو دبنگ انداز میں جواب دینے کیلئے درکار ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے ان کی تقریر کے دوران ہی جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا عطا الرحمن نے جوابی حملے شروع کر دیے۔ محسن نقوی سخت جواب دینے آئے تھے لیکن چونکہ وہ اس ماحول کے عادی نہیں‘ اس لیے ایسا نہ کر سکے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وہاں موجود مسلم لیگ (ن) کے وزرا اور سینیٹرز اس لڑائی میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کر رہے ہیں تو انہوں نے بھی زیادہ دیر بات سے گریز کیا۔ اگرچہ وہ اپنا یہ پیغام پہنچانے میں کامیاب رہے کہ اب مولانا کو ماضی کی طرح مراعات یا رعایت نہیں ملے گی۔ نقوی صاحب کی حمایت میں صرف سینیٹر عابد شیر علی نے شور شرابا کیا‘ لیکن سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا عطا الرحمن کے جوابی حملوں نے انہیں کسی حد تک پسپا کر دیا۔ چنانچہ وہ اپنی طویل تقریر مکمل نہ کر سکے اور جلد ہی ایوان سے چلے گئے۔
اب ممکن ہے مولانا صاحب آج خواجہ آصف اور محسن نقوی سے دو دو ہاتھ کرنے دوبارہ پارلیمنٹ میں جائیں کیونکہ اب لڑائی بڑھ چکی ہے اور مولانا اس وقت پسپائی افورڈ نہیں کر سکتے۔ دیکھتے ہیں یہ معرکہ کون جیتتا ہے۔ میدان بھی ہے‘ گھوڑا بھی جبکہ تین شاہسوار آمنے سامنے کھڑے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments