اس وقت مولانا فضل الرحمن اور حکومت کے درمیان جو میچ چل رہا ہے‘ اس پر سب سے خوبصورت تبصرہ وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم صاحب اس معاملے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ مطلب وہ نیوٹرل ہیں۔ جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس سے حکومت کا لینا دینا نہیں ہے۔ ان کے خیال میں یہ مقتدرہ اور مولانا صاحب کی لڑائی ہے‘ جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ وہ دونوں جانیں‘ ہمیں مداخلت کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے معاملات خود ہینڈل کر لیں گے۔
دوسری طرف مولانا کی پارٹی کے ایک اہم رہنما کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ اتنا ہی برا سلوک کرے کہ کل کلاں کو حکومت ختم ہونے کے بعد کوئی تو ایسا ہو جو موجودہ حکمرانوں کو سہارا دے سکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس وقت حکومت سے مقتدرہ اور مولانا‘ دونوں ناخوش دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان دونوں کو محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ان کی طرف کھڑی نہیں ہو رہی۔ بظاہر تو لگتا ہے کہ حکومت ہی مولانا کے خلاف تمام اقدامات کر رہی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ جو ادارے اور محکمے اس وقت کارروائیاں کر رہے ہیں یا نوٹسز بھیج رہے ہیں وہ سب حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ ان اداروں کے سربراہان بھی وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے دستخط سے تعینات کیے ہیں‘ لہٰذا اس وقت ان کا نیوٹرل رہنا یا یہ تاثر دینا کہ وہ یہ سب نہیں کر رہے‘ کسی جواز کا حامل نہیں ہے۔ اس وقت مقتدرہ ناخوش ہے کہ مولانا اور ان کی پارٹی کے رہنما سخت تقریریں اور جلسے جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں وہ کھل کر دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور سخت زبان بھی استعمال کر رہے ہیں‘ لیکن ان کی ساری گفتگو کا جواب حکومت کا کوئی وزیر نہیں دے رہا۔ یوں مولانا صاحب کو کھلا میدان ملا ہوا ہے۔ وزرا کی خاموشی اور نیوٹرل رہنے کی پالیسی کی وجہ سے اب مقتدرہ نے ایک اور حکمت عملی اپنائی ہے کہ سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا ہے۔ وہاں سے اب مولانا صاحب پر تنقیدی اور سکینڈلز سے بھرپور ٹویٹس ہو رہے ہیںجو مولانا اور ان کی پارٹی کے غصے میں اضافہ کر رہے ہیں‘ اور شاید یہی اس ساری مہم کا مقصد بھی ہے۔ مولانا کو بھی احساس ہے کہ ان کا سامنا وزیرداخلہ محسن نقوی سے ہے‘ جن پر وہ پہلے بھی چند زبانی حملے کر چکے ہیں۔ پہلا زبانی حملہ اس وقت کیا گیا جب قابلِ احترام صحافی مجیب الرحمن شامی نے مولانا صاحب کو اپنے گھر دعوت دی‘ جہاں لاہور کے سینئر صحافی اور کالم نگار بھی مدعو تھے۔ وہاں مولانا نے گفتگو کرتے ہوئے پہلی دفعہ جو باتیں کیںوہ باہر نکلیں تو اندازہ ہوا کہ محسن نقوی صاحب اور مولانا صاحب کے درمیان جو پرانی الفت تھی‘ وہ اب ختم ہو چکی ہے۔ تاہم محسن نقوی صاحب نے پرانے تعلقات کی وجہ سے مولانا صاحب کے ان سخت تبصروں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ صحافیوں نے دو تین دفعہ مولانا سے سوالات پوچھے تو اندازہ ہوا کہ غصہ بڑھ رہا تھا۔ رہی سہی کسر مولانا نے اس وقت پوری کر دی جب قومی اسمبلی میں انہوں نے سخت تقریر کی جس میں ریاست کو بھی نشانہ بنایا اور ساتھ ہی خواجہ آصف کو بھی ''شرم و حیا‘‘ دلائی کہ آپ یہاں بیٹھے ہیں اور محسن نقوی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع بن کر ایران میں بیٹھے ہیں۔ یہاں سے محسن نقوی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور انہوں نے پرانے تعلقات ایک طرف رکھ کر سخت جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ خواجہ آصف نے بھی اگلے دن مولانا کو سخت جواب دیا۔ وہ بڑے عرصے کے بعد اپنی پرانی فارم میں نظر آئے اور مولانا کو آڑے ہاتھوں لیا۔ رعایت مولانا نے بھی نہیں کی تھی تو کسر خواجہ صاحب نے بھی نہیں چھوڑی۔ مولانا صاحب پہلے بھی افواجِ پاکستان کے شہداء کے حوالے سے بہت متنازع بیان دے چکے تھے اور اب کی دفعہ ریاست کے بارے میں جوالفاظ کہے وہ ان پر الٹے پڑے ہیں‘ لہٰذا فیصلہ ہوا کہ اب مولانا صاحب کی مزید عزت و احترام نہیں کرنا اور انہیں اسی زبان میں جواب دینا ہوگا۔
اگرچہ خواجہ آصف نے پہلے دن مولانا کی سخت گفتگو کو نظر انداز کیا‘ جیسے انہوں نے اپنے جارحانہ مزاج کے برعکس مولانا کو فوری جواب نہیں دیا تھا۔ اس سے پہلے وہ اپنے ساتھی وزیر حنیف عباسی اور بلاول بھٹو کی اپنے خلاف سخت تقریروں کو بھی نظر انداز کر چکے تھے۔ اب مولانا کی تقریر کو بھیwell left کر دیا۔ میرا اپنا بھی یہی خیال ہے کہ مولانا نے خواجہ آصف کے کندھے استعمال کرکے محسن نقوی کو ہدف بنایا تھا۔ لیکن اگلے دن جب میڈیا اور سوشل میڈیا پر مولانا کے کلپس کو وائرل کیا گیا اور خواجہ صاحب کی ٹرولنگ شروع ہوئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب جواب دینا ضروری ہے۔ پھر ان کے اندر کا نوجوان خواجہ آصف نکل آیا۔ اس پر محسن نقوی بھی سینیٹ آئے کہ آپ جا کر خود سخت جواب دیں۔ سینیٹ میں محسن نقوی نے اپنی تقریر یہاں سے شروع کی کہ وہ آج سے پہلے تو مولانا کی بہت عزت کرتے تھے لیکن جو کچھ انہوں نے ریاست کے بارے میں کہا ہے اس کے بعد اب وہ ان کی عزت نہیں کرتے۔ یوں سینیٹ میں اندازہ ہو گیا تھا کہ اب محسن نقوی اور مولانا کے درمیان دوستی دشمنی میں بدلنے والی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہترین دوست بدترین دشمن ثابت ہوتے ہیں اور یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ نقوی صاحب نے اسی وقت سینیٹ میں خبردار کر دیا تھا کہ اب انہیں جواب ملے گا۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید زبانی جواب ملے گا لیکن لگتا ہے کہ اب کی دفعہ عملی جواب دینے کا فیصلہ بھی ہوا ہے ۔ اگلے دن ہی مولانا اور ان کی پارٹی کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی۔ اب معاملات روز بروز خطرناک حد تک پہنچ چکے ہیں لیکن اس معاملے میں محسن نقوی صاحب کو یقینا یہ محسوس ہوتا ہوگا کہ شاید وفاقی وزرایا حکومت نے مولانا کی تقریروں اور ان کے جلسوں میں استعمال کی گئی سخت زبان کا جواب دینے کے بجائے خاموش رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ بات یقینا انہیں تکلیف پہنچا رہی ہو گی۔سینیٹ میں بھی وفاقی وزیروں‘ حکمران جماعت اور پیپلز پارٹی کے سینیٹرز میں سے صرف عابد شیر علی نے انہیں سپورٹ کیا۔ جب وہاں سینیٹر کامران مرتضیٰ اور مولانا عطاالرحمن نے جوابی حملے شروع کیے تو کوئی سینیٹر اُن کی مدد کو نہ آیا۔ محسن نقوی کا اس میں کچھ اپنا بھی قصور ہے کہ وہ ان دو سالوں میں سینیٹ اور اسمبلی میں کم کم ہی جاتے رہے لہٰذا وہاں کسی سے ان کی کامریڈشپ نہیں بن سکی۔ جبکہ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن)‘ جے یو آئی یا تحریک انصاف کے سینیٹرز روزانہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے آئے ہیں‘ لہٰذا جب نقوی صاحب اور جے یو آئی کے درمیان زبانی ٹاکرا ہوا تو وہ سب نیوٹرل رہے۔ یوں نقوی صاحب پر زیادہ دباؤ آیا اور وہ اپنی وہ طویل تقریر نہ کر سکے جو وہ تیار کرکے لائے تھے‘لیکن باہر نکلتے ہی مولانا اور ان کی پارٹی کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا‘ جو اَب سب کو نظر آ رہا ہے۔ تاہم جو بات سب کو پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ معاملہ اتنی خطرناک حد تک پہنچ گیا ہے لیکن وزیراعظم اور ان کی حکومت خاموش ہے۔ اب یہی وجہ ہے کہ اینکرز اور ٹی وی چینلز نے سوالات کرنا شروع کر دیے ہیں کہ اس ملک میں کوئی وزیراعظم بھی ہے‘ کابینہ بھی ہے‘ وزیر بھی ہیں یا صرف نقوی صاحب اور مولانا صاحب ہی ہیں؟
لگتا ہے وزیراعظم اور ان کے وزرااس ساری لڑائی میں نیوٹرل ہیں بلکہ لگتا ہے کہ وہ لڑائی کے ساتھ ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments