33 سالہ صحافتی کیریئر میں بہت حکمرانوں اور بیورو کریٹس سے واسطہ پڑا۔ بعض سے بہت متاثر ہوا تو بعض سے مل کر دوبارہ ملنے کی خواہش پیدا نہ ہوئی۔ آج کل بیورو کریسی کی حالت دیکھتا ہوں تو یقین نہیں آتا کہ سروس کا معیار اتنا نیچے بھی گرسکتا ہے۔ پھر سوچتا ہوں کہ شاید یہی نظامِ قدرت ہے کہ ہر چیز کی ایک طبعی عمر ہوتی ہے‘ جہاں پہنچ کر وہ ختم ہو جاتی ہے۔ شاید انسانوں کے معیار اور قابلیت بھی دھیرے دھیرے ختم ہوتے چلے جاتے ہیں اور ایک دن سب کچھ زمین بوس ہو جاتا ہے‘ جسے ہم زوال کا نام دیتے ہیں۔ اگر آپ سلطنتوں کے زوال کو پڑھیں تو آخری سالوں میں یہی نظر آتا ہے کہ ہر چیز زوال پذیر ہوتی ہے۔ کل ہی کچھ دوستوں سے بات ہورہی تھی کہ صرف اُن بڑے کاروباری گروپس کی ایمپائر آگے چلتی رہی جن کی دوسری‘ تیسری نسل قابل نکلی۔ میں نے تفصیل پوچھی تو ایک دوست نے چند جاننے والے کاروباریوں کی کہانیاں سنائیں کہ انہوں نے اتنی دولت کما لی کہ نئی نسلوں کو کاروبار میں دلچسپی ہی نہیں رہی اور اب بزرگوں کو ڈر ہے کہ ان کے بعد ان کا خاندان کیا کرے گا؟ ایک کاروباری شخص کا بتایا کہ اس کا پوتا اس کے ساتھ کاروبار میں ہے اور وہ دادا سے بہتر کام سنبھال رہا ہے۔ بادشاہوں کی سلطنتیں بھی اسی اصول پر چلتی رہی ہیں۔ ہندوستان میں مغلوں کی سلطنت کو دوام بخشا تو وہ بابر یا ہمایوں نہیں بلکہ جلال الدین اکبر تھا جس نے پچاس سال سے زائد ہندوستان پر حکومت کی اور مغل سلطنت کو واقعی ایک سلطنت بنایا۔ اکبر مغل حکمران بابر کا پوتا اور ہمایوں کا بیٹا تھا۔ بابر نے سلطنت کی بنیاد رکھی تو ہمایوں باپ کے ورثے کو سنبھال نہیں سکا اور شیر شاہ سوری کے ہاتھوں شکست کھا کر کئی برس ایران میں بیٹھا زخم چاٹتا رہا۔ اگرچہ ہمایوں نے شیر شاہ سوری کے مرنے کے بعد دوبارہ ہندوستان تو حاصل کر لیا لیکن افیم کا نشہ اسے لے بیٹھا۔ یہ اکبر ہی تھا جو بارہ برس کی عمر میں بادشاہ بنا اور باپ کے برعکس اس نے انتہائی ذمہ داری سے حکومت کی۔ یہ سب باتیں اگرچہ عجیب لگیں گی کہ پاکستانی بیورو کریسی کے زوال کو کہاں سے کہاں جا کر ملایا لیکن انفرادی سطح سے لے کر سلطنتوں تک‘ قدرت کا ایک ہی اصول چلتا ہے۔
اس سے پہلے میں پارلیمنٹ کے زوال پر بات کروں مجھے یاد آیا آج جب بیورو کریٹس بقول خواجہ آصف‘ پرتگال میں جائیدادیں خرید رہے ہیں یا محمود خان اچکزئی کے بقول 32 ہزار بیورو کریٹس بیرونِ ملک شہریتیں لے چکے ہیں‘ تو کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے وقت میں حکمرانوں کے سامنے نہیں جھکے‘ چاہے جو بھی نتائج ہوں۔ اس سلسلے میں دو واقعات کا ذکر کروں گا۔ یہ واقعہ سابق سیکرٹری فنانس غفور مرزا نے سنایا تھا۔ وہ ہمارے دوست ڈاکٹر ظفر الطاف کے ہاں لنچ پر آتے تو اکثر اپنے دور کی بڑی کہانیاں سناتے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ این ایچ اے میں ممبر فنانس تھے تو اس وقت ایکسپریس مری زیر تعمیر تھی۔ این ایچ اے پر وزیراعظم ہائوس سے دبائو تھا کہ فلاں کو کنٹریکٹ دیا جائے۔ مرزا صاحب نے انکار کر دیا۔ ایک دن انہیں وزیراعظم ہائوس بلایا گیا جہاں بینظیر بھٹو نے ان سے ملاقات کی۔ وہاں زرداری صاحب بھی موجود تھے۔ بینظیر بھٹو نے پوچھا تو سب تفصیلات بتا دیں کہ یہ کنٹریکٹ فلاں پارٹی کو کیوں نہیں مل سکتا۔ بینظیر بھٹو سنتی رہیں مگر زرداری صاحب ناخوش دکھائی دیے۔ غفور مرزا جانے لگے تو وزیراعظم بینظیر نے کہا کہ میں نے آپ کی بات سن لی ہے‘ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں‘ وہی کریں جو درست ہے۔ ایسے ہی فیڈرل سیکرٹری زراعت ڈاکٹر ظفر الطاف کا واقعہ مجھے متعلقہ وزیریوسف تالپور نے سنایا تھا۔ ایک کنٹریکٹ کیلئے وزیراعظم ہائوس سے دبائو تھا۔ ڈاکٹر ظفر الطاف ایک دبنگ افسر تھے‘ انہوں نے انکار کیا۔ کہا گیا کہ آپ کو ہٹا دیں گے۔ بولے: بطور سیکرٹری زراعت مستقبل میں اپنے وزیر اور وزیراعظم کو مقدمات سے بچانا میری ذمہ داری ہے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ انہوں نے بطور وفاقی سیکرٹری بینظیر بھٹو سے نواز شریف اور مشرف تک سب کے ساتھ کام کیا‘ دوبارہ موقع ملے تو کس کے ساتھ کام کریں گے۔ بولے: بینظیر بھٹو کے ساتھ۔ آپ ان سے جتنا بھی اختلاف کرتے‘ وہ آپ کو عہدے سے نہیں ہٹاتی تھیں۔ مشرف اور نواز شریف سے اختلاف کیا تو نہ صرف عہدے سے ہٹایا بلکہ مقدمے بھی بنائے۔ شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ان کے گھر چھاپے مروائے‘ جس کا انہیں عمر بھر افسوس رہا۔ حالانکہ ان کے والد چودھری الطاف کا برسوں پرانا تعلق تھا اور وہ اتفاق فائونڈری کے وکیل بھی رہے تھے‘ مگر اس کا بھی خیال نہ رکھا گیا۔ اب کہاں ایسے افسر جو حکمرانوں کو غلط کام پر انکار کرسکیں! اب سب نے سوچ لیا ہے کہ کمانا اس ملک سے ہے اور جائیدادیں پرتگال وغیرہ میں خریدنی ہیں اور شہریت بھی باہر کی لینی ہے۔ ڈاکٹر ظفر الطاف پر مشرف نے کیس بنایا تو وہ روم میں تھے۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ طارق سعید ہارون نے فون کیا کہ واپس مت آنا! گرفتار ہو جائو گے۔ کہا: پہلے تو کچھ دن بعد آتا اب کل ہی آرہا ہوں۔ اپنے ملک کی جیل میں مرنا بہت بہتر ہے۔ وہ واپس آئے اور تمام مقدمات کا سامنا کیا۔ دوسری طرف حکومت اور حکمرانوں کے زوال کو دیکھنا ہو تو پارلیمنٹ کے اجلاس دیکھ لیں۔ آج کل دونوں ایوانوں کا اجلاس جاری ہے مگر لگتا ہے کہ اب ملک میں کوئی ایشو اہم نہیں‘ اب پارلیمان میں کسی موضوع پر کیا بات کی جائے ‘لہٰذا سب کرسیاں خالی پڑی ہیں۔
میں 2002ء سے پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کررہا ہوں۔ ان برسوں میں اگر کوئی پارلیمنٹ اچھے طریقے سے اپنے کام میں مصروف نظر آئی تو وہ 2002-07ء والی پارلیمنٹ تھی جب پرویز مشرف صدر اور آرمی چیف تھے اور میر ظفر اللہ جمالی‘ چودھری شجاعت حسین اور شوکت عزیز وزیراعظم تھے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کوئی ممبر یا صحافی اُن دنوں کوئی اجلاس مس کرتے ہوں۔ آپ پوچھیں گے کہ میں ایک آمر کے دور کی پارلیمنٹ کی تعریف کیوں کررہا ہوں‘ کیا مجھے سیاسی وزرائے اعظم اور ان کی پارلیمنٹ اچھی نہیں لگتی یا میرا مزاج غیرجمہوری ہے؟ یقینا یہ بہت اہم سوال ہے مگر میں آج بھی اگر موازنہ کروں تو وہی پارلیمنٹ سب سے زیادہ ایکٹو اور بہتر محسوس ہوتی ہے۔ مزے کی بات ہے کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی بھی مشرف دور میں پہلی دفعہ میڈیا کیلئے اوپن کی گئی جو اپنے دور کی بہت بڑی بات تھی کیونکہ اس سے قبل تمام سیاسی ادوار میں پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس بند کمرے میں ہوتے تھے۔ اس کمیٹی کا چیئرمین اور ارکان‘ سب قومی اسمبلی کے ارکان ہوتے تھے اور وہ بند کمروں میں آڈٹ رپورٹس کو ڈسکس اور فیصلے کیا کرتے تھے۔ کسی کو اجازت نہ تھی کہ یہ سب سن یا دیکھ سکے کہ عوام کے ٹیکس کے اربوں روپے حکمران اور بیورو کریٹس کیسے اور کہاں خرچ کررہے ہیںاور کون اس لوٹ مار میں ملوث ہے۔ یوں اندر کھاتے بند کمروں میں سب کچھ سیٹل کر لیا جاتا اور کچھ بھی میڈیا میں رپورٹ نہ ہوتا تھا۔ مشرف نے ہی میڈیا کو اوپن کیا اور تب کمیٹی کے ارکان سابق سیکرٹریز اور ٹیکنو کریٹ تھے۔ انہوں نے کیا کمال طریقے سے یہ کمیٹی چلائی۔ اب موجودہ پی اے سی کمیٹی کا ایک سال سے چیئرمین ہی نہیں ہے۔ ایک تھکاوٹ ہے جو پارلیمنٹ پر طاری ہے۔
مشرف کی پارلیمنٹ اس لیے ایکٹو تھی کہ وہ بحران کے دن تھے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف بیرونِ ملک تھے لہٰذا وہ مشرف پر دبائو بڑھانے کیلئے پارلیمنٹ کو ایکٹو کیے ہوئے تھے۔ پھر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کی واپسی ہوئی اور جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو وہ ایوان کا راستہ بھول گئے۔ شہباز شریف بھی ایک سال کے بعد پارلیمنٹ آئے۔ یہ سب صرف مارشل لاء ادوار میں جمہوریت پسند بنتے ہیں۔ جس دن اقتدار مل گیا‘ اس دن پارلیمنٹ سے دلچسپی ختم اور ٹھنڈ پروگرام! جیسے آج کل ایوان میں چل رہا ہے۔ کرسیاں خالی پڑی ہیں۔ وزیر وقفہ سوالات میں اپنی ذمہ داری پارلیمانی سیکرٹریز کے ذمے لگا کر بقول نوید قمر‘ خود مٹر گشت میں مصروف ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments