ہر شخص اچھی عائلی زندگی گزارنے کا طلبگار ہے لیکن بہت سے لوگ خواہش کے باوجود بے چینی‘ بے قراری اور انتشار والی زندگی گزارتے ہیں۔ بہتر عائلی زندگی گزارنے کیلئے بعض امور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر ان پر غور وخوض کر لیا جائے تو انسان کی عائلی زندگی بہترین ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ شریکِ زندگی کا انتخاب دین کی بنیاد پر کیا جائے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کے مال کی وجہ سے‘ اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے‘ اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے۔ تُو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر‘ اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی)‘‘۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''دنیا متاع (کچھ وقت تک کیلئے فائدہ اٹھانے کی چیز) ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے‘‘۔ ان احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب نکاح کیا جائے تو عورت کی دینداری کو اہمیت دینی چاہیے۔
جب عورت شوہر کے گھر بیاہ کر آجاتی ہے تو اس پر بعض اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
1۔ شوہر کی عدم موجودگی میں عورت گھر کی نگران ہے: بیوی کو شوہر کی عدم موجودگی میں گھر‘ اولاد اور مال کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا ''تم میں سے ہر ایک حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر والوں پر حاکم ہے۔ عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں پر حاکم ہے۔ تم میں سے ہر ایک امیر (حاکم) ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہو گا‘‘۔
2۔ شوہر کی رضامندی کا اہتمام: بیوی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شوہر کی خوشی اور رضا مندی کا اہتمام کرے۔ اس حوالے سے سنن نسائی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سی عورت بہتر ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ''وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے‘ اور جب اسے کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنے نفس اور مال میں اس کی مخالفت نہ کرے جسے وہ ناپسند کرتا ہو‘‘۔
3۔ خاوند کی نیکی پر اس کا شکریہ ادا کرنا: احادیث مبارکہ کے مطالعہ سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عورت کو اپنے خاوند کی ناشکری کے بجائے شکرگزاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریمﷺ عید الاضحی یا عیدالفطر میں عیدگاہ تشریف لے گئے‘ وہاں آپﷺ عورتوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا ''اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کرو کیونکہ میں نے جہنم میں زیادہ تم ہی کو دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہﷺ! ایسا کیوں؟ آپﷺ نے فرمایا کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو‘‘۔
جہاں عورت پر گھریلو حوالے سے چند ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہیں پر شوہر کی بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عورت کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔ اس حوالے سے اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ النساء کی آیت: 19 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو‘‘۔ سورۃ البقرہ کی آیت: 228 میں ارشاد ہوا: ''اور عورتوں کیلئے بھی معروف طریقے کے مطابق ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر ذمہ داریاں ہیں‘‘۔ جس طرح عورت اور مرد پر بعض انفرادی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہیں بعض ذمہ داریاں شوہر اور بیوی پر بیک وقت عائد ہوتی ہیں جن میں سے بعض اہم درج ذیل ہیں:
1۔ مرد اور عورت ایک دوسرے کے رازوں کو افشا نہ کریں: اللہ تبارک وتعالیٰ نے مرد و زن کو ایک دوسرے کیلئے سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سورۃ الروم کی آیت: 21 میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو‘ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی‘‘۔ اس زندگی کا لطیف اور حساس پہلو ایک دوسرے کیساتھ نہایت قریبی تعلق ہے جو مرد و زن کیلئے ایک راز کی حیثیت رکھتا ہے اور اس راز کو افشا کرنا انتہائی قبیح عمل ہے۔ اس حوالے سے صحیح مسلم میں حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''بلاشبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں امانت کے حوالے سے سب سے بڑے (سنگین) معاملات میں سے اس آدمی (کا معاملہ) ہو گا جو خلوت میں بیوی کے پاس جائے اور وہ اس کے پاس آئے‘ پھر وہ اس (بیوی) کا راز افشا کر دے‘‘۔ ابن نمیر نے کہا ''سب سے بڑا (سنگین) معاملہ (یعنی یہ سب سے بڑی خیانت ہے)‘‘۔
2۔ مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بننا: شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے۔ صحیح بخاری میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے کہ جب نبی کریمﷺ پر وحی کا نزول ہوا اور آپﷺ گھر تشریف لائے‘ آپﷺ نے ساری صورتحال سے سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو آگاہ کیا تو انہوں نے نبی کریمﷺ کو دلاسہ دیا اور اپنے قریبی رشتہ دار ورقہ بن نوفل کے پاس بھی لے کر گئیں‘ جنہوں نے رسول اللہﷺ پر اترنے والی وحی کی تصدیق کی اور آپﷺ کو تسلی دی۔ اس حدیث پاک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا سہارا بننا چاہیے۔
3۔ ایک دوسرے کی مالی معاونت: کئی مرتبہ شوہر اور بیوی میں سے کوئی ایک فرد مالی طور پر کمزور ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کی مالی معاونت سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود کی زوجہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا ایک طویل قصہ ہے‘ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے مسجد نبوی میں رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے دیکھا ''صدقہ کرو‘ خواہ اپنے زیور ہی میں سے دو‘‘۔ حضرت زینب اپنا صدقہ اپنے شوہر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور چند یتیموں پر‘ جو اُن کی پرورش میں تھے‘ خرچ کیا کرتی تھیں۔ انہوں نے اپنے خاوند سے کہا کہ آپ رسول اللہﷺ سے پوچھئے کہ کیا وہ صدقہ مجھے کفایت کرے گا جو میں آپ پر اور ان چند یتیموں پر خرچ کروں‘ جو میری سپردگی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تم خود جا کر رسول اللہﷺ سے پوچھ لو۔ وہ خود رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس وقت میں نے آپﷺ کے دروازے پر ایک انصاری خاتون کو پایا‘ جو میری ہی جیسی ضرورت لے کر موجود تھیں۔ (وہ حضرت زینبؓ زوجہ حضرت ابومسعود انصاریؓ تھیں)۔ پھر ہمارے سامنے سے بلال گزرے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ رسول اللہﷺ سے یہ مسئلہ دریافت کیجئے کہ کیا وہ صدقہ مجھے کفایت کرے گا جسے میں اپنے شوہر اور اپنے زیر تحویل یتیم بچوں پر خرچ کروں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارا نام نہ لینا۔ حضرت بلالؓ اندر گئے اور آپﷺ سے سوال کیا کہ دو عورتیں یہ مسئلہ دریافت کرتی ہیں‘ اس پر حضورﷺ نے فرمایا کہ یہ دونوں کون ہیں؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ زینب نام کی ہیں۔ آپﷺ نے پھر پوچھا کہ کون سی زینب؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود کی بیوی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ ہاں! بیشک یہ درست ہے‘ اور انہیں دُگنا ثواب ملے گا۔ ایک قرابت داری کا اور دوسرا خیرات کرنے کا‘‘۔
اگر مذکورہ بالا نکات پر عمل کر لیا جائے تو انسان کی عائلی زندگی مثالی بن سکتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام گھرانوں کو خوشیاں‘ امن اور سکون عطا فرمائے‘ آمین!
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments