"SSC" (space) message & send to 7575

راولپنڈی کا ریلوے سٹیشن: ایک قدیم رومانس

کہتے ہیں ریلوے کا اپنا رومانس ہوتا ہے جس کا سحر تمام عمر ہمارے ساتھ چلتا ہے۔ میں ریلوے کی طلسماتی دنیا سے اُس وقت آشنا ہوا جب پہلی جماعت میں پڑھتا تھا اور ہم راولپنڈی کی ایک قدیم بستی مریڑ حسن میں رہتے تھے۔ ہمارے گھر کی پشت پر کوئی گھر نہیں تھا۔ ساری جگہ خالی تھی۔ ایک نالہ بہتا تھا اور پھر ذرا اونچائی پر ریل کی پٹری تھی۔ ہمارے گھر کی دو کھڑکیوں سے ریل کی پٹری صاف نظر آتی تھی۔ جب بھی وہاں سے ٹرین گزرتی اس کی دھمک سے ہمارے گھر کی کھڑکیاں لرزنے لگتیں۔ گرمی کی دوپہروں میں جب گھر کے بڑے سو رہے ہوتے اور کوشش کے باوجود مجھے نیند نہ آتی تو میں کھڑکی کی سلاخیں پکڑ کر پہروں ریل کی پٹری کو دیکھتا رہتا۔ جب اچانک کھڑکی لرزنے لگتی تو میں سمجھ جاتا کہ پٹری پر گاڑی آ رہی ہے۔ کچھ ہی دیر میں شور مچاتی گاڑی آتی۔ شور اتنا ہوتا کہ میں دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں پر رکھ لیتا۔ یوں ریل کی پٹری اور ریل سے میرا ایک خاص تعلق بن گیا تھا لیکن ابھی تک میں نے ریل میں سفر نہیں کیا تھا۔ پھر جلد ہی وہ دن بھی آ گیا جب مجھے ریل میں سفر کا موقع ملا۔ اُس وقت میری عمر چھ سات برس ہو گی۔ ہمارے ماموں کی شادی تھی اور بارات نے راولپنڈی سے لاہور جانا تھا۔ میں ٹرین میں کھڑکی کے پاس بیٹھا حیرت سے کھڑکی سے باہر بھاگتے منظروں کو دیکھ رہا تھا۔ لاہور سے راولپنڈی واپسی پر بھی ہم ٹرین میں آئے لیکن یہ رات کا وقت تھا اور آسمان پر چاند چمک رہا تھا۔ مجھے یوں لگ رہا تھا کہ چاند بھی میرے ساتھ ساتھ بھاگ رہا ہے‘ یہ ایک عجیب سا احساس تھا۔ ریل اور پٹری کے ساتھ ساتھ ریلوے سٹیشن کی عمارت بھی میری ابتدائی یادوں میں شامل ہے۔ بعد میں ہم مریڑ حسن سے کینٹ کے ایک اور علاقے میں منتقل ہو گئے جہاں سے صدر کا علاقہ اور ریلوے سٹیشن بہت قریب تھے۔
میرا ریل کا ایک اور یادگار سفر دوستوں کے ساتھ تھا جب میٹرک میں ہماری کلاس لاہور ٹرپ پر گئی تھی۔ اس سفر میں ہم نے زیادہ وقت سیٹوں پر بیٹھنے کے بجائے دروازے کے قریب کھڑے ہو کر آتے جاتے منظروں کو دیکھ کر گزارا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب ریل لاہور کے قریب پہنچ رہی تھی تو فجر سے ذرا پہلے کا وقت تھا اور ہوا میں فرحت بخش خنکی تھی۔ ٹرین کا یہ سفر میرے سکول کی قیمتی یادوں میں سے ایک ہے۔
اب میں سکول کی فضاؤں سے نکل آیا تھا اور راولپنڈی کے گورڈن کالج میں پڑھتا تھا۔ اس کالج کی اپنی تاریخ ہے۔ لاہور کے گورنمنٹ کالج کی طرح گورڈن کالج بھی تقسیم ہند سے پہلے کا تعلیمی ادارہ تھا‘ جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی خاص توجہ دی جاتی۔ گورڈن کالج کے دن بھی کیسے سحر انگیز دن تھے۔ کالج کے بعد ہم اکثر کالج روڈ پر واقع زمزم کیفے میں بیٹھتے تھے۔ کبھی کبھار دوستوں کے ہمراہ ریلوے سٹیشن چلا جاتا جہاں ہم سٹیشن پر بنے چائے کے ڈھابوں سے چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں چائے پیتے اور آتی جاتی ٹرینوں کو دیکھتے رہتے۔ بہت سے لوگ اپنے عزیزوں کے استقبال کیلئے آئے ہوتے۔ ٹرین کے رکتے ہی قلی بے قراری سے ٹرین کی طرف بھاگتے اور زبردستی لوگوں کا سامان اپنے سروں پر رکھ لیتے۔ یہ منظر اُس منظر سے بالکل مختلف ہوتا جب کچھ لوگ اپنے پیاروں کو رخصت کرنے کیلئے آتے۔ بعض دفعہ ٹکٹ خریدنے کے باوجود ٹرین میں سیٹ نہ ملتی۔ ایسے موقع پر تجربہ کار قلی مسافروں کا سامان کھڑکی سے سیٹ پر رکھتے تھے اور یوں سیٹ پر قبضہ کر لیا جاتا۔ مسافر اپنی سیٹوں پر بیٹھ جاتے اور انہیں رخصت کرنے والے کھڑکیوں کو پکڑ کر باتیں کرتے رہتے۔ پھر ایک سیٹی بجتی‘ یہ ٹرین کے چلنے کی سیٹی ہوتی۔ اب ٹرین آہستہ آہستہ چلنا شروع کرتی۔ اپنے پیاروں کو رخصت کرنے کیلئے آنے والے لوگ ٹرین کے ساتھ ساتھ چلنا شروع کر دیتے۔ یہ منظر میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ بس کا سفر ہو یا جہاز کا‘ کہیں بھی ایسے منظر دیکھنے کو نہیں ملتے۔ یہ الوداعی منظر صرف ریلوے سٹیشن پر نظر آتے ہیں۔ ریل کی سیٹی کا اپنا ایک رومانس ہے۔ اردو ادب میں تو ریل کی سیٹی ہجر کا استعارہ بن گئی۔ منیر نیازی کا یہ شعر ملاحظہ کیجئے:
صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر؍ ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
ہمارے گورڈن کالج کے سینئر اور معروف شاعر شعیب بن عزیز کے والد ریلوے میں ملازمت کرتے تھے۔ ان کی کوٹھی سٹیشن کے قریب تھی۔ انہی دنوں سینیٹر پرویز رشید اور شاہد مسعود بھی گورڈن کالج میں پڑھتے تھے۔ پرویز رشید راولپنڈی کی نئی بستی سیٹیلائٹ ٹاؤن میں رہتے تھے لیکن اپنے گھر جانے سے پہلے وہ اپنی سائیکل پر شعیب بن عزیز کو ریلوے سٹیشن کے قریب اس کے گھر چھوڑتے۔ یاد رہے کہ ریلوے سٹیشن اور سیٹیلائٹ ٹاؤن دو مختلف سمتوں میں واقع تھے۔ شاہد مسعود کا ایک تعارف یہ تھا کہ گورڈن کالج کی سٹوڈنٹس یونین کا صدر تھا لیکن اس کی اصل پہچان اس کی شاعری تھی۔ ریلوے سٹیشن پر بے مقصد وقت گزارنے والوں میں شاہد مسعود بھی شامل ہوتا۔ اسی دورِ آوارگی میں اس نے ریلوے سٹیشن پر بے مقصد گھومتے ہوئے پنجابی کا یہ شعر کہا تھا: اک دوجے نوں اک دوجے دے بیلی ہتھ ہلاؤندے؍ میں ٹیشن تے کلا کھلوتا‘ ڈبے لنگدے جاندے(دوست ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا رہے ہیں لیکن میں سٹیشن پر تنہا کھڑا ہوں اور میرے سامنے ریل کے ڈبے جا رہے ہیں)
ریلوے کا رومانس عام زندگی تک محدود نہیں اس کی جھلک ادب کی دنیا میں بھی نظر آتی ہے۔ ریل‘ ریل کی پٹری‘ ریل کی سیٹی اور ریلوے سٹیشن اردو شاعری کے استعارے بن گئے ہیں۔ ناصر کاظمی کی غزل کے یہ دو شعر سنیں اور چشم تصور میں کسی قصبے کے ایک ویران ریلوے سٹیشن کا منظر دیکھیں: میں بھی مسافر تجھ کو بھی جلدی؍ گاڑی کا بھی وقت ہوا تھا؍ اک اجڑے سے سٹیشن پر؍ تُو نے مجھ کو چھوڑ دیا تھا
دیہات اور قصبوں کے سٹیشن پر گاڑی رکتی تو وہاں زندگی کے آثار جاگ اٹھتے۔یوں لگتا کچھ دیر کیلئے ہر طرف رونق بکھر گئی ہے۔ لیکن گاڑی چلے جانے کے بعد پھر وہی اداسی بھری خاموشی چھا جاتی۔ اس کیفیت کی ایک جھلک احسان دانش کے اس شعر میں نظر آتی ہے: جس طرح دیہات کے سٹیشنوں پر دن ڈھلے؍ اک سکوتِ مضمحل گاڑی گزر جانے کے بعد
اس سکوتِ مضمحل کی کیفیت کو وہی لوگ محسوس کر سکتے ہیں جنہیں دیہات کے سٹیشنوں پر جانے کا اتفاق ہوا ہو۔ ریل گاڑی کبھی کبھی وقت کا استعارہ بھی بن جاتی ہے۔ راولپنڈی کے دلبر شاعر باقی صدیقی نے اپنی ماں بولی پوٹھوہاری زبان میں ایک مختصر نظم لکھی تھی۔ کیا خوبصورت نظم ہے۔ ''بڑھاپا‘‘... گڈی لنگھ گئی ؍ تے پچھے رہ گیا بھاں بھاں کرنا ٹیشن؍تے شاں شاں کرنے کن ( ریل گاڑی گزر گئی؍ اور پیچھے رہ گیا بھاں بھاں کرتا ویران سٹیشن ؍ اور کانوں میں گونجتی شاں شاں کی آواز)
آج ایک طویل عرصے کے بعد میں اپنے شہر راولپنڈی آیا ہوں تو سارے منظر بدلے بدلے لگ رہے ہیں۔ میں خاص طور پر بینک روڈ دیکھنے گیا جہاں کالج کے دنوں میں ہمارا روز کا آنا جانا تھا لیکن نجانے کیوں آج سب کچھ اجنبی لگ رہا تھا۔ وقت کے ساحر نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ تب اچانک مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ راولپنڈی کے ریلوے سٹیشن جاؤں جس کے در و بام سے میرے بیتے ہوئے دنوں کی کتنی ہی یادیں وابستہ ہیں۔ صدر سے ریلوے سٹیشن کا فاصلہ زیادہ نہیں۔ جب میں ریلوے سٹیشن کے پھاٹک پر پہنچا تو سورج غروب ہو رہا تھا اور اس کے دلکش رنگوں میں ریلوے سٹیشن کی پُرشکوہ عمارت اوربھی دل فریب نظر آ رہی تھی۔ اچانک مجھے یوں لگا جیسے بیتے ہوئے دن آنکھیں جھپکتے ہوئے اُٹھ بیٹھے ہیں۔ (جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...