"SSC" (space) message & send to 7575

سکولوں کی نارسائی سے تعلیمی نارسائی تک

پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں اعداد و شمار کا غلبہ رہتا ہے۔ کتنے بچے سکول میں ہیں‘ کتنے سکول سے باہر‘ کتنے سکول تعمیر کیے گئے اور داخلوں میں کتنا اضافہ ہوا۔ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں کیونکہ پاکستان میں آج بھی لاکھوں بچے اپنے آئینی حقِ تعلیم سے محروم ہیں اور انہیں سکول تک لانا ہماری قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے‘ لیکن ایک اتنا ہی اہم سوال یہ ہے کہ بچوں کے سکول میں داخل ہونے کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ سکول تک رسائی اور تعلیم تک رسائی ایک ہی بات نہیں۔ ایک بچہ سکول میں داخل ہو سکتا ہے‘ کئی برس تک کلاسوں میں بیٹھ سکتا ہے اور ایک جماعت سے دوسری جماعت میں ترقی بھی کر سکتا ہے لیکن سکول سے نکلتے وقت یہ بھی ممکن ہے کہ وہ نہ کسی تحریر کو سمجھ کر پڑھ سکے نہ اپنے خیال کو واضح انداز میں بیان کر سکے‘ نہ اعتماد کے ساتھ اعداد سے کام لے سکے اور نہ آزادانہ طور پر سوچ سکے۔ سکولنگ اور سیکھنے کے درمیان یہی فاصلہ پاکستان کے تعلیمی مسئلے کا مرکزی نکتہ ہے۔
حال ہی میں جاری ہونے والی اینوئل سٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ (ASER) نے ایک بار پھر اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ بچوں کی پڑھنے اور ریاضی کی صلاحیت کے حوالے سے رپورٹ کے نتائج تشویشناک ہیں۔ بہت سے بچے کئی برس سکول میں گزارنے کے باوجود ایسے کام کرنے میں بھی دشواری محسوس کرتے ہیں جو اُن سے نچلی جماعتوں کے بچوں کی سطح کا ہوتا ہے۔ ان اعداد کے پیچھے ایک بڑا سوال موجود ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ایک بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہے تو اس سے ہماری مراد کیا ہوتی ہے؟ ہماری تعلیمی منصوبہ بندی روایتی طور پر ان چیزوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے جنہیں گنا جا سکتا ہے: سکول‘ کلاس روم‘ اساتذہ‘ داخل شدہ طلبہ اور نصابی کتابیں۔ یہ اعداد و شمار ضروری ہیں لیکن ان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بچے حقیقت میں کیا سیکھ رہے ہیں۔ سیکھنے کا عمل استاد اور طالب علم کے باہمی تعلق‘ کتابوں اور نئے خیالات سے تعارف اور سوال پوچھنے کی آزادی سے جنم لیتا ہے۔ اس کا اظہار اس اعتماد میں ہوتا ہے جس کے ساتھ ایک بچہ اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے لگتا ہے۔
ہمیں سکولوں کی عمارتیں‘ نصابی کتابیں اور اساتذہ یقینا درکار ہیں لیکن محض ان کی موجودگی سیکھنے کی ضمانت نہیں دیتی۔ بہت کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ استاد اور طلبہ کے درمیان رابطے کی نوعیت کیا ہے اور کلاس روم بچوں کو کس نوعیت کی فکری فضا فراہم کرتا ہے۔ کئی دہائیوں سے ہمارے تعلیمی نظام کا بڑا حصہ ایسی روایت کے زیرِ اثر رہا ہے جس میں علم استاد سے طالب علم تک منتقل ہوتا ہے‘ طالب علم اسے یاد کرتا ہے اور امتحان میں اسے دوبارہ پیش کرتا ہے۔ نصابی کتاب علم کا مرکز بن جاتی ہے اور امتحان اس کا آخری منصف۔ بچے اس نظام میں برسوں گزار سکتے ہیں لیکن ان میں تجسس‘ فہم اور فکری خودمختاری پیدا نہیں ہوتی۔ یہیں سے معیارِ تعلیم کا اہم سوال شروع ہوتا ہے۔ ہم بعض اوقات معیار کو امتحانی نتائج تک محدود کر دیتے ہیں۔ تعلیم کو بچوں میں پڑھنے‘ لکھنے اور حساب کی صلاحیت ضرور پیدا کرنی چاہیے لیکن اس کے ساتھ انہیں سوال کرنے‘ اپنے خیالات کا اظہار کرنے‘ مسائل حل کرنے اور کلاس روم سے باہر سیکھنے کا عمل جاری رکھنے کا اعتماد بھی دینا چاہیے۔ بنیادی خواندگی اور حساب کی مہارتیں ناگزیر ہیں لیکن یہ اچھی تعلیم کا نقطۂ آغاز ہیں‘ آخری منزل نہیں۔ اس بحث میں اساتذہ کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اساتذہ کے بارے میں اکثر اس انداز میں بات کی جاتی ہے جیسے وہ خود مسئلے کا حصہ ہوں‘ بجائے اس کے کہ انہیں اصلاحات میں شراکت دار سمجھا جائے۔ ایک مختصر تربیتی ورکشاپ‘ نظرثانی شدہ نصابی کتاب یا نیا امتحانی نظام اپنے طور پر کلاس روم کے طریقۂ تدریس کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ اساتذہ کو معیاری ابتدائی تربیت‘ مسلسل سیکھنے کے مواقع اور پیشہ ورانہ اعتماد درکار ہے۔نصاب اور امتحانی نظام بھی تدریس کی نوعیت متعین کرتے ہیں۔ حقائق کے بوجھ تلے دبا ہوا نصاب اور فیصلہ کن اہمیت رکھنے والے امتحانات بحث‘ غوروفکر اور تخلیقی صلاحیت کیلئے بہت کم گنجائش چھوڑتے ہیں۔ جب امتحانات رٹے ہوئے مواد کو انعام دیتے ہیں تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ اساتذہ امتحان کیلئے پڑھاتے اور طلبہ امتحان کیلئے پڑھتے ہیں۔ ہم تنقیدی سوچ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایسا امتحانی نظام برقرار نہیں رکھ سکتے جو عملی طور پر مختلف رویے کی حوصلہ افزائی کرتا ہو۔ زبان اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ بچے اس وقت مؤثر انداز میں نہیں سیکھ سکتے جب کلاس روم کی زبان خود اُن کے فہم کی راہ میں رکاوٹ بن جائے۔ اسی طرح معیارِ تعلیم کو صنف‘ جغرافیے‘ سماجی طبقے اور وسائل کی ناہمواریوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ کسی دور درازگاؤں کے سکول کا بچہ‘ جہاں نہ لائبریری ہو‘ نہ تربیت یافتہ اساتذہ اور نہ مناسب تعلیمی مواد‘ وسائل سے بھرپور شہری سکول کے بچے سے بالکل مختلف نقطے سے اپنا تعلیمی سفر شروع کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار میں دونوں کو ''سکول میں داخل‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ان کے تعلیمی مواقع یکساں نہیں۔ اس طرح معیار دراصل مساوات اور انصاف کا سوال بھی ہے۔
پاکستان بارہا تعلیم کو قومی ترجیح قرار دے چکا ہے لیکن سرکاری سرمایہ کاری اس دعوے کی حوصلہ افزا تصویر پیش نہیں کرتی۔ جیسا کہ پاکستان اکنامک سروے 2025-26ء کے مطابق تعلیم پر اخراجات ملک کے تعلیمی مسائل کی وسعت کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ تعلیم پر کم سرمایہ کاری کے اثرات براہِ راست کلاس روم تک پہنچتے ہیں۔ اساتذہ کی ناکافی تربیت‘ کمزور لائبریریاں‘ تعلیمی مواد کی قلت اور محدود تعلیمی معاونت اسی کا نتیجہ ہیں۔ ٹیکنالوجی کو اب اس مسئلے کے ممکنہ حل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ سمارٹ کلاس رومز‘ ٹیبلٹس‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت تعلیم کو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن یہ کمزور تدریسی عمل کا متبادل نہیں۔ کسی بچے کے سامنے سکرین رکھ دینے سے سیکھنے کی نوعیت خود بخود تبدیل نہیں ہو جاتی۔ اگر کلاس روم کا کلچر بدستور رٹنے پر قائم رہے تو ٹیکنالوجی اسی پرانے طریقے کو محض ڈیجیٹل شکل دے گی۔ اس کی اصل تعلیمی اہمیت تب ہے جب وہ بچوں کو کھوجنے‘ سوال اٹھانے‘ تخلیق کرنے اور سمجھنے کے مواقع فراہم کرے۔
اس لیے ASER-2025 محض تشویشناک اعداد و شمار پر مشتمل ایک اور رپورٹ نہیں یہ ہمیں اس بنیادی سوال پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم تعلیم کے ذریعے حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں۔ برسوں سے ہم پوچھتے آئے ہیں کہ کتنے بچے سکول میں ہیں۔ اب ہمیں یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ وہ وہاں کیا سیکھ رہے ہیں۔ کیسے سیکھ رہے ہیں‘ کون سے بچے پیچھے رہ جا رہے ہیں اور ہم اپنے سکولوں کے ذریعے کس طرح کے انسان اور شہری تیار کرنا چاہتے ہیں؟ داخلے‘ سکول‘ اساتذہ اور نصابی کتابیں اہم ہیں لیکن یہ صرف وہ حالات اور وسائل فراہم کرتے ہیں جن میں تعلیم وقوع پذیر ہو سکتی ہے۔ یہ بذاتِ خود تعلیم نہیں ہیں۔ اصل امتحان سکول کا دروازہ کھلنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ کلاس روم میں‘ استاد اور طالب علم کے تعلق میں‘ کسی کتاب یا خیال کے ساتھ بچے کے بامعنی مکالمے میں‘ اور اس جرأت میں کہ وہ ایسا سوال پوچھ سکے جس کا کوئی پہلے سے طے شدہ جواب نہ ہو۔ پاکستان کو سکول تک رسائی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے لیکن اس کے ساتھ سیکھنے کا اتنا ہی سنگین چیلنج بھی موجود ہے۔ ہم ایک مسئلے کے حل ہونے تک دوسرے کو مؤخر نہیں کر سکتے۔ ہمارے سامنے اصل کام صرف بچوں کو سکول تک پہنچانا نہیں بلکہ ان کے سکول میں گزارے گئے برسوں کو بامعنی بنانا ہے۔ یہی سکول تک رسائی اور تعلیم تک رسائی کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...