"SSC" (space) message & send to 7575

تعلیمی ایمرجنسی: کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

دو برس قبل وفاقی حکومت نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے ساتھ 14 اہداف پر مشتمل ایجنڈا بھی پیش کیا گیا جس کا مقصد تعلیم کے شعبے کو درپیش سنگین مسائل سے نمٹنا تھا۔ یہ ایک خوش آئند اقدام تھا جس پر عملدرآمد ملک کے بہت سے تعلیمی مسائل کو کم کر سکتا تھا‘ لیکن ہمیشہ کی طرح یہ خواب بھی سراب میں بدل گیا۔ اب تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کو دو برس بیت چکے ہیں۔ آئیے اس موقع پر ان 14 اہداف پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیتے ہیں جن کا تعلیمی ایمرجنسی میں وعدہ کیا گیا تھا۔
ٹاسک 1: پہلا ہدف ملک بھر میں سکولوں سے باہر بچوں کا جامع سروے کرنے اور اس کی بنیاد پر ایک قومی ایکشن پلان تیار کرنا تھا۔ صوبوں سے مشاورت کے بعد یہ منصوبہ تیار تو کر لیا گیا اور جنوری 2026ء میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں اس کی منظوری بھی حاصل کر لی گئی‘ مگر آج تک اس منصوبے کو باقاعدہ طور پر نافذ نہیں کیا جا سکا۔ ٹاسک 2: سکولوں سے باہر بچوں کی تعلیم کیلئے پانچ برس کے دوران 25 ارب روپے کا ایک خصوصی چیلنج فنڈ قائم کیا جانا تھا تاکہ نئے مالی وسائل حاصل کیے جائیں اور مختلف اداروں کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جا سکے۔ دو سال گزرنے کے باوجود اس فنڈ کا کہیں وجود نظر نہیں آتا؛ چنانچہ تعلیمی مالیات آج بھی روایتی سرکاری بجٹ تک محدود ہیں جبکہ اس ایمرجنسی کا ایک بنیادی مقصد نئے اور پائیدار ذرائع تلاش کرنا تھا۔ ٹاسک 3: تیسرا ہدف وزیراعظم کی سربراہی میں ایک فعال قومی ٹاسک فورس قائم کرنا تھا جو مسلسل پیشرفت کا جائزہ لے اور ضروری فیصلے کرے۔ لیکن یہ ٹاسک فورس اپنے قیام کے بعد دو برس میں صرف ایک اجلاس منعقد کر سکی اور اس اجلاس کی صدارت بھی ٹاسک فورس کے سربراہ یعنی وزیراعظم نے نہیں کی۔ یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ جس سیاسی عزم کی اس منصوبے کو ضرورت تھی وہ عملاً دکھائی نہیں دیا۔ ٹاسک 4: چوتھا اور شاید سب سے اہم ہدف یہ تھا کہ تعلیم پر قومی اخراجات کو بتدریج بڑھا کر جی ڈی پی کے چار فیصد تک پہنچایا جائے گا۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ مناسب سرمایہ کاری کے بغیر کوئی بھی تعلیمی اصلاح دیرپا نتائج نہیں دے سکتی۔ لیکن سرکاری اعداد و شمار ایک مختلف کہانی سناتے ہیں۔ مالی سال 2024-25ء کے ابتدائی دس مہینوں (جولائی تا مارچ) کے دوران تعلیم پر 899.6ارب روپے خرچ کیے گئے تھے جبکہ 2025-26ء کی اسی مدت میں یہ رقم کم ہو کر 356.5 ارب روپے رہ گئی۔ یعنی ایک ہی سال میں تعلیمی اخراجات میں 60 فیصد سے زیادہ کمی آئی۔ ایسے میں چار فیصد کا ہدف پہلے سے بھی زیادہ دور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ٹاسک 5: پانچواں ہدف ملک بھر میں میرٹ کی بنیاد پر معیاری اساتذہ کی بھرتی کے عمل کو تیز کرنا تھا۔ مگر تعلیمی ایمرجنسی کے تحت اس نوعیت کی کوئی قومی مہم شروع نہیں کی جا سکی۔ آج بھی ملک کے مختلف علاقوں میں اساتذہ کی شدید کمی موجود ہے حالانکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی تعلیمی نظام کا معیار اس کے اساتذہ کے معیار کے بغیر بلند نہیں ہو سکتا۔
ٹاسک 6: چھٹا ہدف ملک بھر میں بچوں کیلئے غذائیت اور سکول میل پروگرام کا آغاز تھا۔ اس کے پیچھے یہ تصور کارفرما تھا کہ غذائیت اور تعلیمی کارکردگی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ سندھ‘ بلوچستان اور وفاق نے اپنی سطح پر کچھ اقدامات ضرور کیے ہیں لیکن آج بھی ملک میں ایسا کوئی قومی پروگرام موجود نہیں جو تمام صوبوں میں یکساں طور پر نافذ ہو‘ جس کیلئے مستقل مالی وسائل مختص ہوں اور جس کے واضح اہداف مقرر کیے گئے ہوں۔ ٹاسک 7:ساتواں ہدف معاشرے کو تعلیم کے عمل میں دوبارہ شریک کرنا تھا۔ اس مقصد کیلئے یہ تصور پیش کیا گیا کہ ہر پڑھا لکھا شہری کم از کم ایک فرد کو تعلیم دینے کی ذمہ داری قبول کرے۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ نے ''Each One Teaches One‘‘ مہم شروع کی جو یقینا ایک مثبت قدم ہے‘ مگر ملک میں بالغ ناخواندگی کی وسعت کے مقابلے میں اس کا دائرۂ اثر نہایت محدود ہے۔ اگر اسے واقعی قومی خواندگی تحریک بنانا ہے تو صرف ایک سرکاری پروگرام کافی نہ ہو گا۔ اس کیلئے جامعات‘ سول سوسائٹی‘ نوجوانوں اور رضاکار تنظیموں کو بھی بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔
ٹاسک 8:معاشی طور پر کمزور طلبہ کیلئے پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا قیام آٹھواں ہدف تھا۔ دو سال گزرنے کے باوجود یہ فنڈ قائم نہیں ہو سکا‘ یوں ایک اور اہم وعدہ عملی شکل اختیار کرنے کے بجائے سرکاری دستاویزات تک محدود رہ گیا۔ ٹاسک 9 : نواں ہدف دانش سکول ماڈل کو ملک بھر میں وسعت دینا تھا۔ حکومت نے پندرہ نئے دانش سکول قائم کرنے کا اعلان کیا ہے اور وفاقی بجٹ 2026-27ء میں ان کی تعمیر کیلئے تقریباً 22 ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی سرمایہ کاری ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصوبہ ملک کے سکول سے باہر کروڑوں بچوں کے مسئلے کا مؤثر حل بن سکے گا؟ دانش سکول یقینا بعض بچوں کیلئے معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کریں گے مگر جب کروڑوں بچے سکولوں سے باہر ہوں تو چند نئے اداروں کی تعمیر مسئلے کا جامع حل نہیں بن سکتی۔ اصل کامیابی کا معیار عمارتوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں کتنے نئے بچے تعلیمی نظام میں شامل ہوتے ہیں۔ ٹاسک 10: ساٹھ ہزار نوجوانوں کیلئے قومی سکل ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنا تھا تاکہ انہیں بین الاقوامی معیار کی مہارتیں اور اسناد فراہم کی جا سکیں اور فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔اگرچہ NAVTTC اور مختلف صوبائی ادارے اپنی سطح پر مہارتوں کی تربیت کے پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن تعلیمی ایمرجنسی کے تحت جس قومی‘ مربوط اور بڑے پیمانے کے پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا وہ آج بھی حقیقت کا روپ نہیں دھار سکا۔ ٹاسک 11: ایک قومی آن لائن تعلیمی پورٹل قائم کرنا تھا تاکہ طلبہ بالخصوص سکول سے باہر بچوں کی معیاری تعلیمی مواد اور ورچوئل تعلیم تک رسائی آسان ہو سکے۔ آج دو سال بعد بھی ایسا کوئی قومی پورٹل وجود میں نہیں آ سکا۔ یہ کمی اس لیے بھی زیادہ تشویشناک ہے کہ روایتی سکولوں سے باہر رہ جانیوالے بچوں تک پہنچنے کیلئے ٹیکنالوجی شاید سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹاسک 12: وسیلۂ تعلیم پروگرام کو مزید وسعت دینے اور قدرتی آفات کیلئے مختص فنڈز کو تعلیمی سہولتوں کی بہتری کیلئے استعمال کرنا تھا۔ لیکن تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے بعد اس حوالے سے کوئی ایسی قومی پیشرفت سامنے نہیں آئی جسے نمایاں کامیابی قرار دیا جا سکے۔ ٹاسک 13: سٹیٹ بینک اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے تعاون سے ملک بھر میں مالیاتی خواندگی کو فروغ دینا تھا۔ اگرچہ دونوں ادارے اپنی سطح پر کچھ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن تعلیمی ایمرجنسی کے تحت جس ہمہ گیر قومی پروگرام کا اعلان کیا گیا تھا وہ عملی صورت اختیار نہیں کر سکا۔ ٹاسک 14: سائنس‘ ٹیکنالوجی‘ انجینئرنگ‘ آرٹس اور ریاضی (STEAM) پر مبنی جدید تعلیمی ماڈل کو فروغ دینا تھا تاکہ تدریس کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ تاہم دو سال گزرنے کے باوجود ملک گیر سطح پر ایسا کوئی نمایاں اقدام سامنے نہیں آیا جس سے یہ محسوس ہو کہ STEAM تعلیم کو قومی ترجیحات میں شامل کر لیا گیا ہے۔
ان چودہ نکات کا جائزہ لینے کے بعد یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ اگر تعلیمی ایمرجنسی واقعی ایک قومی مہم تھی تو پھر اس کی پیشرفت‘ اخراجات اور نتائج کے بارے میں باقاعدہ عوامی رپورٹنگ کیوں نہیں کی گئی؟ آج بھی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی منظم نظام موجود نہیں جس کی بنیاد پر شہری‘ ماہرینِ تعلیم یا پارلیمان کے ارکان یہ جان سکیں کہ کن وعدوں پر عمل ہوا‘ کن میں تاخیر ہوئی اور اس تاخیر کے ذمہ داران کون ہیں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...