"SSC" (space) message & send to 7575

کتابِ زندگی کا ایک ورق

گورڈن کالج راولپنڈی سے ایم اے انگلش کرنے کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے بطور لیکچرر میری پہلی تقرری گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی بہاء الدین میں ہوئی۔ یہاں کے پرنسپل چودھری ولی محمد تھے۔ منڈی بہاء الدین اُس زمانے میں ایک خاموش سا قصبہ تھا جہاں کالج کے اوقات کے بعد شام ڈھلے ہم حکیم افتخار فخر صاحب کے مطب پر جمع ہوتے۔ حکیم صاحب شاعر بھی تھے۔ یوں ہر شام ان کے مطب پر شعر و ادب کی محفل جمتی۔ اس محفل میں اردو کے معروف نقاد پروفیسر ڈاکٹر نوازش علی بھی شریک ہوتے تھے جو اُس وقت تک ڈاکٹر نہیں بنے تھے اور منڈی بہاء الدین کے کامرس کالج میں اردو کے لیکچرر تھے۔ کالج میں مجھے انٹرمیڈیٹ اور بی اے کی دو کلاسز دی گئیں۔ یہ میری تدریس کے سفر کا آغاز تھا۔ اسی دوران پبلک سروس کمیشن میں میرا انٹرویو ہوا اور میں نتیجے کا انتظار کرنے لگا۔ اب مجھے منڈی بہاء الدین کالج میں کام کرتے ہوئے تین چار ماہ ہو چکے تھے۔ ایک روز کالج کے پرنسپل ولی محمد صاحب نے مجھے اپنے دفتر بلایا۔ میں ان کے آفس میں داخل ہوا تو انہوں نے کھڑے ہوکر مجھے گلے سے لگا لیا‘ کہنے لگے‘ بہت عرصے بعد کالج کے طلبہ کو انگریزی کی کلاس میں ذو ق و شوق سے جاتے دیکھا ہے۔ اس کے بعد ان کے چہرے پر اداسی کی لہر آئی اور گزر گئی‘ پھر ہونٹوں پر تبسم لا کر کہنے لگے‘ آپ کو مبارک ہو آپ کا پبلک سروس کمیشن کے ذریعے لیکچرر شپ کیلئے انتخاب ہو گیا ہے اور آپ کی اپائنٹمنٹ آپ کے اپنے شہر راولپنڈی کے ایک کالج میں ہوئی ہے۔ الوداعی دعوت میں ولی محمد صاحب اور میرے دوستوں نے میرے لیے محبت بھرے الفاظ کہے۔ مجھے الوداع کہنے کیلئے کچھ اساتذہ اور طلبہ ریلوے سٹیشن تک آئے ۔ ٹرین ذرا دیر کو رکی تو میں سب کو خدا حافظ کہہ کر ٹرین پر سوار ہو گیا۔ اب ٹرین تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا تو مجھے یوں لگا کہ دور فضاؤں میں میرے زمانۂ طالبعلمی کے اساتذہ کی مہربان آنکھیں مجھے دیکھ رہی ہیں۔ ان آنکھوں میں مسرت کی چمک بھی ہے اور طمانیت کی روشنی بھی۔
منڈی بہاء الدین میں میرا قیام اگرچہ چند ماہ کا تھا لیکن یہ ایک یادگار وقت تھا۔ اب پبلک سروس کمیشن کی طرف سے میری تقرری راولپنڈی کے حشمت علی اسلامیہ کالج میں ہوئی تھی جو ایک انٹر میڈیٹ کالج تھا۔ میرے لیے اہم بات یہ تھی کہ میں واپس اپنے شہر راولپنڈی آ گیا تھا۔ واپس اسی گھر میں جہاں میرے ماں باپ اور بہن بھائی رہتے تھے۔ اصولی طور پر مجھے مطمئن ہو جانا چاہیے تھا۔ میری تقرری میرے شہر میں تھی اور ورک لوڈ بہت کم تھا۔ یہاں مجھے صرف دو کلاسوں کو پڑھانا ہوتا۔ بظاہر زندگی بہت آسان تھی۔ حشمت علی اسلامیہ کالج دراصل ایک نجی انٹر میڈیٹ کالج تھا جو بھٹو کے زمانے میں نیشنلائزیشن کے بعد گورنمنٹ کالج بن گیا تھا۔ کالج میں ہر سیکشن میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ کالج کی عمارت بھی دراصل ایک نجی کوٹھی تھی جس میں کالج کا آغاز کیا گیا تھا۔ کالج کے پرنسپل محمود قریشی تھے‘ ان کے بھائی زبیر قریشی بھی وہیں پڑھاتے تھے۔ حشمت علی اسلامیہ کالج کا آغاز ڈی ایوی کالج روڈ سے 60ء کے عشرہ میں ایک نجی کالج کے طور پر ہوا تھا جہاں پہلے آرٹس‘ کامرس اور پھر سائنس کی کلاسز شروع ہوئیں۔ نیشنلائزیشن کے بعد 75ء یا 76ء میں کالج وہاں سے ٹی بی سنٹر اصغر مال سکیم کے پاس ایک سرکاری عمارت میں منتقل ہوا۔ کچھ دنوں میں مجھے پتا چلا کہ کالج ایک نئی جگہ پر منتقل ہو رہا ہے اور یہ جگہ ڈھوک کشمیریاں میں ہے۔ نئی عمارت ابھی زیرِ تعمیر ہی تھی کہ ہماری کلاسز وہاں شفٹ ہو گئیں۔ وہاں تک رسائی اتنی آسان نہ تھی۔ مین روڈ سے کالج تک پہنچنے میں کچھ راستہ کچا بھی تھا۔ بارش کے دنوں میں یہ علاقہ ایک تالاب بن جاتا۔
اسی کالج میں میری پروفیسر مسعود سے ملاقات ہوئی جو یہاں بیالوجی کے پروفیسر تھے۔ کیا باغ و بہار شخصیت تھی۔ دلچسپ بات یہ کہ جب میں گورڈن کالج میں ایم اے انگلش کا طالب علم تھا ان دنوں پروفیسر مسعود وہاں پڑھا رہے تھے۔ حشمت علی اسلامیہ کالج میں پروفیسر مسعود کا دم غنیمت تھا۔ ہماری پہلی ملاقات جلد ہی گہری دوستی میں بدل گئی۔ انہوں نے شادی نہیں کی تھی اور بیچلر زندگی گزار رہے تھے۔ ان کے ہمراہ ان کی بہن رہتی تھی۔ پروفیسر مسعود کا گھر سیٹلائٹ ٹاؤن کی کمرشل مارکیٹ کے قریب تھا۔ میں کئی بار اس گھر میں ان سے ملنے گیا۔ ان کے گھر کے سامنے ہر وقت ان کی کار کھڑی رہتی تھی۔ لیکن وہ کار استعمال کرنے کے بجائے آنے جانے کیلئے بس اور ویگن کا استعمال کرتے۔ ہم دوست ان کا مذاق اڑاتے کہ یہ دولت کس کام آ ئے گی۔ پھر میں حشمت علی اسلامیہ کالج سے ایک اور کالج چلا گیا۔ اب مسعود صاحب سے خال خال ملاقات ہوتی تھی۔ کبھی کبھار میں ان کے گھر چلا جاتا اور کبھی وہ ملنے چلے آتے۔ ایک روز پتا چلا کہ مسعود صاحب نے شادی کر لی ہے۔ مجھے یقین نہ آیا لیکن خبر درست تھی۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ دیر سے سہی مسعود صاحب کو آخر کار اپنا شریکِ سفر مل گیا مگر یہ شادی زیادہ دیر چل نہ سکی۔ پھر ایک روز خبر ملی کہ مسعود صاحب ہمیں ہمیشہ کیلئے چھوڑ گئے ہیں۔ مجھے یقین نہ آیا کہ ایسا ہنستا کھیلتا شخص کیسے اچانک ازل کی وادی میں اُتر گیا۔ حشمت علی اسلامیہ کالج میں کوئی زیادہ کام نہ تھا۔ صرف دو کلاسیں پڑھانا ہوتیں۔ زندگی یوں تو بہت آسان تھی لیکن دل مطمئن نہ تھا کیونکہ میرے سیکھنے کا عمل رک گیا تھا۔ کوئی چیلنج نہ تھا جس کے زیر اثر میں محنت کرتا۔ آخر چند ماہ میں ہی میں اس یکسانیت سے اُکتا گیا۔
انہی دنوں کی بات ہے کہ پروفیسر بشیر قریشی مرحوم جو گورنمنٹ کالج اصغر مال میں انگریزی کے شعبے سے وابستہ تھے‘ کا پیغام ملا کہ انگریزی کے شعبے میں ایک اسامی ہے‘ اگر چاہو تو شعبے کے سربراہ سے ملاقات کر لو۔ قریشی صاحب کا پیغام سن کر مجھے یوں لگا جیسے میں اسی کا منتظر تھا۔ گورنمنٹ کالج اصغر مال راولپنڈی کا ایک قدیم اور تاریخی کالج تھا جہاں کئی مضامین میں ایم اے کی کلاسز ہوتی تھیں۔ اُس زمانے میں اصغر مال کالج میں شعبۂ انگریزی کے سربراہ محترم سعیدالحسن صاحب تھے۔ وہ علی گڑھ سے فارغ التحصیل تھے۔ نستعلیق شخصیت کے مالک تھے۔ اونچا لمبا قد‘ سر کے بال سفید‘ ہونٹوں پر پان کی سرخی اور دبی دبی مسکراہٹ۔ میں ملاقات کا وقت لے کر ان کے آفس پہنچ گیا۔ سعیدالحسن صاحب نے چائے منگوائی اور عام گفتگو کرنے لگے۔ میرا خیال تھا یہ ایک روایتی انٹرویو ہوگا۔ جب چائے پی چکے اور تقریباً آدھا گھنٹہ گزر گیا تو سعید صاحب رکے اور کہنے لگے‘ آپ سے مل کر مجھے خوشی ہوئی لیکن ایک مسئلہ ہے۔ مجھے لگا میرے اندر کوئی دیوار گِر گئی ہے۔ ڈرتے ڈرتے پوچھا‘سرکیا مسئلہ ہے؟ اس پر سعید صاحب کہنے لگے‘ پہلے بھی دو امیدوار آئے تھے‘ لیکن جب انہیں بتایا کہ ایم اے کی کلاسز کو بھی پڑھانا ہو گا تو وہ واپس نہیں آئے۔ میں ان کا جواب سن کر ہنس پڑا اور کہا‘ ایم اے انگلش پڑھانے کی ذمہ داری میری خوش بختی ہو گی۔ سعید صاحب کے چہرے پر اطمینان کی لہر آئی اور وہ کہنے لگے‘ ہماری طرف سے ایک سرکاری خط ڈائریکٹوریٹ چلا جائے گا جس میں آپ کی سروسز گورنمنٹ کالج اصغر مال کو دینے کی درخواست ہو گی۔ یہ مرحلہ بھی طے ہو گیا اور پھر وہ دن آ گیا جب میں راولپنڈی کے ایک تاریخی کالج سے بطور لیکچرر وابستہ ہو رہا تھا جہاں پوسٹ گریجویٹ کلاسز پڑھانے کے میرے دیرینہ خواب کی تکمیل ہونے جا رہی تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں