پروفیسر وِکٹر مل ریٹائرمنٹ کے بعد گورڈن کالج سے ملحق اپنی وسیع و عریض کوٹھی میں رہتے تھے اور اپنے گھر میں پڑھایا کرتے تھے۔ میں نے پروفیسر مل کی کلاس میں اس لیے داخلہ لیا تھا تاکہ گورڈن کالج میں ایم اے انگلش میں داخلہ لینے میں آسانی ہو۔ گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کرنا میرا خواب تھا۔ انگریزی میں دلچسپی کا بیج شیخ اشرف صاحب نے بویا تھا جو کیپٹل کالج کے پرنسپل تھے۔ میں نے تبھی اپنی زندگی کے دو اہم فیصلے کر لیے تھے۔ ایک یہ کہ میں نے اعلیٰ تعلیم انگریزی زبان و ادب میں حاصل کرنی ہے اور دوسرا یہ کہ میں نے تدریس کے شعبے سے وابستہ ہونا ہے۔ ان دونوں فیصلوں کا محرک شیخ اشرف صاحب کی دلآویز شخصیت اور ان کی تدریس کا مسحور کن انداز تھا۔ پروفیسر مل کی کلاسز میں میرے سامنے انگریزی ادب کا دلربا دریجہ کھلتا چلا گیا۔ چونکہ پروفیسر مل کی کوٹھی گورڈن کالج ہی کا ایک حصہ تھی اس لیے میں ہر روز آتے جاتے گورڈن کالج کی سرخ اینٹوں والی عمارت کو دیکھتا اور سوچتا کہ ایک دن میرا نام بھی اس کے طالب علموں میں شمار ہو گا۔
لیکن کہانی میں آگے بڑھنے سے پہلے مختصراً 70ء کی دہائی کے اہم واقعات کا اعادہ کرنا چاہوں گا۔ اس دہائی کا آغاز 1970ء کے الیکشن سے ہوا تھا جس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی۔ ابتدا میں ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس بھی بلا لیا گیا تھا لیکن پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس وقت کے حکمران جنرل یحییٰ خان نے اسمبلی کا اجلاس منسوخ کر دیا۔ اس کے ردِ عمل میں مشرقی پاکستان میں بے چینی بڑھتی گئی۔ احتجاج پر قابو پانے کیلئے آپریشن کیا گیا جو سقوطِ مشرقی پاکستان کا باعث بنا۔ اس کی پاداش میں یحییٰ خان کو مستعفی ہونا پڑا اور اس کی جگہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کی سربراہی سونپی گئی۔ بھٹو کے کارناموں میں 1972ء میں ہونے والا شملہ معاہدہ‘ 1973ء کا متفقہ آئین اور 1974ء میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد شامل ہیں۔ اسی سال بنگلہ دیش کو بھی تسلیم کر لیا گیا اور پھر قادیانیوں کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے غیرمسلم قرار دے دیا گیا۔ 1977ء میں منعقد ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر بھٹو کے خلاف تحریک شروع کی گئی جس کا نتیجہ ضیا الحق کے پانچ جولائی 1977ء کے مارشل لاء کی صورت میں ظاہر ہوا۔ ادھر ملکی سطح پر یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور ادھر میں پروفیسر وِکٹر مل کے گھر میں ہونے والی انگلش لٹریچر کی کلاسز اٹینڈ کر رہا تھا۔ اسی دوران خبر ملی کہ گورڈن کالج میں ایم اے انگلش میں داخلے کی تاریخ آ گئی ہے‘ میں اسی دن کا انتظار کر رہا تھا۔ فوراً داخلے کی درخواست دے دی۔ کچھ دنوں بعد انٹرویو کال آئی۔ انٹرویو ہوا اور مجھے گورڈن کالج میں داخلہ مل گیا۔
وہ میرے لیے ایک یادگار دن تھا جب میں نے جوبلی ہال کے اوپر ایک کمرے میں ایم اے انگلش کی کلاس کی ابتدا کی۔ گورڈن کالج میں تعلیم کے علاوہ کھیلوں‘ مباحثوں‘ تقریری مقابلوں اور ڈراموں پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ کالج میں ڈرامے کے انچارج نصر اللہ ملک صاحب تھے۔ کیا باغ و بہار شخصیت تھے۔ معروف اداکار راحت کاظمی‘ شجاعت ہاشمی اور نیّر کمال کا شمار ان کے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گورڈن کالج کے پرنسپل معروف دانشور خواجہ مسعود تھے جن کی متحرک قیادت کا اثر گورڈن کالج کے در و بام پر نظر آتا تھا اور پھر گورڈن کالج میں نامور اساتذہ کی ایک کہکشاں تھی جس میں سجاد شیخ‘ آفتاب اقبال شمیم‘ توصیف تبسم‘ سجاد حیدر ملک اور نصر اللہ ملک جیسے لوگ شامل تھے۔ نصر اللہ ملک کتابوں کے عاشق تھے اور گفتگو کے رسیا۔ ان کا مضمون تو تاریخ تھا لیکن ان کی دلچسپی کا میدان ڈرامہ تھا۔ نصراللہ ملک کی شخصیت کو بیان کرنا ہو تو ایک ہی لفظ میرے ذہن میں آتا ہے Unorthodox۔ سینیٹر پرویز رشید بھی اولڈ گڈ گورڈونین ہیں۔ انہوں نے مجھے گورڈن کالج کے زمانے کا ایک قصہ سنایا جس سے نصراللہ ملک صاحب کی شخصیت کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اُن دنوں لیاقت باغ میں‘ جو گورڈن کالج کے ہمسایے میں واقع ہے‘ ہر سال ایک میلہ منعقد ہوتا تھا۔ اُس سال بھی میلہ چل رہا تھا اور میلے میں دلچسپ کھیل تماشوں اور کھانے پینے کے سٹالوں کے علاوہ ایک تھیٹر بھی آیا ہوا تھا جس میں اُس زمانے کی مشہور پنجابی گلوکارہ بالی جٹی بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ میلوں کی روایت کے مطابق تماش بین جب ''ویلیں‘‘ دیتے تو ان کا نام لاؤڈ سپیکر پر نشرہوتا۔ پرویز رشید اور ان کے دوستوں کو شرارت سوجھی انہوں نے ویلیں دے کر اپنے اساتذہ کے نام بتانے شروع کر دیے۔ کسی نے اپنا نام خواجہ مسعود بتایا کسی نے نصراللہ ملک اور کسی نے وِکٹر مل۔ اب لاؤڈ سپیکر پر بلند آواز میں ان ناموں کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ گورڈن کالج کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ کالج میں جب طالب علموں نے اپنے اساتذہ کے نام سنے تو انہیں حیرت ہوئی کہ ان کے اساتذہ بالی جٹی کے تھیٹر میں دادِ عیش دے رہے ہیں۔ خواجہ مسعود اور دوسرے اساتذہ سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ اس صورتحال سے کیسے نپٹا جائے۔ اسی دوران پرویز رشید اور ان کے ساتھی ہنستے ہوئے کالج کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے۔ خواجہ مسعود اور دوسرے اساتذہ کو یقین تھا کہ یہ شرارت اسی ٹولی نے کی ہے۔ اب عالم یہ تھا کہ پرویز رشید اور ان کے ساتھی سر جھکائے کھڑے تھے اور خواجہ مسعود ان کی سرزنش کر رہے تھے۔ اتنی دیر میں نجانے کہاں سے پروفیسر نصر اللہ ملک نمودار ہوئے اور پرویز رشید کو گلے لگاتے ہوئے بلند آواز میں کہا: تم نے دل خوش کر دیا ہے میرا لیکن میں ایک بات پر تم سے ناراض ہوں‘ تم لوگ مجھے اپنے ہمراہ تھیٹر لے کر کیوں نہیں گئے۔
گورڈن کالج کی روشوں پر چلتے ہوئے مجھے اکثر یہ احساس ہوتا کہ کیسے کیسے نامور لوگ انہی روشوں پر چلتے ہوں گے۔ انہی میں اداکار شیام بھی تھا جو گورڈن کالج سے پڑھ کر بالی وڈ میں گیا اور نام کمایا۔ گورڈن کالج کی انہی روشوں پر بلراج ساہنی اور جگن ناتھ آزاد بھی چلتے ہوں گے۔ جگن ناتھ آزاد کالج کے رسالے گورڈونین کے ایڈیٹر بھی تھے۔ بہت عرصے بعد مجھے بھی گورڈونین کے مدیر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ میں چاہوں تو گورڈن کالج کی یادوں پر ایک کتاب لکھ سکتا ہوں۔ مختصر یہ کہ گورڈن کالج محض ایک کالج نہیں تھا ایک تہذیب‘ ایک تاریخ اور ایک ثقافت کا نام تھا۔ یہاں کے فارغ التحصیل طلبہ نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
1979ء کے سال کی اہمیت کی کئی وجوہات ہیں۔ میرے لیے یہ سال اس لیے اہم ہے کہ میں نے اس سال گورڈن کالج سے ایم اے انگلش کی ڈگری مکمل کی تھی اور ایم اے انگلش میں اپنی کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ 1979ء پاکستان کی تاریخ میں ایک اور وجہ سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ اسی سال ملک کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے الزام میں پھانسی دی گئی ۔ بہت سالوں بعد سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ ایک غلط عدالتی فیصلہ تھا۔ مجھے وہ دن یاد ہے جب بھٹو کی پھانسی کی خبر مختلف اخبارات کے ضمیموں کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ پھانسی گھاٹ سے لاش کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے گڑھی خدا بخش کے ان کے آبائی قبرستان لے جایا گیا جہاں سخت پہرے اور چند لوگوں کی موجودگی میں لاش کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔ یوں پاکستانی سیاست کے ایک متحرک کردار کو ہمیشہ کیلئے خاموش کر دیا گیا۔ (جاری)