کیا ٹھیک کہا گیا ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان ہے لیکن گلے پڑ جائے تو ختم کرنا مشکل ۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ یہی کچھ ایران جنگ میں ہو رہا ہے۔ کس گھمنڈ سے پہلے حملے ہوئے کہ ایرانی قیادت ختم ہوئی اور بھرپور ہوائی حملے ہوئے تو رجیم دھڑام سے گر جائے گا۔ چند دنوں یا ہفتوں کی بات سمجھی جا رہی تھی‘ اب چھٹا مہینہ ہے اور صدر ٹرمپ نکلنے کی کر رہے ہیں اور نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا۔ وال سٹریٹ جرنل نے وائٹ ہاؤس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی نیوکلیئر معاہدے کو بھی پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ صرف آبنائے ہرمز کھل جائے تو عزت بچانے کا راستہ مل جائے۔ فتح کا اعلان کر کے واپس مڑ جائیں گے۔
ایران ہے کہ ایسی آسان راہِ فرار صدر ٹرمپ کو فراہم نہیں کر رہا۔ ایران نے پوری ایک فہرست مطالبات کی دے دی ہے کہ معاشی پابندیاں ختم ہوں‘ ضبط اثاثے واپس کیے جائیں‘ امریکی بحری محاصرہ ختم ہو تو پھر ہی آبنائے ہرمز سے بحری آمدو رفت بحال ہو سکتی ہے۔ حالت امریکہ کی یہ ہو گئی ہے کہ ان مطالبات کا ابھی تک کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔ بڑھکیں اور دھمکیاں صدر ٹرمپ کی کم ہو گئی ہیں۔ پوری دنیا جان چکی ہے کہ ایران پر میزائل پھونک پھونک کر امریکہ کا میزائل ذخیرہ خطرناک حد تک کم پڑ گیا ہے۔ اس ذخیرے کو پرانی حالت پر لانا مہینوں کا نہیں سالوں کا کام ہے۔
آخری دور ایران پر بمباری کا تیرہ دن تک رہا اور حاصل کچھ نہ ہوا۔ حالیہ دنوں میں ایران نے ادھر اُدھر میزائل حملے کیے ہیں... بحرین‘ کویت‘ کئی بحری جہازوں پر... لیکن امریکہ کی طرف سے جواباً کوئی حملے نہیں آئے۔ جس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی عسکری طاقت میں کوئی کمی آئی ہے لیکن اتنا تو نظر آ رہا ہے کہ امریکہ کا پہلے والا جوش نہیں رہا۔ یہ اس لیے کہ تمام مفروضے ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیں۔ امریکہ تو توقع کر رہا تھا کہ ہوائی حملے ہوں گے اور ایران سرنگوں ہو جائے گا۔ نئی قیادت جو آئے گی امریکہ کے اشاروں پر چلے گی۔ ایسا کہاں ہونا تھا‘ اور اب تو ایران کا اعتماد اور لہجہ قابلِ دید ہے۔ اب بھی امریکہ دنیا کا طاقتور ترین ملک ہے لیکن خلیج فارس میں بے بس نظر آ رہا ہے۔ اتنا جنگی سازو سامان جو بے وقوفی کی جنگ شروع کر کے کسی کام کا نظر نہیں آ رہا ۔ اتنے فوجی اڈے جو سب بیکار پڑے ہیں‘کہاں وہ شروع کی بڑھکیں اس حد تک کہ ایرانی تہذیب تباہ کر دی جائے گی‘ اور اب دانت پیسنے کے سوا کچھ کرنا محال نظر آنے لگا ہے۔
جہاں تک برادر ملکوں کا تعلق ہے سچ پوچھیے وہاں صورتحال بالکل بھی اچھی نہیں۔ وہ گارنٹی کہ امریکہ اُن کا دفاع کرے گا وہ بھانڈا کب کا پھوٹ گیا۔ امریکی اپنے فوجی اڈے نہیں بچا سکے دوسروں کی حفاظت کیا کرنی ہے۔ ایران تو فتح نہ ہوا‘ برادر ملکوں کو حالات کے رحم و کرم پرچھوڑ دیا۔ وہاں تیل اور گیس کی تنصیبات زیادہ تر بند پڑی ہیں۔ تیل اور گیس کی ایکسپورٹ بند پڑی ہے۔ آئل ٹینکر لنگر انداز ہیں اور آبنائے ہرمز سے نکل نہیں پا رہے۔ دنیا میں سب سے طاقتور نیوی امریکہ کی ہے لیکن آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کا ہے حالانکہ جو بحری جہاز تھے زیادہ تر تباہ ہو چکے ہیں۔ لیکن ایران کے میزائل اور ڈرون ہیں اور تیز رفتار کشتیاں جن کی مدد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی مکمل گرفت ہے۔ وائٹ ہاؤس میں فرسٹریشن اور غصے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے ایئرکرافٹ کیریئر اور مہنگے ترین بحری جہاز لیکن آبنائے ہرمز کے قریب جانے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔
آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدو رفت کے بارے میں جو مذاکرات ایران اور عمان کے درمیان ہو رہے ہیں وہ تو امریکی زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں۔ دونوں ممالک یہ معاملات خود طے کر رہے ہیں اور امریکہ کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ ایران یہ بھی واضح کر رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نئے انتظام کے تحت جہازوں پر ٹول یا فیس لگے گی۔ مختلف ممالک یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ ایران اور عمان کا آپس میں معاہدہ ہو جائے تو آبنائے ہرمز کھل جائے گی لیکن ایران واضح کر رہا ہے کہ عمان سے معاہدہ ہو بھی جائے تو آبنائے ہرمز تب ہی کھلے گا جب امریکہ ایرانی شرائط مانے گا‘ شرائط جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ امریکہ کو یہ سب کچھ سننا پڑ رہا ہے لیکن کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ برادر ملک بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ سب منظر دیکھ رہے ہیں۔
سوائے عمان کے خطے کے تمام ملک ایران پر حملے میں امریکہ کے معاون رہے۔ اڈے استعمال ہوئے‘ فضائی حدود ان کی استعمال کی گئیں۔ یو اے ای اس سلسلے میں کچھ زیادہ ہی آگے نکل گیا۔ امیدوں کے برعکس سب کچھ ہوا ہے تو برادر ملک پریشان بیٹھے ہیں۔ حوثیوں نے باب المندب کے پانیوں پر کنٹرول جما کر سعودیوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ پریشانی اس لیے بھی ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ ساری صورتحال کب تک رہے گی۔ اب امریکہ بھی کچھ تھکا تھکا لگ رہا ہے اور کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ صورتحال سے کیسے نکلا جائے۔ ایران بھی کوئی آسان راستہ نہیں چھوڑ رہا۔ ایرانی ذرائع نے اب تو یہ بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ہوتے ہوئے کوئی معاہدہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اُن کی بات پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو یہاں شروع کے دنوں میں شادیانے بجے‘ لیکن جب امن یادداشت کی دھجیاں اڑنے لگیں اور صورتحال پیچیدہ ہو گئی تو شادیانے تھوڑنے ماند پڑ گئے۔ ویسے بھی محض ہائی پروفائل سے کیا نکالا جا سکتا ہے۔ امریکہ سے قربت تو بڑھی لیکن وہاں سے کیا ملا اور اب ایران جنگ کے حوالے سے امریکہ جس کیفیت میں ہے وہاں سے کچھ زیادہ کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔ برادر سعودی عرب اپنے معاملات میں مصروف ہے۔ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز تو ایک طرف رہے اب تو جیسا عرض کیا باب المندب سے آئل ٹینکروں کا گزرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جہاں تک سہ فریقی دفاعی معاہدے کا تعلق ہے تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ احساسِ تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔ ایرانی بڑے تحمل سے چل رہے ہیں۔ اس حوالے سے اُنہوں نے زیادہ ردِعمل کا اظہار نہیں کیا۔
کون سی کوشش ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے نہیں کی ایران کو زیر کرنے کیلئے۔ لیکن کامیاب نہیں ہوئے کیونکہ ایران کا اسلامی نظام بہت مضبوط ہے اور اس نظام کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ نظام کے مخالفین بھی ہیں لیکن اکثریت کے سامنے اُن کی کوئی حیثیت نہیں۔ اندرونی اتحاد ہے تو ایران امریکہ کا مقابلہ کر سکا۔ کتنے ہی لیڈر اُس کے مارے گئے لیکن حکومتی نظام میں کوئی خلا یا خلل پیدا نہیں ہوا۔ تیل کی ترسیل نہیں ہو رہی معاشی مشکلات ہیں لیکن زندہ قوم ہے‘ مضبوط دیوار کی طرح امریکہ کے سامنے کھڑی ہے۔ قیادت‘ افواج اور عوام کا اتحاد مثالی ہے۔ داخلی کمزوری ہوتی اور لوگ نالاں ہوتے تو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کا شیرازہ بکھر گیا ہوتا۔ ایسا نہیں ہوا‘ ایرانی قوم کی جرأت اور حوصلے کی وجہ سے۔
اپنے پہ بھی ہم کچھ نظر رکھیں۔ پاکستان کے موجود مسائل بھی خاصے پیچیدہ ہیں۔ پڑوس کی جنگ سے بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments