"AYA" (space) message & send to 7575

برادروں کا حال کچھ اچھا نہیں

سچ تو یہ ہے کہ جو ممالک بھی اس ایران پھڈے میں شامل ہوئے پچھتا رہے ہوں گے کہ یہ حرکت کیوں کی۔ سوائے اسرائیل کے جو مسلمان ممالک کی افراتفری دیکھ کر خوش ہو رہا ہو گا۔ جمعرات کو جب حوثیوں نے ساحلِ بحیرہ احمر کے ساتھ جنوب کی طرف چڑھائی کی تو اُس دن ولی عہد سعودیہ نے صدر ٹرمپ کو دو مرتبہ ٹیلی فون کال کی۔ فوجی مدد مانگ رہے تھے کہ حوثیوں کی چڑھائی روکنے کیلئے اُن کے دستوں پر بمباری کی جائے۔ یہ دن بھی آنا تھا کہ امریکی صدر نے انکار کر دیا اور خبریں یہ ہیں کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ نشانوں کی نشاندہی کریں گے لیکن حملے آپ خود کرئیے‘ ساز و سامان اور لڑاکا جہاز آپ کے پاس ہیں‘ انہیں استعمال میں لائیے۔ سینٹکام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر سعودی عرب آئے اور جو تسلیاں دے سکتے تھے وہ ضرور دی ہوں گی لیکن برادر ملک کو تسلیوں سے کچھ زیادہ چاہیے تھا اور وہ اُنہیں نہیں مل رہا تھا۔
سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ حوثی چڑھائی شروع ہوئی تو سعودیوں کے حمایتی یمنی فضائی حملوں کی درخواست کرتے رہے اور برادر ملک کی طرف سے ایک حملہ بھی نہ ہو سکا۔ حوثی فوج آگے آتی رہی اور سعودیہ کے حمایتی یمنی دستے پسپا ہوتے رہے اور بکھرتے گئے۔ بحیرہ احمر پر واقع مُخا کی بندرگاہ حوثی قبضے میں آئی‘ پھر جمعہ کے روز جزیرہ پیرم جو کہ باب المندب کے عین درمیان میں واقع ہے‘ وہ بھی حوثیوں کے قبضے میں آ گیا۔ سعودی حمایتیوں کو امریکی مدد پہنچی نہ سعودیوں سے کچھ حاصل ہو سکا۔ تقریباً دو سو امریکی ایڈوائزر سعودیہ میں موجود ہیں لیکن جب یہ اہم لڑائی ہو رہی تھی وہ کسی کام نہ آئے۔
امریکی سعودیہ اتحاد کی بنیاد یہ تھی کہ سعودی عرب اپنے تیل کی قیمت ڈالروں میں متعین کرے گا اور سعودیہ کی حفاظت امریکہ بہم پہنچائے گا۔ ایران پر حملے کے نتیجے میں یہ بنیاد تو ہوا میں تحلیل ہو گئی۔ اندر کی رپورٹ تو کسی کے پاس نہیں ہے لیکن یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ محلات کی اونچی دیواروں کے پیچھے کس قسم کی پریشانی ہو گی۔ اس تازہ ترین لڑائی کی وجہ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت پھر سے 105ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر رہی ہے۔ لیکن قیمتوں کے علاوہ برادر ملکوں میں تیل کی دولت کی بنا پر جو ایک گھمنڈ کی کیفیت طاری تھی وہ بھی ہوا میں اُڑ گئی ہے۔ کہاں وہ مناظر کہ دورۂ قطر‘ یو اے ای اور سعودیہ پر صدر ٹرمپ کے استقبال کی خاطر عرب سربراہان بچھے جا رہے تھے اور کہاں اب کی صورتحال کہ فوجی امداد کی درخواست کی جا رہی ہے اور وائٹ ہاؤس کی طرف سے نہ میں جواب مل رہا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ایران کو کچھ نہیں ہو رہا۔ بہت نقصان برداشت کیا ہے اور امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران اپنا تیل نہیں بھیج پا رہا۔ ایران کی معاشی مشکلات میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ایرانی قوم یہ سب کچھ برداشت کر رہی ہے اور امریکہ کے سامنے ڈٹی ہوئی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ کسی قسم کی جارحیت ایران نے شروع نہیں کی تھی‘ جارحیت تو اُس پر ٹھونسی گئی۔ حملے ہوئے صفِ اوّل کی ساری قیادت ماری گئی اور پھر سخت ترین ہوائی حملے ایرانی شہروں اور مختلف تنصیبات پر ہوئے۔ جواب میں ایران نے جو کچھ کیا مجبوراً کیا‘ اپنی بقا اور اپنے دفاع میں کیا۔ یہ تو امریکی اور اسرائیلی مفروضے غلط ثابت ہوئے تو امریکہ مصیبت میں پھنس گیا اور نکلنے کا راستہ اب نہیں مل رہا۔ لیکن برادروں کو بھی دیکھا جائے‘ اُن کے بھی کیا شاہانہ مفروضے تھے کہ امریکی فوجی اڈے ہوں گے تو ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہو گا۔ اس سوچ کا تو ایسا بھانڈا پھوٹا ہے کہ برادر بھی سوچتے ہوں گے کہ کس شے پر تکیہ کیا۔
حوثی کامیابیوں سے چند روز پہلے ایران نے جو میزائل حملے اُردن میں الازرق فوجی اڈے پر کیے میزائلوں کی پوری ایک یلغار تھی جسے روکنے کیلئے امریکیوں نے 30سے 40پیٹریاٹ میزائل استعمال کیے۔ ایک پیٹریاٹ میزائل کی قیمت تقریباً اڑھائی ملین ڈالر ہے۔ 30‘ 40 میزائلوں کا خود اندازہ کیجئے کہ حساب کیا بنتا ہے۔ اس کے باوجود کئی ایرانی میزائل نشانوں پر لگے اور مغربی میڈیا میں خبریں ہیں کہ امریکی جہازوں کو نقصان پہنچا اور ایک A-10جہاز تو ناکارہ ہو گیا۔ چند دن پہلے ایرانی میزائل ایک امریکی بحری جہاز کے اوپر پھٹے۔ یعنی جان بوجھ کر رینج وہ رکھی گئی کہ جہاز تک نہ پہنچیں تاکہ بات پھر آگے نہ بڑھ جائے۔ لیکن اتنا تو امریکیوں کو باور کرا دیا کہ آپ کے بحری جہاز ہماری پہنچ میں ہیں۔
برادر سعودیوں کا تیل آبنائے ہرمز کی طرف تو بند ہے۔ وہاں سے کوئی برآمد نہیں ہو رہا۔ اُس کے متبادل میں پائپ لائن کے ذریعے بندرگارہ ینبع کو تیل پہنچایا جا رہا تھا جو کہ باب المندب کے ذریعے سے مشرقی راستوں پر جا رہا تھا۔ حوثیوں کا کنٹرول اب باب المندب پر تقریباً مکمل سمجھا جائے۔ اُنہوں نے باقاعدہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ دنیا کے دیگر جہازوں کی آمد و رفت پر کوئی پابندی نہیں‘ پابندی ہے تو صرف سعودی جہازوں کیلئے۔ یعنی آبنائے ہرمز کا جو متبادل راستہ تھا وہ بھی خطرے کی زد میں آ گیا ہے۔ مزید براں جو مشرق سے مغرب تیل پائپ لائن ہے اُس پر حملہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اُس میں آگ بھڑک اُٹھی ہے۔ اس کے نتیجے میں سعودی حکام کی طرف سے خود اعلان ہوا ہے کہ پائپ لائن کو بند کر دیا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 1990ء سے لے کر آج تک یعنی چھتیس برسوں میں سعودیہ کی تیل کی پروڈکشن سب سے کم سطح پر آ گئی ہے۔
سعودیوں کے حوثیوں سے تعلقات تو پہلے سے خراب ہیں‘ لیکن 2022ء سے ایک جنگ بندی کی کیفیت چل رہی تھی۔ جولائی میں آیت اللہ خامنہ ای کے جنازہ کے موقع پر ایک ایرانی جہاز حوثیوں کے ایک وفد کو صنعا ائیر پورٹ واپس چھوڑنے آیا تو اُس کے بعد ایئر پورٹ اور رن وے پر سعودی ہوائی حملے کیے گئے۔ اس واقعہ سے جنگ کا یہ نیا راؤنڈ شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میں برادر سعودیوں کو یہ ساری ہزیمت اٹھانی پڑ رہی ہے۔
اس موقع پر مکہ دفاعی معاہدے پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ معاہدہ کہاں گیا اور اُس کی شرائط کیا ہیں۔ جب معاہدے پر دستخط ہوئے تھے تو بڑا چرچا تھا کہ ایک بہت بڑا کارنامہ انجام پایا ہے۔ اب جب برادر ملک دباؤ میں ہے تو معاہدے کے خدوخال کسی واضح شکل میں نظر نہیں آ رہے۔ ہمارے دفتر خارجہ کی طرف سے یہ وضاحت آئی ہے کہ معاہدہ ابھی تک آپریشنلائز نہیں ہوا‘ یعنی عمل درآمد کے مراحل ابھی باقی ہیں۔ لیکن شروع کی مبارکبادوں سے تو لگتا تھا کہ جیسے کوئی نیٹو طرز کا معاہدہ عمل میں آ گیا ہے۔ چند دنوں بعد شاید مزید پوزیشن واضح ہو جائے لیکن فی الحال تو قیاس آرائیاں ہی ہیں۔
وہ نکتہ کب آئے گا جب سارے برادر ملک دل سے جان جائیں کہ امریکی دوستی ہمیں مہنگی پڑی ہے‘ اس بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ فی الحال برادر ممالک تذبذب کا شکار ہیں‘ امریکی دوستی کی افادیت آزما بھی چکے پر شاید کچھ واضح فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ البتہ اتنا عیاں ہے کہ جنگ سے پہلے کی صورتحال برقرار نہ رہ سکے گی۔ ایک دو نہیں خطے میں سارے کے سارے امریکی اڈے ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں کا نشانہ بنے۔ امریکہ کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ اتنا تو کوئی کم عقل بھی دیکھ سکتا ہے کہ جو اپنی حفاطت نہ کر سکے اُنہوں نے اوروں کی کیا کرنی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...