آپ نے آج کیا لباس پہنا ہے اور یہ کس چیز سے بنا ہے؟ لوگ کم ہی اس بات پر توجہ دیتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کے آٹھ ارب تیس کروڑ افراد روزانہ جو بھی اور جتنے بھی کپڑے پہنتے ہیں‘ ان کپڑوں کے 75 فیصد میں کسی نہ کسی مقدار میں کاٹن یعنی کپاس موجود ہوتی ہے۔ اس طرح کپاس ہماری روزمرہ زندگی اور لباس کا ایک اہم حصہ ہے۔ کپاس ایک قدرتی ریشہ ہے جو کپاس کے پودے سے حاصل کیا جاتا ہے۔ کپاس سے بُنے کپڑے کو سوتی کپڑا کہتے ہیں جو نرم‘ آرام دہ اور ہوادار ہوتا ہے‘ اس لیے خاص طور پر گرم موسم میں ایسے ملبوسات کو پہننا پسند کیا جاتا ہے۔ برصغیر کی شدید گرمیاں کاٹن کے کپڑوں کی مانگ میں اضافے کا سبب ہوتی ہیں۔ کپاس پسینہ جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے‘ جس سے جسم کو نسبتاً ٹھنڈک اور آرام محسوس ہوتا ہے۔
کپاس کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے اہم ہے۔ کسان کپاس اگاتے ہیں جبکہ ٹیکسٹائل کی صنعت اس سے دھاگا اور کپڑا تیار کر کے روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے۔ ٹیکسٹائل کی برآمدات آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی برآمدات ہیں۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات مالی سال 2025ء میں 17ارب89 کروڑ ڈالر تھیں‘ جو جون میں ختم ہونے والے مالی سال (2026ء) میں 17ارب93 کروڑ ڈالر رہیں۔ یوں ٹیکسٹائل کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کھیت میں اُگنے والی کپاس مختلف مراحل سے گزر کر ہمارے جسم پر پہننے والے خوبصورت کپڑوں کی شکل اختیار کرتی ہے اور ہر مرحلے میں ہزاروں افراد کے لیے روزگار کا سبب بنتی ہے اور بہت سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔
''تن ہمہ داغ داغ شد‘ پنبہ کجا کجا نہم‘‘۔ یہ ایک مشہور فارسی ضرب المثل ہے جس کا معنی یہ ہے کہ سارا بدن زخموں سے چھلنی ہو گیا ہے اب روئی کا پھاہا (مرہم) کہاں کہاں رکھوں۔ جب کسی معاملے یا صورت حال میں خرابیاں اتنی زیادہ ہو جائیں کہ ان کی درستی یا اصلاح انسان کے امکان سے باہر ہو جائے تو یہ ضرب المثل بولی جاتی ہے۔ روئی یا کپاس کو فارسی میں پنبہ کہا جاتا ہے۔ پنبہ دہانی کا مطلب منہ میں روئی ٹھونسے ہوئے ہونا ہے۔ پنبہ گوش کے معنی ہیں کان میں روئی دینا۔
سات اکتوبر کو کپاس کا عالمی دن منایا جانے والا ہے۔ ویسے بھی یہ کپاس کی برداشت کا موسم ہے۔ سوچا کچھ کسانوں اور کچھ ٹیکسٹائل مل مالکان کی باتیں حکمرانوں کے گوش کزار کر دوں کہ اس میں ملکی معیشت کی ترقی کے ساتھ سب کا فائدہ ہے۔ ملک کے کچھ علاقوں میں کپاس کی چنائی شروع ہو چکی ہے اور چنائی کے سیزن کے اختتام پر پتا چلے گا کہ امسال ملک میں کتنی کپاس پیدا ہوئی۔ پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والا چھٹا بڑا ملک ہے۔ ایشیا میں کپاس کی کتائی (سپننگ) کی تیسری سب سے بڑی صلاحیت پاکستان ہی کے پاس ہے‘ جہاں ہزاروں جننگ اور سپننگ یونٹس کپاس سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات تیار کرتے ہیں۔
ایک زمانے میں اپنے لائل پور یعنی فیصل آباد کو کھڈیوں اور سپننگ ملوں کا گڑھ کہا جاتا تھا لیکن اب صورت حال ماضی جیسی نہیں رہی۔ معاشیات کا یہ بہت بڑا اصول ہے کہ خام مال کی نسبت تیار شدہ اشیا کی ویلیو کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے پاس بہترین موقع ہے کہ زیادہ سے زیادہ کپاس اُگا کر اور ملک میں موجود سپننگ ملوں کے ذریعے اس کپاس کو فنشڈ پروڈکٹس میں تبدیل کر کے قومی معیشت کو جتنا چاہیں فروغ دے لیں‘ لیکن زمینی صورت حال یہ ہے کہ ہمیں اپنی سال بھر کی کپاس کی ضرورت کا بھی ایک بڑا حصہ بیرونِ ملک سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح ہمارے تیار کردہ فیبرکس کی پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور ہم عالمی منڈی میں کاٹن سے بنی ہوئی سستی اشیا کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتے۔ حکومت کو برآمدات کے فروغ کیلئے روئی کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہئیں اور مناسب پیکنگ اور درست لیبلنگ کو یقینی بنانے کیلئے ایک بھرپور پروگرام شروع کرنا چاہیے۔ خام کپاس برآمد کرنے کے بجائے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کیا جانا چاہیے تاکہ برآمدات کیلئے ویلیو ایڈڈ (اضافی قدر والی) کاٹن مصنوعات کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔
دنیا بھر میں کپاس کی ملوں میں کھپت کا تناسب عالمی آبادی میں اضافے کے تناسب سے بڑھ رہا ہے۔ کپاس کے حوالے سے طویل مدتی صورت حال زیادہ واضح نہیں ہے‘ جس کی وجہ ریون (Rayon) اور ممکنہ طور پر دیگر مصنوعی ریشوں (Synthatic Fibers) کی جانب سے کپاس کو درپیش سخت مقابلے کا امکان ہے۔ اس کے باوجود اس زمینی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کپاس کی ضرورت اور کھپت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھے گی‘ کم نہیں ہو گی۔ اس کی وجہ ہے آبادی‘ جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔
پاکستان کو ملک میں لمبے ریشے والی کپاس اگانے کا بندوبست کرنا چاہیے۔ لمبے اور بڑے ریشے والی کپاس کو انگریزی میں لانگ سٹیپل کاٹن (Long Staple Cotton) یا ایکسٹرا لانگ سٹیپل کاٹن (ELS) کہا جاتا ہے۔ سی آئی لینڈ کپاس (Sea Island Cotton) کو دنیا کی بہترین اور نایاب ترین کپاس مانا جاتا ہے۔ اس کا ریشہ انتہائی لمبا اور ملائم ہوتا ہے۔ اس کے بعد پیما کپاس (Pima/ Supima Cotton) کا نمبر آتا ہے۔ یہ بھی لمبے ریشے والی اعلیٰ ترین قسم ہے جو اپنی مضبوطی اور نرمی کی وجہ سے مشہور ہے۔ تیسرے نمبر پر مصری کپاس (Egyptian Cotton) ہے۔ اس کا شمار بھی دنیا کی قیمتی اور لمبے ریشے والی کپاس میں ہوتا ہے۔ ان تینوں اقسام کی کپاس کے ریشے کی لمبائی عام طور پر 29 ملی میٹر سے 34 ملی میٹر یا اس سے کچھ زائد ہوتی ہے۔ ایسی کپاس سے بننے والا دھاگا زیادہ مضبوط‘ چمکدار اور نرم ہوتا ہے اور یہ دھاگا اعلیٰ معیار کے ملبوسات اور بستر کی چادریں بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کیا پاکستان میں یہ کپاس کاشت نہیں کی جا سکتی؟
پاکستان میں کپاس کے کاشتکار موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو شدت کے ساتھ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ غیر متوقع موسمی نمونے اور شدید گرمی فصل کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ گرمی کا موسم طویل ہو جائے جیسا کہ امسال ہوا ہے‘ تو اس سے حشرات کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے‘ خاص طور پر سفید مکھی اور گلابی بول ورم‘ جس کے نتیجے میں کسان کیڑے مار ادویات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں جو پیداواری لاگت بڑھا دیتا ہے۔ اگر محکمہ زراعت اپنا کردار فعال طور پر ادا کرے‘ کاشتکاروں کو کھیت کی سطح پر تکنیکی معاونت فراہم کرے‘ ہر علاقے کے لحاظ سے حشرات کے حملے کی تفصیلات اور کیڑے مار ادویات کے نام‘ ان کے اجزا اور ادویات کی مقدار کی معلومات اپنی ویب سائٹ یا دیگر ذرائع سے فراہم کرے‘ فصل کے موسم کے دوران بیج اور کیڑے مار ادویات کے معیار کی نگرانی کرے‘ فصل پر پھول آنے کے موسم کے دوران کیڑے مار ادویات کے بہتر استعمال کے لیے کاشتکاروں کو کھیت پر تربیت فراہم کرے اور اس کے ساتھ حکومت کھادوں اور حشرات کش ارزاں ادویات کا اہتمام کر دے تو پاکستان میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جا سکتی ہے۔ کیڑے مار ادویات بنانے والی کمپنیاں اپنے فیلڈ عملے کو تربیت دیں اور فیلڈ عملہ آگے کاشتکاروں کی مناسب رہنمائی کرے تو کپاس کی فصل کو نقصان پہنچانے والے حشرات سے بچایاجا سکتا ہے۔ کیڑے کم ہوں گے تو فصل کی پیداوار بڑھے گی۔ پاکستان میں بیج‘ کھاد‘ کیڑے مار ادویات اور پانی جیسے معیاری زرعی لوازمات کی دستیابی کو بہتر بنا کر اور ان کا موثر‘ دانشمندانہ اور متوازن استعمال یقینی بنا کر کپاس سمیت کسی بھی فصل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ عالمی یومِ کپاس‘ کپاس کے شعبے کی پائیداری کو بہتر بنانے اور اسے عالمی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت دلانے کے عزم کی تجدید کا ایک بہترین موقع ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments