غزہ کی ہواؤں میں بارود کی بُو ابھی باقی ہے۔ کبھی زندگی کے رازدان رہنے والے لیکن اب کھنڈرات بن چکے مکانات کے درمیان حیات کی باقیات تلاش کرتے لوگ ابھی اپنے پیاروں کا قتلِ عام نہیں بھولے ہیں۔ ماں کے سینوں سے لگے بچے اب بھی خوف کے عالم میں چونک کر اٹھتے ہیں جیسے کہیں کوئی گولہ پھٹا ہو‘ جیسے کہیں کوئی میزائل گرا ہو۔ باپ اب بھی فکرمند ہیں کہ زندگی کی نئی شروعات کہاں سے کریں۔ نوجوان اس اندیشے میں گرفتار رہتے ہیں کہ پتا نہیں کہاں سے اسرائیلی فوج کا فائر کردہ کوئی راکٹ‘ گولہ‘ میزائل یا ڈرون آ جائے اور ان کی زندگی کا پتا کاٹ دے۔ غزہ میں زندگی ابھی سنبھلی نہیں ہے‘ ایسے میں اس خبر نے دل چیر کے رکھ دیا ہے کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے غزہ کے پہلے سے بھوک سے بلکتے انسانوں کے لیے خوراک کی امداد کم کر دی گئی ہے۔ کیا اب ان بچوں کے حصے کی روٹی ختم ہو جائے گی؟
19اکتوبر 2026ء کو اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک نے اعلان کیا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث غزہ میں پانچ لاکھ افراد خوراک کی امداد سے محروم ہو جائیں گے۔ امداد پانے والوں کی تعداد 16لاکھ سے گھٹ کر 11لاکھ رہ جائے گی‘ جبکہ راشن بھی نصف کر دیا گیا ہے۔ گرم یعنی تازہ کھانوں کی روزانہ فراہمی ڈھائی لاکھ سے کم کر کے ڈیڑھ لاکھ افراد تک محدود کر دی گئی ہے۔ یہ اعداد نہیں پانچ لاکھ انسانوں کی زندگیوں پر لٹکتی موت کی تلواریں ہیں۔
ذرا غزہ کی ایک ماں کا تصور کیجیے جس کے گھر کی چھت نہیں‘ باورچی خانے میں چولہا نہیں‘ الماری میں آٹا نہیں۔ اس کی گود میں بچہ ہے جو دودھ مانگتا ہے‘ مگر ماں کے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں۔ وہ بچے کو سینے سے لگاتی ہے‘ اس کے بالوں کو سہلاتی ہے اور پھر اس سے نظریں چراتے ہوئے جھوٹ بولتی ہے کہ بیٹا تھوڑی دیر صبر کرو‘ کھانا آ جائے گا۔ پہلے شاید اسے کہیں نہ کہیں سے کچھ امداد مل جانے کی توقع تھی لیکن اب وہ اپنے بچوں کو جھوٹا دلاسا دینے کے بھی قابل نہیں رہے گی۔ غزہ کے عوام کو امداد کے جس تھیلے کا انتظار رہتا تھا‘ اس کا راستہ فنڈز کی کمی نے روک لیا ہے۔
غزہ میں شدید اسرائیلی گولہ باری‘ میزائل باری اور ڈرون باری سے ہونے والی تباہی کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جو اقوام متحدہ‘ عالمی بینک اور یورپی یونین جیسے معتبر اداروں کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ اکتوبر 2023ء سے اکتوبر 2025ء تک جاری رہنے والی اس یک طرفہ جنگ میں 71 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس عرصے میں تقریباً 19لاکھ فلسطینی بے گھر ہوئے‘ جن میں بہت سے لوگ بار بار نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ غزہ میں تین لاکھ 71 ہزار سے زیادہ رہائشی یونٹ تباہ یا متاثر ہوئے‘ نصف سے زیادہ ہسپتال غیر فعال ہیں اور تقریباً تمام سکول تباہ یا متاثر ہو چکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان 35.2 ارب ڈالر اور معاشی و سماجی نقصانات 22.7 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ تعمیر نو کیلئے اگلی ایک دہائی میں 71.4ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ غزہ کی معیشت 84فیصد سکڑ چکی ہے۔ آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ بیروزگاری کا سامنا کر رہا ہے جبکہ عالمی ادارۂ خوراک کے مطابق 14 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کے بحران یا اس سے بھی بدتر صورتحال میں ہیں۔ ان میں دو لاکھ افراد ایسے ہنگامی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں فوری خوراک کی امداد بھوک سے ہونے والی اموات روکنے کیلئے ضروری ہے۔ ذرا سوچئے‘ ایسے میں خوراک کی رسد میں کمی کیا نتائج لائے گی۔ 14لاکھ افراد‘ یعنی غزہ کی آبادی کا 67 فیصد حصہ شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ تقریباً دو لاکھ افراد ہنگامی حالات سے دوچار ہیں‘ جہاں بھوک سے ہونے والی اموات کو روکنے کیلئے فوری غذائی امداد کی ضرورت ہے۔ ہر پانچ میں سے صرف ایک بچہ ہی متنوع اور متوازن غذا حاصل کر پاتا ہے۔ صحت‘ پانی‘ نکاسی آب اور حفظانِ صحت کی سہولتوں تک رسائی بھی محدود ہے۔ غزہ میں 80 فیصد سے زیادہ لوگ بیروزگار ہیں‘ جس کی وجہ سے بہت سے خاندان تازہ پیداوار یا پروٹین سے بھرپور غذائیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے‘ چاہے وہ دستیاب ہی کیوں نہ ہوں۔
غزہ کے لیے خوراک کی کمی کا مطلب محض مہنگائی اور بھوک میں اضافہ نہیں بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ماں اپنے حصے کی روٹی بچے کو دے گی‘ باپ بھوک چھپانے کے لیے پانی پی کر سو جائے گا‘ کمزور بچے غذائی قلت کا شکار ہوں گے‘ حاملہ خواتین کی صحت مزید خطرے میں پڑے گی اور بیمار افراد کی بحالی مشکل ہو جائے گی۔ سردیوں کی آمد کا سوچیں تو مزید سنگین خدشات سر اٹھانے لگتے ہیں۔ خوراک کی کمی کے ساتھ صاف پانی‘ نکاسی آب‘ ادویات اور مناسب رہائش کی قلت جیسے مسائل بھی بڑھ جائیں گے۔ خوراک کے لیے فنڈز نہیں ہیں‘ صاف پانی‘ رہائش اور بیماریوں کا علاج تو اس کے بعد کے معاملات ہیں۔
یہ کسی ایک خاندان کا المیہ نہیں ایک پوری نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔ عالمی برادری کو اب بیانات سے آگے بڑھنا ہو گا۔ ضروری ہے کہ امدادی اداروں کے لیے فوری اور قابلِ اعتماد مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ غزہ کے بچے کسی کے سیاسی اختلافات کے ذمہ دار نہیں۔ انہیں جنگ‘ بے گھری اور بھوک کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔ اگر دنیا آج وسائل کی کمی کا عذر بنا کر خاموش رہی تو تاریخ پوچھے گی کہ جب انسان بھوک سے لڑ رہا تھا‘ تب انسانیت کہاں تھی؟ غزہ کے بچوں کو روٹی دیجیے‘ ان کی ماؤں کو امید دیجیے‘ ان کے باپوں کو جینے کا حوصلہ دیجیے کیونکہ بھوک سے بلکتے بچے کی فریاد کسی ایک قوم کی نہیں‘ پوری انسانیت کی آزمائش ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کو 2026ء میں اپنے فلسطین آپریشنز کے لیے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم فنڈنگ ملی ہے۔ ادارے کو غزہ اور مغربی کنارے میں اگلے چھ ماہ (اکتوبر 2026ء سے مارچ 2027ء تک) اپنے اہم آپریشنز جاری رکھنے کے لیے فوری طور پر 450 ملین امریکی ڈالر کی ضرورت ہے۔ کیا عالمی برادری اپنے بھاری اخراجات میں سے ساڑھے چار سو ملین ڈالر نکال سکے گی یا فلسطینی عوام کو بلکتا اور مرتا دیکھتی رہے گی؟
اس کے ساتھ ساتھ ضروری ہو چکا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے سالانہ فنڈز میں اضافے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ جب ضرورت پڑے تو کچھ فنڈز سرپلس پڑے ہوں اور عالمی ادارے کو اس مقصد کے لیے بڑے ممالک کے سامنے بار بار دستِ طلب دراز نہ کرنا پڑے۔ اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ غزہ کی بحالی اور وہاں کے عوام کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کے لیے دنیا کے بڑے ممالک نے جو منصوبہ بندی کی تھی اس پر عملدرآمد تیز کیا جائے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر 2025ء میں بین الاقوامی تعلقات اور سفارتی کوششوں کے تحت غزہ میں جنگ بندی اور مستقل امن کے لیے 20نکاتی غزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا۔ اس منصوبے میں فوری جنگ بندی‘ یرغمالیوں کی رہائی‘ علاقے کی تعمیر نو شامل ہے۔ بین الاقوامی اور علاقائی نگرانی میں عبوری نظامِ حکومت اور غزہ کی تباہ شدہ عمارتوں کی بحالی بھی پلان کے نکات میں شامل تھی۔ منصوبے میں مبہم اصطلاحات کے تحت مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کا اشارہ دیا گیا تھا۔ کیا اس منصوبے پر عملدرآمد غزہ میں خوراک کے ممکنہ بحران کو ٹالنے کا سبب بن سکتا ہے؟ ایسا ممکن ہے تو پھر اس پلان کو متشکل کرنے کے کام کا آغاز ہونا چاہیے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments